پاکستانی رائٹ کا کنفیوذ آدمی — احمد الیاس

0
  • 80
    Shares

راقم الحروف نے اسی ویب سائیٹ پر ایک گزشتہ مضمون (پاکستانی لیفٹ کا کنفیوذ آدمی) میں پاکستانی بائیں بازو پر ہمدردانہ تنقید کرتے ہوئے کچھ سوال اٹھائے تھے۔ اسی مضمون میں یہ نکتہ بھی پیش کی گیا تھا کہ نظریاتی سیاست کے دونوں دھڑوں کی فعالیت اور صحتمندی جمہوری اور متوازن معاشرت اور سیاست کی شرط ہے مگر ہمارے ہاں تقریباً تمام ہی مکاتبِ فکر کنفیوژن اور فکری تضادات کا شکار ہیں۔ بائیں بازو کے فکری تضادات پر روشنی ڈالی گئی تو نوجوان کامریڈز نے خاموشی اختیار کی یا پھر مثبت انداز میں تنقید سن کر جوابی نکات پیش کیے جس سے ایک مفید بحث نے محدود پیمانے پر ہی سہی، جنم ضرور لیا، یہی تحریر کا حقیقی مقصد تھا۔ تاہم ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جوان ہونے والے بائیں بازو کے کچھ بزرگوں کو تحریر بہت ناگوار گزری اور انہوں نے ان نکات کا سنجیدگی سے جواب دینا تو درکنار، اس تحریر کو مکمل پڑھنے سے انکار کردیا۔ ہم ان بزرگوں کو الزام نہیں دیتے کیونکہ اس نسل کا طرزِ فکر اور طرزِ احساس ستر اور اسّی کی دہائی کی اتھاریٹیرین ازم اور نظریاتی گروہی عصبیت میں تشکیل پایا تھا۔ اسّی کی دہائی کے آخر میں دیوارِ برلن کے ساتھ ساتھ ان کے آئیڈیلز کا محل بھی مسمار ہوگیا۔ اب ان بزرگوں میں ایک خاص طرح کی ضد اور نظریاتی چڑچڑے پن نے مزید جڑ پکڑ لی، لہذا وہ آج کے جمہوری دور کے لحاظ سے سوچنے اور مکالمہ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ مگر یہ معاملہ صرف لیفٹ کے بزرگوں کا نہیں ہے بلکہ دایاں بازو بھی اسی ضد، تنگ ںظری اور چڑچڑے پن کا عرصے کا شکار ہے۔ اس کی بنیاد تو اسی وقت پڑ گئی تھی جب ہند اسلامی تہذیب کو برطانوی راج کے ہاتھوں بقا کا خطرہ درپیش تھا۔ ہند اسلامی تہذیب تو بچ گئی مگر منفی ردعمل کا شکار ہونے والا ایک روایت پرست طبقہ معاشرے کا عضوِ معطل بن کر رہ گیا، یہاں تک کہ اس طبقے کے ایک مخصوص گروہ کی ضد اور انسکیورٹی یہاں تک پہنچی کہ پاکستان کا بھی انکار اور مخالفت کر بیٹھا، حالانکہ تصور پاکستان برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کے کسی ایک مکتب فکر کا کوئی یکطرفہ اجتہاد نہیں بلکہ ملیّ اجماع تھا۔

پاکستان بننے کے بعد دائیں بازو نے نئی ریاست کے لیے ایک بیانیہ تیار کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ اس ضمن میں رائٹ کے دانشوروں نے لاشعوری معذرت خواہانہ رویوں کے سبب کچھ ناکامیاں اٹھائیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں جب بتدریج اس طبقے کے تخلیق کردہ بیانیے کی کمزوریاں واضح ہونے لگیں تو بجائے ان خامیوں کا ادراک کرکے انہیں فطری انداز میں دور کرنے کے یا ایک پراعتماد مگر وسیع النظر مکالمے کو جنم دینے کے، دائیں بازو کی اکثریت تضادات اور اختلافات کا شکار ہوگئی۔ مزید ستم یہ ہوا کہ بدلتی ہوئی ریاستی مصلحتوں اور میڈیا جیسی جدید طاقت سے غفلت کے سبب یہ طبقہ اپنا سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ کھوتا گیا اور مکمل طور پر تنہائی کا شکار ہوگیا۔ ایسے میں عوامی سطح پر رائٹ کے بیانیے کا پیرو بننے والا طبقہ فرسٹریشن کا شکار ہوکر انتہاء پسندانہ رویوں کا شکار ہوگیا۔ تحریکِ لبیک کی کامیابیاں اسی شدید فرسٹریشن کو ظاہر کرتیں ہیں جو دائیں بازو کی لوئر مڈل کلاس میں اپنی روایتی فکری و سیاسی قیادت کی مسلسل ناکامیوں کے سبب پیدا ہوئی۔ اس انتہاء پسندانہ رد عمل نے سنجیدہ اور موثر مین اسٹریم میں دائیں بازو کو مزید بدنام اور ہدفِ تنقید بنادیا۔

ایسے میں جہاں دائیں بازو کی روایتی سیاسی قیادت جمود کا شکار ہے اور قومی منظرنامے پر مسلسل غیر متعلق ہوتی جارہی ہے وہیں روایت پسند دانشور سہما ہوا ہے۔ اس کے پاس اگر کئی معاملات میں معاشرتی سوالات کا حل اور انٹیلیجینشیا کی بڑی الجھنوں کا جواب ہے بھی تو وہ اس دور کی زبان اور مائنڈسیٹ کے مطابق اس کے ابلاغ سے قاصر ہے۔ آج جب شدت، سوال اور انکار فکری و ادبی سطح پر سب سے مقبول رجحان بنا دیا گیا ہے، روایت پر اٹھنے والے سوالات کے جواب دینا ایک ہنگامی ضرورت بھی ہے اور غیر معمولی ذہانت کا متقاضی بھی۔ ایسی ذہانت اور علمی و فکری سرگرمی معاشرے میں عمومی سطح پر ہی مفقود ہے اور رائٹ کے دانشور سے بھی اس کی توقع عبث ہے۔

ان خوفناک حالات میں بھی رائٹ کا پوٹینشل کئی لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔ دائیں بازو کی نشاۃ ثانیہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ ہمارے ادبی و فکری منطرنامے کی ضرورت بھی ہے۔ رائٹ کے پاس جس قسم کا علمی سرمایہ مقامی زبانوں بالخصوص اردو میں موجودہ ہے، وہ پاکستانی لیفٹ کے پاس نہیں ہے۔ جدید لیفٹ خود کو فکری انحراف اور انکار کی اس نہج پر لے آئی ہے جہاں صدیوں کے صوفی لٹریچر کے ساتھ ساتھ علیگڑھ تحریک، اقبال اور علی شریعتی وغیرہ تک کے فکری سرمائے کو اپنے لیے غیر متعلق کر بیٹھی ہے۔ ایسے میں لیفٹ انکار کی شدت سے جھٹکا دینے کی صلاحیت تو رکھتی ہے مگر روایت جو ذہنی و فکری استحکام اور پائیداری فراہم کرتی ہے، وہ لیفٹ کو نصیب نہیں ہوپاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر سرگرمی اور اثر و رثوخ کے باوجود عام آدمی کے دل میں اپنی بات بٹھانے میں بایاں بازو ناکام ہے۔ مگر رائٹ اب بھی صدیوں کا علمی و ادبی سرمایہ استعمال کرسکتی ہے اور جدید دور کی تینوں اسلامی تحریکوں یعنی بنیاد پسندوں، روایت پسندوں اور جدت پسندوں کی فکری مساعی بھی بروئے کار لاسکتی ہے۔ یہ لیفٹ کی بدنصیبی ہے کہ اس نے اسلاموفوبیا اور غرب زدگی کو اپنے رگ و پے میں اس قدر اتار لیا ہے کہ اب وہ اندرونی تضاد کا شکار ہوئے بغیر کربلا جیسی زبردست اور اپنے نظریات سے مطابقت رکھنے والے سمبل ازم کو بھی بروئے کار نہیں لاسکتی مگر آخر رائٹ کو ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ اسی زبردست روایت سے ہی مستفیذ نہیں ہورہی جس کی وہ نام لیوا ہے؟

لیفٹ کی بدنصیبی ہے کہ اس نے اسلاموفوبیا اور غرب زدگی کو اپنے رگ و پے میں اس قدر اتار لیا ہے کہ اب وہ اندرونی تضاد کا شکار ہوئے بغیر کربلا جیسی زبردست اور اپنے نظریات سے مطابقت رکھنے والے سمبل ازم کو بھی بروئے کار نہیں لاسکتی مگر آخر رائٹ کو ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ اسی زبردست روایت سے ہی مستفیذ نہیں ہورہی جس کی وہ نام لیوا ہے

اس مقصد کے لیے اگر ارادے اور سرگرمی کے علاوہ کسی چیز کی حاجت ہے تو وہ ہے وسیع النظری۔ مگر افسوس کہ ہمارا روایتی طبقہ نام تو اس پیغام کا لیتا ہے جس کا جوہر ہی اخوت اور آزادیِ فکر و نظر ہے مگر خود بدترین قسم کی فرقہ بازی کا شکار ہے۔ سیاسی محاذ پر متحدہ مجلس عمل بنا لینا خوب ہے مگر کیا فکری محاذ پر بھی انکار اور انحراف کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمارے مذہبی طبقات کوئی مشترکہ مساعی کرسکے ہیں؟ مغرب میں مذہبی آئیڈیلز رکھنے والے کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ ہی نہیں بلکہ یہودی بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد مل کر ایک مشترکہ فکری و سیاسی روایت تشکیل دے چکے ہیں جس نے کامیابی سے فکری مادہ پرستی (مارکسزم اور فاشزم وغیرہ) کا مقابلہ کیا ہے اور جدید مغربی تہذیب کی تعمیرِ نو میں ایک موثر کردار ادا کیا ہے۔ مگر ہمارے شیعہ اسلامسٹ اور سنیّ اسلامسٹ اب تک اس حقیقیت کا ادراک نہیں کرپائے کہ سیکولرازم کا چیلنج اس قدر خوفناک ہے کہ ان دونوں مکاتبِ فکر کے اختلافات وسیع فکری منظر نامے پر بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔ کیا سبب ہے کہ پاکستان کا سنیّ اسلامسٹ باقر الصدر یا مرتضیٰ مطہری اور شیعہ اسلامسٹ مودودی یا سعید نورسی کو اپنا سمجھ کر نہیں اپنا سکتا؟

اسلام پسندی مسلم دنیا میں دائیں بازو کی سب سے بڑی اور موثر تحریک ہے۔ مغرب میں سیکولر رائٹ غالب ہے مگر ہمارے ہاں چونکہ تمام تر روایت مذہب کے رنگ میں ہے اس لیے اکثر روایت پسند طبقہ کسی نہ کسی شکل میں مذہبی ہے۔ باقاعدہ نظریاتی قوم پرستی کے اسلامی دنیا میں عوامی سطح پر ناکام ہونے کی وجہ بھی یہ ہے کہ قوم پرستی مغربی دائیں بازو کے سیکولر اور مادہ پرست طبقے کا تصور ہے مگر ہمارے روایت پسندوں میں سیکولرازم اور فکری مادہ پرستی نہ ہونے کے برابر ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلم رائٹ قوم پرستی کی لعنت سے محفوظ رہی۔ غیر محسوس طریقے سے شناخت کی سیاست کا یہ وائرس اسلامی فکر میں بھی داخل ہوا۔

اب وقت آگیا ہے کہ اسلام پسندی کی شاندار روایت کا مکمل احترام کرتے ہوئے بھی خود اسلام پسند اپنی فکر پر مکمل فکری سنجیدگی کے ساتھ نظرثانی کریں۔ دیگر مسلم مالک اور برادریوں بالخصوص تیونس، مراکش، ملایشیا اور ترکی وغیرہ میں ایسا ہو بھی رہا ہے، مگر پاکستان میں یا تو یہ سرگرمی مفقود ہے، یا غلط اور معذرت خواہانہ زاویے سے ہورہی ہے۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ جدید سیاسی اسلامی فکر جس دور کی تخلیق تھی اس دور کے خارجی رجحانات کا کا کچھ نہ کچھ اثر اس پر مرتب ہوا تھا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سیدّ قطب شہید کا تصورِ جاہلیہ اسلام ازم میں ویسی ہی مِتھ بن کر ابھرتا ہے جیسی مِتھ مارکسزم میں کلاس سٹرگل ہے۔ حد یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور اخوان المسلمین جیسی تحریکوں کا تنظیمی ڈھانچہ مغرب کی کمیونسٹ پارٹیوں سے متاثر تھا، انقلاب اور معاشرتی تبدیلی کی وہ ٹاپ ڈاون اپروچ جو ہماری روایت میں ایلئین تھی، مارکسزم اور فاشزم سے اسلامی فکر میں امپورٹ کرلی گئی اور حزب التحریر جیسی تحریکوں کے توسط سے اسلامیت کی پہچان بنتی چلی گئی۔ معاملہ تشویش ناک حد تک خراب تب ہوا جب شناخت کی سیاست کے جدید رجحان سے اسلامی تحریک متاثر ہوئی۔ اسلام اصول کی بجائے شناخت بن گیا اور مسلمان ایک عالم گیر انسانی تحریک کے کارکنوں کی بجائے فقط ایک قوم۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی نکتہ نظر سے کیے جانے والے وہ تمام اعتراضات جو اقبال جیسے اسلامی مفکرین نے قوم پرستی پر کیے تھے، خود اسلام پر ہونے لگے۔ اسلام کو مذہبی اقلیتوں کے لیے خطرہ سمجھا جانے لگا۔ عالمی امن کے لیے اسلامی تحریک کا ایک بڑا حصہ داعش، القاعدہ اور طالبان جیسی تنظیموں کی صورت ڈراونا خواب بنتا چلتا گیا۔ فاشزم، مارکسزم اور نیشنلزم سے متاثر ہونے کا منطقی نتیجہ بھی یہی تھا کہ اسلامی تحریک کا بھی وہی حشر ہوتا جو مذکورہ بالا تینوں تحریکوں کے ساتھ ہوا۔

ایسے حالات میں جہاں عملی طور پر اسلام پسندوں کو فرحان کامرانی صاحب کے جماعت اسلامی کو دیے گئے دس مشوروں پر فی الفور عمل کرنے کی ضرورت ہے، وہیں فکری محاذ پر ضرورت ایسی پوسٹ اسلام ازم کی ہے جو فرقوں کو بے معنی بنا دے اور شیعہ و سنیّ، مقلد و غیر مقلد، صوفی و سلفی، بریلوی و دیوبندی میں احساس کی وحدت پیدا کردے، ایسی پوسٹ اسلام ازم جو لاشعوری طور پر اس قدر انسیکور اور ہاری ہوئی سوچ سے جنم نہ لے کہ ظاہری طور پر جس جدیدیت اور مغربیت کے خلاف برسرپیکار ہے، اسی کے تخریبی عناصر کو اپنے اندر جذب کرنا شروع کردے، بلکہ پوسٹ کولونیل دور کے تقاضوں کے مطابق پراعتماد ہو اور چودہ سو سالہ روایت کا بھرپور استعمال کرکے تہذیبی جمود کو توڑے، ناکہ اس کا انکار کرکے۔ ایک ایسی پوسٹ اسلام ازم ہی آج اسلامی رائٹ کو کنفیوژن، تضاد، انتہا پسندی، ناکامی اور ذلت سے نکال سکتی ہے جو شخصی آزادی اور عالمگیر انسانی اخوت کو اعلی ترین قدروں کے طور پر قبول کرے اور یوں اپنے دائرے میں جدید تہذیب کے بھی بہترین اور ہمارے روایت سے سب سے زیادہ مطابقت رکھنے والے آئیڈیل کو شامل کرلے تاکہ آج کی دنیا میں اپنی جگہہ بنا سکے۔

یہ بھی ملاحظہ کریں: دائیں اور بائیں بازو سے کیا مراد ہے : احمد الیاس

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: