پارلیمانی نظام بھی مقدس گائے ہے —— اورنگ زیب نیازی

0
  • 124
    Shares

ہندوئوں سے علاحدگی اور قیام ِ پاکستان کی متعدد وجوہات میں سے ایک وجہ ’’مقدس گائے‘‘ بھی تھی۔ یہ شریف جانور صدیوں تک ساتھ رہنے والی دو بڑی قوموں کے درمیان وجہء نزاع ثابت ہوا اور آج بھی ہے۔ اکیسویں صدی میں مقدس گائے کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام کی خبروں کو یار لوگ آزدیء اظہار رائے اور مذہبی آزادی کے خوش نما کاغذوں میں لپیٹ کر چھپا چکے ہوتے اگر اروندھتی رائے جیسی روشن خیال بھارتی دانشور اپنے ناول میں اس کی ہولناک تصویر دنیا کے سامنے نہ رکھ چکی ہوتی۔

بہر حال پاکستان بن گیا۔ مسلمان اپنے لیے ایک الگ خطہء زمین لینے میں کامیاب ہو گئے لیکن مقدس گائے کہ تصور سے جان نہ چھڑا سکے کہ شاید یہ ان کے اجتماعی لا شعور کا حصہ بن چکا تھا۔ چناں چہ تھوڑے ہی عرصے میں انھوں نے یہاں بھی اپنے لیے مقدس گائیں بنانا شروع کر دیں۔

سب سے پہلے ایک ’’پُروقار مقدس گائے‘‘ وجود میں آئی جس کے گوبر کو گوبر کہنا بھی حُب الوطنی کے تقاضوں کے خلاف ٹھہرا۔ اس کے بعد ’’مقدس گائے عالیہ‘‘ اور مقدس گائے عظمیٰ‘‘ نے جنم لیا جس کا حکم ہے کہ زخم کو زخم نہیں پھول بتایا جائے۔ مقدس گائے شخصیات کا کیا مذکور کہ ہماری تہذیب اور مذہب مرنے والوں اور مرنے والیوں کی’’تقدیس‘‘ پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ حسنِ اتفاق دیکھیے کہ موجودہ صدی کے آغاز میں ایک آمر نے آزادیء اظہار رائے کی مقدس گائے کو اتنا بے لگام کیا کہ وہ ہر کھیت میں منہ مارنے لگی۔ اس مقدس گائے کے مقدس پوت روزانہ رات کو سات سے گیارہ کے دوران حکومتیں بنانے اور گرانے لگے اور اس کے صلے میں بھاری لفافے، مہنگے پلاٹ، یورپ، امریکہ کے وی آئی پی سفر پانے لگے اور تو اور حج بھی سرکاری خرچے پر فرمانے لگے۔

اب سرکاری حج کا ذکر ہوا ہے تو ازرہِ تفنن یا کچھ ذائقہ بدلنے کو جملہء معترضہ کے طور پر ایک سیاسی لطیفہ بھی سنتے جائیے: ستر کی دہائی میں ابو ظہبی کے شیخ زید بن سلطان النہیان سرکاری دورے پر لاہور تشریف لائے۔ لاہور کے پی سی ہوٹل میں ان کے لیے کمرہ بُک کرایا گیا۔ شیخ صاحب اس زمانے کی مشہور فلمی اداکارہ ’’ع‘‘ کے زبردست فین تھے۔ تین دن کے لیے محب اور محبوب کی خصوصی’’ملاقات‘‘ کا اہتمام کیا گیا (نشان خاطر رہے کہ دن سے مراد طلوع آفتاب سے طلوع آفتاب تک کا زمانی عرصہ ہے)۔ ایک دن بعد بہ امر مجبوری شیخ صاحب کو واپس جان پڑا۔ ’’ملاقات‘‘ کا اہتمام تین دن کے لیے تھا لہٰذا باقی دو دن ’’ملاقات‘‘ کی ذمہ داری ایک منسٹر مولانا صاحب نے اپنے ذمہ لے لی۔ وزیر اعظم بھٹو کو معلوم ہوا تو فرمایا: ’’مولانا صاحب حج بھی سرکاری خرچ پر اور ’’ملاقات‘‘ بھی سرکاری خرچ پر؟‘‘ خیر یہ تو ایک جملہء معترضہ تھا لیکن نوبت بہ ایں جا رسید کہ شہری مراکز سے سات سو کلو میٹر دور چک جھلے والا میں چنگ چی رکشے کا معمولی ایکسیڈنٹ بھی ہو جائے تو یہ خبر چشم زدن میں آپ تک پہنچ جائے گی مگر مجال ہے جواس مقدس گائے کے سرکاری ’’حج‘‘یا سرکاری ’’ملاقاتوں‘‘ کی بھنک بھی آپ کو پڑنے پائے اور اگر کوئی سرکاری یا غیر سرکاری اہل کار بذریعہ سوشل میڈیا یا کسی اور ذریعے سے مزاحم ہو جائے تو ریاست کا چوتھا ستون فوراََ لڑکھڑانے لگتا ہے۔

ایک اور مقدس گائے جو اگرچہ پہلے سے موجود تھی لیکن جب سے دنیا میں نیو لبرل ازم اور فری مارکیٹ اکانومی کا چرچا ہوا ہے، زیادہ مقدس ہو گئی ہے۔ سرمایے اور پر تعیش زندگی کی کشش نے اچھے خاصے پڑھے لکھے لکھاریوں اور مذہبی علماء کو ’’دانشور‘‘ بنا دیا۔ اب وہ صبح شام اس کی تقدیس کے گیت گاتے ہیں، اپنی ذہانت اور علم سے اس کی حفاظت کے لیے حیلے تراشتے ہیں اوراس کے کوے کو سفید ثابت کرتے ہیں۔ یہ مقدس گائے پارلیمانی جمہوری نظام ہے۔ اِدھر آپ نے اس کی ناکامی پر سوال اُٹھایا اُدھر منڈی میں موجود دلال لٹھ لے کر آپ کے پیچھے پڑ گئے۔ آپ پر مولوی، طالبان، قدامت پسند، جمہوریت دشمن، آمریت پسند، انسان دشمن اور پتا نہیں کیا کیا القابات کی برسات ہونے لگی۔ بندہ پوچھے اعلیٰ حضرت آپ آزادیء اظہار رائے کے بھاشن دیتے آپ کا منہ نہیں تھکتا۔ اس ملک میں سوال کرنے کی اجازت نہ ہونے کی شکایتیں کرتے آپ کا قلم نہیں تھکتا تو یہ دو رنگی کیوں؟ کیا آزادیء اظہار اور سوال کرنے کے سب خدائی اختیارات صرف آپ کا حق ہے؟کوئی دوسرا آپ کے نظریے اور موقف سے اختلاف نہیں کر سکتا؟

یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جو آپ کے چھپائے نہیں چھپ سکتی کہ اس ملک پر تقریباََ تیس سال آمریتوں کا سایہ رہا ہے اور باقی چالیس سال پارلیمانی جمہوری نظام کا۔ اب آپ کی معصومانہ دلیل یہ ہوگی کہ یہ چالیس سال بھی آمریتوں کے سایے میں گزرے ہیں۔ ۔ درست۔ ۔ اگر ایسا ہے تو پھر تف ہے اس نظام پر اور آپ کے گھڑے ہوئے ’’نیلسن منڈیلوں‘‘ اور ’’چی گویروں‘‘ اور ’’جمہوریت کے استعاروں‘‘ پر جو اقتدار کے مزے تو لوٹتے رہے لیکن نظام کو آزاد نہیں کر سکے۔ آپ اس ناکامی کو قبول کیوں نہیں کر لیتے؟ اور اگر پارلیمانی حکومتیں صاف شفاف انتخابات اور عوامی رائے سے وجود میں آتی رہی ہیں تو پھر صاف پانی کی بوند بوند کو ترستے بائیس کروڑ انسانوں، آلودگی میں کھانستے کراہتے بوڑھوں، رکشوں اور سڑکوں پر بچے جنتی مائوں، دس پندرہ فی صد سے کم شرح تعلیم (شرح تعلیم اور شرح خواندگی کا فرق ملحوظ رہے)، اقلیتوں کی جلتی ہوئی بستیوں اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتے لوگوں کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر ایک مقدس گائے ذمہ دار ہے تو دوسری مقدس گائے بھی بری الذمہ نہیں۔ آمریتوں کے دور میں ٹیکنو کریٹس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں تو ان گناہگار آنکھوں نے پارلیمانی جمہوریتوں کے دور میں گنوار زمین داروں اور ان پڑھ ٹھیکیداروں کو تجوریاں بھرتے بھی دیکھا ہے۔ یہ عوامی نمایندگی کس طرح اور کس بھائو خریدی جاتی ہے یہ ’’کالے صحافی‘‘ اور ’’رنگین دانشور‘‘ نہ جانتے ہوں تو نہ جانتے ہوں کالے چور بھی جانتے ہیں۔ پھر سوال کسی صدارتی نظام، ٹیکنو کریٹ حکومت یا آمریت کی حمایت کا تو ہر گز ہرگز ہے ہی نہیں۔ سوال تو کسی بھی ایسے نظام حکومت کا ہے جو اس خطے میں بسنے والے خزاں نصیب انسانوں کے ڈکھوں کا مداوا کرسکے۔ کتنے ہی ملک پہلے سے سے موجود رائج نظاموں سے مراجعت کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں۔ سب سے بڑی مثال چین کی ہمارے سامنے ہے۔ آخر سوشلزم، کمیو نزم، کیپٹلزم اور پارلیمانی جمہوریت بھی تو انسانی ذہن کی ہی تخلیق ہیں۔ یہ کوئی نبوت تو نہیں کہ اس پر خاتمے کی مہر لگ چکی ہے۔

کیا انسانی ذہن اتنا بانجھ ہو چکا ہے کہ وہ کسی محدود خطے کے لیے کوئی ایسا نظام وضع نہیں کرسکتا جو اس کے زمینی حقایق اور حالات کے مطابق ہو؟


اس موضوع پہ کچھ مزید اہم اور دلچسپ مضامین:  جمہوریت کی تقدیس پر کچھ چون چرا: عثمان سہیل

پاکستان کو جمہوریت کی نہیں، ایک وطن پرست آمر کی ضرورت ہے؟ — احمد اقبال

جمہوریت: منظم اقلیت کی حکمرانی؟ — داود ظفر ندیم

 ہماری جمہوریت اور آواگون : سید مظفر الحق

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: