میرا مطالعہ: اہل علم کی مطالعاتی زندگی پر مبنی کتاب — نعیم الرحمٰن

0
  • 76
    Shares

فروغ ِ مطالعہ اورکتب بینی کے لیے اردو میں کئی اچھی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن نامور مصنف اور دانشور محمد کاظم کی ’’کل کی بات‘‘ اور منفرد مزاح نگار محمد خالد اخترکے فنون میں کتابی تبصروں کو آج نے ’’ریت پر لکیریں‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ تبصرہ کتب پررفیع الزماں زبیری صاحب کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ لیکن ایمل مطبوعات نے معروف اہل علم کی مطالعاتی زندگی پرمبنی بہت ہی خوبصورت کتاب ’’میرا مطالعہ‘‘ کے نام سے شائع کی۔ اس شاہکار کتاب کے مولف عرفان احمد ہیں۔ اوراس کی تدوین عبدالرؤف نے کی ہے۔ بڑے سائز کے دو سو چورانوے صفحات کی کتاب کی قیمت چھ سو پچاس روپے انتہائی مناسب ہے۔ جو ایمل کے روایتی دیدہ زیب انداز میں شائع ہوئی ہے۔

پبلشر شاہد اعوان نے عرض ناشر ’علمی سفرنامے‘ کے زیرعنوان تحریرکیا ہے کہ

’’آج، ٹیکنالوجی کے دور میں کتاب پربات کرنا بجائے خود ایک نیکی ہے اور پھر یہ گفتگو کرنے والے علم و ادب کی دنیاکے روشن نام ہوں تو گویا نورُعلٰی نور کا مضمون ہوجاتا ہے۔ مطبوعہ کتاب کے مستقبل کے بارے میں ماضی قریب میں پیدا ہونے والی تشویش تو خیر وقت نے غلط ثابت کر دی۔ برقی کتاب کسی طورکاغذ کے نامیاتی احساس کا متبادل نہیں بن پائی۔ ہارڈ بک بہت سخت جان ثابت ہوئی۔ مطالعہ کاعمل باصرہ اور لامسہ کے رومانی امتزاج کے بغیرعلم کو شخصیت کا جزو نہیں بننے دیتا۔ ’میرا مطالعہ‘ کی پہلی جلد میں شامل یہ تحریریں کتاب شناسی اورکتب بینی کے ذوق کی آبیاری کے علاوہ ہمارے علمی سرمایہ کی بازیافت کاکام بھی کریں گی۔ یہ مقالات دراصل ان ادیبوں اور دانشوروں کے فکری و علمی سفر نامے ہیں جن کے ذریعہ قاری چند صفحات میں کئی دہائیوں کے سفرکی روداد پڑھ سکتا ہے۔ کچھ تحریریں پڑھتے ہوئے گویا اردوکی روایتی داستان گوئی کاتجربہ ہونے لگتاہے۔ لکھنے والا اپنی داستان سنا رہا ہے اور سامع وارفتگی اور تجسس کے عالم میں بہتا جا رہا ہے۔ ہر کتابی موڑ اور علمی پڑاؤ داستان کے رنگ میں اضافہ کر رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ کتاب ہرکتاب دوست کے لیے ایک خوبصورت اور رنگین تحفہ ہے جس سے صدیوں پرانی علمی روایت کی خوشبو آتی ہے۔ ایمل مطبوعات کی طرف سے تحائف کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘‘

کتاب کے بارے میں مرتب عرفان احمد کا کہنا ہے کہ ’’مجھے ایک نادر کتاب ’مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں‘ پرانی کتابوں کے ایک اسٹال سے ملی، جس نے میرے ذوقِ مطالعہ کو ایک نیارُخ دیا، یہ شوق پیدا ہوا کہ میں اپنے ذوق کی تسکین اور مطالعہ کرنے والوں کی ر اہ نمائی کے لیے اہل علم سے مدد لوں اور اس بہانے ان لوگوں سے ملاقات کی جائے جو دورِ حاضرمیں آسمان علم کے ستارے ہیں۔ اسلام آباد سے جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی اور کراچی سے ڈاکٹر طاہر مسعود نے حوصلہ افزائی کی اور اپنے ہاں آنے کی دعوت دی۔ گفتگو ریکارڈ ہوئیں اور کتاب کی ترتیب و تدوین کا آغاز ہوا۔ محترم شاہد اعوان نے کتاب کی اشاعت بہت دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ بالآخر یہ کام پایہ تکمیل کوپہنچا۔ طباعت کے لیے ان کا ذوق بہت عمدہ ہے، امید ہے جلد ہی ملک بھر کے دیگر اہل علم کی مطالعاتی زندگی کی روداد پیش کرپائیں گے۔‘‘

میرا مطالعہ میں ملک کے بیس اہم مصنف، ادیب اور دانشوران کرام کے مطالعاتی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔ جن میں بعض مرحومین بھی شامل ہیں۔ احمد جاوید، ڈاکٹر اسلم فرخی، ڈاکٹر محمود غازی، ڈاکٹر انور سدید، زاہدہ حنا، ڈاکٹر طاہر مسعود، ڈاکٹر معین الدین عقیل، محمد سہیل عمر، ڈاکٹر مبارک علی، مولانا زاہد الراشدی، آصف فرخی، طارق جان، حکیم محمود احمد برکاتی، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر صفدر محمود، اوریا مقبول جان، عبدالجبار شاکر، عبدالقدیر سلیم، عامر ہاشم خاکوانی اور ڈاکٹر زاہد منیرکے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ علم وادب کے ان مشاہیرکے ساتھ کتابوں پر کیا کمال گفتگو میرا مطالعہ میں شامل ہے۔ جس سے قاری کو عمدہ کتابوں کے بارے میں علم ہوتاہے۔ اورانہیں حاصل کرکے پڑھنے کی ترغیب ملتی ہے۔

ہر انٹرویو کے آغاز میں صاحبِ مصاحبہ کا مختصر تعارف ہم جیسے کم علموں کوان کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ معروف ادیب دانشور، فلسفی جناب احمدجاویدکے بارے میں تحریر ہے کہ ’’احمد جاوید بھارت کے شہرالہ آباد کے ایک گاؤں، سید سراواں میں 1955ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ اقبال اکادمی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ تصوف، فلسفہ، شعر و سخن اور ادب پران کی گہری نظر ہے۔ تزکیہ نفس اور تربیت پران کی کتاب ’ترک رذائل‘ بہت اہم اور معروف ہے۔ مختلف علمی اور ادبی موضوعات پر لکھے گئے مضامین کے کئی مجموعے بھی زیر ترتیب ہیں۔‘‘

احمدجاوید کے مطابق ’’ذوقِ مطالعہ کو پروان چڑھانے میں سب سے پہلی شخصیت میرے دادا کی تھی، جو الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی پڑھاتے تھے اور نہایت ہی غیر معمولی پڑھے لکھے آدمی تھے۔ ان کی اچھی خاصی لائبریری بھی تھی۔ دادا کے بعد میرے لیے سب سے زیادہ مفید صحبت سلیم احمد کی رہی۔ سلیم احمدصاحب بہت بڑے ادیب، شاعر اور استاد تھے۔ ریڈیو پاکستان کے انتہائی اہم لائق لکھاریوں میں سے تھے۔ ان کی صحبت کی وجہ سے میری زندگی یک سو ہوگئی۔ انہوں نے ناصرف مطالعہ کا شوق پیدا کیا، بلکہ مطالعہ کے راستے بھی دکھائے، پھر جو کہتے تھے اس کی نگرانی بھی کرتے تھے، یعنی پڑھا یا نہیں پڑھا۔‘‘ احمدجاوید صاحب کا کہنا ہے کہ ’’ابوالکلام آزاد کی تحریر میں معنی مغلوب ہوتے ہیں۔ اسلوب غالب ہوتاہے، اوران کی تحریر مدلل نہیں تحکمانہ ہوتی ہے۔‘‘ وہ مطالعہ کرنے والوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ ’’میرا مشورہ ہر ایک سے یہ رہتاہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو، انشااللہ مہینے بعد ہی تم خود کتابیں ڈھونڈتے نظر آؤگے اور اپنی مصروفیات میں سے تردد کرکے وقت نکالو گے۔‘‘

احمدجاوید دھیمے لہجے میں اپنی گفتگو سے سامع کو اپنے سحر میں مبتلاکردیتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ سلیم احمد نے ان کے لیے ایک نصاب ترتیب دیا۔ جس میں کلیاتِ میر، ول ڈیورانٹ کی اسٹوری آف فلاسفی اور تذکرہ غوثیہ کے علاوہ ایلیٹ کے تمام مضامین اورکچھ طویل نظمیں اورمحمدحسن عسکری کی تمام کتابیں شامل تھیں۔ احمدجاوید کا بنیادی رحجان اور پسندیدہ موضوع تو شاعری اور مذہب کا مطالعہ ہی رہا۔ ان کی شخصیت اور فکر پر دینی لحاظ سے مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے اثرات ہیں۔ انہوں نے مولانا مودودی کی کتب میں ’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘ کواہم ترین قراردیا۔ ’تفہیمات‘ اور ’سنت کی آئینی حیثیت‘ مولانا تھانوی کی ’التکشف عن مہمات التصوف‘، ’تعلیم الدین‘ اور ’مواعظ‘ کے مطالعہ پر زور دیا ہے۔

دانشور، ماہرتعلیم اور صاحبِ طرز نثر اور خاکہ نگار ڈاکٹر محمد اسلم فرخی انیس سو اٹھائیس میں لکھنئو میں پیدا ہوئے۔ ان کا وطن فتح گڑھ ضلع فرخ آباد تھا۔ اسی نسبت سے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ فرخی لگایا۔ ذوق شعروسخن ڈاکٹرصاحب کو ورثے میں ملا تھا۔ تعلیم سے فراغت کے ساتھ ہی وہ درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے۔ کراچی کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹی میں وہ اردو کے استاد رہے۔ کراچی یونیورسٹی میں وہ ناظم شعبہ تصنیف وتالیف وترجمہ اوررجسٹرار بھی رہے۔ زبان وادب کے استاد کی حیثیت سے ان کا بڑا مقام ہے۔ ان کی اصل پہچان خاکہ نگار کے طور پر ہوئی۔ حضرت نظام الدین اولیا کے بارے میں انہوں نے چھ کتب تحریر کیں۔ دیگر تالیفات میں محمد حسین آزاد، قتیل و غالب، قصص الہند، بابا فریدکے علاوہ خاکوں پر مبنی آنگن میں ستارے، سات آسمان، موسم بہارجیسے لوگ سمیت کئی کتابیں لکھیں۔

ڈاکٹراسلم فرخی نے بتایاکہ ان کے دادا اور نانا دونوں کا خاندانی کام کتابوں کی اشاعت تھا اور دونوں کے پریس تھے، نانا نے بہت سے کتابیں شائع کیں۔ داغ دہلوی کے وہ تمام مجموعے جورام پور میں مرتب ہوئے ان کے حقوق میرے نانا کے پاس تھے۔ دادا کی شائع کردہ ’تاریخ فرخ آباد‘ بہت مشہور ہوئی۔ یوں انہیں بچپن ہی سے علم وادب کا ماحول ملا۔ پاکستان آمد کے بعد وہ ریڈیوپاکستان سے مسودہ نگارکی حیثیت سے وابستہ ہوگئے۔ لیکن جیسے ہی موقع ملا، شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے۔ مطالعاتی زندگی کی ابتدا میں بچوں کی بہت کتابیں پڑھیں۔ پہلی کہانی رسالہ پھول میں چھپی توبہت خوشی ہوئی۔ آب ِ حیات اورنیرنگ خیال بچپن ہی میں پڑھ لی۔ درباراکبری کابھی کئی بارمطالعہ کیا۔ اسلم فرخی کے مطابق منٹو، عصمت چغتائی اورخدیجہ مستورکی نثراختصار، اجمال، جامعیت اوراستعجاب کااعلیٰ نمونہ ہے۔ بڑی کاٹ دار بڑی چبھنے والی نثر انہوں نے لکھی۔ ڈپٹی نذیراحمد نے جیسی گٹھی ہوئی نثرلکھی وہ اردوکاکوئی انشاپردازنے نہیں لکھ سکا۔ زبان پر، چہرہ نگاری پرانسان کے کردار کو بیان کرنے پر اور تیز، حسِ مزاح کے ساتھ وہ لاجواب اسلوب ِ تحریر اور انداز نگارش کے حامل تھے۔ طنز و مزاح میں مشتاق احمد یوسفی کی نثر نہایت اعلیٰ قسم کی نثرہے اور اسلوب کے یوسفی صاحب کا اردو نثرمیں بلند مقام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے اردوادب کا دامن کبھی اچھے نثرنگاروں سے خالی نہیں رہا۔ شاہد احمد دہلوی سے میں نے نثر لکھنا سیکھا، ان کی شخصیت کا میری زندگی پرگہرااثرہے۔ انتظار حسین ہمارے عہد کے بڑے افسانہ نگار ہیں۔ راجندرسنگھ بیدی نے فسادات پربعض بہت اچھے افسانے لکھے۔ احمدندیم قاسمی، اشفاق احمد، خالدہ حسین بہت اچھے اور اعلیٰ درجے کے افسانہ نگارہیں۔ جہاں تک ناولوں کاتعلق ہے۔ بیسوی صدی کاسب سے بڑا ناول قرۃ العین کا ’آگ کادریا‘ ہے۔ خدیجہ مستور خوب صورت اور مکمل بھرپور ناول ’آنگن‘ تحریر کیا۔ عصمت چغتائی کا ’ٹیڑھی لکیر‘، عبداللہ حسین کا ’اداس نسلیں‘ اورممتاز مفتی کا ’علی پورکاایلی ‘ بھی بہترین ناول ہیں۔ بانو قدسیہ نے’راجہ گدھ‘ اور شمس الرحمٰن فاروقی نے ’کئی چاندتھے سرآسماں‘ بہت زبردست ناول تحریر کیا ہے۔ فاروقی صاحب ناول، افسانے اور تنقید کابہت بڑا نام ہے۔ وہ عہدساز، رحجان ساز اورہمہ جہت ادیب ہیں۔ سیرت النبیﷺ کی کتب میں مولاناشبلی نعمانی کی کتاب کااعلیٰ مقام ہے۔ ان کی کتاب کاپہلا ایڈیشن ان کے پاس ہے۔ یہ ایڈیشن نایاب نہیں توکمیاب ضرور ہے۔ اسلم فرخی صاحب کاکہنا ہے کہ زندگی کے لیے تین کتابوں کا انتخاب کیاجائے تو وہ ’فوائدالفواد‘، ’دیوان غالب‘ اور ’بستان نظام‘ ہوں گی۔

نامور مذہبی اسکالر اور اسلامی قوانین کے ماہر ڈاکٹر محمود احمدغازی نے حفظ اور مدرسے کی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ اسلام آبادسے گریجوایشن اورماسٹرزکیا۔ سنوسی تحریک پرمقالہ لکھ کرپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وفاقی شرعی عدالت کے جج، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر، وفاقی وزیرمذہبی امور، نیشنل سیکیورٹی کونسل پاکستان کے رکن شریعہ اپیلٹ بورڈ سپریم کورٹ کے جج بھی رہے۔ ڈاکٹرصاحب اسلامی قانون اورفقہ پرگہری نظر رکھنے والے اسکالرز میں شامل تھے۔ جوعصر حاضر میں درپیش جدیدمسائل اور چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کے سلسلہ محاضرات میں محاضرات قرآنی، محاضرات حدیث، محاضرات فقہ محاضرات سیرت، محاضرات معیشت و تجارت اور محاضرات شریعت دنیا بھر میں دینی علوم کے شائقین کی توجہ کامرکزہیں۔

ڈاکٹر غازی کی ملاقات مصرکے نابینا شاعر شیخ سعدی علی صالان سے ہوئی۔ جو ابتدائی گفتگو میں ان کی عربی اور فارسی دانی سے بہت متاثر ہوئے۔ شیخ صاحب کوحکومت پاکستان نے علامہ اقبال کے کلام کا منظوم عربی ترجمہ کے لیے بلایا تھا۔ شیخ صاحب کی دعوت پر وہ اسکول سے مستعفی ہوکران کے ساتھ کام کرنے لگے۔ اس طرح کلام اقبال نئی ترتیب کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملا ہرمشق اورشعر اورخصوصاً اقبال کی فارسی مثنوی کا مکمل عربی ترجمہ کیا۔ جس سے دونوں زبانوں پردسترس میں اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر محمود غازی کا کہنا ہے کہ پورے چودہ سو برس میں مجدد الف ثانی سے بہتر جامع اور ٹھوس تحریریں کسی مسلمان صوفی نے نہیں لکھیں۔ مولانا مودودی کی’خلافت وملوکیت‘، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘ اور ’تجدید واحیائے دین‘ سے زیادہ ترلوگ متاثر ہیں۔ لیکن مجھے مولانا کی یہ کتب ان کی معیارسے بہت کمتر محسوس ہوئیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ جوشخص زمانہ حال کے تمام احکام قرآنی کی ربوبیت ثابت کرے گا وہ اسلام کاسب سے بڑا مفسر ہوگا۔ یہ کام جن لوگوں نے کیاہے ان میں بیسوی صدی کا سب سے اہم نام مصطفی الزرقا کا ہے۔

غرض میرا مطالعہ میں شامل ان ابتدائی تین دانشوروں کی گفتگوسے مذہب، علم و ادب اور دیگر موضوعات پرقاری کی معلومات میں بے پناہ اضافہ ہوتاہے اوراسے لائق مطالعہ کتب سے آگاہی ہوتی ہے۔ اور اسے اپنے ذوق کے مطابق کتب کا انتخاب میں آسانی ہوتی ہے۔

اردو ادب کے معروف نقاد، ادیب، شاعر اور کالم نگار انور سدید بے پناہ مطالعہ کرنے والے شخص تھے۔ دنیا بھر سے شائع ہونے والی کتب اور جرائد نہ صرف ان کے زیرمطالعہ رہتی تھیں بلکہ وہ ان کتب و جرائد پرسیرحاصل تبصرے بھی کرتے تھے۔ پاکستان کے تقریباً ہر اچھے ادبی جریدے میں انور سدید تحریریں اور طویل خطوط شائع ہوتے تھے۔ اردوادب کے قارئین اب تک ادبی رسائل میں ان کی کمی محسوس کرتے ہیں۔ انور سدید نے اپنے انٹرویو میں بہت اچھی بات کہی کہ ’میں کتاب کو خیر کثیرکی تقسیم کا وسیلہ سمجھتا ہوں اور اس خزانے پر سانپ بن کابیٹھ جانے کو معیوب جانتا ہوں۔‘ شایداسی خیال کے تحت ڈاکٹر انورسدید اپنے مطالعے میں دیگر قارئین کو بھی شریک کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ’مطالعہ کا شوق پرائمری اسکول کے استاد ماسٹرہاشم الدین صاحب نے پیدا کیا۔ انہوں نے چوتھی جماعت میں غیر نصابی کتاب محمدحسین آزاد کی ’قصص الہند‘ پڑھائی تھی۔ چھٹی جماعت میں یہی رہنمائی مولوی محمد بخش صاحب نے کی۔ پھر مولوی پیر بخش سے یہ معاونت ملی۔ انہوں نے مجھے کلاس لائبریری کاانچارچ بنادیا۔ جس سے کتابیں پڑھنے کی عادت پختہ ہوگئی۔ ادبی نشونما میں دوبڑے بھائیوں فیروز الدین انور اور معراج الدین کابھی حصہ ہے۔ شاعری میں عروض کا ابتدائی سبق ماسٹر عبدالکریم نے دیا۔ عملی ادبی تربیت میں ڈاکٹر وزیر آغا کا بہت بڑا حصہ ہے۔ لکھنے کا آغاز بچوں کے رسالے’گلدستہ‘ سے کیا۔ پھر ’بیسویں صدی‘ سے ہوتا ہوا ادبی رسالے ’ہمایوں ‘ تک پہنچ گیا۔ وزیر آغانے ’اوراق‘ جاری کیا تو مجھے تنقید پر لکھنے کا مشورہ دیا۔ ’مولانا صلاح الدین احمدکا اسلوب‘ میرا پہلا مقالہ تھا۔ جو بھرپور مطالعے کے بعد لکھا تھا۔ اب تک میری چالیس سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔ جن میں ’اردوادب کی تحریکیں‘، ’اردو افسانے میں دیہات کی پیش کش‘، ’اردو ادب میں سفرنامہ‘ اور ’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘ وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جوکتابیں جمع کرتے ہیں لیکن پڑھتے نہیں۔ ان کی وسیع لائبریری ان کا اسٹیٹس سمبل ہوتا ہے۔ زندگی میں چند کتابیں منتخب کرنی ہوں تو دیوان غالب، کلیات اقبال اور نسخہ ہائے وفا کو نثری کتب پر ترجیح دوں گا۔

اس انٹرویو سے کثیرالمطالعہ شخص کے انٹرویو سے قاری کو مطالعہ کے مقاصد اور اچھی کتابوں کے چناؤ میں مدد ملتی ہے۔ میرا مطالعہ کا ایک اور اچھا انٹرویو معروف افسانہ اور کالم نگارخاتون زاہدہ حنا کا ہے۔ زاہدہ بہارکے شہر سہسرام میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی والد سے ہی حاصل کی۔ ان کی پہلی کہانی ہم قلم میں شائع ہوئی۔ انیس سال کی عمر میں وہ صحافت سے وابستہ ہوگئیں۔ ان کے افسانوی مجموعے’قیدی سانس لیتاہے‘، ’راہ میں اجل ہے‘ اور ’نہ جنوں رہانہ پری رہی‘ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کئی ٹی وی ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ زاہدہ حنا بتاتی ہیں کہ ’’انہوں نے پہلی کہانی نوبرس کی عمرمیں لکھی۔ پہلی تحریر تیرہ برس کی عمر میں شائع ہوگئی۔ سولہ بر س سے میرے مضامین اور افسانے ملک کے اہم رسائل میں شائع ہونے لگے۔ میں نے کم عمری ہی سے مطالعہ شروع کردیا تھا۔ مراۃ العروس کا انیس سو چھبیس کا چھپا ہوا نسخہ آج تک میرے پاس ہے۔ میں تنہا بچی تھی۔ والدکہیں آنے جانے نہیں دیتے تھے۔ کتابیں میرے لیے نجات کا پروانہ بن گئیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی تمام کتب، ڈپٹی نذیراحمد کے ناولز، عبدالحلیم شرر، علامہ راشدالخیری اور خواجہ حسن نظامی کے سیٹ اور فیاض علی ایڈوکیٹ کے دونوں ناول ’شمیم‘ اور ’انور‘ اسی دور میں پڑھ ڈالے۔ والدہ نے عشق ومحبت میں شرابور یہ کہانیاں اور ناول شاید اس لیے پڑھنے دیے کہ ان کی پرورش کھلے ماحول میں ہوئی تھی۔ حکایات لقمان، کلیلہ و دمنہ، جوگ بشسٹ کی کہانیاں اور جاتک کہانیاں والد نے پڑھائیں۔ کئی برس بعدالف لیلہ، باغ و بہار، آرائش محفل اور فسانہ عجائب بھی پڑھ لیں۔ مشہورشاعر سراج الدین ظفر کی والدہ مسز عبدالقادر نے اردو میں بے مثال ڈراونی کہانیاں اورناولٹ لکھے۔ ایڈگرایلن پو اور رائیڈر ہیگرڈ کے ناول بھی بے مثال تھے۔ میرے مطالعہ کااہم حصہ تحریک آزادی نسواں بھی ہے۔ اس حوالے سے رقیہ سخاوت حسین کی کہانی’سلطانہ کاخواب‘ مجھے بہت دلچسپ اورخواب انگیزمحسوس ہوئی۔ اپنے عہدکی دانشور اور نظریہ سازسیمون دی بووا کی سترکی دہائی میں چارجلدوں میں شائع ہونے والی خودنوش پڑھی تو اس خاتون فلسفی کی ذاتی زندگی سے آگاہی ہوئی۔ ساتھ ہی بیسویں صدی کے یورپ کی ادبی اوردانش ورانہ زندگی کوجاننے کابھی موقع ملا۔ میرے ذہنی سفر میں ورجینا وولف کابھی اثررہا۔ ورجیناوولف نے شیکسپیئرکی ایک فرضی بہن کا ذکر کیا ہے۔ اوراس فرضی بہن کے حوالے سے اس نے جو سوال اٹھائے ہیں وہ بہت خیال انگیز اوربرجستہ ہیں۔ بیس اکیس سال کی عمر میں سائنس فکشن ناول ’فیرن ہائٹ 451‘ دلچسپ اورسنسنی خیزثابت ہوا۔ جون گنتھر، ابن خلدون، مولانا غلام رسول مہر، رئیس احمدجعفری، ٹوائن بی اورو دیوران، ڈی ڈی کوسمبی، بشام، پرسیول اسپیر، رومیلاتھاپر اور دوسروں کامطالعہ بعد میں کیا۔ عصمت، نگار، نقوش، ادبی دنیا، نیادور، سیپ، فنون اور اوراق پسندیدہ ادبی رسائل رہے ہیں۔

زاہدہ حناکے انٹرویو میں ایک جہانِ مطالعہ آباد ہے۔ جس سے بے شمارکتب اوررسائل اوردیگرکے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پسندیدہ کتابوںاورمصنفین کی فہرست میں ہمیشہ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ تین کتابوں کاانتخاب کرنا پڑا تو ول دیوراں کی اسٹوری آف سولائزیشن، جاتک کہانیاں اور دیوان غالب کو چناؤ کروں گی۔

ڈاکٹرطاہر مسعود شعبہ صحافت کے اہم ترین استاد کالم نگار، افسانہ نگار اورخاکہ نگارہیں۔ سقوط ڈھاکا کے بعد وہ کراچی آگئے۔ جامعہ ملیہ سے انٹر اورکراچی یونیورسٹی سے بی اے آنرزاورایم اے کیا۔ برصغیرکے نامورادیبوں کے انٹرویوز پرمبنی ان کی کتاب’’یہ صورت گرکچھ خوابوں کے‘‘ بہت مقبول ہوئی۔ حال ہی میں اس کتاب کا دوسرا حصہ بھی شائع ہواہے۔ جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی بیالیس شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ ان کے خاکوں کے مجموعے ’کوئے دلبراں‘ اور ’اوراق ناخواندہ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ کالم کی کتاب ’دل سوزسے خالی ہے‘ اور کہانیوں کے دو مجموعے ’تار حریر دو رنگ‘ اور ’گم شدہ ستارے‘ بھی چھپ چکے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر مسعود کے مطابق ان کے والدین صوبہ بہارسے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان میں سکونت پذیرہوئے۔ داداڈاک خانے میں ملازم تھے۔ اسکول کے زمانے میں اچھے استاد کی تلاش رہی۔ جو کچھ پڑھا اپنے شوق سے پڑھا اس میں اصل کردار اردو لائبریری کا ہے جو بنگلہ دیش بننے کے بعد تباہ کردی گئی۔ ڈاکٹر طاہر مسعود کہتے ہیں کہ ادبی مطالعہ نہ ہو تو انسان کی شخصیت ادھورے پن کاشکارہوجاتی ہے۔ مطالعے سے آدمی باطنی طور پر بہت امیر ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر کلچرل بالیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ شائستگی آتی ہے۔ اور وہ بہترانسان بنتا ہے۔‘‘

میرا مطالعہ کے دیگر انٹرویوز بھی بہت شاندار اور قابل مطالعہ ہیں۔ ہر انٹرویو سے قاری کو ادب اور ادبی صورتحال کے بارے میں بہت کچھ علم ہوتا ہے۔ اس کے مطالعے میں وسعت آتی ہے اور ذوق مطالعہ میں نکھار آتا ہے۔ اس شاندار کتاب کی اشاعت پر پبلشرشاہد اعوان بھرپور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ تاہم میرامطالعہ کافی عرصے سے ناپید ہے۔ اس کی اشاعت نو کا اہتمام ہونا چاہیے۔ میرا مطالعہ کے اختتام پرکتاب کی جلددوم اورسوم کی خوش خبری بھی سنائی گئی تھی۔ اوراس کے لیے زیر غور ناموں میں کرامت اللہ غوری، سجاد میر، ڈاکٹر تحسین فراقی سید قاسم محمود، شکیل عادل زادہ، ڈاکٹر خالد مسعود، جاوید احمد غامدی، مظہر محمود شیرانی، رضاعلی عابدی جیسے مشاہیرکے نام شامل تھے۔ میرا مطالعہ کی جلد دوم کی جلداشاعت کی پبلشر سے پرزور درخواست ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: