کیا مستقبل میں جانا ممکن ہے؟ —– نعمان کاکا خیل

0
  • 143
    Shares

طبعیات (فزکس) کے اندر تمام بنیادی اکائیاں (Basic units) دو حصوں یعنی قابلِ پیمائش اور ناقابلِ پیمائش کے اندر منقسم ہیں۔ اولذکر اکائیوں کے نام سے واضح ہے کہ یہ وہ اکائیاں ہیں جن کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ ماپا اور تولا بھی جا سکتا ہے جیسے درجہ حرارت، کمیت، لمبائی، روشنی کی شدت، شے کے مقدار وغیرہ۔ بعد الذکر اکائیاں وہ ہیں کہ جن کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن ماپا یا تولا نہیں جا سکتا جیسے غم، خوشی، احساسات و جذبات وغیرہ ہاں البتہ ان اکائیوں کو فزکس کی ایک شاخ میٹا فزکس کے اندر بیان کیا جاتا ہے۔

قابلِ پیمائش اکائیوں کے اندر وقت (Time) ایسی اکائی ہے جس کے بارے میں سائنسی تاریخ کے اندر روزِ اؤل سے مباحثہ جاری ہے جو کہ اس دور تک چل رہا ہے۔ وقت کیا ہے؟ کیا وقت کے اندر سفر ممکن ہے؟ اگر ممکن ہے تو کیا ماضی اور مستقبل میں جایا جا سکتا ہے؟ اور اگر جانا ممکنات میں سے ہے تو اس کا طریقہ کار اور ذرائع کیا ہیں؟ یہ تمام ایسے سوالات ہیں جس کے جوابات جاننے کے اندر ہر شخص دلچسپی رکھتا ہے۔

امریکہ کے ایک مشہور ناول نگار کرٹ وانیِگٹ (Kurt Vonnegut) نے1959 میں لکھے گئے اپنے ایک ناول (The Sirens of Titans) کے اندر ایک خیالی خلائی مخلوق ٹریلف میڈوریینز (Tralfamadorians) کا تذکرہ کیا ہے۔ ناول نگار کے مطابق یہ مخصوص خلائی مخلوق دنیاوی حقائق کو چار جہتی طریقے سے محسوس کرنے کی طاقت و قدرت رکھتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ مخلوق ماضی، حال اور مستقبل کے واقعے اور رونما ہونے والے مناظر کا علم رکھتی ہے۔ لیکن ان واقعات کو روکنے یا تبدیل کرنے سے قاصر ہے۔ اس مخلوق کا یقین ہے کہ جب کوئی ذی روح مر جاتا ہے تو وہ ایک دنیا سے دوسری دنیا میںمنتقل ہو جاتا ہے بس صرف اس کے وقت کی ہئیت، حالت اور رفتار تبدیل ہو جاتی ہے۔

طبیعات کے اصول اور قوانینِ طبیعات کے مطابق کرٹ وانیگٹ کا یہ نظریہ غلط اور ناقابل عمل اس لئے ہے کہ اگر ٹرالف میڈوریئنز ماضی میں جانا چاہتے ہیں تو ان کو مستقبل میں سے گزرنا پڑے گا اور براہِ راست ماضی میں جانا ممکن نہیں ہے۔ مثلاً اگر وہ ماضی کے لئے آج روانہ ہوتے ہیں تو وہ کل پہنچیں گے اور کل مستقبل ہے نا کہ ماضی۔

خیر ناول کی خیالی دنیا سے ہٹ کر اگر سائنسی اور خصوصاً فزکس کے نقطۂ نظر سے وقت کو دیکھا جائے تو مختلف تصورات سامنے آتے ہیں جس میں دو مشہور اور قابلِ ذکر تصورات نیوٹن اور آئن سٹائن کے ہیں۔ نیوٹن کے مطابق وقت مطلق (definite) ہے اور اس کو تبدیل کیا جانا ممکن نہیں دوسرے الفاظ میں یہ کہ تمام اجسام وقت کو ایک طریقے سے محسوس کرتے ہیں اور ہر جسم کے لئے وقت گزرنے کی رفتار بھی ایک جیسی (یعنی ایک سیکنڈ فی سیکنڈ) ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  جدید فزکس الحاد کو کیوں رد کرتی ہے؟ سکاٹ ینگرن کی تحقیق: اسامہ مشتاق

 

آئن سٹائن کا تصورِ وقت مطلق نہیں بلکہ ایک منحصر شے ہے جس کا انحصار اجسام کے فرم آف ریفرنس (Frame of reference) اور اس کی رفتار کے اوپر ہے۔ کوئی بھی جسم اگر روشنی کی رفتار کے ساتھ حرکت کرے یا پھر اس کے نزدیک نزدیک رفتار سے محرک ہو تو ان کے لئے وقت کی رفتار آہستہ ہو جاتی ہے یا پھر اس کے لئے وقت کا گزرنا آہستہ ہو جاتا ہے اس کے برعکس آہستہ محرک اجسام کے لئے وقت تیزی سے گزرتا ہے۔ یہ عوامل ہمیں محسوس اس لئے نہیں ہوتے کیوں کہ ہماری رفتار روشنی کی رفتار سے انتہائی کم ہے۔ آئن سٹائن کے اس نظرئے کو تھیوری آف ریلیٹیویٹی (Theory of Relatavity)کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ثقلی موجوں (gravitational waves) کے حوالے سے آئن سٹائن کی دوسری تھیوری یعنی جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی (General Theory of Relatavity) کے اندر ذکر پایا جاتا ہے۔ آئن سٹائن کی ان موجوں کی پیشن گوئی کو 2003 میں ایک تجربے کے اندر ثابت کیا جا چکا ہے جس کی بنیاد پر 2017 میں تین سائنس دانوں کِپ تھورن، بیری بیرش اور رائینر ویس کو نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ ان تجربات میں ثقلی موجوں کے ثبوت سے انسان کو اشارہ ملا ہے کہ مستقبل کے اندر جانا انسانوں کے لئے ممکن ہے۔ یاد رہے کہ ابھی تک یہ ایک اشارہ ہی ہے اور اس کو عملی شکل دینے کے اندر ابھی تک کچھ سائنسی بنیادوں پر رکاوٹیں درپیش ہیں جس کو حل کرنے کے اوپر کام جاری ہے۔

البتہ ماضی کی طرف سفر ابھی تک ایک خیال ہی ہے جو ایک سائنسی معمہ ہے۔ مستقبل کی طرف سفر کیسے ممکن ہے اور ماضی کی جانب سفر معمہ کیوں ہے؟ مضمون کی طوالت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان سوالات کے جوابات اور ان کی تفصیلات کو اگلے مضامین کے اندر شامل کیا جائے گا۔


محمد نعمان کاکا خیل یونیورسٹی آف واہ کے شعبۂ طبیعات میں معلم کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں جب کہ موجودہ وقت مطا لعاتی چھٹی پر جامعہ کینگ پوک جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی کے سلسلے میں مقیم ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: