پرینک کی وباء اور ہمارا معاشرہ —– فارینہ الماس

0
  • 30
    Shares

انسان فطرتاً حیرتیں سمیٹنے اور حیرتیں بانٹنے میں اپنی تشفی و تسکین تلاش کرتا ہے۔ عملاً ایسے افعال انجام دینا جس سے دوسرے حیرت زدہ ہو جائیں یا یکدم اپنے حساس ردعمل مثلاً غصہ، نفرت، ڈر، تکلیف کا اظہار کرنے لگیں ”پرینک” کہلاتا ہے۔ اسے ایک ایسی عملی شرارت بھی کہا جا سکتا ہے جو دوسرے انسان کو دم بخود کر دے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ پرینک دور جدید کی ایجاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود حضرت انسان۔

ماضی قریب میں امریکہ کے سابق صدر بنجمن فرینکلن کی مثال دی جا سکتی ہے جنہوں نے ایک مدت تک ایک بیوہ عورت بن کر مشہور اخبار میں خطوط لکھے جو اپنے دور میں اتنے مقبول ہوئے کہ اسے شادی کے کئی پیغامات موصول ہوئے۔ مشہوررومینٹک شاعر شیلے کو دوران تعلیم انتہائی ہولناک طریقوں سے پرینک کیا جاتا رہا۔ ابراہم لنکن اپنے پرینکس کے لئے بہت مشہور تھا۔ ایڈیسن کے انتہائی ناموری کے دور میں نیویارک ڈیلی گرافک کے ایک صحافی نے اس سے متعلق ایک پرینک سٹوری چھاپی کہ ایڈیسن نے ہوا کے ذریعے خوراک پیدا کرنے کی مشین ایجاد کر لی ہے۔ یہ سٹوری اتنی مقبول و معروف ہوئی کہ لوگوں نے اس ایجاد کا بھرپور جشن منایا۔ ماضی میں ایسے کئی بے ضرر اور محض لوگوں کی حس مزاح کی تسکین کے لئے پرینکس کئے جاتے رہے۔ مغرب میں آج بھی تعلیمی درسگاہوں کے طالبعلموں کے ایسے باہمی عملی مزاح کا رواج عام ہے۔ کینیڈا کے انجنیئرنگ کے طلبہ سالانہ پرینکس کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کولمبیا اور کیمبرج یونیورسٹی میں بھی ایسے واقعات عام ہیں۔ خود ہمارے ملک میں بھی درسگاہوں میں نئے داخل ہونے والے طلبہ و طالبات کو فول بنانا ایک روایتی فعل سمجھا جاتا ہے جس کے کبھی کبھار نتائج بھیانک صورتحال اختیار کر لیتے ہیں۔ دنیا بھر میں اپریل کی پہلی تاریخ کو اک دوسرے کو بیوقوف بنانے کا رواج بھی ہے۔ جو ماضی میں انتہائی جو ش و خروش سے منایا جاتا تھا لیکن اب اس کی جگہ دیگر، بیوقوف بنائے جانے کے جدیدطریقوں نے لے لی ہے۔ مثلاً ریڈیو ایف ایم کے اسی نوعیت کے کسی پروگرام کے لئے پہلے کچھ سادہ لوح لوگوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں پھر فون کال کے ذریعے انہیں کسی جھوٹی کہانی میں الجھا کر صورتحال کو پر مزاح اور دلچسپ بنایا جاتا ہے۔ پندرہ بیس منٹوں کی دلچسپ صورتحال کے بعد معذرت کرتے ہوئے اسے حقیقت حال سے آشنائی دی جاتی ہے لیکن اس دوران سامعین ان کی باہمی تکرار سے خاصے لطف اندوز ہوچکتے ہیں۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ جیسے سماجی رابطے کے ایپ کو بھی جاری کردہ تصاویر کے ساتھ جعلی گفتگو کے پرینک کے لئے استعمال کیا جانا بھی ممکن ہے۔

انٹرنیٹ کے اس جدید دور میں یہ فعل یوٹیوب کے ذریعے کچھ عرصہ میں ہی خاصا مقبول ہو چکا ہے۔ دنیا بھر کے بہت سے بیروزگار نوجوان اسے اپنا ذریعہء آمدن بنا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں اپنے ٹارگٹ سے چھپ کر بہت سی پر مزاح ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، اور ان میں انہیں گمراہ کرنے یا بیوقوف بنانے کی کاوش انتہائی دیدہ دلیری و خود اعتمادی سے انجام دی جاتی ہے۔ یوٹیوب دیکھنے والوں کو ایسی ڈھیروں ویڈیوز بآسانی مل جاتی ہیں جن میں لوگوں کو پارکوں، درسگاہوں، شاہراہوں یا بازاروں میں کھلے عام ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ عموماً ان میں ٹارگٹ کئے جانے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ کسی میں نوجوان راستہ پوچھتے ہوئے دوسروں کا مزاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں تو کسی میں نوجوان لڑکیاں، لڑکوں کو فیس بک پر تنگ کئے جانے کا الزام دھرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اکثر ویڈیوز میں لڑکے لڑکیوں کو پروپوز کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی ویڈیوز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اب پرینک کا عمل ایک ایسا جھوٹا عمل بن چکا ہے جس کی حقیقت عیاں ہوجانے پر فرد شرمندگی و ندامت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے نتائج شرارت و مزاح سے کہیں ذیادہ ہراسگی اور خفت کا باعث بنتے ہیں۔ ہلکا پھلکا مذاق تو شاید دوسروں کو اشتعال دلانے کا باعث نہ بنتا ہولیکن کچھ پرینک ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں انجام دیتے ہی ٹارگٹڈ لوگ غصے سے مشتعل ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً کرسیوں پر بیٹھتے ہوؤں کے نیچے سے کرسیاں کھینچ لینا، دوسروں کو جھیل یا تالاب میں دھکیل دینا، ان کے منہ پر تھپڑ دے مارنا یا کسی لڑکی یا لڑکے پر کوک کی پوری بوتل یا کیچڑ انڈیل دینا مذاق کی وہ صورت ہے جو لوگوں کی قوت برداشت و تحمل مزاجی کو آزمانے کے مصداق ہوتا ہے اور یقیناً ایسے پرینک گھر بیٹھ کر یو ٹیوب دیکھنے والوں کو بھی ناگوار گزرتے ہیں۔ انہیں ان کا شکار ہونے والوں سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے اور پرینک کرنے والوںکے لئے انتہائی غصے اور نفرت کا احساس ہونے لگتاہے۔ اکثر پرینک جو خواتین بھی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ انتہائی بیہودہ اور لغو ہوتے ہیں جنہیں ایک عزت دار اور حساس شخص شاید ہی برداشت کر پاتا ہو۔

پرینک کی ایک بھیانک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب رات کی گہری تاریکی میں تاریک و سنسان رستوں پر پہلے سے ڈرے سہمے لوگوں کو بھوت پریت بن کر ڈرایا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے اور کمزور دل خواتین و حضرات کے لئے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن مغربی ممالک میں کئے جانے والے اکثر پرینک ایسے ہی خوفناک و دہشت ناک ہوتے ہیں۔ جن پر لوگ درگزر سے کام لیتے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، حقیقت حال معلوم پڑ جانے کے باوجود پرینک کرنے والے کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ حال ہی میں ایسا ہی ایک پرینک جو ایک سعودی نوجوان نے اپنے جسم سے نقلی خود کش جیکٹ باندھ کر لوگوں کو ڈرانے کے لئے کیا اسے لوگوں کی شدید مذمت اور انتہائی غم وغصے کا سامنا کرنا پڑا۔

کچھ ایسے ہولناک پرینک بھی ہوئے ہیں جن سے لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے۔ امریکہ میں ایک بارہ سالہ لڑکا پرینک کی غرض سے ہاتھ میں نقلی پستول لہراتا ہوا جب بیچ سڑک آیا تو پولیس نے اسے دہشت گرد سمجھتے ہوئے گولی کا نشانہ بنا ڈالا۔ 2013میں سولہ سالہ جارڈن نے اپنی بہن کو خوفزدہ کرنے کے لئے خودکشی کا ڈرامہ رچاتے ہوئے جعلی پھندا لینے کی کوشش کی تو حقیقت میں ہی اس پھندے کا شکار ہو گیا۔ 2017 میں ٹیزن بینز نامی لڑکے کی گرل فرینڈ نے سوشل میڈیا پر خودکشی کا جھوٹا پیغام ارسال کیا تو نوجوان نے شدید غم کا شکار ہو کر حقیقتاً خودکشی کر لی۔ اسی طرح ایک پندرہ سالہ لڑکی نے پرینک کے طور پر ہمسائے کی گاڑی پر انڈے اور مایونیز پھینکے تو گاڑی کے مالک نے گھر سے نکل کر اسے گولی مارکر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ اور ایسے انگنت واقعات لوگوں کے عدم برداشت اور اشتعال انگیزی میں مبتلا ہو جانے کے گواہ ہیں۔

جوش و جنون کا حد سے ذیادہ اظہار اور سنسنی پھیلانے کی اندھی خواہش مذاق کو کب خونی کھیل میں بدل دیتی ہے اس کا اندازہ کرنا محال ہوتا ہے۔ بعض اوقات معمولی مالی منافعت کی خواہش بھی ایسے حادثات کا باعث بن جاتی ہے جیسے حال ہی میں لاہور کے لٹن روڈ کے رہائشی نوجوان زوہیر، حسنات اور صبورکا بھوت پریت بن کر لوگوں کو ڈرانے کا پرینک زہیر کی جان چلے جانے کا باعث بن گیا۔ حیرت کا باعث یہ تھا کہ گھر سے نکلنے سے پہلے اس نوجوان کے والد اس پرینک سے متعلق آگاہی رکھتے تھے۔ اور اس کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے کو ایسی حرکت سے نہیں روکا۔

شاید ہمارے ملک میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہو۔ دنیا کی ہر خطرناک یا غلیظ وباءمغرب سے ہوتی ہوئی انڈیا تک اور پھر پاکستان تک پہنچتی ہے۔ بلکل ویسے ہی جیسے بلیو وہیل گیم جیسی وبا بھارت سے ہوتے ہوئے پاکستان پہنچی۔ پرینک کے اثرات اب پاکستان پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی لڑکے، لڑکیاں بھی اس مرض میں مبتلا دکھائی دینے لگے ہیں۔ تیزی سے زور پکڑتی اس وبا کو قابو کرنے کے لئے اس ایک واقعے ہی کو مثال بنا دینا چاہئے۔ والدین کو اس سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی اولاد کو ایسے افعال سے باز رکھنا چاہئے تاکہ پھر کبھی ایسا خونی واقعہ نہ ہو۔ ایک ایسا ملک جہاں گاڑی کی ٹکر پر ہی لوگ مشتعل ہو کر اسلحہ کا استعمال کر نے پر آمادہ رہتے ہیں وہاں ایسے بھیانک مذاق کو اعصابی، جذباتی و نفسیاتی طور پر لاغر معاشرہ بھلا کیسے برداشت کر سکتا ہے۔

(Visited 150 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: