“فکر اقبال کا المیہ” یا تفہیم اقبال کا المیہ —- جلیل عالی

3
  • 126
    Shares

صلاح الدین درویش کی کتاب “فکر اقبال کا المیہ” پر جلیل عالی کا محاکمہ۔

اقبال کے خلاف اکثر تحریریں مناظراتی روئیے کی عکاس ہیں اور کسی ہم آہنگ نکتۂ نظر کا پتہ دینے کی بجائے جو بھی اینٹ روڑا میسر آجائے، دے مارنے کے وتیرے کی مظہر ہیں ۔علی عباس جلالپوری جیسا عالم فاضل بھی اپنی تصنیف ’اقبال کا علم الکلام‘ میں اس روش سے دامن نہیں بچا سکا۔ مدیرِ فنون احمد ندیم قاسمی کے نام اس تصنیف بارے میرے ایک جملے کی پاداش میں، جسے مدیرِ محترم نے حذف بھی کر دیا، مجھے اڑھائی سال تک فنون بدر کئے رکھا۔ اس جملۂ معترضہ سے قطع نظر ڈاکٹر صلاح الدین درویش کی تصنیف میں بھی ایسا ہی مناظراتی مظاہرہ دیکھ کر میں نے طے کر رکھا تھا کہ اس پر کچھ نہیں کہوں گا۔ مگر اب میری معذرت نامنظور کرتے ہوئے موصوف نے اصرار کیا ہے کہ میں اپنے تاثرات ضرور سامنے لاؤں۔

تفصیل میں جانے سے پہلے عرض کر دوں کہ کتاب بارے میرا تاثر یہ ہے کہ

  1. صلاح الدین درویش نہ صرف سراسر مادی نظریۂ حیات پر یقین رکھتے ہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کو انسانیت کا محسنِ اعظم گردانتے ہیں۔ اور زندگی اور کائنات کوکسی اخلاقی و روحانی زاویۂ نگاہ سے دیکھنے اور سمجھنے کے سخت خلاف ہیں۔
  2. اقبال کو اپنے آخری تجزیے میں سائینسی تحقیق و تلاش اور مادی وتمدنی ترقی کا مخالف قرار دیتے ہیں۔
  3. اور اس مقصد کے لئے اقبال کی کلی اپروچ سے رُو گردانی کرتے ہوئے اس کے شعری کلام اور نثری تحریروں کو اصل تناظر سے ہٹا کر دیکھتے اور اپنے نتائج کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔
  4. اس سارے عمل میں واضح طور پر اپنے مؤقف کے خلاف جانے والے متن سے جان بوجھ کر اغماض برتنے اور کلامِ اقبال کی غلط اور من مانی تعبیر کرنے کے دونوں حربے بروئے کار لاتے ہیں۔

اقبال کے شعر و فکر کی ہمہ جہت اپیل پر غور کرنے کی بجائے صلاح الدین کو یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ مختلف نکتہ ہائے نظر کے لوگ اقبال کو اپنے اپنے مؤقف کی تائید میں کیوں استعمال کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں۔

’’اس مضمون کی تکمیل نے مجھے یہ کہنے کا حوصلہ دیا ہے کہ روشن خیال،اعتدال پسند، جمہوریت نواز، ترقی پسنداور مادیت پسند اشتراکی خیالات کے حامل حلقے فکرِ اقبال کی مربوط تفہیم کے بغیر ہی اپنی اپنی نظریاتی تشہیر کے لئے فکرِ اقبال کے مختلف گوشوں کو اپنی اپنی پسند اور ترجیح کے مطابق استعمال کر رہے ہیں‘‘ (ص ۹،۱۰)

تفہیمِ اقبال کی خاطر لکھی جانے والی تحریروں میں تو دیانت داری کا تقاضہ یہی ہے کہ اقبال کے اصل اور مرکزی فکری حوالوں کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ مگر اپنے کسی مؤقف کی تائید میں افکارِ اقبال سے جزوی استفادہ کرنا کوئی جرم تو نہیں ہے۔

مغرب کی تہذیبی تاریخ پاپائیت کی بالادستی کی تاریخ ہے۔جس کے ردِ عمل میں جدیدیت نے الوہی اتھارٹی کی نفی ضروری سمجھی۔ اقبال نے ہمیں یہی سمجھانے کی کوشش کی کہ اسلام ان معنوں میں مذہب نہیں ہے جو عیسائیت کی تاریخ سے مترتب ہوتے ہیں ۔یہ تو ایک مسلسل سماجی و تہذیبی تحریک کا نام ہے۔ اسی لئے اسلام میں نہ تو کبھی پاپائیت رہی اور نہ کبھی کسی لوتھر کے سامنے آنے کا کوئی امکان ہے۔اب جس مجہول اور استحصالی باطن کا حوالہ پاپائیت بنی اس کی جائز نفی کا یہ مطلب کہاں نکلتا ہے کہ سرے سے انسان کی باطنی دنیا کا تذکرہ ہی بے جواز ہو جائے۔

صلاح الدین نے اقبال کی ابتدائی شاعری میں ایک رومانوی اور سرور بخش یاسیت کو مرکزی حیثیت دی ہے ۔اور اپنی ذات، کائنات اور خدا کی حقیقت جاننے کے بارے اقبال کے اس شدید اضطراب و تجسّس کو در خورِ اعتنا نہیں جانا، جو اس کے فکر و احساس کے اگلے سفر کی سیڑھی بنا۔اس سے قطع نظر کہ انسان کی اخلاقی و روحانی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، موصوف کے نزدیک مادی ترقی ہی سب کچھ ہے۔ بلکہ روحانیت تو انہیں ایک بے معنی شے دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ اس پہلو سے وہ اقبال کی تشویش کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’مادی علوم و فنون کی تعلیم چونکہ مزید مادی ترقی کا باعث بنتی ہے اور مزید مادی ترقی چونکہ روحانیت کا مزید صفایا کردیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اقبال جدید تعلیم اور مادی ترقی کے زبردست ناقد ہیں‘‘ (ص۴۸)

سوال پیدا ہوتا ہے کیا مادی ترقی کی ہر صورت انسان کے مفیدِ مطلب ہے؟ اگر قطعیت کے ساتھ ایسا نہیں ہے تو اعلیٰ انسانی مفاد میں مادی ترقی پر تنقیدی نگا ہ ڈالنا غیرضروری اور مذموم کیسے ہو گیا؟ پھر جو شخص خدا کو بھی یہ کہہ سکتا ہو کہ

تو شب آفریدی چراغ آفریدم
سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من ٓانم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم

اور یہ سمجھتا ہو کہ

عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل نہ بن جائے

جوتھا نہیں ہے جو ہے نہ ہو گا
یہی ہے اک حرفِ محرمانہ
قریب تر ہے نمود جس کی
اسی کا مشتاق ہے زمانہ

وہ مادی ترقی کا آنکھ بند نقاد اور قطعی مخالف کیسے ہو سکتا ہے؟ سائنسی مشاہدہ و تحقیق کے ضمن میں تو ابتدائیہ نگار ڈاکٹر روش ندیم نے بھی پروفیسرفتح محمد ملک کا یہ اقتباس درج کرنا ضروری محسوس کیا ہے کہ

’’اقبال کے خیال میں خالقِ اکبر کی نت نئی تخلیقی اداؤں کا سائنسی مشاہدہ افضل ترین عبادت ہے مظاہرِ فطرت کے مطالعے میں جذب سائنسدان کو اقبال ایک ایسا صوفی قرار دیتے ہیں جو اللہ کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ قوانینِ فطرت کی سائنسی تلاش و جستجو کو وہ قربِ خداوندی کا مؤثر وسیلہ قرار دیتے ہیں۔‘‘ (اقبال فراموشی)

ایک اور تہمت یہ ہے کہ

’’پورے کلام میں اقبال نے عقائد کی کمزوری کے اسباب کو کہیں بھی خود عقائد میں دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی اور سارا ملبہ کم و بیش اپنی شاعری میں جدید علوم، جدید معاشرت، جدید تہذیب اور مادی تمدن پر گرا دیا اور خود ہی عجیب و غریب نتائج اخذ کر لئے۔‘‘ (ص ۵۱)

حقیقت اس کے با لکل برعکس ہے۔ تمام شارحینِ اقبال اس پر متفق ہیں کہ اقبال مسلمانوں کے زوال میں کلیدی سبب دنیا گریز عجمی تصوف کو قرار دیتا ہے۔ اور اس نتیجے پر وہ اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ کی تکمیل کے دوران ہی پہنچ گیا تھا۔ اس نے ایسے بے شمار اشعار لکھ رکھے ہیں۔

یہ امت روایات میں کھو گئی
حقیقت خرافات میں کھو گئی
تمدن ، تصوف ،شریعت ،کلام
بتانِ عجم کے پجاری تمام

اس میں جدید علوم، جدید معاشرت، جدید تہذیب اور مادی تمدن پر مسلمانوں کے زوال کا ملبہ کہاں گرایا گیا ہے؟
مصنف فرماتے ہیں

’’زمانہ اپنی چال چل چکا ہے کل کے شاہانِ ارض و فلک مات کھا چکے ہیں ۔ان حالات میں اقبال کے تصورات کی بنیاد پر ملتِ بیضا کی بیداری آخر کیا معنی رکھتی ہے۔ چنانچہ اقبال ملتِ بیضا کو معجزات کے انتظار میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں‘‘ (ص۵۴)

اس کے بعد اقبال کے یہ اشعار درج کرتے ہیں

مشامِ تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس کا
ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تاتاری
تو اے مولائے یثرب آپ میری چارہ سازی کر
مری دانش ہے افرنگی مرا ایماں ہے زناری

انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ان اشعار میں تو باقاعدہ مرض کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خالی خولی اندازوں سے گوہرِ مقصود ہاتھ نہیں آ سکتا۔اہداف کے حصول کے لئے ضروری ،خصوصی اور عملی اہلیت درکار ہوتی ہے۔ اور ’مرا ایماں ہے زناری‘ میں تو مسلمانوں کے مسخ شدہ عقائد ہی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اور اقبال نے مسلمانوں کو معجزات کے انتظار میں نہیں چھوڑا بلکہ تاریخی اعجازکر دکھایا۔ اپنے زندہ افکار اور تحریکی کلام سے ذہنی بیداری پیدا کر کے نہ صرف جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو آزادی کی راہ سجھائی اور دنیا کے نقشے پر پاکستان کو جلو ہ گر کیا بلکہ بیسویں صدی کے اواخر پر اپنے معنوی مریدین علی شریعتی اور امام خمینی کے ذریعے ایران میں بادشاہت کا تختہ الٹوا کر
عظیم انقلاب برپا کر دکھایا۔ یہ اکیسویں صدی جا رہی ہے۔ کشمیر و فلسطین اور عراق و افغانستان کی مزاحمتی تحریکوں کے پیچھے اقبالی تصورات کی جھلک دیکھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آنی چاہئے۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ کہ اقبال قرآنی حوالے بے عملی اور علم دشمنی پیدا کرنے کے لئے لاتا ہے یا تسخیرِ کائنات اور جہد و عمل پر ابھارنے کے لئے۔ مگر موصوف تو ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ

’’اقبال عقل و خرد کی ہنر کاری کا مذاق اڑاتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں بجز گمراہی کے کچھ نہیں دھرا۔۔۔اقبال کی ایک نظم ’زمانۂ حاضر کا انسان‘ اس سلسلے کی بہترین مثال ہے۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا‘’
( ص ۵۷)

درویش صاحب یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان اشعار میں عقل و خرد کا مذاق نہیں اڑایا گیا، اسے فلاحِ انسانی کا نصب العین یاد دلایا گیا ہے اور ترجیحاتِ انسانیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کسی بہتر نظریۂ حیات کی تشکیل کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

احمد فراز جب یہ کہتا ہے کہ
بستیاں چاندستاروں کی بسانے والو
کرۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

تو کیا وہ سائنسی تحقیق کی مخالفت کر رہا ہے؟اقبال جو کہ بعض منطقوں میں عقل کی نارسائیوں کا احساس دلانے کے لئے بھی دلیل و برہان کا راستہ اختیار کرتاہے وہ عقل و خرد کی کلی و قطعی نفی کیسے کر سکتا ہے؟وہ تو مغرب کے سچے عشق سے تہی ہونے اور مشرق کے انتشارِ فکر اورحقیقی عقل سے محروم ہونے پر رنج و غم اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے۔

مردہ لادینیِ افکار سے افرنگ میں عشق
عقل بے ربطیِ افکار سے مشرق میں غلام

صلاح الدین درویش کو علم ہونا چاہئے کہ شاعری میں الفاظ علامتی و استعاراتی اور مجازی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں علمی و اصطلاحاتی قطعیت کے ساتھ نہیں۔ لہٰذا اشعار میں جہاں لفظ عقل دیکھا اسے فوراً علم و آگہی کے مفہوم میں لے لینا اور جہاں لفظِ عشق دیکھا اسے فوراً نفیِ عقل و خرد تصور کر لینا درست نہیں ۔شاعر کے استعاراتی مافی الضمیر اور الفاظ کے معنیاتی سیاق پر نگاہ رکھے بغیر اشعار کی درست تفہیم ممکن نہیں۔اخلاقی انسانی اقدار: اخوت، محبت، احترامِ انسانی، ایثار و قربانی، بلند کرداری اور عدل و مساوات کی پاسداری محض عقل نہیں عشق اور کمٹمنٹ سے بروئے کار آتی ہے۔

ایک اور اقتباس دیکھئے۔

’’عالمِ رنگ و بو بھی چونکہ مغرب کے دستِ تحقیق میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اقبال اس عالم سے گزر جانے کی تلقین کرتے ہیں ۔اور ان جہانوں کی طرف نگاہِ التفات اٹھانے کا پیغام دیتے ہیں کہ جسے اقبال کے خیال میں عقلی یا سائنسی انسانی تدبیر سے مسخر نہیں کیا جا سکتا ۔
اقبال دنیاوی زندگی کے وہ مسائل کہ جن کو عقل یا تدبیر سلجھانے کی کشمکش میں مبتلا ہے، سے مکمل اجتناب اور گریزکی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
( ص۶۰)

کسی بڑے نصب ا لعین سے لے کر زندگی کے کسی بھی شعبے میں تحقییق و تلاش اور عروج و کمال کے لئے روز مرہ زندگی کے عیش و آرام کی قربانی لازم آتی ہے۔اور اس سفرمیں چھوٹے چھوٹے مفادات سے اوپر اٹھانے والی رفعتِ نگاہ اور بلند کرداری از حد ضروری ہے۔اتنے توانا اور ترقی پسند خیال کو دنیا گریزی کی تعلیم کے معنی پہنانا کہاں کی شعر شناسی ہے؟ اور اگر اس شعر کے دوسرے مفہو م یعنی مادی دنیا کے علاوہ روحانی دنیا کی سیر کی دعوت کو بھی سامنے رکھا جائے تو اقبال نے مادی دنیا سے معاملے پر خطِ تنسیخ کہاں کھینچا ہے؟ وہ تو مادی دنیا کے ساتھ ساتھ روحانی و ارتفاعی عالم کے ثمرات بھی سمیٹنے کی ترغیب دے رہا ہے۔

اقبال کے شعور و بصیرت بارے موصوف کے سوئے ظن کا یہ عالم ہے کہ انسان سے غیر معمولی کارنامے سر انجام دلانے والی یقین و اعتماد کی نفسیاتی توانائی تک کی نفی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔اور اقبال کے ایسے ولولہ انگیز اشعار کو فکری الجھاؤ کا نام دیتے ہیں۔

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پید ا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ روح الامیں پیدا
غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں
جو ہو ذوقِ یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

اشعار کی غلط تفسیر کے علاوہ انہوں نے واضح طور پر حرکت و حرارت اور جہد و عمل پر ابھارنے والے اقبال کے ایسے سینکڑوں اشعار کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
ہر لحظہ نیا طو ر نئی برقِ تجلی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے

اقبال تو خدا اور کائنات اور روح و مادے کی دوئی کا قائل ہی نہیں ہے۔وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ایک کی نفی دوسرے کی نفی ہے۔

بعض مقامات پر تو اپنی شعری روایت سے مصنف کی بے خبری پر حیرت ہی نہیں ہوتی باقاعدہ ترس آنے لگتا ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ اقبال مغرب سے اللہ واسطے کا بیر رکھتاہے، پانچویں باب کے آغاز میں لکھتے ہیں۔

’’ اقبال یورپ میں تھے تو بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کا جدید ترین تمدن ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ لیکن اقبال نے اسے انسان کی عظمت قرار دینے کی بجائے لطیف پیرائے میں ویرانہ کہہ دیا۔
فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤں
مرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ
(ص۶۷)

انہیں اندازہ ہی نہیں کہ جنوں اور ویرانے کے شعری تعلق کی روایت سے ناواقفیت نے ان سے کیسی مضحکہ خیز بات کہلوا دی ہے۔ ہماری شعری روایت میں ویرانہ تو وہ میدانِ عمل ہے جو اپنی وسعتوں کے اعتبار سے عشق و جنوں (اعلیٰ مقاصد) کے بروئے کار آنے کے لئے سازگار ماحول کا ضامن ہوتا ہے۔ اقبال نے ایک اور شعر میں پوری فطرت (کائنات) کے بارے میں بھی یہی بات کہہ رکھی ہے۔

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
غلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازۂ صحرا

یہ صحرا وہی ویرانہ ہے جو غالب کے اس عظیم شعر میں دشت بن کر سامنے آیا ہے۔

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

اقبال مغرب کے تہذیبی و معاشرتی ماحول کو اپنے وجود کے جملہ تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں پاتا اور کئی پہلوؤں سے اس کی تنگ دامانی کی بنا پرتشنگی محسوس کرتا ہے۔ اپنے بہت سے اشعار میں اس نے اعلیٰ انسانی اقدار اور روحانی نشو و نما کے حوالے سے مغرب کی غفلت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اقبال مسلم ممالک کے درمیان جس ربطِ خفی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

اور اس ربط و تعلق کو کو ئی عملی سمت دے کرنتیجہ خیز بنانا چاہتا ہے،صلاح الدین درویش ایسے کسی ربط کے وجود و امکان کی مکمل طور پر تردید کرتے ہیں ۔حالانکہ اس ربط کی موجودگی کے کئی اثباتی اور سلبی مظاہر بار بار سامنے آتے رہتے ہیں۔ مثلاًً

  1. کیا گاندھی کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے روابط استوار ہونے کے اندیشوں کی بنا پر مطالبۂ پاکستان کی مخالفت کئے جانے،
  2. پاکستان کے ایٹمی تجربے کو اسلامی بم کا نام دئیے جانے،
  3. پاکستانی قیادت میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد سے مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی راہیں ہموار ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر مغربی مہربانوں کی طرف سے نمائندہ کرداروں کے ساتھ کئے اور کرائے جانے والے ’عبرت ناک‘ سلوک اور
  4. مسلم ممالک کے اندر اپنے استحصالی کردار کے خلاف شدید اجتماعی ردِ عمل ابھرنے کے خوف سے خود کو جمہوریت کی سب سے بڑی حامی قرار دینے والی واحد عالمی سپر طاقت کی طرف سے ان میں بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں کی سرپرستی کرتے چلے آنے کے حقائق سے عالمِ اسلام یا ملتِ اسلامیہ کے تصور کی تصدیق نہیں ہوتی؟

صلاح الدین درویش کو سرمایہ دارانہ نظام سر تا پاانسانیت کا محسنِ اعظم دکھائی دیتا ہے۔ وہ اس کے خلاف اعلیٰ اخلاقی و روحانی معیارات کے حوالے سے سے کی گئی اقبال کی تنقید تو ایک طرف ،خالص مادی بنیادوں پر اٹھائے گئے اشتراکیوں کے اعتراضات کا بھی مضحکہ اڑاتے ہیں۔ انہیں عالمی سرمایہ داروں کی طرف سے دوسرے ممالک کو اپنی نو آبادیاں بنانے یا معاشی و سیاسی ہتھکنڈوں سے اپنا غلام بنائے رکھنے پر بھی اعتراض نہیں بلکہ وہ اس استعماریت کو شاندار سرمایہ دارانہ نظام کے کار پردازوں کا فطری حق گردانتے ہیں۔

’’وہ سرمایہ داری نظام جس نے اپنے قومی جاگیرداروں اور بادشاہ کو معاف نہیں کیا اور بطور ایک نئی قوت کے ان کی جگہ لے لی،ان سے یہ اخلاقی توقع رکھنا کہ وہ ’’اغیار ‘‘ کے جاگیردارانہ اور شاہانہ نظاموں کو اکیلے مال ہڑپ کرتے رہنے کی کھلی اجازت دئیے رکھتے، تاریخی منطق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ صنعتوں کو اپنے پیداواری اہداف کو پورا کرنے کے لئے خام مال کی لازمی ضرورت تھی اسلئے اس ضرورت نے سرمایہ داری نظام کو اپنی سرحدوں سے باہر نکلنے میں مدد دی۔‘‘ ( ص ۸۳)

سرمایہ دارانہ نظام کی عمارت بے قید ذاتی ملکیت کی آزاد معیشت پر قائم ہوتی ہے۔ جب کہ اشتراکیت ذاتی ملکیت کے مکمل خاتمے اور اجتماعیت کے غلبے کا نظام ہوتا ہے۔دونوں کے تجربے سے سبق سیکھ کر اب دنیا مخلوط معیشت کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ اقبال کے ہاں فرد اور اجتماع کے درمیان ایک توازن کے قیام میں ایسی مخلوط معیشت کی طرف واضح اشارے ملتے ہیں جن میں ذاتی ملکیت کو مناسب حدود کے اندر رکھ کر اجارہ داری کا راستہ روکنے اور مکمل اجتماعی ملکیت سے فرد کی انفرادیت کو غارت ہونے سے بچانے کاجتن ہو سکے۔ مگر متوازن معاشی نظام کے باوجود انسان کوامن و محبت سے رہنے اور بہتر معاشرتی و تہذیبی سطح پر جینے کے لئے کسی جامع عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے ۔اور انسانی زندگی کا یہی وہ علاقہ ہے جس میں اقبال کی طرح کے سنجیدہ فکر دانشوروں کی کاوشیں از حد ضروری ہیں۔اقبال جاگیردارانہ جمہوریت اور سرمایہ دارانہ جمہوریت، دونوں کے خلاف ہے اور ان کے مقابل روحانی جمہوریت کا تصور پیش کرتا ہے ۔وہ جمہوریت کو اجتماعی انتظام و انصرام کا بہتر ذریعہ تو سمجھتا ہے مگر اسے کلی نظامِ حیات کے طور پر قبول نہیں کرتا۔وہ مذہبی قانون سازی کا اختیار بھی پارلیمنٹ کو سونپ کر ’مذہب عوام کے ذریعے عوام کے لئے‘ کی راہ ہموار کرنے کا قائل ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ تمام اقدارِ حیات پر فیصلہ سازی کا حق اکثریتی رائے کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ بعض مستقل روحانی اقدار کی پاسداری کے بغیر ہر معاملے میں جائز و ناجائزطے کرنے کے لئے اکثریت کی سند کو حکم بنانے سے ہی ہم جنسیت جیسی لعنت قانونی سرپرسی حاصل کرجاتی ہے۔

اشعارِ اقبال کے مطالب تک نہ پہنچ پانے کی معذوری یا ان کے مفاہیم کو عمداً مسخ کرکے پیش کرنے کی مثالیں اس کتاب میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں۔ اقبال کے اس طرح کے اشعار کہ

محبت مجھے ان جوانو ں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

میں بھی مصنف کو تسخیرِ فطرت و کائنات کے لئے مادی وسائنسی راہ اپنانے کی بجائے اقبال صرف باطنی حوالے پر بھروساکرتادکھائی دیتا ہے۔ان کے الفاظ یوں ہیں کہ

’’وہ (اقبال) ستاروں پر کمند یں ڈالنے والوں سے محبت کرتے ہیں مگر کائنات کی تسخیر سائنس اور ٹیکنالوجی کے مادی وسائل کی بدولت نہیں بلکہ محض باطنی حوالے سے کرنے کو کہتے ہیں۔‘‘ (ص ۹۰)

اس طرح کے اشعار کا ایسا مفہوم تو سکولوں کے بچوں کی تقریروں میں بھی دکھائی نہیں دیتا۔اگر ہمارے نوجوان بھی کلامِ اقبال کو موصوف کی نگاہ سے دیکھتے تو سائنس و ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیوں کی دیواروں پر اس کے اشعار نہ جگمگارہے ہوتے اور پاکستان کے بڑے بڑے سائنسدان اقبال کے دلدادہ نہ ہوتے۔

حضرت رنگ و نسل ،فسطائیت اور پاپائیت کے خلاف اقبال کے واضح خیالات کی تحسین کرنے کی بجائے الٹا اقبال کو ان کا حامی ثابت کرنے نکل پڑتے ہیں۔ اقبال کایہ مشہور شعر کہ
نسل،قومیت،کلیسا سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے سومنات

نقل کر کے لکھتے ہیں کہ

’’وہ(اقبال)خود اپنے فکری حوالوں میں نسل،قومیت،سلطنت،تہذیب اور رنگ کی خواجگی میں پیش پیش ہیں۔‘‘ (ص ۹۲)

ترکوں، عربوں، افغانیوں اور کشمیریوں کی تعریف میں کچھ کہہ دینے سے اقبال کو قوم پرستی کا مرتکب قرار دے ڈالنے جیسے جاروبی بیانات کو آزاد خیال ملائیت کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ وہ اس مقام پر اقبال کے یہ اشعار

کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز
لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل
خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز

بھی درج کر گئے اور یہ نہیں سوچا کہ اگرجغرافعیائی قومیت پرستی ترجیح ہو تو مختلف مسلم اقوام کی مشترک میراثِ خلیل کے کیا معنی باقی رہ جاتے ہیں۔جیسے کہ پہلے کہا گیا شاعری میں الفاظ لُغوی یا اصطلاحی معنوں میں نہیں مرادی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔اس میں میراثِ خلیل سے مراد قرونِ وسطیٰ میں علم و تحقیق کے ناتے اسلامی دنیا کا تاریخ ساز کردار ہے۔اور ’مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز ‘ کا اشارہ ان کے علم و تحقیق سے دستکش ہوکر زوال کا شکار ہوجانے کی طرف ہے۔ ’تثلیث کے فرزند ‘ سے مراد مسیحی دنیا ہے ۔یہاں اقبا ل در اصل اپنے اس معروف مؤقف کو دہرا رہے ہیں کہ عصرِ جدید میں مغرب کی علمی و تحقیقی ترقی کی بنیاد اسلامی دنیا ہی کا چھوڑا ہوا ورثہ ہے۔اور وہ اس میدان میں مغربی دنیا کے عروج کا اعتراف کرتے ہوئے مسلمانوں کوپیچھے رہ جانے کی تلخ حقیقت کا احساس دلا رہے ہیں۔

کتاب کا ایک خوبصورت اور حقیقت پسندانہ اقتباس ملاحظہ کیجئے۔

’’فرنگی مدنیت ہرگز آئیڈئل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ارتقا پذیر تمدن آئیڈئل ہو سکتا ہے۔ اس میں تدبر بھی ہے حماقت بھی، کمال بھی ہے لغزش بھی،عیاری بھی ہے سادگی بھی، جھوٹ بھی ہے سچ بھی، ظلم بھی ہے نا انصافی بھی اور تعمیر بھی ہے تخریب بھی‘‘ (ص ۹۵،۹۶)

اب اقبال اگر اس تمدن کے منفی مظاہر پر تنقید کرتے ہیں تو یہ بھی توتہذیبی ارتقائی عمل ہی کا حصہ ہے۔ مگر یہ بات تو اقبال کو اس کے صحیح فکری تناظر میں دیکھنے ہی سے سمجھ میں آسکتی ہے ، اسے علم ،سائنس اور ترقی کا دشمن ثابت کرنے کے مناظراتی جنون سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔اقبال کی مخالفت میں اپنے اس اقتباس کو بھول کر وہ مغربی تمدن کی فحاشی و عریانی کو انسانی مسئلہ تصور کرنے ہی سے انکار کر دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں

’’عریانی و مے خواری اقبال کا اپنا کوئی اخلاقی مسئلہ ہے،تہذیبِ مغرب کا اس مسئلے کی خاص نوعیت سے کوئی تعلق نہیں‘‘ (ص ۹۵ )

اقبال تو صرف اخلاقی و روحانی معذوری ہی نہیں ،مغرب کے استعماری اور استحصالی کردارکا بھی پردہ چاک کرتا ہے ۔
شفق نہیں مغربی افق پر یہ جوئے خوں ہے یہ جوئے خوں ہے
طلوعِ فردا کا منتظر رہ کہ دوش و امروز ہے فسانہ

لوتھر ،نٹشے اور میکیاولی کے پیدا کردہ مغربی جہان کی طرف سے ابھی ماضی قریب میں نیو ورلڈ آرڈر کے تحت عراق و افغانستان ،لیبیااور دیگر مسلم ممالک میں قتلِ انسانیت کی جو تاریخ رقم کی گئی ہے سب کے سامنے ہے۔ دنیا کے بیسیوں ممالک میں استعماری مقاصد کے حصول کے لئے اتاری گئی افواج اور عسکری اڈوں کی موجودگی الگ ہے۔ مگر صلاح الدین درویش تو اسے اپنے چہیتے سرمایہ دارانہ نظام کاتاریخی و منطقی حق قرار دیتے ہیں۔

’’اس بڑے کل کے اجزائے ترکیبی میں وطنیت اور قومیت پرستی ،نسلی افتخار اور احساسِ برتری اور مغربی نو آبادیاتی نظام کے محکوم اقوام کے ساتھ جبری معاہدوں کی سیاست بھی شامل ہے۔ محض آخرالذکر کو ہی کل قرار دے دینا سرمایہ داری کی تاریخ کو تعصب کی آنکھ سے دیکھنے کے مترادف ہے۔‘‘ (ص ۸۰)

اقتباس کے دوسرے حصے بارے اتنا اشارہ ہی کافی ہے کہ سائنسی ترقی صرف سرمایہ داری نظام ہی سے مخصوص
نہیں۔ سائنسی ترقی تو سوشلسٹ نظاموں میں بھی ہوئی مگر انہوں نے استحصال اور سماجی جرائم کو بڑی حد تک کم کردیا۔

جہاں تک اقبال کے لیکچرز پر تنقید کا تعلق ہے،اس سلسلے میں سب سے پہلے ان لیکچرز کے موضوع کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ کوئی فلسفے کی کتاب نہیں ہے۔ اس کے نام ’’Reconsrution of religious thought in islam ‘‘ ہی سے ظاہر ہے کہ اس کا موضوع اسلام میں مذہبی فکرکی نئی تشکیل ہے ۔گویایہ دیکھنا ہو گا کہ اقبال سے پہلے مسلم مذہبی فکر کی نوعیت کیا تھی۔اور اقبال کی فکر اس سے کتنی مختلف ہے۔کیا اقبال نے اس میں کسی نئی جہت کا اضافہ کیا ہے ۔اور اگر کیا ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے۔ اور مسلم تہذیب کے جنوبی ایشیائی منطقے اور پھر پوری اسلامی دنیا میں اس کی کیا قدر و قیمت ہے۔اس کے بعد عالمی فکری و تہذیبی تناظر میں بھی اس کی اہمیت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک کے ایک انتہائی روشن فکرفلسفی دانشور ڈاکٹر منظور احمد کا کہنا ہے کہ چودہ سو سالہ مسلم فکری تاریخ میں جتنا بڑا بریک تھرو اقبال نے کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔اقبال کہتا ہے کہ اس نے عصری تناظر میں نئی فکری راہیں کھولنے کی ابتدا کی ہے، وقت کے ساتھ اس میں اور لوگ اضافے کر سکتے ہیں۔ سوفکرِ اقبال سے اختلا ف کیا جا سکتا ہے مگر اسے کلی طور پر سائنس مخالف اور ترقی دشمن ثابت کرنے بیٹھ جانا علمی سنجیدگی اور فکری توازن سے لگا نہیں کھاتا۔ مزید یہ کہ جو شخص مذہبی قانون سازی کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے سپرد کر دینے کی تلقین کر رہا ہواس کو ملائیت کا واضح مخالف توکہا جا سکتا ہے جمہوریت کا کلی مخالف نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ اقبال کو قرآنی ہدایت سے فیضیاب انسانوں کے اجتماعی ضمیرپر پورا بھرو سہ ہے ۔وہ عوام پر کسی مذہبی گروہ کی حکمرانی کی بجائے مذہب براستہ عوام پر یقین رکھتا ہے۔ اقبال کی یہ اجتہادی فکر اس کے روحانی جمہوریت کے تصور کو اجاگر کرتی ہے۔

عالمی سرمایہ دارانہ استعمار یت کے خلاف استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کے عالمگیر نصب العین کی داعی خالص مادی بنیادوں پراٹھنے اور آدھی دنیا پر اپنے نظام کا پرچم لہرا دینے والی اشتراکی تحریک کی پسپائی کے بعد انسان کی روحانی اور مادی دونوں جہتوں کو پیشِ نظر رکھنے والی فکرِ اسلامی ،اقبال جس کا ایک اہم اور جدید نظریہ ساز ہے ،دنیا میں جگہ جگہ مزاحمت کی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ایسے فعال کردار کی موجودگی میں اس پر بے مصرف ہونے کا بہتان نہیں باندھا جا سکتا۔ایک طرف ایک مقدس نسلیت کی داعی انسانیت کُش جمعیت کی معاشی و سیاسی حکمتِ عملی کی آلۂ کار بن کر اب تک دنیا کو ایٹمی تباہی کا تحفہ عطا کرنے والی فسطائی قوت اور اس کے حواری ہیں اور دوسری طرف رنگ ، نسل اور زبان کی تفریق سے اوپر اٹھ کر شرفِ انسانی کو افضلیت دینے والی تہذیبی تحریک ہے جو سائنسی ترقی اورُ سپر ٹیکنالوجی کو طاغوتی مقاصد کا ایندھن بنانے کے خلاف سینہ سپر ہے۔ذرا سی ترمیم کے ساتھ اقبال ہی کے ایک مصرعے پر بات ختم کرتا ہوں کہ اس صورتِ حال میں۔

فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

(Visited 302 times, 1 visits today)

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. سعید ابراہیم on

    مختصر اور پہلی بات یہ کہ جلیل عالی صاحب نے جس اینٹ اور روڑے کے مارنے کی بات کی ہے وہ اقبال کے نقادوں نے کہیں باہر سے نہیں لئے اور نہ ہی خود سے گھڑے ہیں بلکہ یہ سب کے سب اقبال کی اپنی تحریروں سے ہی لئے گئے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اقبال کے حق میں ہمیشہ پراپیگنڈہ نما تحریریں لکھی گئیں جن کے ذریعے انہیں پیغمر نما درجہ عطا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ردعمل میں اقبال کی زندگی اور فکر کے دانستہ چھپائے گئے پہلوؤں کو سامنے لایا جانا عین فطری بات تھا۔ ان باتوں نے ظاہر ہے اقبال کی جھوٹ کے بل بوتے پر بنائی گئی ‘الوہی’ شخصیت کو نقصان پہنچایا جس پر ان کے مداحین کا جزبز ہونا بھی فطری ہے۔ مگر وہ بے جا محبت میں یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ جن پہلوؤں کے بیان سے انہیں تکلیف پہچتی ہے وہ اقبال کی ذات اور کلام سے ہی لئے گئے ہیں۔ سو انھیں غیرجانبداری اتنی ہی عزیز ہے تو مخالفین پر برسنے اور دل کے پھپھولے پھوڑنے کی بجائے خود ان پہلوؤں پر توجہ دیں اور اقبال کو الوہیت کے درجے پر فائز کرنے کی بجائے ایک انسان سمجھیں جسے زیادہ سے زیادہ ایک کنفیوزڈ جینئس کہا جاسکتا ہے جو اپنے عمل میں ہی نہیں بلکہ شاعری اور نثر میں بھی جگہ جگہ تضادات کا شکار ہے۔

  2. سعید ابراہیم on

    کوئی اقبال کو کیسی ہی الوہی شخصیت کیوں نہ ثابت کردے مگر یہ بات صاف دکھائی دیتی ہے کہ راجوں مہاراجوں اور انگریز حکمرانوں کے قصیدے لکھنے والا شاعر جو تین خواتین سے چار عددد شادیوں اور غیر از خانگی معاشقوں میں رطب و یابس کا شکار بھی رہا اور اس کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی مذہبی عقائد کی سطح سے اوپر نہیں اٹھ پایا اس کے کنفیوزڈ خیالات سے کوئی قوم کیسے رہنمائی حاصل کرسکتی تھی۔ حقائق تو یہی بتاتے ہیں کہ اقبال کے چنیدہ تصورات کے پراپیگنڈہ پر بے شمار کتابیں چھپنے کے باوجود اقبال صرف اخباری مضامین کا رزق بن کر رہ گئے ہیں۔

    • حضور اس مضمون میں کہیں اقبال کو الوہی شخصیت قرار نہیں دیا گیا۔ البتہ کلامِ اقبال کی غلط تاویل کی نشاندہی کی گئی۔مناسب ہوتا کہ اس حوالے سے آپ کسی نشاندہی سے ٹھوس اختلاف کرتے۔
      اور اس کا کیا کیا جائے کہ اقبال سے رہنمائی لینے کے جرم کا ارتکاب تو بڑے بڑے دانشور کرتے چلے آ رہے ہیں۔ خود قائدِ اعظم نے اپنے نام اقبال کے خطوط کے دیباچے میں اعتراف کیا۔
      سینکڑوں کتابوں کے علاوہ عزیز احمد کی ” اقبال نئی تشکیل” بھی اس پر دال ہے

      جلیل عالی

Leave A Reply

%d bloggers like this: