’’مغربی جھیل کی لوک کہانیاں‘‘ کا دیباچہ —— رشید بٹ

0
  • 24
    Shares

چین ہمارا پڑوسی اور ایک اچھا دوست ملک ہے۔ جس طرح پاکستان میں رہنے والے لوگ پاکستانی کہلاتے ہیں، اُسی طرح چین میں آباد لوگوں کو چینی کہا جاتا ہے۔

لیکن یہاں ہم ذرا سی وضاحت کر دیں۔ مجموعی طور پر پاکستانی ایک قوم ہیں لیکن اُن میں نسلی اور لسانی اعتبار سے مختلف قومیّتیں، مثلاً اردو بولنے والے، سندھی، پنجابی، بلوچی، بلتی، شینا اور پختون وغیرہ ہیں۔ اب ہم چینیوں کو بحیثیت قوم لیتے ہیں تو اُن میں بھی ہمیں نسلی اور لسانی لحاظ سے مختلف قومیّتیں مِلتی ہیں۔ ہاں ایک بڑا فرق یہ نظر آتا ہے کہ چین ایک وسیع و عریض ملک ہے۔ لہٰذا، اُسی حوالے سے وہاں آباد قومیّتوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ 1949ء میں آزادی سے پہلے، چین سماجی لحاظ سے جس کیفیت سے دوچار رہا، اُس میں اقلیتی قومیّتوں کی تعداد، آبادی یا زبان پر کچھ زیادہ توّجہ نہیں دی جاتی تھی، حالانکہ وہ قومیّتیں اپنے جداگانہ ناموں کے ساتھ ہزاروں برس سے سرزمینِ چین کے مختلف حصوّں میں آباد تھیں۔ آزادی کے بعد حکومتِ وقت نے دیگر معاشرتی مسائل و معاملات کی بہتری کے ساتھ ساتھ اُن قومیّتوں کی فلاح و بہبود، اورجو قومیّتیں اپنی آبادی کے لحاظ سے معدوم ہوتی جارہی تھیں، اُن کی بڑھوتری پر خاص توجہ دی۔ معاشرتی اور عمرانی تحقیق کرنے والے ماہرین نے اُن قومیّتوں کے ادبی وَرثوں پر بھی توّجہ دی تو یہ بات سامنے آئی کہ اُن کے خزینے لوک ادب، حکایات، قصوّں اور کہانیوں سے بھَرے پڑے تھے۔

یہ کوئی عجیب بات بھی نہیں۔ کہانی تو سفر کرتی ہے۔ دنیا کے کِسی بھی گوشے میں چلے جائیں، اقلیتی قومیّتیں مِلتی ہیں، اِسی طرح کے لوک ادبی خزانے لئے ہوئے! ہم عمرانیات کے موضوع کو لیں تو کسِی بھی ملک کی آبادی میں جو افراد اکثریت میں ہوتے ہیں، اُن کے نام سے وہ ملک موسوم ہوتا ہے یا اُس ملک سے وہ موسوم ہوتے ہیں اور ہر جگہ اکثریتی قومیّت کے ساتھ اقلیتی قومیّتیں بھی مِلتی ہیں۔ گو، موسوم وہ بھی اُس خِطّے یا علاقے سے ہوتی ہیں لیکن اپنی اپنی حدود میں، اپنا اپنا تشخص اور بوُد و باش الگ رکھتی ہیں۔

چین اپنے وسیع رقبے کی بدولت اقلیتی قومیّتوں کی کثرت کا حامِل ملک ہے۔ اُس کی تقریباً 93 فی صد آبادی اصل چینی یا ’’ہان‘‘ قومیّت پر مشتمل ہے اور باقی 7 فی صد آبادی میں لگ بھگ 55 اقلیتی قومیّتیں آتی ہیں۔ یہ قومیّتیں چینی جغرافیائی حدود کے اندر شمال، جنوب، مشرق، مغرب، غرض ہر جگہ آباد ہیں۔ چینی محققّین نے انہیں اُن کی آبادی کے تناسب سے الگ الگ شناخت دی ہے۔ اِن میں متعدد قومیّتیں تو ایسی ہیں جو مختلف اَدوار میں چین پر حکمران اور چینی شہنشاہی خانوادوں کا حصّہ رہیں۔ مثلاً منگول، تاتار وغیرہ۔ کئی قومیّتیں مسلمان ہیں مثلاً ہُوئی، ویغور، سالار، تاجک، کرغیز، قازَق، اُزبک وغیرہ۔ قارئین کی معلومات کے لئے یہاں ساری چینی قومیّتوں کے نام دیئے دیتے ہیں:

ہان، منگول، ہُوئی، تِبتّی، ویغور، میائو، اِی، چوانگ، پوُ اِی، کوریائی، توُنگ، یائو، پائی، تھُوچیا، ہانی، مان تائی، قازَق، لی، لی سُو، وا، شِہہ، لاہُو، شوئی، توُنگ شیانگ، ناشی، تھُو، کرغیز، دَاغور، مَولام، پَلانگ، سالار، کہہ لائو، شی پو اور چِینگ پوُ، اَون کی، پِنگ لوُنگ، پوُنان، یوگور، چِینگ، تاتار، روسی، ترَونگ، اَلون چھُون، حہ چَن، مائو نان، آ چھانگ، پھُو می، تاجِک، نو، اُزبک، موئینبا، چِنیو، لو پا اور کائو شان۔

چینی ادیبوں نے اِن اقلیتی قومیّتوں کے علمی ادبی ذخیروں کو کھنگالا تو اُن میں بیش بہا لوک کہانیاں مِلیں۔ اُنہوں نے کہانیوں کو مرتّب کر کے پہلے چینی زبان اور چین میں بولی جانے والی علاقائی زبانوں میں شائع کیا اور پھر عالمی ادب کے ایک حصّے کے طور پر لگ بھگ 22 غیر ملکی زبانوں میں اُن کا ترجمہ کر کے دنیا بھر میں پھیلایا۔ مجموعی طور پر اُن قومیّتوں کی لوک کہانیاں 10 سے زائد مجموعوں پر مشتمل ہیں۔ اِس کے لئے پیکنگ (پئی چنگ) میں سرکاری سطح پر ’’غیر ملکی زبانوں کا اشاعت گھر‘‘ قائم کیا گیا جہاں دیس دیس سے غیر ملکی مترجمین کو مدعو کر کے اور اُن سے اقلیتی قومیّتوں کی لوک کہانیوں کا ترجمہ کرا کے بیرونی ملکوں میں متعارف کرایا گیا۔

چین میں اپنے طویل قیام کے دوران، مَیں نے چیئرمین مائوزے تونگ کی منتخب تحریروں کے ساتھ ساتھ، بہت سی لوک کہانیوں کو بھی اُردو کے قالب میں ڈھالا، جِن میں سے کچھ اِس وقت آپ کے زیرِ نظر ہیں۔ مَیں اِس سارے کام کو اپنا ادبی اثاثہ تصوّر کرتا ہوں۔ اِن لوک کہانیوں میں مرکزی کردار خواہ وہ عام لوگ تھے یا شہزادے، بادشاہ تھے یا شہنشاہ، سب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مصیبتیں اور دُکھ اُٹھاتے تھے۔ اِن کہانیوں میں عوام کی بے لوثی، دانائی اور جفا کشی جھلکتی ہے اور ظالموں کا، خواہ وہ اعلیٰ عہدے دار تھے، شہزادے یا بادشاہ اور شہنشاہ تھے، برُا انجام دیکھنے میں آتا ہے۔ کہانیوں کا اندازِ بیان بے حد دلکش ہے۔ کتابوں میں کئی تصویریں بھی شامِل ہیں۔

یہاں اپنے طویل قیامِ چین کی ادبی تاریخ پر ایک نظر کے حوالے سے بھی بات کر لوں تو مناسب ہو گا۔ میری مذکورہ گزارشات سطحی یا اجمالی نہیں رہنی چاہئیں۔ جانئے جہاں تاریخ ہے، وہاں ادب بھی ہے، کہانیاں بھی ہیں۔ چین کے شمالی خِطّے کی طرف بڑھیں تو وہاں دس لاکھ سال قبل وجودِ انسانی کے آثار مِلتے ہیں۔ اور تہذیبی نقوش کے لئے ہمیں پلٹ کر کم و بیش 6 ہزار برس قبل مسیح کے زمانے میں کھیتی باڑی کرتے ’’پھَان پھُو، گائوں جانا پڑتا ہے۔ علاج معالجے کے لئے جڑَی بوٹیاں تلاش کرنے والی دیو مالائی ہستی ’’شین نونگ‘‘ کو ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے، کھیتی باڑی کرنے والے کسانوں کے چوپال بھی ہوں گے، وہاں کہانیاں اور حکایتیں بھی جنم لیتی ہوں گی۔ شین نونگ نے جڑَی بوٹیوں کے ساتھ ساتھ کہانیاں بھی تلاش کی ہوں گی! ایک گائوں ’’آن یانگ‘‘ ہے جہاں رتھ، رتھ کے پہیے اور گھوڑے کا ڈھانچا رکھے ہیں۔ یہی پہیہ اور رتھ ہمیں موئن جو ڈرو کے ٹیلوں کی کھُدائی میں مِلے۔ وادیٔ دجلہ اور فرات میں بھی ایسے ہی پہیے کا وجود مِلتا ہے۔ اوپر ہم نے کہیں تذکرہ کیا ہے کہ ’’ کہانی سفر کرتی ہے‘‘۔ اُن دُور اُفتادہ زمانوں کی تہذیبوں میں، پہیہ سفر کر سکتا تھا تو کہانی کیوں نہیں؟ ایک چینی کہانی ہے، ’’ وفا کی پُتلی‘‘۔ یہ دیوارِ چین کی تعمیر میں بیگار کرنے والے ایک چینی کی بیوی کی کہانی ہے۔ ہم پاکستان میں ’’سَسی پنوں‘‘ کی کہانی پڑھتے ہیں، تو وقت ہمیں ’’وفا کی پُتلی‘‘ تک لے جاتا ہے۔ نتیجہ! کہانی کب وجود میں آئی__کوئی نہیں بتا سکتا__ کوئی نہیں کہہ سکتا!

یہ ہزاروں برس پر پھیلے چینی ادبِ عالیہ کی جزئیات میں جانے کا محَل تو نہیں پھر بھی اِس سے صرفِ نظر ممکن نہیں ہے۔ یہ تاریخِ چین کے مختلف ادوار میں نوع بہ نوع نشیب و فراز سے گزرا، لیکن چین سے باہر اِس کی ترویج و تشہیر کم کم ہی ہوئی۔ شاہانِ چین کے صدیوں پر محیط ادوار میں یہ تصوّر کار فرما رہا کہ ’’ چین دنیا کا مرکز ہے۔ اِس سے باہر کچھ نہیں۔‘‘ اُدھر چین کا ادبِ عالیہ، اندرونِ ملک حکمرانوں کی پابندیوں اور بندشوں کے باوجود پھَلتاپھُولتا رہا۔ کبھی اِس کے کرداروں نے انسانی روپ دھارا تو کبھی لکھاریوں نے اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے کے لئے مافو ق البشر کرداروں اور جانوروں کو چُنا۔ اور دلچسپ بات یہ کہ اِس کے استعارے، تلمیحات اور اشارے کنائے دریائے معانی سمیٹے مِلتے ہیں۔ 1949ء میں جب چین عملاً آزاد ہوا تو چین کی دنیائے ادب میں ایک نئی آواز بلند ہوئی۔ ’’رنگ برنگ پھولوں کو بہار دکھانے دو۔‘‘ اور ’’نوع بہ نوع افکار کو مقابل آنے دو۔‘‘ یہ آوازیں نئی نہ تھیں، لگ بھگ 2500 سال پہلے چینی ادب میں بلند ہوئی تھیں۔ ہزاروں برس وقت کے جبر تلے ڈوبتی اُبھرتی، 1949ء کے بعد ’’آہنگِ نو‘‘کے طور پر اُبھریں-اور یہ مائوزے تونگ کا آہنگِ نو تھا۔ وہ خود بھی بلند پایہ شاعر اور ادیب تھے۔ اُس دور کا ادب زندگی سے بھرپور رہا۔ اُن میں ادیب تھے، شاعر اور ڈراما نگار تھے۔ ہم ماضی میں نہیں جاتے۔ گزشتہ سو برس کے عرصے میں ہمیں لوشیون، کو موژو، مائوتون، یانگ مو، ہُوشی، چھائویوی، شین ژونگ، چیانگ زی لونگ، لائوشہہ، ماچیان، شیائو ہونگ، یہہ شنگ تھائواور چانگ تھیئن ای جیسے بڑے نام، ادب میں نظم ونثر کی تخلیق کرتے اور رنگ بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ پھر ایک دَور آیا کہ ادب کا یہ سیلِ رواں ٹھہر گیا۔ اِس پہ کائی جمتی رہی -پانی تھمتا ہے تو کائی جمتی ہے۔ کوئی گلِ صد برگ کبھی کبھی ہی چہرہ نمائی کرتا۔ برسوں بعد اُس کائی والے پانی میں ہِل جُل پیدا ہوئی اور گیندے کے پھولوں کی تعداد بڑھنے لگی۔

دلچسپ بات یہ بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ چین کے صدیوں پر محیط لوک ادب میں قومیّتوں کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ مختلف علاقوں، پہاڑوں، جھیلوں اور خِطّوں سے متعلق بھی لوک کہانیاں مِلتی ہیں۔ مثلاً ہانگ چوَ ایک ایسا خوب صورت، حَسین اور دِلکش منظر کا حامِل خِطّہ یا شہر ہے جس کا تذکرہ چودہویں صدی عیسوی (دَورِ قبلائی خان) کا شہرۂ آفاق مسلمان سیّاح ابنِ بطوطہ بھی اپنے سفر نامے یا یادداشتوں میں کئے بغیر نہ رہ سکا۔ ابنِ بطوطہ اِس علاقے یا خِطّے کو چینی داستان گوئی کا مرقّع بھی قرار دیتا ہے۔ وہ اِسی شہر سے ہوتا ہوا ’’پیکن‘‘ ( پیکنگ-خان بالیق) پہنچا۔ یہ شہر چین میں سیاحت کا بھی ایک بڑا مرکز ہے۔ اِس کے گِردوپیش پھیلی لوک کہانیوں کو مغربی جھیل کی لوک کہانیاں قرار دیا جاتا ہے کہ یہ جھیل حُسن اور دل کَشی کے لحاظ سے اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اِس شہر میں آپ کو باہم مربوط گلیوں میں مسلمانوں کی الگ دکانیں، چائے خانے اور ریستوران بکثرت مِلتے ہیں کہ یہاں مسلمان خاصی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ یہ مسلمان زیادہ تر اُن عربوں اور ایرانیوں کی اولاد ہیں جو تجارت کی غرض سے بحری راستوں سے چین آتے رہے۔ اور اُن کی آمدو رفت ہمیں صدہابرسوں پر پھیلی تاریخ میں مِلتی ہے۔ عرب اور ایرانی تاجر کوانگ چوَ(کینٹن) کے راستے جنوبی چین میں داخل ہوتے تھے۔ اور بہت سے وہیں رَچ بس جاتے تھے۔ نسلی اعتبار سے وہ ’’ہُوئی چینی مسلمان‘‘ کہلاتے ہیں۔

ہانگ چوَ کی مغربی جھیل کی شہرت کا اصل سبب اُس کے حَسین و دِل کَش مناظر ہیں۔ یہاں آنے والے سیّاح، ماہرانہ طرزِ تعمیر کی شاہکار، پُرشکوہ عمارات ہی سے نہیں، بلکہ جھیل کے کنارے دُور دُور تک پھیلے، بلند قامت بیدِ مجنوں کے پیڑوں کے حَسین امتزاج سے پیدا ہونے والے دِل کش مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اِس حَسین ماحول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، چینیوںنے بہت سی حیرت انگیز لوک کہانیاں تخلیق کیں۔ ان کہانیوں میں جھیل کے وجود میں آنے سے لے کر ریشم، چائے اور چھتری کی تخلیق کو بھی اِس خطّے کی وجۂ شہرت بنایا۔ کہانیوں کی دل نشینی کے پیرائے کو بھی بیان کرنا خاصا مشکل ہوجاتا ہے۔ مَیں1960ء اور 1970 کی دَہائیوں میں اِس شہر یا اِس علاقے میں گھومتے گھومتے خود کھو جایا کرتا تھا۔ لیکن یہ مت بھولئے کہ اُس دَور میں فطرت حاوی تھی۔ آج صنعتیں اور اُن کا دھواں بھاری پڑ رہے ہیں۔ کون جانے ماضی کا وہ حُسن کب ماند پڑنے لگے؟

بہر حال، یہ کہانیاں حُسن و دل کَشی کے وہ مناظر دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں جنہیں صنعتوں کا دھواں شاید دَبا نہ سکے۔

جدید دَور کے ادیبوں نے بھی، شاید غیر ملکی ادب سے متاثر ہو کر، ڈرامے، ناول، طویل افسانے اور بچوّں کے لئے کہانیوں کو موضوع ِقلم بنایا اور شاعری کی۔ مَیں نے اِن ترجموں میں بچوّں کے لئے لکھی گئی اُن کہانیوں کو بھی اپنایا ہے۔

آپ یہ کہانیاں پڑھیں، اِن سے آپ کے علم میں کچھ اضافہ ہو، آپ اِن سے نیکی بدی، اچھائی بُرائی کے درمیان فرق محسوس کریں، اچھائیوں کو اپنائیں تو یہ سب میرے لئے ذہنی، علمی اور ادبی طمانیت کا باعث ہو گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: