جہیز خوری کیسے بند کریں؟ —– احمد الیاس

0
  • 97
    Shares

مجھے سماجی مسائل پر لکھنے اور ان معاملات میں گہری بصیرت کا دعویٰ نہیں ہے مگر سماج کا حصہ ہونے کے ناطے کچھ مشاہدات، تجربات اور تاثرات ضرور ہیں، اور کچھ گزارشات بھی۔ یہ گزارشات کوئی راکٹ سائنس نہیں، کامن سینس کی باتیں ہیں۔ مگر آج کل ہم نے اپنے سماجی مباحث کو نظریات اور تعصبات کے نام پر اس قدر پیچیدہ کردیا ہے کہ کامن سینس کی بنیاد پر سوچنا نان سینس لگنے لگا ہے۔ لیکن کبھی کبھی بڑی بڑی باتوں کو ایک طرف رکھ کر اور خود پر رحم کر کے چھوٹی چھوٹی، ہلکی پھلکی مگر کام کی باتیں بھی کرلینی چاہیے۔ بھلے کسی دھڑے سے تمغہِ تفکر و دانش ملے نہ ملے۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک کیمپین نے سر اٹھایا۔ اس کیمپین کی بنیاد پر ایک بحث اٹھ سکتی تھی، اٹھنی چاہیے تھی اور اٹھی۔ مگر اس بحث کا رخ اور رنگ ڈھنگ دیکھ کر خاکسار کو مایوسی ہوئی۔ مایوسی کا مسلسل سامان تو ہمارے قومی رویے ایک عرصے سے کرتے آئے ہیں مگر اس مرتبہ حیرت کا عنصر بھی شامل رہا۔ حیرت اس بات پر کہ اپنے ہی معاشرے کے معاملات پر ہم لوگ کس قدر سطحی علم رکھتے ہیں۔ تاہم یہ حیرت کچھ ایسی جائز نہ تھی کیونکہ جب تعلیم کا مقصد انفرادی و اجتماعی خودشناسی اور سماجی شعور کی بجائے فقط فکرِ معاش اور تقلیدِ غیر بن جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ سماجی رابطے کی مختلف ویب سائٹس پر کچھ نوجوان خواتین (اور چند مرد حضرات) نے جہیز خوری بند کرو کے عنوان سے ایک مہم کا آغاز کیا۔ جہیز کے سماجی ادارے اور بالخصوص اس کے موجودہ رنگ ڈھنگ کی تو اصولی سطح پر شاید ہی کوئی تائید کرے مگر اس مسئلے کی سنگینی کا معاشرتی طور پر موثر مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کے کم ہی لوگوں کو ٹھیک سے شعوری احساس ہے۔ حالانکہ جہیز کا عفریت صرف پسماندہ اور لوئر مڈل کلاس کو ہی نہیں بلکہ ان طبقات کو بھی منفی انداز میں ہی متاثر کرتا ہے۔

مشاہدہ ہے کہ جس مسلمہ سماجی بیانیے کی حقانیت پر ہمارا دل ایمان نہ لایا ہو اس پر ایک تو ہم عمل نہیں کرتے، دوسرا اسے بہت جلد مذاق بنادیتے ہیں۔ مثلاً اسلام، جمہوریت، تعلیم، دو قومی نظریہ، رواداری، خودادری، انصاف اور خود پاکستان وغیرہ ہمارے ایسے سماجی بیانیے ہیں جن کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت تو کم ہی لوگ پاتے ہیں مگر ان سب پر بہت سے لوگ دل سے ایمان نہیں لاتے، چنانچہ ان تصورات کو اپنانے کی بجائے کسی نہ کسی شکل میں مذاق بنا دیا لیا ہے۔ یہی معاملہ سماجی اصلاح کی اس کیمپین کے ردعمل میں کیا گیا۔

اس مہم کے ضمن میں ستم یہ ڈھایا گیا کہ ایک انتہائی غلط قسم کی اینالوجی پیش کی گئی۔ مرد حضرات (اور چند خواتین) نے کہنا شروع کردیا کہ مرد کا اسٹیٹس اور جاب وغیرہ بھی دیکھنا بند کرو۔ یہ نادر منطق پیش کرنے میں صرف ہمارے دائیں بازو کے یا اینٹی فیمینسٹ لوگ ہی شریک نہ تھے بلکہ بہت سے لبرل مرد حضرات بھی یہی سبق رٹنے میں لگے ہیں۔

جہیز کا باقاعدہ دفاع تو کسی نے نہیں کیا مگر کی گئی بات کی اہمیت اور تاثر کو کم کرنے کی لیے ہمارے اندر کی رجعت نے یہ تدبیر اپنائی کہ یہ مت دیکھو کہ کیا کہا جارہا ہے، صرف یہ دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے اور کہنے والوں پر جوابی حملہ کردو، چاہے اس کے لیے کیسی ہی بھونڈی دلیل کیوں نہ لانی پڑے۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک پرانا حربہ ہے۔

پہلا مسئلہ تو یہ ہوا کہ اس کیمپین کا آغاز کرنے والی چونکہ اپر اور اپر مڈل کلاس کی قدرے ماڈرن خواتین تھِیں جن میں سے متعدد کا تعلق میڈیا وغیرہ سے تھا لہذا پہلے تو انہیں از خود لبرل ازم اور فیمینزم کا نمائندہ تصور کرلیا گیا اور ان دونوں تحریکوں کے علمبرداروں کی روایتی نالائقیوں پر (جائز) غصہ بھی اس کیمپین پر (ناجائز طور پر) نکالنے کی کوشش کی گئی۔

اسی بات نے مجھے حیرت کا شکار کیا۔ اول تو جہیز کے خلاف سب سے مضبوط بیانیہ ہم بچپن سے ہی اسلامی زاویے سے پڑھتے سنتے آئے ہیں۔ ایسے میں مذہبی طبقات کی طرف سے اس مہم کا مذہب بیزار لبرل ازم یا فیمینزم کے پس منظر میں دیکھا جانا ان طبقات کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور کم ہوتی ہوئی سماجی آگہی کا مظہر ہے، وہیں ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی لاشعوری و غیر محسوس سیکولرازئزیشن یا مذہب بیگانگی کا عکاس بھی ہے۔ آج کا پاکستانی شاید بھی بھول گیا ہے کہ برصغیر میں جہیز کا خاتمہ سماجی اصلاح کی اسلامی روایت روایت کا ایک مطالبہ اور ہدف رہا ہے۔

افسوس تب اور بھی زیادہ ہوتا ہے جب کچھ لوگوں کو یہ تک کہتے سنا جاتا ہے کہ جہیز کیسے غیر اسلامی ہوگیا کیونکہ جہیز تو سیدنا سرکارِ دو عالم ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدّہ فاطمہ زھرا سلام ﷲ علیہا کو بھی دیا تھا۔ ایسے اعلیٰ پائے کے فقہا سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا آپ مجھے کسی حدیث سے بتاسکتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام کی دیگر تین شہزادیوں کا جہیز کیا تھا یا پھر اماں عائشہؓ اور اماں حفضہؓ کو شیخین کریمین ؓ نے کون سا جہیز دے کر رخصت کیا تھا؟ حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے زینبؓ و ام کلثومؓ کا جہیز کیا مقرر فرمایا تھا؟ اگر اس کا جواب آپ کے پاس نہیں ہے تو سمجھ جائیے کہ سیدّہِ کائناتؓ کی شادی پر رسول ﷲ ﷺ کی طرف سے کی گئی خریداری حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کے کفیل اور بڑے بھائی کی حیثئیت سے تھی نہ کہ سیدّہ زھرا سلام ﷲ علیہا کے جہیز کے طور پر۔

جہیز خوری بند کرو مہم کے ضمن میں دوسرا ستم یہ ڈھایا گیا کہ ایک انتہائی غلط قسم کی اینالوجی پیش کی گئی۔ مرد حضرات (اور چند خواتین) نے کہنا شروع کردیا کہ مرد کا اسٹیٹس اور جاب وغیرہ بھی دیکھنا بند کرو۔ یہ نادر منطق پیش کرنے میں صرف ہمارے دائیں بازو کے یا اینٹی فیمینسٹ لوگ ہی شریک نہ تھے بلکہ بہت سے لبرل مرد حضرات بھی یہی سبق رٹنے میں لگے ہیں۔

عرض یہ ہے کہ خاتون کا بنیادی شرعی حق ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے شوہر کی کمائی میں حصہ دار ہو اور مرد کی ذمہ داری مقرر کی گئی ہے کہ وہ بیوی کی تمام معقول معاشی ضروریات کو پورا کرے۔ خاتون جب شادی کے لیے مرد کی معاشی حالت دیکھتی ہے تو وہ دراصل اس کی ایک شرعی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت دیکھ رہی ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مرد بھی خاتون کی اپنی حقیقی ازدواجی ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت دیکھ سکتا ہے اور دیکھنی چاہیے، مثلاً یہ کہ عورت کس قدر تعلیم، تہذیب اور سلیقہ رکھتی ہے اور اس کی طبعیت میں محبت کی کس قدر خو پائی جاتی ہے۔ عورت کی بنیادی ذمہ داری چونکہ بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت ہے لہذا یہی خصوصیات مرد کو پیش نظر رکھنی چاہییں۔ اس کے برعکس جہیز لانا عورت کی شرعی ذمہ داری ہرگز نہیں بلکہ ایک سماجی جبر ہے اور اس کا تقابل مرد کی ایک بنیادی شرعی ذمہ داری سے کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔

اس سلسلے میں ایک نکتہ یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ عروسی جوڑوں اور شادی بیاہ کی رسوم پر اس قدر پیسہ جو لگایا جاتا ہے، اس کا کیا جواز ہے؟ عرض یہ ہے کہ اس کا بھی قطعاً کوئی جواز نہیں مگر اول تو دیکھا گیا ہے کہ یہ بوجھ بھی عموماً لڑکے والوں کے دباو پر ہی بیٹی والوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ دوسرا یہ کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی ایک ناپسندیدہ چیز تو ضرور ہے مگر اس کا تقابل بھی آپ جہیز جیسی قطعی غیر ضروری، غیر شرعی اور ظالمانہ رسم سے نہیں کرسکتے۔

اس سلسلے میں سب سے اہم سوال پوری بحث میں بالکل نظر انداز کردیا گیا۔ حتیٰ کہ اس کیمپین کے حامی بھی اس سوال کو زیربحث نہیں لاسکے۔ وہ یہ ہے کہ جہیز کے اس سماجی ادارے کی جڑیں کیا ہیں اور انہیں کس طرح کاٹا جاسکتا ہے۔ آپ لاکھ کسی عفریت کے خلاف آگہی کی مہم چلا لیں، جب تک اس کی زمینی حرکیات سمجھ کر اس سے نہیں نمٹتے، کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

راقم الحروف کے مشاہدے کے مطابق جہیز برصغیر کے زرعی اور جاگیردارانہ سماجی و معاشی ڈھانچے کا ایک بہت اہم پرزہ ہے۔ ہندوستان کے جاگیردارانہ سماج نے بیٹی کے حق سے متعلق سوال کا جواب جہیز کی شکل میں تلاش کیا۔

دراصل سندھ اور ہند جیسے زرعی معاشروں میں مختلف طبقات کے ایک دوسرے کے اوپر بے حد انحصار کے سبب شخصی آزادی عرب یا پشتون قبائل جیسے گوپالی یا تجارتی معاشروں کے مقابلے بہت محدود ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں یا تو آپ کسی کو محکوم بنا لیتے ہیں یا کسی کے محکوم بن جاتے ہیں۔ تیسرا آپشن نہیں ہوتا۔ یوں معاشرہ ایک اندرونی پاور سٹرگل کا شکار ہوجاتا ہے۔ طاقت کے لیے اس جنگ میں طاقت کا تعین جاگیردارانہ سماجی و معاشی سٹرکچر کی سب سے اہم چیز یعنی جائیداد بالخصوس زمین سے ہوتا۔ لہذا زمین جائیداد اس سڑکچر کی قیمتی ترین شئے ہوتی ہے جسے بیٹیوں بہنوں کے ذریعے کسی اور خاندان کو منتقل کردینا تقدیر کا جوا ہے۔ طاقت کی تقسیم میں تقدیر کے جبر سے بچنے کے لیے پدرسری زرعی معاشرے کو زمین میں لڑکی کو حصہ دینا کسی صورت قبول نہ تھا۔ ایسی عملی مجبوری سے پیدا ہونے والے اخلاقی المیے کا مداوا ہندوستان نے جہیز کی شکل میں کیا۔ آپ حقیقی طاقت یعنی زمین کے بدلے منقولہ جائیداد مثلاً زیور، برتن، فرنیچر وغیرہ دے کر بیٹی کا حق ادا کرنے کے دعویٰ دار بھِی ہوجاتے ہیں اور اپنی طاقت یعنی زمین میں کمی بھی نہیں ہونے دیتے۔

پختون علاقے تو ہمیشہ سے ہی تاجرانہ معاشرہ رہے ہیں (اسی لیے وہاں جہیز کی لعنت نہ ہونے کے برابر ہے)، اب کم از کم پنجاب اور بالخصوص وسطی پنجاب کی حد تک بھی جاگیردارانہ معیشت ختم ہوچکی ہے۔ ایسے میں جہیز، جس کی معقول اخلاقی جسٹیفیکیشن کبھی موجود ہی نہ تھی، اب معاشی و عملی ضرورت بھی نہیں رہا۔ لیکن معاشی ترقی کا ثمر سماجی ترقی میں خود بہ خود تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس کے لیے معاشرے کو شعوری کوشش بھی کرنی پڑتی ہے۔ ہماری سوچ اور ہماری حقیقیت، دونوں ہی ایک دوسری کو متاثر کررہے ہوتے ہیں۔ جاگیردارانہ معیشت کے بتدریج اور جاری زوال نے ہمارے لیے سماجی ترقی کی راہ کھول دی ہے مگر اس پر چلنا ہمیں ہی پڑے گا۔

سماجی ترقی کی اس راہ پر صنفی حوالے سے چلنے کا پہلا اور سب سے بڑا قدم بہنوں بیٹیوں کو وراثت میں شرعی حصہ دینا ہے۔ ہم ایسا کرنے لگیں یا ایسا کرنے پر مجبور کردیے جائیں تو جہیز اپنی موت آپ مرجائے گا۔

یہ وہ بات ہے جو خود ان مہمات کے حامی حلقوں کو سمجھنی چاہیے۔ مگر افسوس ہمارے ہاں معروضی سماجی تجزیے اور اصلاح کی وہ روایت جو تحریکِ علیگڑھ کے بزرگوں کی میراث تھی، دم توڑ چکی۔ اگر کچھ رہ گیا ہے تو فیشن ایبل نعرے۔ کبھی یہ ٹرینڈ اور کبھی وہ ازم۔ اگر ہمارا فیمینسٹ طبقہ ڈپٹی نذیر احمد اور راشد الخیری کو پڑھے تو مجھے امید ہے ان کو بہت سے زبردست آئیڈیاز مل سکتے ہیں اور تحریکِ حقوقِ نسواں بہت موثر ہوسکتی ہے۔ مذہبی حلقوں سے بھی گزارش ہے کہ تعصب اور ردعمل کی نفسیات کا شکار ہونے سے بہتر ہے کہ اسلامی فیمینزم کی تحریک اٹھانے کی تدبیر کریں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو فیمینزم تو بہرصورت آئے گی ہے مگر وہ مذہب بیزار فیمینزم ہوگی جو اسے نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی دلچسپ ہے: گھن چکر: لعنت صرف جہیز ہی نہیں ہے

 

یہ بھی پڑھیئے:  جہیز میں گھر ایک لازوال نعمت ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: