قصہ ’مرحوم‘ پُل کا —— امتیازعبدالقادر

1
  • 7
    Shares

چھوٹے چھوٹے کچیّ، نیم پختہ اور پختہ مکانات تنگ گلیوں میں یوں آمنے سامنے ایستادہ ہیں جیسے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے ہوں۔ دن کے اُجالے میں بھی تاریکی سارا سارا دن ان گلیوں میں پڑی جمائیاں لیتی رہتی ہیں۔ دھوپ نُکڑوں اور ان مکانات کی چھتوں پر یوں آکر رُک جاتی ہے کہ جیسے کہ اِسے آگے جانے کی ممانعت ہو۔ بہار میں یہاں ’فرّاٹے مارتی‘ ہوا ئوں کا چلن رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے مکانات کے چھت، دکانوں کی زینت بنے ہوئے سامان، چھتوں اورتاروں پر سُوکھنے کے لئے رکھے ہوئے کپڑے ہوا میں رقص کرتے کرتے حدِ نگاہ تک دُور جا پڑتے ہیں۔ راہ چلتے لوگوں کی اصل شکل و صور ت گردو غبار کے نیچے ’دب‘ سی جاتی ہے اور اس گرد کا معتدبہ حصہ ’سُپردِشکم‘ بھی ہوجاتاہے۔ یہ مختصر سی آبادی بستے بستے بستی کی شکل اختیار کر گئی۔ بستی کے بیچوںبیچ دریائے جہلم صدیوں سے بہہ رہا ہے۔ جہلم کبھی دریا کی صورت بہتا ہے اور کبھی نالی کی صورت سُکڑ جاتا ہے۔ ابھی جب کہ یہ سطور قلم کی پیاس بجارہے ہیں، جہلم موخرالزّکر صورت میں اپنی منزل کا سفر’ برق خُرامی‘ سے شب روز طے کر رہا ہے۔

بات ہو رہی ہے قصبہ بارہمولہ (ورمُل) کے شہرِخاص Old Town کی۔ یہاں کی معاشرت قصبہ جدید اور مضافات میں آباد بستیوں کے لئے ہمیشہ قابل تقلید رہی ہے۔ یہاں کی اکثر عورتوں کی دنیا گھر اور آس پڑوس تک ہی محدود ہے اور مرد اپنی دُنیا اور اہل و عیال کی دُنیا بنانے میں مگن ہیں۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے بچّوں کوشرارت کے نت نئے طریقوں کو عملاتے، مردوں، نو جوانوں کو فرصت کے لمحات گلی کے نُکڑ پر بیٹھ کر گپیں لگاتے یا وسیع قبرستان میں کرکٹ، گلی ڈنڈا اور والی بال کھیل کردل بہلاتے دیکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔

قصبہ بارہمولہ کے بیچوں بیچ دریائے جہلم شب و روز اس بستی کے پائوں دھوتی ہوئی جانب پاکستان اپنا سفر طے کر رہی ہے۔ دریا کے ایک کنارے پر ’بیت المکرم‘ اور ’تقوٰی‘ نام کی مساجد ہیں۔ ان مساجد میں انسان اپنے دل کی غلاظت صاف کرتے ہیں تودوسری طرف دریائے جہلم انسانی جسموں کی غلاظت کو اپنے متعفن پانی میں گھولتی ہوئی قصبہ سے باہر چلی جاتی ہے۔ شہرِ خاص کو قصبہ جدید سے ملانے والا ایک عُمر رسیدہ ’بزرگ‘ پُل ہُوا کرتا تھا جو کہ اب ’مرحوم‘ ہو چکا ہے۔

سال۲۰۱۴؁ء کے تباہ کُن سیلاب نے بستی کے اُس پُل کی ’رُوح‘ قبض کی۔ سیلاب سے قبل ہی وہ پُل ہچکولے لے رہاتھا۔ کئی جگہوں پر اُس کے ’اعضا‘ ’خرابیِ صحت‘ کاعندیہ دے رہے تھے۔ کچھ حصہ’ زخم‘ کھا کر ’چیکھا‘ ’واویلا‘ بھی کیا لیکن اس پربھی جب ’ترقیاتی ‘محکمہ صُمّ، بُکم، عُمی کی علامت بنارہاتوپُل کے اُس حصے نے دریامیں چھلانگ لگانے میں ہی عافیت سمجھی۔ پُل کے ایک کنارے پر شہرِ خاص (old town) کی طرف سے مختصر سا بازار ہے، جہاں سے قصبہ خاص میں بسنے والے لوگ چھوٹی چھوٹی چیزیں خرید کر لاتے ہیں۔ شام کے بعدسے رات گئے تک یہاں بستی والوں کا کافی رَش رہتا ہے۔ اکل وشرب کی محفلیں سجھتی ہیں۔ کچھ مٹرگشتی میں مصروف رہتے ہیں اور بہار میں اکثرلوگ ہواخوری کے لئے دریا کنارے چہل قدمی میں مصروف رہتے ہیں۔ بستی کی یہ رونق، دریاکے اُس پار ’پاش ایریا‘ میں رہائش پزیر مکینوں میں ایک طرح کاجلن پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ ایسی معاشرت وہاں عنقاء ہے۔

پُل کے اُس جانب قصبہ کا مرکزی بازار ہے۔ جہاں متنوع قسم کے دُکانات اور چھاپڑی فروشوں کا ہجوم اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں۔ مرکزی بازار کی پُشت پر ایک آباد بستی ہے جو کہ قصبہ کا متمول (Posh) علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بستی اصل میں قصبہ خاص کی ارتقائی صورت ہے۔ یہیں سے بوجوہ وہ لوگ اُس طرف ہجرت کرکے آباد ہوئے۔ پرانا پُل شہرِ خاص کو مرکزی تجارتی بازار سے ملاتا تھا۔ اس پُل کو سبھی ’پُرون کدل‘ کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ دریائے جہلم پر اب عبور و مرور کے لئے تین پُل بنائے گئے ہیں۔ لیکن مذکورہ پُل تاریخی تھا جوکہ ۲۰۱۴؁ء کے بعد حکومت و انتظامیہ کی نذر ہو گیا۔ یہ پُل مزاحمت کی علامت تھی۔ مذکورہ پُل کنہ جنگ، گئو ماتائوں کے وشرام اور زندگی کے جھمیلے سے فرار حاصل کرکے’ خود کشی‘ کی غرض سے چھلانگ مارنے کے بھی کام آتا تھا۔ گئو ماتائوں نے تو خیر ایک اور پُل (سیمنٹ برج) کی راہ لے لی۔ جگہ جگہ اُن کے شکم سے نکلنے والے ’پرشاد‘ نے پُل کی ’خوبصورتی‘ اور رنگت میں اضافہ کیا ہے۔ ضلع انتظامیہ اس ’ڈیولپمنٹ ‘ سے نہال ہے۔ چار سال بیت گئے۔ آسمان کی گردش اور جہلم کی روانی زوروں پر ہے۔ لیکن پرانے پُل کی جگہ نئے پُل کی کوئی خبر نہیں۔ ۲۰۱۴؁ء سے اب تک مختلف سیاسی رہنما، حکمران طبقہ، ضلع انتظامیہ سے وابستہ ترقیاتی منصوبوں کے’ ٹھیکیداروں‘ نے ’مرحوم پُل‘ کے ملبے پرچڑھ کر ’تصویریں‘ کھینچوائیں۔ میڈیا کو خبریں دیں اوراس سب کے ساتھ ساتھ اپنے’ دہنِ مبارک ‘سے ’پس ماندگان‘سے بے شماروعدے کئے۔ عوام کاالانعام ان کی شعبدہ بازی اورڈرامے پر یقین کرتے کرتے خود کو تسلی دیتے دیتے تھک گئے۔ وہ لیڈران اب خود ’خبر‘ بن گئے۔ حکومتیں تب سے اب تک ’مرحوم‘ ہوگئیں لیکن یہ پُل اب بھی ایفائے عہد کے لئے راہ تک رہا ہے۔ پُل جب گِرا تب کشمیر کے سیاہ و سپید پر نیشنل کی حکمرانی تھی۔ کُرسی اُن سے روٹھی تو پی۔ ڈی۔ پی و بی۔ جی۔ پی کے کوٹھی کی’ زینت‘ بنی۔ اب وہ حکومت رہی نہ ہی حکمراں۔ اُن کے ساتھ ساتھ اُن کے وعدے بھی’غرقِ‘ دریا ہوئے۔ سر یرِسلطنت پر بیٹھ کر انہوں نے یہاں کے عوامی نمائندوں، سماجی تنظیموں، بیوپارمنڈل کو خوب چکر لگوائے۔ ضلع ترقیاتی دفتر نے بھی مذکورہ اداروں سے وابستہ افراد کے جُوتے بڑی شان سے گِھسوائے۔ حیرت ہوتی ہے ان اندھے بہرے حکمرانوں اور ترقیاتی دفتروں پر کہ چار سال میں مشکلات کا سامنا کرنے والے ہزاروں کُنبوں کے دُکھ درد کا مداوا نہ کر سکے۔ جہلم کے آرپار تجارت میں مصروف تاجروں کی آہ و پُکار ان کے ضمیر کو بیدار نہ کر سکی۔ سمجھ سے پرے ہے کہ اس دفتر کو ضلع ’ترقیاتی دفتر‘ کیونکر کہا جائے۔ ترقی نام کی کوئی شے ہے کیا بلا یہاں۔ یہ تو تخریب کے مراکز ہیں۔ ان کی تعمیر میں بھی تخریب کا پہلو نمایاں ہے۔ چچا غالب ؔ نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا کہ ؎

میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

قصبہ میں بے ترتیب چھاپڑی فروشوں کا ہجوم سڑکوں اور شاہراہوں پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جن کے لئے کوئی مخصوص جگہ نہیں ہے۔ سرکاری بس اڈّہ عملاً سبزی مارکیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نہ گاڑیاں آسانی سے داخل اور خارج ہوتی ہیں نا ہی عوام یکمشت آمدو رفت کا ’فریضہ‘ انجام دے سکتے ہیں۔ اتنے برسوں میں گاڑیوں کے لئے بھی کوئی ایک منظم اڈہ قائم نہ کر سکے۔ پارکنگ کے لئے تو اب جگہ دستیاب کرنے کی ضرورت ہی نہیں ر ہی کیونکہ سیمنٹ برج کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک اب گاڑیاں تشریف فرما رہتی ہیں۔ علاوہ ازیں سڑک کے اطراف بھی گاڑیوں سے پُر ہوتے ہیں۔ دریائے جہلم کے کناروں پر گندگی کا ڈھیر ہیں اور دریا خود کوڑادان (Dustbin) کا کام بھی دیتا ہے۔ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ دکاندار بھی خود غرض ہیں دُکان کے سامنے، شمال و جنوب کو بھی قبضے میں لے کر سامان سجا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ کچھ تصویریں ہیں ’’ترقی کی‘‘ جس سے صرف اور صرف راہ چلتے عوام ہی متاثر ہوتے ہیں۔

مذکورہ پُل کے نہ ہونے سے عمومی طور پر سارا قصبہ خاص متاثر ہے۔ البتہ محلہ جلال صاحب، اقبال مارکیٹ، محلہ ککر حمام، محلہ گنائی حمام، محلہ میر صاحب، محلہ سعید کریم، محلہ خواجہ صاحب، محلہ قاضی حمام، محلہ فقیر وانی عیدگاہ، محلہ المصطفیٰ کالونی، محلہ فلٹریشن پلانٹ، محلہ باغ اسلام، محلہ چشتی کالونی کے باشندے بہت ہی تکلیف میں ہیں۔ گزشتہ چار سالوں سے وہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کب انتظامیہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور ہماری مشکلات کا ازالہ ہو جائے لیکن سب بے سُود۔ گذشتہ کچھ ماہ سے اگر چہ اب کام شروع ہو چکا ہے لیکن کشاں کشاں، خرگوش کی چال سے بھی بدتر کام کی رفتار ہے۔ اتنے عرصے بعد توقع تھی کہ کام میں سُرعت لائی جائے گی اور یہ ان کا اخلاقی اور منصبی فریضہ بھی تھا لیکن اس میدان میں اکثر اخلاقی اقدار کو اہمیت ہے نہ ہی اپنے منصب کے ساتھ انصاف۔ یہاں تو ہر شعبہ اخلاقی دیوالیہ بن کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے سامنے جس کا ہاتھ جتنا لمبا ہو، اُس کا کام اتناہی اہم ہے اور بلاتاخیر انجام دیاجاتا ہے۔ عام لوگوں کے لئے اس لائن میں بس ایک ہی چیز مُفت اور جلد ملنے کی توقع ہوتی ہے اور وہ ہے دھکّے!

(Visited 198 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20