مرگِ ناوقت — احسان اصغر کے مجموعہ کلام پر محمد علی ظاهر کا تبصرہ

0
  • 27
    Shares

احسان اصغر کی کتاب پر مجھے کچھ لکھنا تھا لیکن میں ٹال مٹول سے کام لیتا رہا، دقت یہ تھی کہ کون بیٹھے ، پہلے ساری کتاب پڑھے، کڑیاں جوڑے، پھر کچھ بازیاب کرے اور ایک منظم انداز میں تحسین یا تنقید سے لبریز لمبے لمبے پیراگراف لکھے۔ وقت کی کمی ہرگز نہیں تھی، الحمداللہ! اس ناچیز کے پاس ہمیشہ اتنا وقت ضرور رہا ہے کہ اچھا خاصا برباد کرنے کے باوجود بچ جائے۔ دراصل اس تاخیر کا تمام تر سبب “حالتِ سکون” سے باہر نہ آنے کے لیے کی جانے والی ان تھک محنت تھی جو ہنوز جاری ہے، جو لوگ میری سست روی سے واقف ہیں یقینا” اس تاخیر پر مجھے بےقصور قرار دیں گے۔ کتاب پر کچھ لکھنے سے پہلے میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں احسان اصغر سے بطور شاعر واقعی حسد کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ میں بھی شعر و ادب کے ساتھ اس جیسی سچی لگن اور کمٹمنٹ پیدا کر سکوں۔ مزید برآں اس سے متعلق میں جو بھی لکھنے جا رہا ہوں یہ میرے ذاتی اخذ کردہ مطالب و احوال ہیں۔ کرافٹ یا تکنیک پر میں کوئی بات نہیں کروں گا، میری کوشش ہے کہ یہ معلوم کروں اس کتاب کا متکلم کہنا کیا چاہتا ہے۔ ایک بات اور، کتاب میں 11 نثری نظمیں بھی شامل ہیں جن پر میں نے مزاج کی نسبت نہ ہونے کے باعث توجہ نہیں دی،مجموعی طور پر کتاب میں شامل آزاد نظموں سے مطالب و معانی اخذ کیے ہیں۔

محمد علی ظاهر

کتاب کا نام اگرچہ “مرگِ ناوقت” ہے لیکن اس کتاب کا معنوی دائرہ میری نگاہ میں جس عنوان سے شکل پاتا ہے وہ اس کتاب کی سب سے پہلی نظم کا ٹائٹل ہے “انکشاف کے نواح میں” ۔ اگر آپ مجھ سے یہ پوچھیں کہ احسان اصغر کیسا شاعر ہے ایک جملے میں بتاو تو میں کہوں گا وہ انکشاف کے نواح میں ہے ۔ جی ہاں “مرگِ نا وقت” ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے کوئی جستجو مسلسل مضطرب کیے ہوئے ہے، کچھ ایسا ہے جس کا وہ انکشاف چاہتا ہے۔ ہم اسے سمجھنے کے لیے فی الحال “نامعلوم” کہہ لیتے ہیں، آگے چل کر ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ نامعلوم اصل میں ہے کیا۔

احسان اصغر “نامعلوم” کی جستجو میں ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نامعلوم کے انکشاف کی جستجو کا مصدر بذاتِ خود نامعلوم کے وجود کی کشش ہے یا موجود و معلوم سے بیزاری اس امر کا باعث ہے؟ اور یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ “مرگِ ناوقت” کی نظموں میں یہ دو رجحان بہت گہرے ہیں، ایک نامعلوم کی جانب سفر اور دوسرا موجود و میسر کی مذمت اور احتجاج ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج کا دھاگا بھی دونوں کھونٹوں سے بندھا ہوا ہے ۔ وہ موجود پر تبرا کرتے ہوئے نامعلوم کی کشش میں اس کی جانب نکلتا تو ہے مگر نامعلوم تک رسائی نہیں ہو پاتی۔ اس نارسائی کا سبب بھی دوہرا ہے۔ ایک طرف موجود و معلوم کے باعث پیدا شدہ نامساعد حالات کی زنجیریں اسے نامعلوم کی بازیافت تک پہنچنے نہیں دیتی دوسری جانب نامعلوم کی داخلی موضوعیت اور سربستگی کسی انکشاف کا خارجی معروض بننے کو تیار نہیں۔ گویا ایک شخص ہے جو شہر سے نکل کر دور سے دکھائی دینے والی پہاڑی کی جانب بھاگ رہا ہے اور جب تھک کے سانس لینے لگتا ہے، دیکھتا ہے پہاڑی سے تو قریب نہیں ہو سکا البتہ شہر سے بھی مزید دور نکل آیا۔ نارسائی کا یہ کرب مایوسی اور پہلے والے موجود و میسر ، کہ جس سے بیزار ہو کر نکلا تھا، کو دوہرانے پر منتج ہوتا ہے۔ اس کشمکش میں غصے ہو کر خود کو ہی معدوم کر لینے کی کوشش کرتا ہے کہ شاید اسی طرح اس نامعلوم کی اکائی میں ڈھل سکے۔ ان نظموں کا شاعر ایک بہت ہی بے چین شخص ہے جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے مگر کر نہیں پا رہا اور جو کچھ اسے حاصل ہے وہ اس کے لیے لایعنی ہے، اس صورتِ حال سے پیدا ہونے والا ڈیپریشن بعض اوقات اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ جس کا حصول چاہتا ہے اس سے بھی باغی ہو جاتا ہے اور اس کے وجود کو محض خیالی تصور کرنے لگتا ہے۔

وہ جس موجود سے نہایت نالاں ہے درحقیقت تاریخ اور روایت کا سیٹ پیٹرن ہے، موجودہ طرزِ معاشرت اور اس میں جنم لینے والے رویے ہیں۔ احسان اصغر ایک زوال زدہ مشرقی روایت پرست معاشرے میں اپنی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہوا ایک حساس نوجوان ہے۔ اسے بخوبی علم ہے کہ اس کے پرکھوں کی اقدار اس جدید عہد میں بے معنی ہیں لیکن جدید عہد متبادل طور پر زندگی کی تشریح جس انداز میں کرتا ہے اور جو لایعنیت اس سے جنم لیتی ہے وہ بذاتِ خود ایک خوفناک امر ہے جسے قبول کرنا فی الحال اس کے بس کی بات نہیں۔ مسئلہ دراصل شناخت کا ہے۔ در حقیقت شناخت ہی وہ نامعلوم ہے جس پر پہلے گفتگو کی گئی۔ احسان اصغر اپنی شناخت کا انکشاف چاہتا ہے اور اس تگ و دو میں قدیم و جدید کی دوہری چکی میں پِس رہا ہے۔ وہ اپنی پہچان ذوقِ فطری اور امکانِ ذات کے حوالے سے چاہتا ہے لیکن نہ اسے اجداد کی روایت میں اپنا جوہرِ وجود نکھارنے کا وفور نظر آتا ہے نہ ہی مادیت کے زیر اثر قائم جدید طرزِ معاشرت اس کی نمودِ ذات میں کچھ معاون ہو سکتی ہے بلکہ مادیت تو اس کے وجود کو بھی ایک آبجیکٹ کی نظر سے دیکھتی ہے جسے طے شدہ مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے۔ وہ ان دو جنریشنز کے درمیان کا بندہ ہے جسے اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کرے، اسی کشمکش میں وہ اپنی ریزہ ریزہ شناخت چننے میں محو ہے۔ شناخت اس کے لیے ایک جِگ سا پزل ہے۔ وہ بار بار مختلف انداز سے ٹکڑے جوڑ کے دیکھتا ہے لیکن اسکی شکل نہیں بن پاتی۔ یہاں میں اس کی دو نظموں “وراثت” اور “ہذیان زدہ” کا حوالہ دوں گا۔ وہ اپنے اجداد کی “وراثت” قبول نہیں کرنا چاہتا اور نئے عہد کا آدمی اس جیسے “ہذیان زدہ” کو ہی قبول نہیں کرتا۔

اس ساری صورت حال سے جنم لینے والا انتشار اتنا شدید ہے کہ افراد اپنے آپ میں دوہری شناخت کا شکار ہیں، کبھی ایک چہرہ حاوی ہوتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی دوسرا، “وراثت” کو ہی لے لیجیے جہاں وہ اجداد سے ملنے والی اقدار سے مزاحم دکھائی دیتا ہے وہیں ان کا خیال آنے پر ناسٹیلجک بھی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح “نظم” میں بھی ‘ہم’ اور ‘اسے’ دراصل ایک ہی شخص کی دو شخصیتیں ہیں ۔ احسان کی نظموں کا متکلم اور اس کے مخاطب اکثر ایک داخلی ثنویت کا شکار نظر آتے ہیں جو اپنے رویوں پر خود شکوک و شبہات رکھتے ہیں، اپنی اپنی جگہ خوف اور اندیشوں سے بھرے ہوئے ظاہر میں کچھ اظہار نہیں کرتے لیکن باطن میں مخالف کیفیات رکھتے ہیں۔ اور احسان اصغر اس ثنویت کو اپنی نظموں میں مکمل رازداری کے ساتھ بے نقاب کرتا ہے۔ “تعلق وصولی نہیں چاہتا” کہہ کر وہ ہمیں باور کرا دیتا ہے کہ دراصل تعلق وصولی چاہتا ہے۔ “داستان کے عقب میں” بیٹھے لوگ بظاہر داستان پر کوئی تاثر نہیں دیتے لیکن اندر سے شہرزاد اور جنوں زاد کی اندرونی اکائی سے خوف زدہ ہیں، اسی طرح “گمشدگاں” کی تلاش میں نکلے شخص کو خود اپنے گم ہونے کی فکر گھیر لیتی ہے۔

اس ثنویت سے بچنے کے لیے وہ جب “درونِ ذات میں ایک مکالمہ” کرتا ہے تو ‘ذات’ اور ‘امکانِ ذات’ کی دوئی ایک اور طرح کی ثنویت پیدا کر دیتی ہے ۔ درونِ ذات جو امکان ہے وہ ذات سے اپنی تکمیل چاہتا ہے جو کہ ذات کے اپنی جانب توجہ دینے پر منحصر ہے، مگر اس تکمیل میں فقط امکان کی ہی بقا نہیں بلکہ ذات کی اپنی موجودگی بھی اسی سے جڑی ہے، لہذا وہ کہتا ہے:

‘سو دیکھ لو۔۔۔۔ پیشتر کچھ اس سے’
یعنی پیشتر کچھ اس سے کہ “مرگِ ناوقت” کا سامنا ہو نمودِ امکان سے اپنی شناخت حاصل کی جائے۔ “مرگِ ناوقت” کا اندیشہ اس خود یافتگی کے عمل کو بھی ایک پیراڈاکس بنا دیتا ہے۔ ایک طرف امکان ہے تو ایک طرف امکان کے کھلنے سے پہلے ہی وجود کی موت کا نوحہ ہے، یہ وقت سے پہلے کی موت وقت کے دائرے مین پنپتے حالات کا ہی جبر ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کوئی ذی روح اپنے وجود کے امکانات ظاہر ہونے کی سرشاری میں تھا لیکن اس سے پہلے کہ یہ بیج برگ و بار لاتا، درخت بنتا، تلف ہو کے رہ گیا۔ یوں کہہ لیجیے کہ “مرگِ ناوقت” ایسا المیہ ہے جو “شہروں سے کتبوں تک شناخت” ڈھونڈتے “ایک لایعنی خیال” کو “گمشدہ آگ” میں ڈھال دیتا ہے۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: