نیم سے دو نیم تک —— ڈاکٹر سعدیہ بشیر

0
  • 177
    Shares

نیم کا درخت محض سایہ نہیں دیتا بلکہ اس کے فوائد بھی بے شمار ہیں۔ نیم جراثیم کش بھی ہے اور کتنی ہی بیماریوں کا حل اس کے پتوں، پهل اور لکڑی میں پوشیدہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیم کے سائے میں دوسرے درختوں کی چھاوٴں کی نسبت دو تین ڈگری درجہء حرارت کم ہی رہتا ہے۔ شاید انھی فوائد کی بنا پر نیم کے درخت کو درختوں میں بھگوان کہا جاتا ہے۔ نیم کے کچھ اثرات انسانوں میں بھی پائے جاتے ہیں ایسے ہی کڑوے، تند خو لیکن جراثیم کش انسان جن کے الفاظ میں کڑواہٹ ہوتی ہے اور ان کے رویے میں بھی سختی نظر آتی ہے لیکن نتیجہ شکر ہی نکلتا ہے۔ ہم سب کو ہی بعض اوقات بزرگوں کی روایات اور ان کی نصیحتیں نیم کی گولیوں کی طرح لگتی ہیں جن کے لیے دل تو نہیں مانتا لیکن بادل نخواستہ کھانا ہی پڑتی ہیں۔ اساتذہ اور ماں باپ کی ڈانٹ بچوں کو نیم کی نمولی لگتی ہے لیکن انھیں یہ دوائی دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو نیم کے اثرات رکھتے ہیں۔ ان کے کرشمات سے ہی صحراو دریا دو نیم ہو جاتے ہیں یہی نیم اپنے سادہ معانی اور ادبی مفہوم میں جب کسی لفظ لے ساتھ لگتا ہے تو اس کی خصوصیت مشکوک ہی نہیں دو نیم نظر آتی ہے۔ نی۔ ح ی م کو ہی دیکھ لیجیے!

نیم کے مرکب، نیم کی گولیوں، نیم کی مسواک، نیم کا صابن سو اور مرکبات کے باوجود بھی نیم حکیم خطرہ جان ہی رہتا ہے اور الماریوں میں قرآن کے نسخے اور احادیث کی کتابیں سجانے کے باوجود نیم ملا خطرہ ایمان نظر آتا ہے۔ ہم نیم خوابیدہ قوم تو ہیں ہی ہمارے بڑے بڑے رہنما نیم عاقل اور بڑے بڑے استاد بھی کئی بار نیم خواندہ ہونے کا تاثر دینے میں پوری طرح کامیاب رہتے ہیں کیونکہ یہ ہماری خصوصیت ہے۔ دھوکا، مکر و فریب میں ہمارے اندر نیم کے درخت کی خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں اور ہم ہر فن مولا کے مصداق ادھوری خواہشوں کے ادھورے پل تعمیر کرنے لگتے ہیں۔ اپنے حالات پر ہم اتنی خوشی اور تیقن سے ایمان لاچکے ہیں کہ سعی و کوشش تو دور کی بات، ہم تو دعاؤں پر بھی نیم یقینی سے آمادہ ہوتے ہیں کہ جی چاہتا نہ ہو تو دعا میں اثر کہاں۔

سو ہر طرف ہرا ہی ہرا نہیں بلکہ نیم ہی نیم یعنی آدھے ادھورے منصوبے اور ان کے آدھے ادھورے ثمرات ہی چھائے نظر آتے ہیں گویا:

فلک کے پار ہوئی اپنی آہ نیم شب
ہماری آہ سے صیاد ہو گیا نخچیر

ہم اس نیم کے اتنے عادی ہیں کہ اپنی کامیابیوں کو بھی مکمل دکھانے کے لیے اور ان کا تاثر بڑھانے کے لیے نیم جیسے کڑوے اور تلخ اوزاروں کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں بلکہ کئی واقعات میں ہم نیمچہ کا بھی استعمال کرنے میں عار نہیں سمجھتے (نیمچہ انگریزی میں چھوٹی تلوار یا چاقو کو کہتے ہیں) کئی بار تو یہ انتقامی خواہشات اس قدر طاقت ور ہو جاتی ہیں کہ ہم مرنے والوں کا بھی پیچھا نہیں چھوڑتے وہ فیصلے جو اپنا اثر بھی کھو چکے ہوتے ہیں۔ انھیں دو نیم کرنے کی خواہش اور ادھورے چھوڑے گئے فیصلوں کو پورا کرنے کی چاہ میں یہ نوبت آن پہنچتی ہے۔

قبر کے اوپر لگایا نیم کا اس نے درخت
بعد مرنے کے مری توقیر آدھی رہ گئی

منتقمانہ جذبات کے اظہار میں نیم سے زیادہ کون مدگار ثابت ہو سکتا ہےکسی کی دانش مندی سے حسد ہو اور بس نہ چلے تو فوراً اس پر نیم کا سایہ کر دیں اس کی عقل و دانش لمحے میں مشکوک ہو جائے گی۔ یوں کسی کو بھی نیم دانش مند، نیم قابل، نیم ذہین، نیم شائستہ اور نیم ممنون کہہ کر دل کا بوجھ ہلکا کیا جا سکتا ہے۔ کسی خاتون سے انتقام لینے کا اس سے بہتر طریقہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس پر واسوخت لکھنے کے بجائے اسے نیم حسین کہہ کر تڑپایا جائے۔ نیم کے یہ ادبی اثرات کئی محکموں اور شخصیات پر بھی حاوی نظر آتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی ذمہ داریوں سے نظر چراتے اور کاہلی دکھاتے خود ہی دو نیم ہو جاتے ہیں جن پر کسی حساس اور اہم معاملے میں بھر وسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی ڈیوٹی سے غفلت برتنا کسی طور پسندیدہ نہیں سمجھاجا سکتا۔ اب یہ شعبہ خواہ سیاست کا ہو، طب کا یا سرکاری دفاتر۔ یہ ادھورا پن ہمارے پورے سسٹم کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ اس نیم نے اور بھی بہتیرے ظلم ڈھائے ہیں۔ خاموشی کو نیم رضا مندی سمجھ کر کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں کتنے ہی دل خالی، ویران اور کتنے ہی گھر مکمل ادھورے نظر آتے ہیں۔ خواہ یہ جوڑ قرآن کے ساتھ بھی بنا دیا جائے۔ کئی بار تو یہ نیم کا استعمال دل میں خوشگوار تاثر بھی چھوڑ جاتا ہے یعنی۔

کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے آتی جو جگر کے پار ہوتا

اسی لیے تو میر کہتا ہے کہ:

کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

ایسے سیکڑوں دیگر اشعار جن کا مرکز نیم ہے جبکہ کلیم الدین احمد تو پوری غزل کو ہی نیم وحشی صنف قرار دے چکے ہیں جبکہ ہماری تو پوری قوم ہی نیم نظر آتی ہے۔

دو رائے، دو راستے اور مخالفانہ رویوں نے ہمیں ایک قوم کا تاثر دینے سے گریزاں رکھا۔ ملک تو دو نیم ہوا ہی لیکن یہ دکھ دل سے اترتا ہی نہیں کہ قربانیوں کےنام پر خواب کی پوری قیمت دے کر ہمیں تعبیر آخر پوری کیوں نہیں ملی۔ یہ عمل ہمارے سب رویوں میں جھلکتا ہے۔ رویے غلط، جواز غلط اور پھر بیان میں کسی قسم کی ترمیم بھی نہیں چاہتے اور نتیجہ پورا لینے پر اصرار کرتے ہیں ہم تو”ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا”کو بھی نیم کی شاخ پر ہی چڑھا کر خوش ہوتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ آدھے پکے پھل یا سبزی اگر ترش اور کڑواہٹ میں زیادہ ہوتی ہو تو جلد بازی میں کئے گئے فیصلوں کا تاوان بھی کسی ایسی ہی کڑواہٹ کو جنم دے سکتا ہے جس کا تاوان بھرتے بھرتے یہ قوم دو نیم ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک خوابوں کے امین اور دوسرے خائن جو خوابوں، زندگی اور راستوں کو تقسیم کرنے کے سوا کچھ جانتے ہی نہیں۔ قلم کے بجائے ہتھیار چلانے میں طاق یہ ہنر خوب آتا ہے۔ کاش ہم سمجھ سکیں کہ ہماری ناعاقبت اندیشی لمحہ فکریہ بھی بن سکتی ہے۔ جس کا جواز کچھ یوں ہو گا۔

ہاتھ سے تیرے اگر میں ناتواں مارا گیا
سب کہیں گے یہ کیا اک نیم جاں مارا گیا

اس نیم کی تاثیر بھی بڑی کامل ہے۔ دعائے نیم شب اور عبادت نیم شب میں عقائد کی پختگی، نتائج اور ثمر سے محروم نہیں رکھتی۔ علامہ اقبال نے والدہ مرحومہ کی یاد میں یہی تو کہا ہے:

اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آوً ں گا

اللہ کرے ہماری نیم ہوش مندی مکمل ادراک و شعور کی منازل طے کرنا شروع کر دے تاکہ ملال کی کوئی صورت کہیں بھی دکھائی دے۔

میرے دو شعر اس صورت حال کے تناظر میں:

آدھی بات کہی تھی میں نےاس نے سمجھا پوری تھی
اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا، میری بھی مجبوری تھی
آج بھی دل میں چبھتی ہیں جو باتیں اس سے کہنا تھیں
ہو گا دانش ور وہ لیکن میری بات ضروری تھی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: