افتخار عارف کا فنِ شعر: ایک تاثر —– عزیز ابن الحسن

0
  • 27
    Shares

حال ہی میں افتخار عارف کے کلیات “کتاب دل و دنیا” ورق در ورق دیکھنے کے دوران مجھ پر انکشاف ہوا کہ اپنے گرد و پیش اور اپنے شہر اسلام آباد کی مختلف ادبی تقریبات و ثقافتی سرگرمیوں میں افتخار عارف کی شدتِ موجودگی کے سبب جیسے ہم نے انہیں بطورِ شاعر کچھ فراموش سا کر دیا ہے۔ مجھے یوں لگا کہ جیسے ان کی شخصیت ان کی شاعری پر چھا سی گئی ہے، وہ اپنی شاعری کے لیے جیسے ایک پردہ سا بن گئے ہیں۔ شاید میں اپنا تاثر کچھ بہتر طور پر نہیں کہہ پا رہا، مطلب جیسے کوئی شئے وافر اور کثرت سے دستیاب ہو تو اس کے حقیقی جوہر کی طرف سے کچھ بے توجہی سی ہوجاتی ہے اسی طرح افتخار عارف کے معاملے میں کچھ میرے ساتھ ہوا ہے۔ اور اب جب کہ میں نے انکی کم و بیش اکثر شاعری کو پھر سے دیکھنا شروع کیا تو مجھ پر کھلا کہ افتخار عارف کے معاملے میں یہ فیصلہ کرنا کچھ مشکل سا کہ ان کی شخصیت اور ان کی شاعری میں سے زیادہ بڑا کون ہے مگر ایک فرق کے ساتھ۔

ان کی شاعری کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اسکی خِلقت تو لفظ و معنی کی ثقہ کلاسیکی فضا میں ہوئی ہے مگر ہماری کلاسیکی شعری فضا کے اندر جو لطافتِ طنز، پھکڑ، ہزل اور ہرزگی کے دیگر اسالیب تھے ان سے گویا یہ شعوراً خالی رکھی گئ ہے!

میں سوچتا رہا کہ جو مزاح شرارت اور جو چونچال پن افتخار عارف کے جملوں میں کبھی کبھی در آتا ہے، جس طرح وہ اپنی مجلسی گفتگوؤں میں طنزِ خفی اور کاٹ دار جملے بازی کر جاتے ہیں اور پھر اپنی مخصوص طرز ادا میں اسے چھپا بھی لیتے ہیں کاش ویسا ہی نٹ کھٹ پنا کچھ انکی شاعری میں بھی آتا۔ لیکن ایک ہی آدمی اپنی روایت کے جملہ اسالیب پر ماہرانہ قدرت رکھے اور انہیں بکار بھی لائے، یہ ضروری بھی نہیں!

خیر ہم آگے چلتے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ شعر میں بڑائ تو اپنے موضوع یا نئے تجربے کی اپج سے آتی ہے لیکن شعر کی جمالیاتی قدر اس میں کارفرما فنی دروبست کی مرہون منت ہوتی ہے۔ بڑا مسئلہ، موضوع یا تجربہ بے ڈھنگے پن سے ادا ہو تو دو کوڑی کا نہیں، لیکن ذرا سی بات، سامنے کی بات ذرا پیچ دے کر لفظ اور اسلوب کی دلروبائ سے ادا کی جائے تو فوراً متوجہ کرلیتی ہے۔ لیکن زندگی کے بڑے مسائل، تجربات اورحاضر وقت کی پیچیدگیوں کا بیان پائیدار اقدار سے ٹکراؤ یا ان کے ساتھ ہم آہنگی کشمکش بن جائے تو اس سے زندگی کے بڑے معنی وجود میں آتے ہیں۔ زندگی کے یہی بڑے معنی جب طرز ادا کی دلربا صورت اختیار کرلیں تو وہ شاعری پھر قیامت ڈھانے لگتی ہے۔ 

یہ سب کچھ ان کی شاعری میں کلاسیکی شعری روایت کے فنی لوازمات کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ ہوکر آتا ہے کہ ان کے غزلیں اور نظمیں بےساختہ داد کی طالب بن جاتی ہیں۔ انکی شاعری میں شکایتِ زمانہ کے مضامین بہت کم رہ پاتے ہیں۔ لیکن دنیا داری میں پڑے رہنے کے سبب اپنے بڑوں کی محبتوں کا حق نہ ادا کرنے کا احساس اور اس سے پیدا ہونے والی خلش جو انہیں اپنے آپ سے مطمئن بھی نہ رہنے دے، ان کے ہاں اکثر سر اٹھاتی اور انہیں بیقرار کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن شعوری و حسی سطح پر گزرے ہوؤں سے شدت سے جڑے ہونے کا احساس جب انہیں سرشار کرتا ہے تو ان کے شعروں کا وفور بھرا تأثر پڑھنے والے کے اندر بھی قلبی سرمستی اور آنکھوں میں نمی کی جھلملاہٹ پیدا کئے بغیر نہیں رہتا۔

افتخارعارف کی نعت اور منقبت کا قِوام ان کی شاعری اور شخصیت کے کسی الگ تھلگ خانے میں تیار نہیں ہوتا بلکہ وہ احساس جو کہ کسی قلب کے اندر نعت اور منقبت کے جذبات پیدا کرنے کا سبب ہوا کرتا ہے وہ ان کی کل شعری کائنات میں سرایت کئے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ یہی سب کچھ ان کے ظاہری شخصی رویوں میں بھی عیاں رہتا ہے۔ کہنے کا مقصد ہے کہ ہمارے یہاں جو عام طور پر ایک فیشن بن چکا ہے کہ عام روزمرہ کی زندگی میں تو ماورا سے تعلق والے کسی طرز احساس کا کوئی شائبہ ہی نہیں ہوتا مگر خاص خاص موقعوں پر رسم دنیا کے حساب سے نعت و منقبت کہنا بھی ضروری ہوتا ہے، جس کی مثال ہمارے اکثر شعرا کے ہاں مل جاتی ہیں تو ایسی کوئی صورت افتخار عارف کے ہاں نہیں ملتی۔ انکی شاعری کے جوہر تک اگر رسائ حاصل کرنا ہو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ ماورا کی حضوری میں بننے والی اقدار اور ان اقدار کی پروردہ شخصیات کے عشق و احترام کی فضا میں بننے والا طرز احساس ان کی شخصیت اور شاعری میں کس شدت کیے استقلال اور لزوم کے ساتھ ہم جز ہوکر رہتا ہے۔

اچھا پھر اس کے برعکس ایک معاملہ اور ہوتا ہے۔ کچھ لوگ خالی خولی “مجذوبیت کے نعروں” والی شاعری کرتے ہوئے بھی ہمیں اکثر نظر آ جاتے ہیں۔ ان کی باتوں میں عقیدت اور شوق کی بہتات بھی نظر آتی ہے لیکن ان کا خلوص صرف جذباتی خلوص رہتا ہے یہ خلوص ان کے اندر کوئی “فنی خلوص” پیدا نہیں کر پاتا۔ اس کی وجہ ان کے فنّی شعور کی ناپختگی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی۔ مطلب یہ کہ ان لوگوں کے جذبات تو متحرک ہوتے ہیں مگر جذبات کو آرٹ بنانے کیلیے جس فنی تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے اور فنِ شعر کی دیوی کے چرنوں میں بیٹھنا جس کرم طلبی کا متقاضی ہوتا ہے اسمیں یہ لوگ بہت ناپختہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ اچھا شعر محض جذبات سے نہیں بنتا بلکہ فن اور جمالیات کی ریاضت سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان کے اندر یہ وصف ہوتا تو طبعی اور عطائی ہے مگر اس پر قدرت استاد شعرا کے کلام کے ساتھ عمریں بِتانے اور ان کے فنی طریقِ کار کو جذب کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ افتخار عارف کی شاعری کو پڑھنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے فنی انجذاب کی یہ دولت بڑی ریاضت سے حاصل کی ہے اور فراوانی سے پائی ہے۔ اب مجھ جیسے آدمی کے لئے ان کی شاعری کے بارے یہ بات کہنا سورج اور چراغ کا معاملہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظوں کے کلاسیکی استعمال اور لفظوں کے ساتھ جڑی ہوئی فضا کے کچھ تیوروں کو شاعری میں ہنرمندی سے برتنے کا فن انہوں نے خوب ہی نبھایا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان کی شاعری بڑی حد تک ان کی شخصیت کا عکس ہے اور ان کی شخصیت ان ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی تمثال ہے جن میں ہمارا روایتی ادبی معاشرہ صدیوں تک فعال اور ذوق کی تربیت کا مرکز رہا ہے۔ افتخارعارف زندگی بھر جہاں بھی رہے ان کے گرد ادب اور فن سے محبت کرنے والوں کا جمگھٹا رہا۔ اپنی “ذات میں ایک انجمن” ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے

بہت رونق ہے ان کے دم قدم سے شہر جاں میں


یہ بھی پڑھئے:  افتخار عارف : زندگی، فن اور افکار —– ایک بھرپور انٹرویو (1)

(Visited 111 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: