ہر خوشہ گندم کو جلا دو —– اعجاز الحق اعجاز کا افسانہ

0
  • 48
    Shares

 (اس افسانے میں میں نے ایک قدیم حکایت کو نئی معنویت سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے)

فضلو ایک غریب آدمی تھا۔ وہ چودھری فضل دین کے وسیع و عریض کھیتوں سے گندم کے خوشے چراتے کئی مرتبہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ آج بھی جب چودھری اپنی فصلوں کے معائنے کے لیے نکلا تو اسے دور سے کھیت میں ہلکی پھلکی ہلچل سی نظر آئی۔ کون ہے؟ اس نے گرج دار آواز میں پوچھا۔ جواب ندارد۔ چودھری نے بار دگر زیادہ گرج دار اور غصے سے لبریز آواز لگائی۔ ’’کون ہے۔ سامنے کیوں نہیں آتے؟‘‘ آہستہ آہستہ ایک پرانے سے میلے صافے میں لپٹا ہوا سر فصل سے برآمد ہوا۔ ’’میں ہوں چودھری جی فضل دین بد نصیب ‘‘۔ چودھری نے اس کی طرف بے حد غصیل نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا:

’’تو آج پھر میری فصل کا بیڑا غرق کر رہا ہے‘‘
’’نہیں چودھری جی میں تو بس۔۔۔‘‘
’’بس کیا‘‘
’’چودھری جی میں تو بس زمین پہ گرے ہوئے خوشے چن رہا تھا۔ قسم ہے جو ایک بھی سٹہ توڑا ہو‘‘
’’یہ خوشے تیرے باپ کے نہیں۔ کتنی مرتبہ تجھ سے کہا ہے کہ یہ حرام کام نہ کیا کر۔‘‘
’’چودھری جی کافی دنوں سے دیہاڑی نہیں لگ رہی اور بچے گھر میں بھوک سے بلک رہے ہیں۔‘‘
’’کام کرنے والوں کو روزگار مل ہی جاتا ہے۔ مگر تو ہے ہی ایک نمبر کا کام چور۔ تیری نیت ہی خراب ہے۔ تو بس حرام ہی کھانا چاہتا ہے۔ــ یہ خوشے جو تو نے چنے ہیں یہیں پھینک دے اور میرے کھیت سے نکل جا‘‘

چناں چہ فضلو نے وہ خوشے وہیں پھینکے اور کھیت سے نکل کر گھر کو روانہ ہوگیا۔ آج پھر اس کے بیوی بچے بھوکے ہی سو گئے۔ پہلے پہل اس کے ہمسائے اور قریبی رشتے دار اس پر ترس کھا کر کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے بھیج دیتے تھے مگر اب وہ بھی تنگ آچکے تھے اور اسے کچھ نہ کچھ کرنے کی نصیحتیں کرتے رہتے تھے جنھیں سن سن کر اس کے کان پک گئے تھے۔ فضلو کام چور نہ تھا مگر کوئی سخت کام اس سے نہ ہوتا تھا۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہلے ہوئے تھے جس کی وجہ سے اس کی کمر میں اکثر شدید درد اٹھتا تھا جو اس کی بائیں ٹانگ میں آکر اسے بے حال کر دیتا تھا۔ اس بیماری کے علاج کے لیے اس کے پاس پیسے نہ تھے۔ ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا تھا جس کے اخراجات سن کر اس کی کمر مزید جھک گئی تھی۔ زندگی اس کے لیے ایک مسلسل ٹیس تھی۔ اسے یہی لگتا تھا کہ اس کا نحیف وجود کرب سہنے کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ رات وہ بھی بھوک سہتا رہا اور اپنے ننھے ننھے بچوں کو بھی بھوک جیسے عفریت کے پنجوں میں بلکتا ہوا دیکھتا رہا۔ آنسووں سے اس کا تکیہ بھیگتا چلا گیا۔ اس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ وہ چھت کو گھورے جا رہی تھی۔ صبح ہی صبح وہ اٹھ کر گھر سے باہر آگیا۔ وہ چلتا ہی جارہا تھا، چلتا ہی جا رہا تھا۔ اسے خبر نہ تھی کہ کہاں جا رہا ہے۔ رستے میں اسے شرفو ملا جس سے اس نے کچھ پیسے مانگے۔

’’یار میرے پاس پیسے کہاں۔ مجھے تو خود دیہاڑی نہیں مل رہی۔‘‘ اسے ایک ٹکا سا جواب ملا۔
’’تو ایک کام کیوں نہیں کرتا‘‘۔ شرفو نے رازدارانہ انداز سے کہا۔
’’وہ کیا۔ دیکھ تجھے پتہ ہے میں زیادہ سخت کام نہیں کر سکتا۔‘‘ فضلو نے امید و بیم کی کیفیت میں جکڑے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں۔ یہ سخت کام نہیں ہے۔ تیرے سارے مسئلوں کا حل بابافضل دین کے پاس ہےــ‘‘
’’کون بابافضل دین؟‘‘ فضلو نے بے تاب ہو کر پوچھا۔
’’تو بابا فضل دین کو بھی نہیں جانتا۔ کافی دن ہوئے ہیں وہ شہر سے ساتھ والے گا و ں میں آئے ہیں۔ وہ سارے مسئلے ایک منٹ میں حل کر دیتے ہیں۔‘‘ شرفو نے پرتیقن لہجے میں جواب دیا۔

فضلو یہ سن کر بہت خو ش ہوا۔ وہ گھر آیا اور نہا دھو کر اس نے اپنا ایک ذراکم بوسیدہ جوڑا نکلوایا جو اس نے خاص خاص موقعوں کے لیے سنبھال رکھا تھا نکلوایا اور اسے پہن کر اور کندھے پہ پھٹی پرانی بوسیدہ سی چادر رکھے ساتھ والے گاوں کی طرف روانہ ہوا اور پوچھتے پچھاتے بابا فضل دین کے آستانے پہنچ گیا۔ بابا فضل دین بہت قیمتی لباس پہنے ایک مسند پر براجمان تھے۔ مریدوں اور ضرورت مندوں کی ایک اچھی خاصی تعداد وہاں موجود تھی۔ دو مرید ان کے گھٹنے دبا رہے تھے۔ فضا خوشبووں سے معطر تھی۔ فضلو عقیدت سے سلام کرکے بیٹھ گیا۔ اسے لگا کہ وہ درست جگہ پر آگیا ہے۔ اب اس کے سارے مسئلے حل ہونے جارہے ہیں اور اس کے بیوی بچے بھوک کے عفریت سے نکل آئیں گے۔ اس احساس نے اس کی آنکھوں میں امید کی کئی شمعیں فروزاں کردیں۔ جب اس کی باری آئی تو بابا جی نے اس کا ہاتھ اپنے نازک اور پاکیزہ ہاتھ میں لے لیا اور کچھ دیر آنکھیں بند کیے رہے۔ پھر آنکھیں کھولیں اور گویا ہوئے:

’’آج سے چوری نہ کرنے کا عہد کر لے اللہ بہت نوازے گا۔ آج کے بعد کسی کے کھیت سے گندم کا کوئی خوشہ نہ چرانا۔ بس یہ ہدایت پلے باندھ لے۔ اور یہاں سے چلا جا۔‘‘
فضلو اٹھا۔ وہ دل ہی دل میں تائب ہوچکا تھا۔ اس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ اب کبھی چودھری کے کھیت سے خوشے نہیں چرائے گا۔ اس کی زندگی میں جیسے سکون آگیا۔ وہ اطمینان سے چلتا ہوا گھر کی طرف چل دیا۔ رستے میں ایک تنگ پگڈنڈی آتی تھی۔ اس پگڈنڈی کے دونوں طرف تاحد نظر چودھری کے کھیت تھے۔ وہ آج ہوش کے بجائے جوش سے چل رہا تھا۔ دو تین مرتبہ وہ پگڈنڈی سے گرا۔ اسے لگا جیسے وہ پل صراط سے گزر رہا ہے۔ وہ گر کر سنبھلتا اور دوبارہ چلنا شروع کر دیتا۔ وہ گر گر کر سنبھلتا اور چلتا رہا اور بالآخر گھر پہنچ گیا۔ اس کے مدقوق چہروں والے بچے اس کی طرف لپکے مگر اسے ایک مرتبہ پھر خالی ہاتھ دیکھ کر حسب معمول مایوس سے ہوگئے۔ مگر آج انھوں نے اپنے باپ کے چہرے پہ عجیب سی چمک دیکھی تھی۔ اس چمک سے ان کا پہلے کبھی سابقہ نہ پڑا تھا۔ انھیں کیا علم کہ یہ ایک روحانی چمک تھی۔ فضلو نے اپنی بیوی کو سارا ماجرا سنایا جو یہ سن کر بہت خوش ہوئی۔ اسے واقعی لگا کہ اس کا شوہر پہلے کی طرح اس سے بہانہ نہیں کررہا بلکہ ان کے دن اب واقعی کٹنے والے ہیں۔ رات ہوئی تو فضلو سکون سے سو گیا۔ مگر آدھی رات کو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے خواب میں بابا فضل دین کو دیکھا تھا جو اس سے درشت لہجے میں کہہ رہے تھے:

’’فضلو تو نے میرے حکم کی پیروی نہیں کی۔ ‘‘
’’بابا جی میں آپ کے صدقے۔ اب کیا جرم کیاہے میں نے؟‘‘ فضلو نے گبھرا کر ندامت میں ڈوبی ہوئی آواز میں پوچھا۔
’’ذرا اپنی چادر کو دیکھ جو داغ دار ہے‘‘ بابا جی کی گرج دار آواز سنائی دی۔

وہ اٹھا اور کھونٹی سے لٹکی چادر اتار کر اس کا بغور معائنہ کیا تو شرم سے اس کی جبیں پانی پانی ہوگئی۔ اس نے دیکھا کہ اس چادر کے ساتھ گندم کے چند خوشے چپکے ہوئے تھے۔ اس نے ان خوشوں سے چادر کو نجات دلائی، باہر آیا، ماچس لی اور ان خوشوں کو آگ لگا دی۔ آج بہت دنوں کے بعد اس کے گھر میں گندم کے پکنے کی خوشبو پھیلی تھی۔

(Visited 113 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: