بینکر Banker یا بین کر؟ —– طیبہ ژویک

0
  • 135
    Shares

چمکتا ہوا شیشے کا دروازہ ٹائلوں سے مزین ہال، کہیں کہیں نفاست سے سجی دیواریں، پالش شُدہ چمکدار میزیں اور ڈھیروں الفاظ اور ہندسوں سے بھرے کاغذات، کمپیوٹر اور دوسرے آلات۔ موسم کے مطابق ہیٹر یا اے سی۔ غرض ایسا ماحول کہ ایک عام انسان مرعوب ہوکر رہ جائے۔ جی ہاں۔ ۔ ۔ ۔ یہ بینک کا ذکر ہے۔ اس کے نام پر کبھی مت جائیے اسلامی ہو یا غیر اسلامی، کام دونوں کا ایک ہی ہے۔

بظاہر پُروقار نظر آنے والا اِدارہ درحقیقت سب سے زیادہ ہوس زدہ ادارہ ہے۔ اور اس کے کام کرنے کا طریقہ کار کسی مکار یہودی ذہن سے کم نہیں۔ اس کے کسی بھی جُز کا مطالعہ کرلیں، پیچ در پیچ سفاکانہ جال بچھا نظر آتا ہے۔ جس کی زد سے ان کا کوئی بھی صارف محفوظ نہیں۔ ہم اس مضمون میں فردا فردا بنک کے کام کرنے کا طریقہ کار، اس کے قوانین، اصول و ضوابط اور کسٹمر، سٹاف اور مینجمنٹ اور ایمپلائر کے ریلیشن کا آنکھوں دیکھے حال کا مطالعہ کریں گے۔ اس ادارے کا صرف ایک ہی مقصد ہے، لوگوں کی آمدنیوں کے حساب اور لین دین میں مدد کرنا۔ محفوظ کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ یہ دیکھنے کی نیت سےکہ کس کو کتنا لوٹا جاسکتا ہے۔ پیسہ کائنات کی ایسی چیز ہے جو کسی بھی نیت کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ جب پہلا دینار ایجاد ہوا تو شیطان نے اسے چوم کر کہا “عزیزم! تم نے میرا کام آسان کر دیا ہے۔ تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے بینک اس سے محفوظ رہے۔ اس کی نیت بھی روزِ پیدائش سے ہی خراب ہے۔ یہ لوگوں کی تھوڑی سی بےفکری ضرور دیتا ہے کہ ان کی پیسے محفوظ ہیں۔ مگر یہ کبھی بھی فری نہیں ملتی۔ اس کا کام کرنے کا طریقہ کار تو ہر باشعور شخص جانتا ہو گا کہ بنک آپ کی رقم مفت میں محفوظ کرنے کا ذمہ لیتا ہے اور اِسے آگے کسٹمرز کو سود پر قرض دے دیتا ہے۔ جسے ہم فریکشنل ریزور بنکنگ کہتے ہیں۔ پیسے لیتے وقت تو وہ کسٹمر کو سود نہیں بلکہ خدمات دیتا ہے مگر یہ “فری” خدمات کا معاوضہ کتنا ہوتا ہے اس پر ہم صارفین پر بات کرتے ہوئے ذکر کریں گے۔

اسی طرح جب یہ سود دیتے ہیں تب اس پر بھی اقساط کی دیر سے ادائیگی پر طرح طرح کے چارجز لگائے جاتے ہیں۔ اسلامی بنک بھی کچھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ بس وہ سود کی جگہ منافع اور چارجز کی جگہ چیریٹی لیتے ہیں۔ طریقہ کار قریبا ایک ہی ہے۔ بظاہر دیکھا جائے تو یہ مہلک اور ظالم طریقہ ہونے کے باوجود اس سرمایہ دارنہ نظام میں فٹ ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں سرمایہ داروں کے لیے بخوبی اور باقی طبقات کے لیے بحالت مجبوری چل رہا ہے۔ اس سے لوگ سمجھوتا کر چُکے ہیں، اور ذہنی طور پر اسے قبول بھی کر چُکے ہیں۔ بنک صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتا۔ اس کی ہر لمحہ ٹپکتی رال کو صاف کرنے کے لیے اسے روپیہ ٹِشو پیپروں کی صورت ہر وقت درکار ہوتا ہے اور اسی مقصد کے لیے اپنے قانونی اختیارات کے علاوہ بھی بہت سے ایسے کام کرتا ہے جو بظاہر قانونی مگر درحقیقت غیرقانونی ہوتے ہیں۔ کوئی بھی خدمت مہیا کرتے وقت ایک لمبا شرائط نامہ کسٹمر کے ہاتھ میں تھا دیا جاتا ہے جس میں صرف اپنا تحفظ پنہاں ہوتا ہے (اس پر ہم آگے تفصیلی بحث کریں گے)۔ اس لیے بنک جب کسی شخص کو اپنی کوئی خدمت خاص طور پر لیز یا قرض جیسی کوئی چیز دے دے تو پھر یہ بے شک آپ اپنی جان کا نذرانہ دے کر بھی اس سے جان نہیں چھڑوا سکتے۔ بنک کی خدمات کسٹمرز کو مہیا کرنے تک کے پراسس میں اتنی پیچیدگیاں ہوتی ہیں کہ یہ فری ہوتے ہوئے بھی فری نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ بنک اپنے پاس موجود ایک ایک پیسے کا حساب رکھتا ہے۔ مگر حیرت کی بات ہے ادائیگی کے وقت وہ یہ قانون یکسر بھول جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر یہ آپ سے ایس ایم ایس جیسی کسی سروس کے پینتیس روپے اٹھاون پیسے وصول کرتا ہے۔ باقی اڑتالیس پیسے جو بچ گئے ہیں، وہ آپ رقم نکلواتے وقت نہیں لے سکتے، وہ صرف بنک سسٹم میں ہوں گے۔ اسی طرح لین دین کرتے وقت جو پیسے بچ جاتے ہیں کسٹمرز کا دھیان شاذ و نادر ہی اس سمت میں جاتا ہے۔ ظاہری بات ہے انفرادی طور پر ایک شخص ان پیسوں کا کر بھی کیا سکتا ہے۔ اسکی اہمیت تو ایک بنک جان سکتا ہے جب اس کے لاکھوں کسٹمرز کے پیسے (روپے نہیں) باقاعدہ معقول رقم کی صورت اخیتار کر لیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب رقم کی ادائیگی پیسوں کی صورت میں یا ایسی صورت میں ہو جب روپیہ کی حد پانچ کی تقسیم میں نہ ہو تو بعض اوقات دو تین روپے کا بھی فرق آجاتا ہے۔ اب کوئی بنک یہ تو کر سکتا ہے کہ اس شخص کو اگر 50۔ 112 روپے دینے ہیں تو 110 روپے دے دے گا مگر ایک سو تیرہ یا پندرہ کبھی نہیں کر کے دے گا۔ ہے وہ سُلطان غیر کی کھیتی پر ہو جس کی نظر۔ یعنی بینک ایک ایسا بھکاری ہے جو اپنی پُرشکوہ شخصیت سے آپ کو نفسیاتی طور پر قابو کر کے دیدہ دلیری سے قانونی طور پر آپ کی رقم ہتھیاتا ہے۔

بینک کے کار جہاں کو دراز رکھنے کے لیے اس میں آپ کو ہلکے رنگ کے لباس، چمکتے جوتے، لباس کی آستین یا کسی کونے میں نمایاں جگہ پر آویزاں بینک کارڈ کے ساتھ بنک کاعملہ نظر آئے گا۔ جی۔ ان کی صنف یا عہدے پر نہ جائیے یہ سب بلاامتیاز بینکر ہیں ۔ سیلز آفیسر، کیشئیر ہے، منتظم یا اپنے شعبے کا سربراہ بھی۔ ۔ ۔ کچھ بھی ہو یہ بینکر ہی کہلائے گا۔ ۔ ۔ ۔ یہ بینک کی جان ہوتے ہیں۔ مجھ آپ جیسے عام انسان جو بینک میں بے شک شکایت ہی کرنے جا رہے ہوں، ان کی چرب زبانی اور شخصیت سے مرعوب ہو کر کچھ نئی مصنوعات خرید کر اپنا نقصان کرواتے ہوئے، ان کی قسمت پر رشک کرتے ہوئے، شاداں و فرحاں واپس آجاتے ہیں۔

یوں تو کام کرنے کے لحاظ سے اس کے کئی شبعے ہیں پر بنیادی طور پر ہر ادارے کی طرح بیچنے کا کام کرتے ہیں۔ کام کے لحاظ سے ملازمین کی تین اقسام ہیں۔
تیسری قسم میں وہ نووارد لوگ ہیں جو عارضی بنیاد پر ملازمت حاصل کرکے آئے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ادارے کی مصنوعات بیچنے کا کام یہی کرتے ہیں۔ اور یہیں سے ہیومن ریسورسز کا شعبہ ان کی صلاحیتوں پرکھنا شروع کر لیتا ہے۔ ان میں جو مفاد پرست ہوتے ہیں، وہ تو ہر طرح کا دھوکہ فریب بروئے کار لاتے ہوئے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ جو ایماندار ہوتے ہیں ان کی ترقی کی رفتار چیونٹی جیسی اور تنخواہ میں اضافہ رائی برابر ہوتا ہے. پھر بھی کام کرتے رہتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر ذیلی شاخوں کی انتظامیہ ہے۔ یہاں عموما تیسری قسم کے ملازمین میں سے ان ملازمین کو چُنا جاتا ہے جو زبان کی بجائے ہاتھ اور ذہن سے کام کرنے کے عادی ہوں اور کسی حد تک قابل رحم بھی۔ کیونکہ ان کے لیے ملازمتیں بدلنا بھی فریب اور چالبازیوں جیسا مشکل کام ہوتا ہے۔

اول نمبر پر انتظامیہ یا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہیں سے بےحسی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ یہاں چُن چُن کر وہ لوگ رکھے جاتے ہیں۔ جن کے ذہن انسانیت کی بجائے صرف ادارے کا سوچتے ہیں۔ اگر ان کا ماضی دیکھا جائے تو معلوم ہو گا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ابتدا ہی سے ہر جائز، ناجائز طریقہ اختیار کیا۔ دھوکہ دہی اور جھوٹے خواب دکھا کر گاہک سے اپنا کام نکلوایا۔ کہیں اپنا فائدہ نظر آنے پر ادارہ کا بھی لحاظ نہیں کیا۔ عرف عام میں قصائی جیسے پروفیشنل بنے اور اپنے ان ہم منصبوں سے کہیں آگے نکل گئے۔ یہ شکل سے ہی سخت، سرد مہر، دوٹوک بات کرنے والے لگتے ہیں۔ سُنتے کم اور سُناتے زیادہ ہیں۔ پالیسیز بناتے وقت انہیں ملازمین یا گاہکوں کی پریشانیاں کم ہی نظر آتی ہیں بلکہ یوں کہہ لیں بالکل ہی نظر نہیں آتیں۔ بلکہ سچائی یہ ہے کہ انتظامیہ دُنیا میں کسی بھی ہو۔ استحصال کی ماہر ہوتی ہے۔

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام

مینجمنٹ اور اصول و ضوابط کے نام پر خوبصورت الفاظ کا مجموعہ اور عدالتی پیچیدگیوں سے بھرپور زبان (جو کسی عام شخص تو کُجا خود انتظامیہ کے کارندوں کی سمجھ میں بھی کم ہی آتی ہے) میں اپنا مکمل تحفظ پنہاں رکھا جاتا ہے۔ ان اصول و ضوابط کو حقیقی معنوں میں شرافت سے لاگو کرتے ہوئے بھی ایک عام انسان بہت سی زیادتیوں کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔ میری نظر میں دُنیا کو محکوم بنانے کے لیے منظم منصوبہ بندی کا نام مینجمنٹ ہے۔ یہاں تحفظ صرف باحیثیت کا ہوتا ہے۔

کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزِ دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخلِ کہن کو سرنگوں

ذرا آرائش و زیبائش، نفاست اور آداب کی باریک سی پرت اتار کر تو دیکھئے۔ ایک بینکر کے لیے بنک کیا ہے؟ درحقیقت مکڑی کے جالے کی طرح خوشنما پھندا ہے، جہاں پل بھر ٹھہرنے سے بھی دم گھُٹنے کا خدشہ ہے۔ اور یہ شخص۔ ۔ ۔ اُلجھے بال، تفکر سے پیشانی پر پڑی لکیریں۔ ۔ ۔ اگر کسی بینکر کو اصل حالت میں دیکھیں تو ایک لمحے کے لیے آپ یہ ضرور سوچیں گے۔ ۔ ہیں!! انہیں کیا پریشانی ہو سکتی ہے۔

درحقیقت اس چمکتی دُنیا کے پیچھے تاریکیوں سے بھری ایک الگ دُنیا ہے۔
یہ اعتماد سے بنک کی کسی نئی مصنوعات کے فوائد اور تیز تیز اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے بینکر درحقیقت ایسا طبقہ ہے جو چار جانب سے پِستا ہے۔ ۔ اسے انتظامیہ، گاہک اور خُدا کو بیک وقت راضی رکھنا ہے۔
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے

ایک عام بنکر کی زندگی ایسی تنی ہوئی رسی پر چلتے بسر ہوتی ہےجس کا ایک سِرا انتظامیہ اور دوسرا گاہک کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ دِن بھر لوگوں کو سنہری باغ دکھاتا ہے دن کے آخر میں انتظامیہ کو مطمئن کرتا ہے۔ کہ ان کے لامحدود بھوکے پیٹوں کو بھرنے کے لیے غذا فراہم کرے۔ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے بھی ایک ہاتھ میں موبائل اور دوسرے میں کاغذات پکڑے کسی نہ کسی کو مطمئن کرتا ہی نظر آتا ہے۔

اب عطر بھی ملو تو محبت کی بُو نہیں
وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا

اس پر مستزاد اگر دفتری ساتھی کوئی نکما چرب زبان ہو یا نزاکت بھری خاتون ہوں تو الاامان الحفیظ۔ اگر متحرک ہو تو شاید وقت کچھ سُکھ بھرا گُزر سکے ورنہ عموما ایسا دفتری ساتھی چرب زبانی اور نزاکت کے تیر چلاتے ترقی کی سیڑھیاں طے کرتا رہتا ہے۔ ان کا کام دن بھر کوئی شریف بینکر کرتا رہتا ہے اور ترقی ان کی ہوتی رہتی ہے۔ دو سال بعد دیکھیں تو یہی بینکر اُس کا نگران بن جاتا ہے، جس سے اپنے کام پہلے منتوں سے نکلواتا تھا اب حُکمیہ کرواتا ہے۔ خیر یہ تو برسبیل تذکرہ ہے۔ مدعا یہبی ہے کہ بینکر “دٗنیا میں سب انسانوں کو بیک وقت خوش نہیں رکھا جا سکتا” والے مقولے کے برعکس ہر ایک کو خوش رکھنے میں مگن نظر آتا ہے۔

پھر بھی ہوتا کیا ہے کوئی سر پھِرے گاہکوں کو نمٹانے کے بعد آخر پر وہی روبوٹک انتظامیہ کی کال سُنے گا “مسٹر آپ کی لو پرفارمنس” کی وجہ سے کسی سنجیدہ فیصلے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ویسے انتظامیہ کو ہر وقت سر پر تلوار ٹانگے رکھنے کی عادت ہوتی ہے لہذا وہ تبادلہ، جبری استعفی اور اس قسم کی تادیبی کاروائیوں سے ہر وقت عملے کی جان آزار میں ڈالے رکھنے میں ماہر ہے۔ سو، ذیلی انتظامیہ اپنے عملے پر اور عملہ اپنے گاہکوں پر جائز و ناجائز حُربے آزمانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو گاہک بادشاہ ہوتے ہیں، پر یہی بادشاہ جب “سیلز” کے پھندے میں پھنس جائیں تو بے بس پنچھی جیسا ہی حال ہوتا ہے یعنی “تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے” کے مصداق یہاں کسی کو کسی پر فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔

وہ یہودی فِتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بُروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تارتار

عام بینکر کو شرافت، اور کام سے محبت رکھنے کی قیمت چُکانے کے لیے اپنی زندگی، وقت، فیملی ٹائم، بلکہ دوستوں اور بعض اوقات ایمان میں ہیرا پھیری اور اپنی آمدنی تک خرچ کرنا پڑتی ہے۔ یہ سب کرنے کے بعد بھی اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ اِسے گاہکوں سے رواداری کا صلہ ملے گا۔ لازما ترقی ہو گی۔ ۔ یا۔ ۔ اپنی عمر کا بہترین وقت ادارے اور گاہکوں کو تقسیم کر کے ریٹائرمنٹ کے بعد ادارہ اسے ایمانداری کے صلہ میں باقی عمر سکون سے گزارنے کی ضمانت دے گا۔ بہت زیادہ نہیں تو کم از کم اس کے ذاتی اخراجات ہی برداشت کرے گا۔ زیادہ سے زیادہ دو سنہری شیلڈ عنایت کر دے گا۔ اگر کوئی سخی بنک ہو تو شاید مزید کچھ انعام کا احسان کر دے ۔ ۔ یا پھر۔ ۔ ہو سکتا ہے وہ پچاس سالہ خدمات کے صلہ میں پچانوے ہزار فیٹ کی بلندی سے نیچے دے مارے اور جِس سٹیٹس کو بنانے میں اس نےبنک کو اپنا آپ دے دیا، وہ یک جنبش قلم جبری ریٹایرمنٹ کے تحت چھین کر کسی اور کے سپرد کر دے۔

قصہ مختصر “چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر” اس سنہری، رعب دار، پرشکوہ ادارے کی شخصیت دوسرے پرائیویٹ اداروں کی نِسبت دُگنی سیاہی اعمال رکھتی ہے۔ عموما یہ سمجھا جاتا ہے کہ بنک صرف سود کا کاروبار کرتا ہے۔ درحقیقت جھوٹ اور دھوکا دہی کے بغیر سود کی شکل اتنی بھیانک ہے کہ خُدا کا فرمان مجسم صورت سامنے آتا معلوم ہوتا ہے کہ “جو سود کھاتے ہیں۔ وہ یوں کھڑے ہوں گے۔ جیسے شیطان نے انہیں چھو کر مخبوط ُالحواس بنا دیا ہو۔ اس لیے اس بھیانک صورت درندے کو خوشامد، دھوکا دہی اور جھوٹ کے سُنہرے پلندوں میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ پھر یہیں سے استحصال، دھوکے بازی اورلالچ جنم لیتے ہیں۔ اس میں شرافت سے کام کرنے والے کی زندگی کسی مزدور سے کم نہیں، بلکہ مزدور کو تو پھر بھی اطیمنان حاصل ہے کہ اس کے کام کو اعمال میں نہیں محنت میں گِنا جاتا ہے جبکہ ایک عام بنکر سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس نظام کا حصہ بننے اور اسے چلائے رکھنے پر مجبور ہے۔ اسی لیے بینک میں تھوڑے پر قناعت کرنا یا بےحِس ہو کر اس نظام کا حصہ بننا ضروری ہے ورنہ کٗل مِلا کر تمام بینک یہ مدعا آپ کی صوابدید پر یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیتے ہیں۔ ۔ ۔ بینکر بن یا بین کر۔ ۔ ۔ ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: