الوداع الطاف فاطمہ اور پروین عاطف: شخصیت و فن کا تذکرہ —— نعیم الرحمٰن

0
  • 131
    Shares

دو ہزار اٹھارہ جاتے جاتے اردو ادب کی دو اہم اور منفرد خواتین ادیبوں کو ساتھ لے گیا۔ الطاف فاطمہ اردوکی اہم افسانہ و ناول نگار اور مترجم تھیں۔ انہوں نے نصف صدی سے زایدمدت میں ادب کو کئی بے مثال ناول، افسانوی مجموعے اور تراجم سے مالامال کیا۔ وفات سے قبل نوے سالہ الطاف فاطمہ کا آخری افسانوی مجموعہ ’’دیدوادید‘‘ شائع ہوا۔ پروین عاطف کے دو غیر معمولی اور منفرد سفرنامے اور کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ وہ کالم بھی لکھتی رہیں۔ انہوں نے اردو کے علاوہ پنجابی میں بھی لکھا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی ان دو معروف خواتین لکھاریوں کی وفات پرجن کا کام نصف صدی پر پھیلا ہوا ہے۔ کوئی خاص تحریری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بلکہ ویب سائٹس پر بھی ان کے بارے میں معلومات کا فقدان نظر آتا ہے۔ دونوں خواتین کا تعلق ایسے گھرانوں سے تھا۔ جنہیں بجا طور پر ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔

الطاف فاطمہ دس جون انیس سو ستائیس کو لکھنئو میں پیدا ہوئیں۔ ان کی پیدائش کا سن بعض جگہ انیس سو انتیس بھی لکھا گیا ہے۔ الطاف فاطمہ کے اجداد کا تعلق خیرآباد سے تھا۔ جو اٹھارہ سوستاون کی جنگ آزادی کے بعد ریاست پٹیالہ میں آباد ہوگئے۔ علامہ فضل حق خیرآبادی اور ہندوستان کی کسی بھی زبان میں لکھے جانے والے پہلے ناول ’نشتر‘ کے مصنف حسین شاہ کا تعلق الطاف فاطمہ کے خاندان سے تھا۔ جن کا علمی وادبی کام ان کو وراثت میں ملا۔ اردوزبان کے منفرد اور مقبول افسانہ نگار سید رفیق حسین الطاف فاطمہ کے سگے ماموں تھے۔ جنہوں نے جانوروں کی نفسیات پر افسانے لکھ کر شہرت حاصل کی۔ والد فضل امین، علی گڑھ کے فارغ التحصیل اور ریاست جاورہ کے چیف سیکریٹری تھے۔ اس قدر ذرخیز ادبی ورثہ کی حامل الطاف فاطمہ کی لازوال تحریروں کو اردو زبان و ادب فخرکے ساتھ دنیاکے سامنے پیش کر سکتا ہے۔

پاکستان بننے کے فوری بعد الطاف فاطمہ کا پورا خاندان ہجرت کرکے لاہور میں آباد ہوگیا۔ انہوں نے ایم اے اردو یونیورسٹی اورینٹیل کالج سے کیا۔ اور بی ایڈ کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں۔ دوران تعلیم ہی الطاف فاطمہ نے افسانہ نگاری کا آغاز کردیا۔ ان کا پہلا افسانہ انیس سوباسٹھ میں اس وقت کے اہم ادبی جریدے ’ادبِ لطیف‘ میں شائع ہوا۔ انہوں نے اپنا پہلا ناول ’نشانِ منزل‘ بھی دور طالب علمی میں لکھا تھا۔ یہ شاہکار ناول کافی مشہور ہوا۔ لیکن الطاف فاطمہ کو بے پناہ شہرت و مقبولیت یادگار ناول ’دستک نہ دو‘‘ سے ملی۔ یہ ناول اردو نصاب میں شامل رہا ہے۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ بھی ہوا۔ پی ٹی وی پراس ناول کی ڈرامائی تشکیل بھی کی گئی۔ اس قسط وار ڈرامے کا ناظرین کو انتظار رہتا تھا۔ الطاف فاطمہ ریڈیو پاکستان کے لیے فیچر بھی لکھتی رہیں۔ ہارپرلی کے شہرہ آفاق ناول To Kill A Mocking Bird کا ترجمہ الطاف فاطمہ نے ’نغمے کا قتل‘ کے عنوان سے کیا۔ جس کا شمار اردو کے بہترین تراجم میں کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بنگالی، مراٹھی، تامل، گجراتی اور ہندی افسانے، لاطینی امریکی اور جاپانی خواتین کے افسانوں اور ایلسامارسٹن کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کہانیوں کو بھی اردوکے پیرہن میں ڈھالا۔

معروف افسانہ اور کالم نگار زاہدہ حنا، الطاف فاطمہ کے فن کی معترف ہیں۔ اور ادبی پنڈتوں کی ان سے بے گانگی کا ذکر زاہدہ حنا کس خوبصورتی سے کرتی ہیں کہ

’’عبور دریائے شورکی سزا پانے اور کالا پانی کاٹنے والے علامہ فضل حق خیرآبادی کا خون ہیں۔ وہی طنازی، وہی شانِ بے نیازی۔ اس لکھن ہاری نے کیا دھوپ چھاؤں تحریریں لکھی ہیں۔ حزن و ملال کے مجھیٹی رنگ میں رنگی ہوئی شیفتگی اور وارفتگی کے قصے، الاچہ اور طرحدار کے ریشمی تھانوں کی طرح آنکھوں کے راستے دل میں اترتی ہوئی کہانیاں۔۔ کہانیوں، ناولوں اور ترجموں کے انبار لگاتی ہوئی، بچوں کو بھولی بسری اور نئی نویلی کہانیاں سناتی ہوئی یہ گوشہ گیر لکھن ہاری نہ کلکٹر، نہ کمشنر، نہ کسی ادبی تحریک میں شریک، نہ تحسین باہمی کے کسی دائرے میں شامل، نہ مے سے کام، نہ مے پرستوں سے کلام، نہ سرکے گرد رسوائیوں کا ہالہ، نہ شانوں پرسرکاری انعام و اکرام کا دوشالہ، ایک ایسی جوگن بیراگن کی طرف ادب کے بادشاہ گر نظر بھر کر بھی کیوں دیکھتے۔ سو الطاف فاطمہ اپنی لکھت گٹھری کاندھے پردھرے، ناقدری کا، کالا پانی کاٹ رہی ہیں۔ اردو ناول و افسانے کے پارکھ ان سے اگر سرسری گزرے تویہ الطاف فاطمہ کا گھاٹا نہیں، اردوادب کا زیاں ہے۔‘‘

زاہدہ حناکی تحریر کا ایک ایک لفظ الطاف فاطمہ کے فن کی ناقدری پرنوحہ کناں ہے۔ ایک ایسی نثر نگار جس نے نصف صدی سے زیادہ اور نوے سال کی عمر تک کوچہ ادب میں گزارے۔ لیکن انہیں وہ مقام نہیں ملا۔ جس کی وہ حقدارتھیں۔ ادب کے لیے ان کا وسیع کام نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ الطاف فاطمہ نے چار ناول تحریرکیے۔ ’نشانِ منزل‘، ’چلتامسافر‘، ’خواب گر‘ کے علاوہ ان کاسب سے مقبول اوربے مثال ناول ’دستک نہ دو‘ چاروں ناول اپنے موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے منفرد اور بہترین ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ’تارِعنکبوت‘، ’جب دیواریں گریہ کرتی ہیں‘، ’وہ جسے چاہا گیا‘ اور تقریباً نوے برس کی عمرمیں شائع ہونے والا ان کا آخری مجموعہ ’دیدوادید‘ شامل ہے۔ جس میں ان کے گمشدہ اورنئے چوبیس افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ ان افسانوں کی بازیافت کرنیوالے محسنین کا ذکر الطاف فاطمہ کس دلنواز انداز لکھنوی تہذیب کے رچاؤ سے کرتی ہیں۔

’’سچے اورمخلص جذبوں کے تحت کیے ہوئے احسانوں کاکوئی مول اور بدل نہیں۔ اور پھر ایسے لوگوں کے احسانوں کا جنہیں ہم نے دیکھا بھی نہیں، دیکھنا یا جاننا تو بڑی بات ان کے نام اور کوائف سے آگاہی تک نہیں۔ اور ان کے احسان کی اہمیت اور وقعت کہ گراں قدر اور بے بہا ہو۔ ہم سمجھتے ہیں اپنے جذبہ ء استحسان کا اظہار چند رسمی اور مروجہ الفاظ میں لکھ یابول کر ہم نے اپنا فرض اورناخن کاقرض اداکردیا۔ اور ہم سپاس گزاری اور شکرگزاری کے ہرفرض سے عہدہ برآ  ہو جائیں گے۔ مگر ایسا ہے نہیں۔ ایسے غیر معمولی جذبوں اور احسانوں کا مول تو ہوتا ہی نہیں۔ یہ جذبہ تو ہمارے وجود سے چمٹ کررہ جاتا ہے۔ ان کے یہ انمول جذبے ایک سریلے نغمے کی طرح اندرہی اندر گونجتے اور ایک دلنواز کسک بن کر تروتازہ رہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو میں پروفیسر اسحاق صاحب کی مقروض ہوں کہ ان کااحسان میرے تصور سے کہیں زیادہ مقدس اوربلند ہے۔ ’سانکھیا یوگی‘ اورچند دوسرے افسانے انہی کی بدولت بازیافت ہو سکے۔ اسحاق نعیم ڈسکہ کے ایک کالج میں پروفیسر ہیں۔ اس طرح مجھے ان سے شعبہ تدریس میں ہم پیشہ ہونے کافخرحاصل ہے۔ پروفیسرصاحب سے میرا دوسرا رشتہ اس کرب کابھی بنتاہے جس سے وہ تاحال گزر رہے ہیں۔ یعنی بصارت سے محرومی۔ میں تقریباً پانچ چھ سال تک مکمل اندھیروں میں رہی۔ مگر پروفیسرصاحب کے لیے محرومی کا لفظ ہرگز استعمال نہ کروں گی کہ ان کے اندر تو بصیرت کے روشن چراغوں نے چراغاں کیا ہوا ہے۔‘‘

الطاف فاطمہ کہتی ہیں کہ

’’اس سے قبل میرے تین افسانوی مجموعے ایک عرصے تک آؤٹ آف پرنٹ رہے۔ میں نے تردد یوں نہ کیا کہ میں سمجھتی تھی کہ بہ وجوہ ان کا یہی انجام ہونا تھا۔ ان ہی دنوں مجھے اپنے ملک کے ایک حقیقت پسند اور تقریباً ناکام سیاست دان کاایک فقرہ بہت بھلا لگا جسے حرزِ جان بنالیا، ’مٹی پاؤ‘۔ سو میں نے اسی فقرے کو چراغِ راہ جان کر ہر چیز اور ہر راہ پر مٹی پانے کا طریقہ اختیار کر لیا۔ ‘‘

کس لطیف انداز میں انہوں نے سیاست کاذکرکرتے ہوئے اپنی بے نیازی کااظہارکیاہے۔ افسانوں اورناولز کے علاوہ بھی الطاف فاطمہ کا کام کئی جہتوں میں پھیلا ہوا ہے۔ جن میں جاپانی اور امریکی افسانہ نگار خواتین کے تراجم، سچ کہانیاں کے عنوان سے انہوں نے بنگالی، گجراتی، مراٹھی، تامل اور ہندی افسانوں کو اردو کاجامہ پہنایا۔ ’’اردو فن سوانح نگاری اور اس کا ارتقا‘‘ اور ’’بڑے آدمی اوران کے نظریات‘‘ بھی ان کی اہم کتابیں ہیں۔

اردوادب کے بڑے نقادوں میں شامل سید وقار عظیم نے الطاف فاطمہ کے افسانوی مجموعے ’’وہ جسے چاہا گیا‘‘ کے مقدمے میں ان کے فن کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

’’ایک محبت سے صدہا انسانوں کی تخلیق ہوتی ہے اور ایک غم کی کوکھ سے ہزاروں کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ فرق صرف اُس نظرکا ہے جس سے محبت کا اور غم کا ایک انوکھا روپ سامنے آتاہے اور فرق اُس دل کاہے جو ہرسینے میں نئے اندازسے دھڑکتا ہے اور پھراُس دماغ کاجس کی اپنی سوچ ہے اوریہ سوچ ہر دوسرے آدمی کی سوچ سے مختلف ہے۔ آنکھ، دل اور دماغ کے اِس فرق سے زندگی کے ہزاروں فلسفے بنتے ہیں، لیکن فلسفے بنتے صرف اس صورت میں ہیں کہ انسان اپنی نظرسے دیکھے، اپنے دل سے محسوس کرے اوراپنے دماغ سے سوچے۔ نظر کے جلوے، دل کی دھڑکنیں اور دماغ کی الجھنیں، ان سب میں ہماری ذات کاعکس اورنقش ہے۔ ذات کی انفرادیت جتنی واضح اور جتنی گہری ہوگی جلووں کی رعنائی، دھڑکنوں کی کے آہنگ اور الجھنوں کے پیچ وخم میں اثر انگیزی اوردل نشینی کا وصف اتنا ہی نمایاں ہوگا۔ یہ وصف الطاف فاطمہ کی کہانیوں میں قابلِ رشک حد تک موجود ہے۔ یہ وصف بغیرکسی دعوے، نمائش اورنام ونمود کی خواہش کے دوسروں کے دُکھوں سے آگاہ ہونے اوران دکھوں کو اپنا بنالینے کا وصف ہے۔‘‘

اردوکے جانے مانے نقادسید وقارعظیم کے اس خراجِ تحسین کے بعد الطاف فاطمہ کے فن پر کچھ اور کہنے کی گنجائش نہیں ہے۔


پروین عاطف بھی ایک ہمہ جہت ادیب و فنکار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ انیس سے پینتیس میں گوجرانوالہ کے قریب ایمن آباد میں پیدا ہوئیں۔ ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار ممتاز مفتی کی تحریک پر انہوں نے ادب کی دنیا میں باقاعدہ قدم رکھا۔ ممتاز مفتی کے شہرہ آفاق سوانحی ناول ’’علی پورکا ایلی‘‘ میں پروین عاطف کے والدین کا ذکر رنگی اور نگہت کے نام سے ہے۔ ان کے بھائی احمد بشیر مشہور ترقی پسند ادیب، کالم نگار اور دانشور تھے۔ احمد بشیر کی بیٹی نیلم احمد بشیر اردو کے مشہور اور مقبول افسانہ نگارہیں۔ حال ہی میں ان کا پہلا ناول ’’طاؤس فقط رنگ‘‘ بھی شائع ہوا ہے۔ نیلم کی بہنیں بشریٰ انصاری، اسماء اور سنبل ٹی وی کی مقبول اداکارائیں ہیں۔ حال ہی میں اسماء کا ڈرامہ ’بیٹی‘ کافی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ پروین عاطف کے ایک بھائی اختر عکسی کے بارے میں احمد بشیر کا کہنا ہے کہ وہ بہت منفرد مزاح نگار تھا۔ لیکن لمبی زندگی نہ پاسکا۔

پروین عاطف نے افسانوں سے آغاز کیا۔ لیکن ان کی پہلی کتاب سفرنامہ تھی۔ سفرنامہ’’کرن، تتلی اور بگولے‘‘ جنوری انیس سو ستاسی میں شائع ہوا۔ انہیں تحریر کی جانب راغب کرنے والے ممتاز مفتی نے اس سفرنامے کے فلیپ پر لکھا ہے کہ

’’شخصیت کے اعتبار سے پروین عاطف میلہ گھومنی ہے اسے صرف گھومن سے دلچسپی نہیں۔ ویکھن کی بھی لت پڑی ہے۔ وہ عام لوگوں کی نسبت زیادہ دیکھتی ہے۔ نکتہ چیں نہیں مزا لیتی ہے۔ پروین عاطف کی تحریر میں سب سے بڑی خصوصیت، انفرادیت ہے وہ ہرواقعہ سچویشن اور کردار کو اپنی نظر سے دیکھتی ہے اور اسے بندھے ٹکے نہیں بلکہ اپنے الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ اس کا اندازِ بیان روایتی اور جدید کی خوشگوار آمیزش ہے۔ پروین عاطف کے اسلوب میں بڑی رنگینی اورجاذبیت ہے۔ وہ بات کہہ دینا جانتی ہے اور باتوں ہی باتوں میں بڑی بڑی باتیں کہہ جاتی ہے ایسی باتیں جنہیں کہنا آسان نہیں ہوتا۔ جنہیں کہنے سے پہلے قلم کار سوچتا ہے لیکن پروین عاطف بے سوچے سمجھے روانی میں کہہ جاتی ہے حیرت اس بات پر ہے کہ وہ قاری پرگراں نہیں گزرتیں۔ پاکستانی خواتین ہاکی ایسوسی ایشن کی سربراہ ہونے کی حیثیت سے اسے بار بار بیرونی ممالک کے دورے کرنے پڑے۔ ان دوروں کے بھرپور تاثرات نے اس کی تحریرکا رُخ افسانہ نگاری سے ہٹا کر سفرناموں کی طرف موڑ دیا۔ لیکن ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ بنیادی طور پر پروین عاطف افسانہ نگار ہے۔ اس کے افسانے میں بڑی جان ہے وہ قدیم و جدید کا سنگم ہے مجھے پروین کے افسانے سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔‘‘

ممتاز مفتی جیسے اردو کے صفِ اول کے افسانہ نگار نے پروین عاطف سے جوامیدیں وابستہ کی تھیں۔ انہیں پروین نے بخوبی پورا کیا۔ اور اردو ادب کوکئی شاندار افسانوی مجموعے دیے۔ پروین عاطف نے اپنے افسانوں میں دیہاتی اورشہری زندگی میں خواتین کے مسائل کی بہت شاندارعکاسی کی ہے۔ ان کے بھائی احمد بشیر اپنے سوانحی ناول ’’دل بھٹکے گا‘‘ میں اپنا ذکرجمال اور بہن پروین کو رعنا کا نام دیا ہے۔ احمدبشیر نے اپنے منفردخاکوں کے مجموعے میں بہنوئی عاطف کاخاکہ ’موچھا‘ کے نام سے لکھاہے۔ جس میں پروین کا ذکر کچھ یوں ہے۔

’’پروین میری بہن اس زمانے میں ایم اے میں پڑھتی تھی اورلاہور میں رہتی تھی۔ وہ ایسی حسین لڑکی تھی کہ اس کا بڑا بھائی ہوکرچوری چوری اس کی طرف دیکھتا اور سوچتا اللہ میاں تونے یہ بت کسی فرصت کی گھڑی میں گھڑا ہوگا۔ یہ چاند ہمارے صحن میں کیسے اترآیا۔ پروین کے نین کاجل بن کالے۔ اس کی کلائیاں گجروں بنا مہکتیں۔ اس کے رخساروں کے گرد بھنورے منڈلاتے۔ اب اس نیلے گنبد کی ساری ٹائلیں اکھڑ چکی ہیں۔ مگر چھت کی گولائی پر ابھی چاندنی چٹکتی ہے۔ وہ اردو کی صاحب طرزادیب ہے مگر بدخط ہے اس لیے کم لکھتی ہے۔ لکھتی ہے توعاطف کے لیے جس نے اس کی کوئی تحریر کبھی نہیں پڑھی۔ پروین کو اپنے ماں باپ اورمیرے بھائی اخترسے جومجھ سے چھوٹا اوراس سے بڑا تھا، عشق تھا۔ وہ ایک کھلنڈرا شخص تھا۔ ایسا مزاح نویس اردو میں کوئی اور پیدانہ ہوا۔ مگروہ صرف چھ مضامین لکھ کر مر گیا۔ پروین سے اسے بھی عشق تھا۔ دونوں دوست تھے۔ دونوں نے فیصلہ کیاکہ پروین شادی نہ کرے۔ اور پروین اس فیصلے پرقائم تھی۔ مگر میں نے عاطف کوپسندکرلیا۔ پروین صرف اس لیے شادی پرتیار ہوگئی کہ میں نے یعنی بڑے بھائی نے ہاں کردی تھی۔ اور ہمارے والدین شادی کرنا چاہتے تھے۔ اس پراختر اورپروین گلے میں بانہیں ڈال کرروئے۔ ‘‘

کیاخوب ایک بھائی کی بہن کے بارے میں تحریر ہے۔ اور ایک ایسی بہن جو بچپن سے جارح مزاج اپنی من مرضی کرنے والی تھی۔ بھائی کی پسند پرشادی کے لیے راضی ہوگئی۔

ادیب، دانشور اور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ

’’پروین عاطف کے اسلوب بیان میں نہایت سلاست اورشگفتگی ہے۔ چھوٹے چھوٹے فقروں میں غیر معمولی فصاحت اورسادگی کے عناصر نمایاں ہیں۔ جن کابوجھ قاری کے ذہن پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ خاص طور پران کے سفرناموں میں اقوام اور ممالک کے ظاہر و باطن کے عکس کے علاوہ ان کے ذریعہ اظہار میں ڈرامائی انداز کی بے ساختگی کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہے۔ ادب کے میدان میں نووارد ہونے کے باوجود پروین کی تحریروں میں کہنہ مشق لکھنے والوں کی سی پختگی ہے۔‘‘

ایک بڑے ادیب کی یہ تعریف بالکل بجاتھی۔ اورپروین عاطف نے اپنے طویل قلمی سفر میں اسے ثابت بھی کیا۔ مشہور سفرنامہ، ناول اور کالم نگار مستنصرحسین تارڑ نے ’کرن، تتلی اور بگولے‘ کے فلیپ پرلکھاہے کہ

’’ادھر مغرب میں ایک مشغلہ ہے کہ لوگ دور دراز کے پہاڑی سلسلوںکے پوشیدہ غاروں میں اترتے ہیں پھرلالٹین کی مدد سے ان شکلوں اور شبیہوں میں گم ہوتے ہیں جو قدرت انسانی نظروں سے چھپ کر ان گہرائیوں میں پتھر اور منجمد ہوئے کرسٹل کی صورت میں تخلیق کرتاہے۔

سفرنامے میں پروین عاطف نے ان جگہوں کارُخ کیا اوران کے بارے میں لکھاجن پرلکھتے ہوئے مردوں کے بھی پرجلتے ہیں۔ کرن تتلی اور بگولے کے پیش لفظ میں پروین لکھتی ہیں کہ

’’شایدآپ پوچھیں !اتنے برس کیوں نہیں لکھا۔ تومیں کہوں گی۔ سچے لکھاریوں کو تو میں زندگی بھر بابا فرید شکر گنج معین الدین چشتی یا کرشن مہاراج وغیرہ سمجھ کران کے مدار سے دور دور دھمال ڈالتی رہی۔ ان کی پوجاکرتی رہی۔ اپنی ناتواں انگلیوں میں لکھنے کی قوت کہاں سے لاتی۔ خلوص پر مبنی سیدھی سادھی سچی بات ہے سفرکے دوران یہ چارحرف جیسے بھی لکھے ان کاجوبھی رنگ ہے میرے اس درویش صفت پیارے دوست ممتازمفتی کی دین ہے۔‘‘

بنکاک کے سفرمیں وہ ایسے تاریک گوشوں کاذکرکچھ یوں کرتی ہیں۔

’’وہاں کے کلچرکے کچھ خصوصی حصے دیکھ کر ایک خاص تہذیب اورمذہب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عورت پن کی دھجیاں اڑتے دیکھ کرذہن پرتشنج کی کیفیت طاری رہی۔ تضادات کی وجہ سے آنکھوں کے آگے گدلاپن ساآگیا۔ پتانہیں ویت نام میں لڑنے والے امریکی ڈالرکازہرہے یاایشیائی عورت کی صدیوں کی محکومی کاردِعمل۔ بہرکیف بنگاک کوجس بھلے لوگ نے بھی مشرق بعید کی ہیرامنڈی کانام دیا ہے خوب دیاہے۔ اپنے ہاں تو ہیرامنڈی ہمیشہ شہرکے کسی ڈھکے چھپے کونے میں ایک آدھ پیچ دار گلی میں دھری ہوتی ہے۔ تاکہ شرفا کا کھیل تماشہ ہاری ساری کے سامنے نہ آجائے۔ لیکن وہاں تو ہیرامنڈی نئے کلچرکااتنا اہم حصہ بن گیاہے کہ شرفا کی ماں بہنوں کارات کو ہیرامنڈی میں اوورٹائم کرلینا ان کاخاصا سگھڑپن سمجھاجاتا ہے کہ ان کے ہاں تواس نمانے جسم کارات بھربے سود کروٹیں بدلنا بھی قومی اقتصادیات کے لیے گھاٹے کا سودا ہے۔ وہاں ہیرامنڈی سے کسی بھی معتمدِ شہر کا متعلق ہونا حیرت کی بات نہیں سمجھی جاتی۔‘‘

ان کا دوسرا سفرنامہ ’’ٹپرواسنی‘‘ بھی ایسے ہی منفرد اور انوکھے تجربات پرمبنی ہے۔ پروین عاطف کے افسانوں میں بھی یہی بے تکلفی اور بے باکی موجود ہے۔ انہوں نے بے شمارافسانے لکھے۔ ان کی افسانوی مجموعوں میں’میں میلی پیا اجلے‘، ’عجب گھڑی عجب افسانہ‘، ’صبحِ کاذب‘، ’ بول میری مچھلی‘ اور ’گاڈ تسی گریٹ ہو‘ شامل ہیں۔

اردو کی صاحب طرزافسانہ و ناول نگار بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ

’’اپنے خیالات کی طغیانی کوبیان کرنے کے لیے پروین نے جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ انوکھا، حیران کن اور گڑبڑا دینے والاہے۔ انگریزی، پنجابی، اردوبھاشاکے مارکرکے ساتھ ساتھ استعمال کرنے والی پروین عاطف کے اسٹائل سے خوف آتاہے۔ مجھے یوں لگتاہے کہ اس کے اردگرد ککرمتوں کی طرح اگنے والی ادیب برادری حسد کی آگ میں پھنکتی رہتی ہے۔ مشقت سے لکھنے والے اور والیاں خداداد صلاحیت والی پروین پر پھونکیں مار مارکر بھسم کردینے کے خواہش مند کب برداشت کریں گے کہ اُن بونوں میں ایک سات فٹ کا ادیب لائٹ ہاؤس کی طرح جلتارہے۔ اللہ تمہارا محافظ ہو۔ تمہیں نظر نہ لگے پروین عاطف۔‘‘

اردوکے نامور ادیب کے ان الفاظ کے بعد آخر میں گھرکی گواہی پروین عاطف کی بیٹی ڈاکٹر گل عاطف ’گاڈتسی گریٹ ہو‘ کے ابتدائیہ میں لکھتی ہیں کہ

’’اگر میں پروین عاطف کا تجزیہ کروں تو مجھے یوں لگتاہے کہ گویا جب پروین عاطف نے لکھنا شروع کیا تو ان کا ایک نیا جنم ہوا۔ لکھاری بننے کے شوق نے ان کو ایک نئی زندگی بخشی اور ان کے اندر ایسی جوت جگائی جس نے انہیں جینے کا ایک نیا ڈھنگ سکھا دیا کہ وہ نکھرتی چلی گئیں اورنت نئے رنگ بکھیرنے لگیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کیا دیا، اس کافیصلہ تو قاری ہی کرسکتے ہیں لیکن اس لگن نے جو انرجی اور تمکنت پروین عاطف کو بخشی میں اس کی عینی شاہد ہوں جس سے ان کی اپنی زندگی میں دیپ سے اور دیپ جلنے لگے۔‘‘

بیٹا شکوہ عاطف کہتا ہے کہ

’’میں یہ فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ ان میں سے نہیں جن کا ہونا نہ ہونا دنیا میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔ امی ہمیں آپ پر فخر ہے۔‘‘

اردو ادب اوراس کی تاریخ کاذکران دو صاحب طرز لکھاریوں الطاف فاطمہ اور پروین عاطف کے بغیر ہمیشہ ادھورا رہے گا۔ ان کے فن کی بازیافت پر بھی ضرور کام ہوگا۔

یہ بھی دیکھئے: سوشل میڈیا کا ادب اور خواتین : احمد اقبال

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: