وسیع البنیاد تعلیم کا اصل مقصد ۔ اوریا مقبول

0

ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ بارہ سال کی عمر تک مسلمان بچے ہمارے حوالے کردو، ہم اس کو ایسی تعلیم دیں گے جس سے یہ معاشرے کا کارآمد فرد بن کر ابھرے گا۔ ہم اسے اچھا مسلمان نہیں اچھا انسان بنائیں گے۔ دنیا کے ہر بچے کو وسیع النیاد ”Broad Based” تعلیم دینا چاہیے۔ مجھے بالکل حیرت نہیں ہوئی جب چند دن پہلے ایک صاحب نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اسی ’’وسیع البنیاد‘‘ تعلیم کا ذکر کیا۔

 

سوال یہ تھا کہ موجودہ دہشتگردی جو مسلمانوں میں سرایت کرگئی ہے اس کا حل کیا ہے۔ انھوں نے بغیر لگی لپٹی رکھے پہلے چار وجوہات بیان کیں اور پھر تین حل بتائے۔ یہ سات کے سات فقرے وہ اس یقین اور اعتماد کے ساتھ بول رہے تھے کہ جیسے یہی آخری سچائی ہے اور اس کی وضاحت کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وجوہات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ مسلمانوں میں دہشت گردی دراصل دینی مدارس میں دی جانے والے تعلیم کے چار نکات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ چاروں نکات ہر مدرسہ پڑھاتا ہے اور ساتھ یہ بھی ’’انکشاف‘‘ کیا کہ وہ سامنے نہ پڑھائے لیکن چھپا کر ضرور پڑھاتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کفر، شرک یا ارتداد  ہے اس کی سزا موت ہے۔ دوسری بات یہ پڑھائی جاتی ہے کہ دنیا میں غیر مسلم صرف محکوم ہونے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ کسی کو دنیا پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔ ہر غیر مسلم حکومت ناجائز حکومت ہے، جب ہمارے پاس طاقت ہو گی ہم اس کو الٹ دیں گے۔

تیسری بات یہ کہ دنیا میں مسلمانوں کی ایک ہی حکومت ہونی چاہیے جس کو خلافت کہتے ہیں۔ یہ الگ الگ حکومتیں، اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ چوتھی بات یہ کہ جدید قومی ریاستیں دراصل ایک کفر ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے نزدیک ان کی بنائی ہوئی یہ چار چیزیں ہماری مذہبی فکر کی بنیاد ہیں جو مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اس کے تین حل بتائے، سب سے پہلی بات یہ کہ اس مذہبی فکر کے مقابلے میں پوری مسلم امہ کو ایک متبادل فکر یا بیانیہ جسے آج کل Narrative کہا جاتا ہے وہ پیش کیا جانا چاہیے اور مسلم امہ کی اس پر ہی تربیت کرنا چاہیے۔

دوسری بات انھوں نے یہ کہی کہ ’’وسیع البنیاد‘‘ یعنی Broad Based تعلیم ایک بچے کا بنیادی حق ہے۔ آپ بارہ سال تک تمام بچوں کو یہ تعلیم دیں پھر اس کے بعد بے شک مدرسے کے حوالے کر دیں اور ڈاکٹر بنائیں یا عالم دین۔ تیسری بات یہ کہ مسجد کا منبر علماء کا نہیں ریاست یعنی حکمران کا حق ہے۔ اسے ریاست کو واپس لے کر حکمران کے حوالے کرنا چاہیے۔

میں نے پوری دیانت سے ان کے ’’ارشادات عالیہ‘‘ کو درج کر دیا ہے۔ پوری مسلم امہ میں دہشتگردی کی اس قدر آسان، سہل اور فوری قسم کی تشریح اور مدارس کی تعلیم کے حوالے سے ایشا نقطہ نظر شاید کسی مغربی تجزیہ کار یا مفکر نے بھی نہیں پیش کیا ہوگا۔ مسلمانوں میں خودکش بمباری کا آغاز تاریخی طور پر فلسطین میں ہوا تھا۔

اگرچہ کہ دنیا بھر میں اس  کے بانی وہ جاپانی تھے جو ان کے نزدیک ’’مقدس‘‘ قومی ریاست کے لیے اپنے جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے بحری جہازوں کی چمنیوں میں کود جاتے تھے۔ ان لوگوں کو خاص طور پر وطن پر نچھاور ہونے کے لیے تیار کیا جاتا تھا اور ان کا لباس ایک ہزار کنواریاں مل کر تیار کرتی تھیں۔ اس کے بعد یہ خودکش حملہ آور سری لنکا کے تامل جنگجوؤں میں نظر آتے ہیں۔

راجیو گاندھی کو جس خاتون خودکش بمبار نے ہلاک کیا تھا وہ کسی مدرسے کی فارغ التحصیل نہیں تھی اور نہ ہی مسلمان۔ فلسطین میں خودکش حملہ آوروں کا آغاز اگر کوئی شخص ان چار نکات سے منسلک کرتا ہے تو اسے سب سے پہلے گزشتہ ساٹھ سالہ اسرائیلی مظالم کی تاریخ کو کھرچنا ہو گا۔ صابرہ اور شطلیہ کے کیمپوں میں ہونے والی اس بمباری اور ان میں مرنے والے ہزاروں بچوں اورعورتوں کے لاشوں کو فلسطینیوں کے حافظے سے محو کرنا ہو گا۔

فلسطین کی آزادی کی جدوجہد تو ایک قومی ریاست کی آزادی کی جدوجہد ہے جو دنیا بھر میں بہت ’’مقدس‘‘ ہے۔ مسلمان اگر اس کی جدوجہد بھی کریں تو دنیا انھیں اس زمانے سے دہشتگرد کہتی چلی آئی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں ہر جگہ خاموشی تھی۔ کئی دہائیوں کے بعد مسلم امہ میں دہشتگردی کے ’’جراثیم‘‘ دسمبر 1979ء کے بعد افغانستان میں نظر آتے ہیں جب روسی افواج اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں داخل ہو گئیں۔ بیچارے افغانوں کی چودہ سالہ جدوجہد بھی ان کے نزدیک ’’مقدس قومی ریاست‘‘ کی آزادی کی جدوجہد تھی۔

افغان پوری دنیا میں خلافت کا پرچم لے کر نہیں اٹھے تھے بلکہ اپنا ملک افغانستان روسی تسلط سے آزاد کروانے کے لیے لڑ رہے تھے۔ کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ امریکا ویت نام میں داخل ہو، اس کے پڑوس میں موجود چین اس کی مدد کرے۔ ویت نامی کئی سال خون کے نذرانے دیں۔ ان کی گوریلا جنگ کی تکنیک پر کتابیں لکھی جائیں۔ وہ آزادی اور حریت کے ہیرو ٹھہریں۔ لیکن افغان چونکہ مسلمان ہیں اس لیے ان کی ساری جدوجہد دہشتگردی اور فساد۔ لیکن یہ جنگ بھی اس وقت تک ’’مقدس اور محترم‘‘ رہی جب تک روس کے خلاف لڑی جا رہی تھی۔

جیسے ہی روس کی جگہ امریکی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں، آزادی اور حریت کی یہ جنگ دہشتگردی بن گئی۔ عراق میں صدام حسین کی حکومت کے دوران کتنے خودکش حملے ہوتے تھے، کتنے شہر برباد اور لوگ مرتے تھے۔ امریکا کے عراق میں داخل ہونے سے پہلے کیا وہاں مدارس موجود نہ تھے۔ عراق میں لڑنے والے بھی اسی قومی ریاست کی آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ اس میں ایک گروہ کو ’’امریکی لاڈلا‘‘ بنا کر اقتدار دیا گیا اور دوسرے گروہ پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے۔ نتیجہ وہ دہشتگردی ہے جس سے پورا مشرق وسطیٰ جل رہا ہے۔

مصر، تیونس، مراکش، یمن اور شام میں جو آمروں، ڈکٹیٹروں اور مطلق العنان سیکولر حکمرانوں کے خلاف تحریکیں چلیں کیا ان سب کو مدرسوں میں دی جانے والی تعلیم نے سڑکوں پر لاکھڑا کیا۔ کیا مصر کے جمال عبدالناصر کو لاکھوں شہریوں کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا گر مدارس نے سکھایا تھا اور پھر اس کے دور سے لے کر حسنی مبارک کے دور تک جس طرح اخوان المسلمون کا خون جس بے دردی سے بہایا گیا اس نے مصر میں تحریک کو جنم دیا، کیا تحریر چوک کے مظاہرے، مرسی کی ’’مقدس جمہوری‘‘ جیت اور اس کے بعد فوج کا قبضہ اور ظلم کی ایک نئی تاریخ کا دہشتگردی میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

ان صاحب کے فلسفہ کو مان لیا جائے تو مصر میں لوگ کس قدر امن کے ساتھ رہ رہے تھے۔ عراق میں ان کی زندگیاں خوشگوار تھیں اور امریکی سپاہی ان میں من و سلویٰ تقسیم کرتے تھے۔ افغانستان میں امریکی فوج شاندار تحائف لے کر آئی تھی۔ شام میں حافظ الاسدنے جو لاکھوں لوگ مارے، مسلسل تین دہائیوں میں قتل کیے تھے وہ تو ناکارہ اور دھرتی کا بوجھ تھے۔

بشارالاسد تو لوگوں کو اس لیے مار رہا تھا کہ یہ سب کے سب ڈاکو اور چور تھے۔ ان صاحب کے اصول کے مطابق قومی ریاستیں بننے کے بعد تمام سیکولر مسلمان ریاستیں چین کی بنسی  بجارہی تھیں۔ کہیں ظلم، آمریت، ریاستی قتل وغیرہ کچھ نہ تھا بس چٹائی پر بیٹھے ہوئے مدرسے کے مولوی نے کہا اٹھو اور دہشتگرد بن جاؤ اور لوگ اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور مسلم امہ میں قتل و غارت شروع ہو گئی۔ یہ مولوی افغانستان میں روس کے آنے سے پہلے کہاں سویا ہوا تھا۔

صدام حسین نے عراق میں اسے کیا نشہ پلا دیا تھا۔ روس کے چیچنیا اور یوگوسلاویہ کے بوسنیا ہرزوگوینا میں جو لاکھوں بے گناہ شہری مارے گئے وہ سب کے سب اس لیے مار دیے گئے کہ انھیں مدرسے کا مولوی جہاد کے لیے تیار کر رہا تھا۔ کشمیر میں ایک لاکھ شہداء بھی دراصل مدرسوں نے تیار کر کے اس امت کو خون کا تحفہ دیا تھا۔ دہشتگردی کی وجوہات کی اس قدر آسان تشریح ممکن نہ تھی جیسی کر دی گئی۔ اللہ تعالیٰ انھیں مزید سادگی عطا فرمائے۔ غالبؔ نے خوب کہا تھا

سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: