دوسری شادی: ضرورت یا کچھ اور؟ —– رقیہ اکبر  

0
  • 98
    Shares

کہتے ہیں معاملات زندگی میں الجھاو اور بگاڑ تب آتا ہے جب ایک کہہ نہیں پاتا اور دوسرا سننا نہیں چاہتا، مگر سوشل میڈیا کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ یہاں نہ کہنے والے پہ پابندی ہے نہ سننے والے پہ، سبھی کہہ سن رہے ہوتے ہیں مگر کوئی بھی سمجھ نہیں پارہا ہوتا یا شاید سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔ پسند کی شادی، طلاق، دوسری شادی کے حوالے سے ہمارا عمومی معاشرتی رویہ درست نہیں۔ اب اگر فی الواقع ہم ان مسائل کا حل چاہتے ہیں تو بالغ نظری سے ان وجوہات کا جائزہ لینا ہو گا جن سے معاشرتی رویوں میں شدت پسندی آ گئی۔ بلا شبہ دوسری شادی کو ہمارے ہاں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور دوسری شادی کرنے والے مرد اور عورت دونوں کو معاشرہ قبول نہیں کرتا، مگر کیوں؟

اس کیوں کا جواب تلاش کرنے کیلئے ضروری ہے کہ دوسری شادی کی اجازت کے پیچھے چھپی حکمت اوراس اجازت کے ساتھ منسلک شرط کو ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔ انہیں الگ کرنا بددیانتی ہوگی۔ قرآن کے کسی حکم کے حصے بخرے کر کے اپنی پسند کے اصول نہیں نکالے جا سکتے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جو حصہ من کو بھائے اس کو حق سمجھ کر سامنے لے آئو، اور جہاں ہماری خواہشات اور مرضی سے ٹکراو ہو اس کو ـ ’’بعد میں دیکھیں گے‘‘ کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ شادی کسی فرد کا صرف ذاتی عمل نہیں بلکہ یہ ایک سماجی معاہدہ بھی ہوتا ہے۔ سماج نہ تو اس سے لا تعلق رہ سکتا ہے اور نہ ہی اس کے اچھے برے اثرات سے خود کو الگ رکھ سکتا ہے۔ شادی صرف مرد کی نہیں عورت کی بھی ضرورت ہے۔ اسی لئے دونوں کے مزاج، ضرورتوں اور مسائل پہ بات ہونی چاہئے۔ کیونکہ آدھی بات اور ادھورا سچ ہمیشہ مسائل کو جنم دیتا ہے۔ اس لئے سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ایک مرد دوسری شادی کیوں کرتا ہے؟

  • کیا واقعی مرد کی جنسی اور جبلی خواہش ایک عورت سے پوری نہیں ہو پاتی؟
  • اور اگردوسری شادی اتنی ہی ناگزیر تھی تو خدا نے واضح اور صریح حکم کیوں نہ صادر فرما دیا، ایک ہی پہ قناعت کا درس کیوں دیا؟
  • چار شادیوں کی اجازت کیا مرد کی کسی قلبی، جسمانی اور جنسی ضرورت کیلئے دی یا اس کے پیچھے کوئی خاص حکمت پوشیدہ تھی؟
  • کیا سوکناپے کا جلن اور حسد صرف برصغیر کی عورت کا خاصہ ہے؟ کیا یہ ایک سماجی یا معاشرتی رویہ ہے؟

آیئے ایک ایک کر کے ان سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مرد دوسری شادی کیوں کرتا ہے؟
اولاد کی کمی، اولاد نرینہ کا نہ ہونا، بیوی سے ذہنی ہم آہنگی کا فقدان، بیوی کا حقوق زوجیت ادا کرنے سے بوجوہ قاصر ہونا اور کسی دوسری عورت پہ دل آجانا، مرد کی دوسری شادی کی چند اہم وجوہات ہیں۔ (شوقیہ دوسری شادی کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے) مذکورہ بالا وجوہات میں سے پہلی دو وجوہات تو ایسی ہیں جن کی موجودگی میں دوسری شادی کو عموما قبول کرلیا جاتا ہے، جبکہ تیسری اور آخری وجہ معاشرتی مجبوریوں، حالات کا جبر، اخلاقی کمزوری اور خودغرضی کی علامت ہیں۔

اللہ نے شادی کو عورت اور مرد دونوں کی پسند اور رضامندی کے ساتھ مشروط کر دیا، اس لئے والدین پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اولاد کی پسند کا احترام کریں شادی کے معاملے میں ان کے فیصلوں کو مانیں۔ انہیں اپنے فیصلے ماننے پہ مجبور نہ کریں۔ اب یا تو مرد میں اتنا حوصلہ ہو کہ وہ اپنی قلبی رضامندی کے بنا شادی کیلئے ہاں ہی نہ کرے، ڈٹ جائے، بجائے اس کے کہ بعد میں ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کا بہانہ کر کے اپنے عقد میں آئی ہوئی کسی باحیا اور پاکدامن لڑکی سے بے اعتنائی برت کر دوسری شادی کر لے۔ کیونکہ ایسی شادیوں میں عدل اور مساوات کا دامن تھامے رکھنا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ ظاہر ہے پہلی بیوی سے عدم دلچسپی کے باعث جو شخص عقد ثانی کرے گا اس سے انصاف کے تقاضے نبھانے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنے والدین کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا ہے تو پھر اس کی لاج بھی رکھیں اور ہمیشہ اپنا سر جھکائے اس رشتے کو نبھائیں۔

دوسری شادی کی ایک اور بڑی اور ٹھوس وجہ عورتوں کا بیوی سے زیادہ ماں کے کردار پہ فوکس کرنا، شوہروں کو توجہ نہ دینا، یا پھر سو کالڈ حیا کے لبادے کی آڑ میں شوہر کی جائز ضرورت کو بے دلی سے پورا کرنا، انہیں مطمئن نہ کرنا یا اس عمل میں ان کا کھل کے ساتھ نہ دینا بھی ہوتا ہے۔ بیویوں کا شوہروں کو سیکس کی بھوک کا طعنہ دینا ایک اتنی بڑی غلطی ہے جس کا خمیازہ انہیں سوکن کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ کیونکہ مرد کیلئے یہ طعنہ دراصل ان کے کردار پہ بدنما دھبہ اور گالی ہے۔ اس ضمن میں عورتوں کو تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ عورت کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ماں سے پہلے ایک بیوی ہے اور رب تعالیٰ نے زوجین کو ایک دوسرے کے سکون، خوشی اور لذت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اولاد کے بعد خود سے زیادہ گھر پہ توجہ دینا یاشوہر کی جنسی خواہش کو ثانوی حیثیت دینا کسی بھی طور جائز رویہ نہیں۔ شادی کے بعد عورت یہ سمجھ لیتی ہے جیسے اس نے اپنی منزل پالی ہے اب اسے اپنی جسمانی ساخت پہ نظر رکھنے، خود کو مینٹین رکھنے اور چاق و چوبند رہنے کی قطعی ضرورت نہیں تو یہ اس کی سب سے بڑی غلطی ہے، ایسے میں اگر مرد پھسلتا ہے تو قصوروار عورت ہے مرد نہیں۔

کیا مرد کی جنسی اور جبلی خواہش ایک عورت سے پوری نہیں ہو سکتی؟

یہ عذر ایک مفروضے کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ دوسری، تیسری شادی کا صریح حکم صادر کر دیتا صرف اجازت پہ معاملہ نہ رکھتا۔ پھر آدم اور حوا سے آغاز ہونے والے اس رشتے کی بنیاد یک زوجگی پہ نہ رکھی جاتی۔ اللہ ایک کی بجائے دو دو، تین تین حوائیں بھی تخلیق کر سکتا تھا۔ ازدواجی رشتے کی بنیاد یک زوجگی پر رکھناہی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ مرد کی جنسی ضرورت ایک ہی عورت سے پوری ہو سکتی ہیں ما سوائے چند فیصد کے جس کیلئے ہی شاید دوسری شادی کا راستہ کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اب اگر آج کا مرد خود کو بے لگام چھوڑ دے، اپنی نظر کی حفاظت نہ کرے، پورن موویز اور، جنسی خواہش کو ابھارنے والی مصنوعی ادویات کا استعمال کر کے اپنی مردانہ قوت میں اضافہ کرے اور پھر یہ دعویٰ کرے کہ اس کی ضرورت پوری کرنے کیلئے دوسری، تیسری یا چوتھی بیوی کا ہونا از بس ضروری ہے اور چونکہ اسے اجازت بھی ہے تو اس لئے اس کے اس قدم کو سند تحسین عطا کی جائے، یا پھر وہ مرد جو ورائٹی، تنوع اور منہ کا ذائقہ بدلنے کے واسطے اس اجازت کو استعمال کرے تو ایسے مرد کے اس ــ ’’سو کالڈ مذہبی قدم‘‘ کی تعریف کرنا کم از کم میرے لئے تو ممکن نہیں۔

کیا دوسری شادی کی اجازت مرد کی جنسی تسکین کیلئے دی گئی ہے یا اس کے پیچھے کوئی خاص حکمت پوشیدہ تھی؟

قرآن کا کوئی ایک بھی حکم کوئی ایک آیت ایسی نہیں جو حکمت سے خالی ہو یا خدانخواسطہ بے مقصد ہو تو پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ اتنا اہم اجازت نامہ بنا کسی حکمت کے ہو؟ تب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف مرد کی جنسی تسکین ہی اصل مطلوب و مقصود تھی؟ یقینا عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرے گی۔ جنسی تسکین ایک اہم جسمانی ضرورت ہے جس کی تکمیل شادی کے ذریعے کرنے کا حکم ہے جو کہ ایک ہی بیوی سے بآسانی پوری کی جا سکتی ہے اور شادی جس طرح مرد کی ضرورت عین اسی طرح یہ عورت کی بھی ضرورت ہے۔ تو میں اپنے محدود علم اور عقل کی بنیاد پہ یہ سمجھی ہوں کہ دوسری شادی کی اجازت دراصل عورتوں کے تحفظ اور ان کی جسمانی اور جنسی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے دی گئی ہے۔

دوسری شادی کی اجازت والی آیت میں یہ کہنا کہ (اگر تم ڈرو یتیم لڑکیوں کے حق میں تو نکاح کرلو جو عورتیں تمہیں خوش آویں دو دو، تین تین، چار چار) ہی ایک واضح ہدایت ہے کہ یہ اجازت عورتوں کی ضرورت اور حقوق کی حفاظت کیلئے ہی اتاری گئی ہے۔ ایسے وقت میں جب غزوات اور جنگوں میں مردوں کی کثیر تعداد شہید ہو گئی تو ان کی بیواوں اور یتیم اولاد کی پرورش اور ذمہ داری اٹھانے کئلیے یہ آیت اتری جس میں ایک طرف ازواج کی تعداد مقرر کر دی گئی تو دوسری طرف یتیموں کے حقوق کی حفاظت کیلئے ایک راہ سجھا دی گئی۔ اس آیت میں پوشیدہ حکمت اتنی بھی پوشیدہ نہیں کہ ہم سمجھ نہ سکیں، اگر سمجھنا نہ چاہیں تو یہ الگ بات ہے۔ اسلام بیوہ اور مطلقہ کے عقد ثانی پہ بہت زور دیتا ہے حکم ہے اگر تمہارے گھر میں کنواری اور بیوہ خاتون موجود ہے تو بیوہ کے نکاح کو اولیت دو۔ دوسری شادی کی اجازت میں چھپی اس حکمت کو دیکھیں اور شادی کرتے ہوئے ان خواتین کو اولیت دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرے میں توازن نہ آئے یا لوگ تمہارے اس قدم کو سراہیں نہیں۔ کیونکہ یہ حکم ہر دور میں بیواوں اور یتیموں کے حقوق کی ضمانت کے طور ہمارے پاس موجود ہے۔ آج بھی پاکستان میں مطلقہ اور بیوہ خواتین کی ایک کثیر تعداد تنہائی اور بیوگی کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔ مگر کوئی بھی دوسری شادی کا امیدوار ان کا سہارا بننے کو تیار نہیں، کنوارے تو کیا خاک توجہ کریں گے۔

چوتھا اور آخری سوال: کیا سوکناپے کی جلن کوئی فطری امر ہے یا محض برصغیر پاک و ہند کی عورت اس مرض کا شکار ہے؟

میں اس سوال کا شاید استدلالی جواب تو تشفی بخش انداز میں نہ دے سکوں مگر ایک بات جو قرآن سے ثابت ہے ضرور بیان کرنا چاہوں گی۔ سورہ تحریم میں شہد کو خود پر حرام کر دینے کے جس عمل کو خدا نے ناپسند کیا وہ ازواج مطہرات کی بحیثیت عورت، سوکن سے جلاپے کی واضح نشانی ہے جس سے نبیﷺ کی ازواج بھی مبرا نہیں تھیں۔ اور پھرخدا نے اپنے نبی کو سرزنش کی کہ بیویوں کی خوشنودی کیلئے ایک حلال چیز کو خود پر ’’حرام‘‘ مت کرو بیویوں کو نہیں کہا کہ تم نے جلاپا کیوں دکھایا۔ یہ جلاپا بھی خالص فطری جذبہ ہے محبت، نفرت اور غصے کے جذبے کی طرح، کسی میں کم کسی میں زیادہ۔ کوئی قابو پالیتا ہے تو اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے، نہیں قابو پاسکتا تو کوئی پکڑ نہیں سوائے اس کے کہ اگر اس جذبے کے تحت کوئی کسی کو نقصان نہ پہنچائے (واللہ العلم) رہی عالم عرب یا برصغیر سے باہر کی عورت تو وہ کن کن نفسیاتی الجھنوں یا مسائل میں گھری ہے یہ بس وہی جانتی ہیں۔

اب ایک نظر اس آیت اور اس کی تفسیر پہ جس میں اس رخصت کا ذکر ہے۔

سورہ نساء کی آیت نمبر۳۔ اور اگر ڈرو کہ انصاف نہ کر سکو گے یتیم لڑکیوں کے حق میں تو نکاح کرلو جو عورتیں تمہیں خوش آویں، دو دو، تین تین، چارچار، پھر اگر ڈرو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا لونڈی جو اپنا مال ہے اس میں امید ہے کہ ایک طرف جھک نہ پڑو گے۔

مولانا مفتی محمد شفیعؒ معارف قرآن میں اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں

’’اسلام کے ابتدائی زمانے میں کثرت ازدواج کا رواج تھا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ لوگ اول اول تو حرص میں بہت سے نکاح کر لیتے تھے مگر پھر ان کے حقوق ادا نہ کر سکتے تھے۔ اور یہ عورتیں ان کے نکاح میں ایک قیدی کی حیثیت سے زندگی گزارتی تھیں۔ ان عورتوں کے درمیان عدل و مساوات کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ قرآن نے اس ظلم عظیم کو روکا، چار سے زائد عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے پہ پابندی، اور نکاح میں آنے والی خواتین کے درمیان ’’مساوات حقوق‘‘ کا نہایت موکد حکم اور اس کی خلاف ورزی پر ’’وعید شدید‘‘ سنائی۔

مزید لکھتے ہیں:

عدل اور مساوات رکھنا واجب ہے اور اس کے خلاف کرنا، گناہ عظیم۔ ایک حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا: جس شخص کے نکاح میں دو عورتیں ہوں اور وہ ان کے حقوق میں برابری اور انصاف نہ کر سکے تو وہ قیامت میں اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا ہو گا (مشکوٰہ ص ۲۷۸)۔ گویا امور اختیاریہ میں بے اعتدالی گناہ عظیم ہے اور جس شخص کو اس گناہ میں مبتلاء ہونے کا خطرہ ہو اس کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایک سے زائد نکاح نہ کرے۔ اب اس تفسیر کو دیکھیں تو انصاف کرنا واجب قرار پایا ہے جبک عقد ثانی اجازت اور سنت۔

ڈاکٹر انیس احمد اس حوالے سے لکھتے ہیں:

اگر ان احکامات پہ غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اصل مسئلہ مرد کی خواہش کا نہیں بلکہ بحیثیت شوہر اس پر عائد حقوق کا ہے۔ اگر ان حقوق کی ادائیگی اس کے کسی ایسے عمل سے متاثر ہوتی ہے جو نہ فرض ہے نہ واجب تو اسے خود کو سمجھا کر مطمئن کر لینا چاہئے۔ کیونکہ گھر کا سکون اور بیوی اور اولاد کے حقوق کو ثانوی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ دوسری شادی بہرحال حکم نہیں رخصت ہے، کسی کام کی اجازت ایک استثنی ٰ بھی ہو سکتی ہے اور عموم بھی، لیکن سورہ نساء کی آیت پر غور کریں تو اس میں استثنائی اور اضطراری کیفیت کی طرف رحجان نمایاں ہے تاکہ ہر دور میں قرآن کے اصولوں سے یکساں فائدہ اٹھایا جا سکے۔ محض خواہش دوسری شادی کیلئے معقول بنیاد ہرگز نہیں۔ پہلا نکاح ایمان کی تکمیل اور اتباع سنت ہے جبکہ دوسرا نکاح نہ کرنے سے نہ وہ کسی معصیئت کا ارتکاب کرے گا نہ کسی کا حق پامال کرے گا۔ الٹا اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کی دوسرا نکاح اس کے خاندانی نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ اگر گھر کا سکون تلپٹ ہونے کا احتمال ہو، بیوی اور بچوں کے حقوق کو نظر انداز کئے جانے کا امکان زیادہ ہو تو پرہیز بہتر ہے۔ اصولی بات ہے اسلام نے دوسری شادی کی نہ ترغیب دی ہے نہ مخالفت کی ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ بس ایک دروازہ کھلا رکھا ہے تاکہ حقیقی ضرورت کی صورت میں استفادے کا موقع موجود رہے۔ یہاں ایک نہائت اہم نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر انصاف کر سکے تب اجازت ہے۔ اب اگر مرد عقد ثانی کسی مجبوری یا ضرورت کیلئے کرے تو اس بات کا امکان ہے کہ انصاف کر سکے گا۔ مگر جو شخص محض اپنی خواہش کیلئے یہ قدم اٹھائے اس سے یہ توقع عبث ہے۔ اپنی خواہش کیلئے عموما وہ مرد دوسری شادی کرتا ہے جسے پہلی بیوی میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی ایسے مرد کیا انصاف کے تقاضے نبھائیں گے جس نے ایک سے دل بھر جانے کے بعد دوسری کا ساتھ چاہا ہو (ماسوائے چند ایک کے)

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی ضرورت کیا ہے؟ یہ کون طے کرے گا؟ اور بنا کسی ضرورت کے شادی کرنا کتنا مستحب ہے؟ یا یہ کہ وجہ کا ہونا یا بتانا ضروری ہے کہ نہیں؟ اس آخری سوال کے جواب کیلئے اسلام کی روح کو سمجھنا ضروری ہے۔ جب اسلام کی حقیقت سمجھ آگئی تو باقی سوالوں کے جواب خود بخود مل جائیں گے۔ اسلام کے تمام اصول و قوانین ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک حکم لازما کسی دوسرے حکم کی بجا آوری کیلئے راستہ ہموار کرتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوۃ سے اللہ کو کیا مطلوب ہے؟ دن میں پانچ مرتبہ وضو کروا کے مسجد میں بلا کے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینے سے اللہ کو کیا حاصل؟ جب گرمیوں کے طویل، گرم اور تکلیف دہ دنوں میں بھوکا پیاسا رہنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے اللہ کو کیا مطلب؟ اور جب اللہ تمہارے مال پر زکوۃ دینے کا حکم صادر کرتا ہے تو کیا تمہارے مال کی اللہ کو ضرورت ہوتی ہے؟ نہیں یقینا یہ سب اس لئے ہے کہ اللہ ہم سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔ اور اللہ فرماتا ہے نفس کو قابو میں رکھنے سے زیادہ بڑا کام اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس سے بڑا جہاد اور بھلا کیا ہے؟ بنا کسی ضرورت کے تو اللہ کھانا کھانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تو کیا شادی جیسا بڑا اور اہم کام اللہ پسند کرے گا بنا کسی وجہ کے محض اپنے نفس سے مغلوب ہو کر کرتے چلے جاو؟ مذکورہ آیت میں جواز کی ضرورت تو خود رب کریم نے واضح کر دی ہے یہ کہہ کے ’’کہ اگر تمہیں خوف ہو یتیم لڑکیوں کے بارے میں تو۔۔۔۔‘‘ وجہ ہونے کے شواہد تو اسی آیت میں موجود ہیں۔

احکام تیرے حق ہیں مگر اپنے مفسر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تاویل سے ْقرآن کو بنا دیتے ہیں پابند

اب اپنے موقف کے حق میں تاویلیں گھڑ لائیں تو مرضی تمہاری ورنہ اللہ نے تمہں نفسانی خواہشات کی غلامی کی نہ اجازت دی نہ ترغیب۔ اللہ تو بار بار کہتا ہے اپنے نفس کو قابو میں رکھو، اس کے غلام مت بن جاو۔ بستر کی شراکت داری میں بیوی سے کسی دوسری عورت کو ساجھے دار بنانے کی ڈیمانڈ کرنے سے پہلے دس دفعہ سوچو کہ شادی کی اجازت دینے والے رب نے حقوق العباد پہ کتنا زور دیا ہے۔ اور ان سب حقوق میں بیوی کی دلجوئی بھی شامل ہے۔ اللہ نے تمہارے لئیے رخصت کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے اور عزیمت کا بھی۔ جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر طاقتور ہونے کے باوجود بھی اپنے لئیے رخصت کا اور عورت جیسی کمزور صنف کیلئے عزیمت کے راستے کا انتخاب کرنا خود غرضی کے سوا کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمہیں معاشرے کی طرف سے ناپسندیدہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جہاں میں جتنی بھی خوشیاں آئیں اٹھا کے جھولی میں اپنے بھر لیں
ہمارے حصے میں عذر آئے، جواز آئے، اصول آئے

ہاں حقیقی ضرورت کیلئے تمہارے پاس راستہ کھلاہے اوریقینایہ ضرورت تم خود ہی طئے کرو گے۔ تمہارے رب نے تمہارے اندرضمیر نام کا ترازو بھی رکھ دیاہے، فیصلہ کرو مگر فیصلہ کرنے سے پہلے جس رب نے یہ رخصت دی ہے اس کے نبی ﷺکی سنت پہ بھی نظر ڈالتے جانا۔ نبی اکرمﷺ نے پہلی شادی عین جوانی کے وقت ایک بیوہ اور اپنے سے کئی سال بڑی عمر کی خاتون سے کی، اور ان کی وفات تک اسلام کی مذکورہ اجازت پرکبھی غور نہیں کیا۔ صرف انہیں پہ قناعت کی جبکہ آپﷺ بالکل جوان تھے۔ اور یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ آپﷺ کی نو ازواج میں سے صرف حضرت عائشہ ؓ وہ واحد خاتون تھیں جو کنواری تھیں، باقی تمام ازواج مطہرات بیوہ تھیں، بلکہ بعض کے دو دو شوہر پہلے گزرچکے تھے۔ نبی کریم ﷺ کا بیوہ اور عمر رسیدہ سے شادی کی سنت دوسری شادی کی رخصت میں موجود پوشیدہ حکمت کی طرف بھی رہنمائی کرتاہے۔ مگر افسوس اس مقام پر آکر ہمیں کوئی سنت کوئی نیکی اپنی طرف متوجہ نہیں کرتی۔ اگر کچھ ہمارے لئے پسندیدہ ہے، وجہ تقلید ہے تو بس ایک رخصت، ایک اجازت۔ خدا کے دئیے ہوئے فرائض کو پس پشت ڈالنا اور ایک سہولت کو اپنانا خود غرضی کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ نے عورتوں کے معاملات میں تمہیں جوابدہ بنایا ہے۔ عمر رسیدہ، بیوہ، اور طلاق یافتہ سینکڑوں خواتین مجرد زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ تمہاری بے اعتنائی انہیں بھی غلط راستے پہ دھکیل سکتی ہے، ذرا ادھر نظر کرو ان کا گھر بسانا بھی نیکی ہے یا آپ نے بھی ساری نیکیاں بس کسی جوان کنواری دوشیزہ سے بیاہ رچا کر ہی کمانی ہیں؟ مانا میرے بھائی دوسری شادی شجر ممنوعہ نہیں، مگر یہ کوئی لازمی کھایا جانے والا پھل بھی نہیں ہے، جسے ہر شوہر کیلئے کھانا لازم ہو، کہ کھاتے چلے جائو اور اس کے چھلکے اور گٹھلیاں پہلی بیوی کی گود میں ڈالتے چلے جائو۔

مجھ سے بہتر کی تمنا اسے لے ڈوبے گی
کتنا اچھا ہو جو وہ مجھ پہ قناعت کر لے

یہ دونوں مضامین بھی پڑھیے:
ایک سے زائد نکاح: اعتراضات و جوابات —— مفتی احسن قریشی
مرد، فلرٹ اور دوسری شادی: فلک شیر کا جواب
(Visited 629 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: