کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی: ایصالِ ثواب، جمعرات کی دعا – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 11

0
  • 13
    Shares

جناب انور عباسی کی مشہور سوانح حیات کا یہ سلسلہ دانش کے صفحات پہ کچھ عرصہ تک شایع ہوتا رہا، وقفہ کے بعد اسکی گیارہویں قسط پیش خدمت ہے۔ نئے پڑھنے والے قارئین اس کا پچھلا حصہ اس لنک پہ دیکھ سکتے ہیں۔ عباسی صاحب کی یہ کتاب زیر طبع ہے اور اس سال کے آخر تک قارئین کے لئے دستیاب ہوگی۔


ایصالِ ثواب:
تدفین کے دوسرے دن ہی اِدھر اُدھر سے درخت کاٹ کر تیجے کی تیاریاں شروع کر دی جاتی تھیں۔ پورا گائوں اس میں شریک ہوتا۔ اس سے ذرا بڑے پیمانے پر چالیسواں کرایا جاتا۔ ان دونوں محافل میں ایصالِ ثواب کی غرض سے کلمہِ توحید اور آیتِ کریمہ کا ورد کیا جاتا۔ پورا کلمہ پڑھنا معلوم نہیں کیوں ممنوع تھا۔ صرف لا الہ الا اللہ ہی مشینی انداز میں زور زور سے اور سر ہلا ہلا کر پڑھنا ہوتا تھا۔ مقصود اور ہدف صرف گنتی ہوتی کہ لاکھ سوا لاکھ مرتبہ کلمہ، وہ بھی آدھا، کسی نا کسی طرح پڑھ لیا جائے۔ بعض جگہوں پر قرآن بھی پڑھا جاتا لیکن محدود پیمانے پر۔ اس کے لیے مولوی حضرات مختص تھے۔ ایک مولوی صاحب (نام لینا مناسب نہیں) ہمیشہ آکر یہ خوشخبری سناتے کہ میں نے اپنے لیے اتنے قرآن پڑھ رکھے تھے، چلیں ان میں سے دو تین آپ لے لیں۔ پس ماندگان میں یتیم بچوں اور بے سہارا بیواوں کا مال ایصالِ ثواب کے نام پر شیرِ مادر کی طرح بغیر ڈکار لیے ہضم کر لیا جاتا، آج کل بھی یہ نامعقول رسم کسی نا کسی شکل میں جاری ہے۔ کسی نے کیا خوبصورت بات کہی ہے، اگرچہ خوبصورت باتوں کی طرف توجہ کم ہی ہوتی ہے کہ:

     ؎ دیگیں چڑھی ہیں اُس کے ایصالِ ثواب کو
وہ شخص جو مرا تھا کل گلی میں بھوک سے

ہم نے ایسی بد بخت اولاد بھی دیکھی ہے جو بوڑھے والدین پر ہاتھ اٹھاتی رہی لیکن ان کے مرنے پر بڑی شان سے لوگوں کی دعوت کرکے والدین کو ثواب ایصال کروایا گیا۔ اس کو دعا کرانے کا مقدس نام دیا جاتا تھا اور ابھی تک یہ عمل جاری ہے۔ کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ دعا کے لیے یتیموں کا مال ہڑپ کرناکیوں ضروری ہے۔ نصف صدی کی جدوجہد کے بعد کچھ لوگوں کو زمانے کی ہوا لگی یا علم سے آشنائی ہوئی، اس عمل سے کسی حد تک باز آ گئے۔ صاحبو! چور چوری سے جاتا ہے مگر ہیرا پھیری سے باز نہیں آتا۔ بعض لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ ختم وغیرہ تو بدعت ہے اس کو ختم کردینا چاہیے البتہ قرآن خوانی تو ثواب کا کام ہے یہ جاری رہے کیوں کہ قرآن پڑھنا تو ثواب کا کام ہے۔ اس سے ایصالِ ثواب ہوتا ہے۔ قرآن خوانی کے ذریعے ایصالِ ثواب کرنے والے، اور تو اور جماعتِ اسلامی سے وابستہ حضرات بھی یہ عادت ترک نہیں کر سکے۔ حالانکہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اس کا برملا انکار کیا ہے۔ کسی زمانے میں قرآن کتاب ِ ہدایت تصوّر کی جاتی تھی، آج کل مُردوں کے بخشوانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح بھلے وقتوں میں لوگوں کو دائرہِ اسلام میں داخل کرتے تھے، آج کل اس سے خارج کرتے ہیں۔

ایصالِ ثواب کا لفظ سب ہی بولتے ہیں، حقیقت کچھ کچھ ہی جانتے ہیں۔ قرآن کھول کر کوئی پڑھے اور دماغ کھول کر سمجھے تو وہاں قانونِ مکافات کا ذکر ملتا ہے کہ اس پوری کائنات میں اس قانون کی فرمانروائی جاری وساری ہے۔ اس میں ہر عمل کا ایک ردِ ّعمل مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ: لھا ما کسبت و علیھاما اکتسبت۔ (۲۸۶/۲)۔ یعنی جس نے بھی جو نیکی کمائی ہے اس کا پھل اسی کو ملنا ہے اور جس نے بدی سمیٹی ہے اس کا وبال بھی اسی کے سر ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے: من عمل صلحا فلنفسہ و من اساء فعلیھا۔ (۱۵/۴۵)۔ یعنی جو کوئی نیکی کرے گا اپنے لیے ہی کرے گا، اس کا فائدہ اسی کو پہنچ سکتا ہے۔ اور جو برائی کرے گا اس کا خمیازہ وہی بھگتے گا۔ کوئی دوسرا کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکتا۔ پھر فرمایا گیا ھل تجزون الا بما کنتم تکسبون۔ (۵۲/۱۰)۔ کیا ممکن ہے کہ جو کچھ تم کرتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا کوئی اور بدلہ دیا جاسکتا ہے؟ ھل تجزون الا ما کنتم تعلمون۔ ( ۹۰/۲۷)۔ کیا تم اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا کرو؟ کیا یہ ممکن ہے؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نہیں، لیکن ایصال ثواب کا عقیدہ کہتا ہے کہ ہاں یہ ممکن ہے۔ کسی نے سو نمبروں سے صرف بیس نمبر حاصل کیے تھے، تو کوئی دوسرا ایصالِ ثواب کر کے یہ نمبر پچاس سے اوپر تک پہنچا سکتا ہے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ کوئی عمل میں کروں اور اس کے اثرات کسی دوسرے کو منتقل کرسکوں۔ پانی میں پیوں اور پیاس کسی دوسرے کی بجھا سکوں، کھانا میں کھائوں اور پیٹ آپ کا بھر سکے۔

ثواب کا مطلب ہے بدلہ یا جزا۔ اس میں نیک عمل کی کوئی قید نہیں۔ بدلہ نیک اعمال کا بھی ہوتا ہے اور بُرے اعمال کا بھی۔ اس بارے میں ہمارے رب نے ہمیں کسی اندھیرے میں نہیں رکھا۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: ھل ثوب الکفار ما کانوا یفعلون (۳۶/۸۳)۔ مل گیا ناآخر کافروں کو اپنے کرتوتوں کا ثواب (بدلہ)۔ یعنی بالآخر کافروں کو اپنے کیے کا بدلہ مل کر رہا۔ بہت اچھی طرح واضح ہو رہا ہے کہ ثواب صرف نیک اعمال کی جزا کو ہی نہیں کہتے بلکہ برے اعمال کی جزا کو بھی کہتے ہیں۔ ایصالِ ثواب کے عقیدے کا منطقی نتیجہ یہی تو نکلتا ہے کہ کوئی برا عمل کر کے کسی دشمن کو جہنم رسید کرنے کا سامان کردیا جائے۔ ابھی یہ ترکیب کسی کے ذہنِ رسا میں آئی نہیں۔ ہمارے ہاں کا ہر فرقہ ایک دوسرے کو کافر کہتا ہے، بس ایک کافر ہی ہے جو ہم کو مسلمان سمجھتا ہے۔ دنیا میں ہم نے ایک دوسرے کو کافر بنا کر یہ توقع کر لی ہے کہ خود ہی وہ جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو؟ لہذا حفظِ ما تقدم کے طور پر کسی دن ہم کوئی بُرا عمل کر کے اپنے مخالف کو ایصالِ ثواب کر دیں گے تا کہ کام ذرا پکا ہو جائے۔ عرصہ ہوا ایک افسانہ پڑھا تھا۔ لکھنے والے کا نام بھی ذہن سے اتر گیا۔ اس افسانے کی تلخیص کچھ اس طرح ہے۔

ایک اسکول ماسٹر صاحب کا اکلوتا بیٹا تھا جو چھے سات سال کا تھا اور غالباً دوسری جماعت میں پڑھتا تھا۔ ماسٹر صاحب اس کو ساتھ اسکول لے جاتے اور ساتھ واپس لاتے۔ راستے میں سائیکلوں کی ایک دکان پڑتی تھی، جسے دیکھ کر بچہ مچل جاتا اور سائیکل خریدنے کی ضد کرتا۔ ماسٹر صاحب ہر دفعہ اسے اگلی تنخواہ پر سائیکل خرید کر لے دینے کے وعدے پر ٹال دیتے۔ ظاہر ہے محدود تنخواہ پر یہ عیاشی تو ممکن نہ تھی۔ ایک دِن اسکول سے واپسی پر بچے نے ایک جگہ خیمے کے نیچے دائرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو کچھ پڑھتے ہوئے دیکھا تو پوچھا:

’’ابا یہ کیا کر رہے ہیں‘‘؟
’’ایصالِ ثواب کر رہے ہیں،‘‘ باپ نے جواب دیا۔
’’ابا، یہ ایصالِ ثواب کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’بیٹے یہ لوگ کچھ پڑھ رہے۔ اس سے ان کو اللہ اجر دے گا، اور یہ لوگ مرنے والے کو یہ اجرایصال کریں گے۔‘‘
’’یہ اجر کیا ہوتا ہے اور ایصال کسے کہتے ہیں، ابا؟‘‘
’’ بیٹے اجر بدلے کو کہتے ہیں اور ایصال کا مطلب ہوتا ہے پہنچانا، جو بدلہ ان کے عمل کا ان کو ملنا ہوتا ہے وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو مل جائے۔ اس طرح اللہ ان کے اس فعل کا بدلہ اس شخص کو دے دیتا ہے۔‘‘
’’کیا یہ بدلہ پہنچانے کے لیے کچھ پڑھنا ضروری ہوتا ہے؟‘‘

والد صاحب اب ان سوالات سے تنگ سے آ چکے تھا، بولے:
’’نہیں بھئی، کوئی عمل کر کے بس دعا کرنا کافی ہوتا ہے۔‘‘
یہ جواب سن کر بچے کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی اور بولا: ’’ ہیں! یہ توبڑی اچھی ترکیب ہے ابا۔ ـ‘‘

ایک دِن ماسٹر صاحب گھر آئے تو دیکھا صحن میں ایک نئی سائیکل کھڑی ہے۔ سوچا کوئی ملنے والا آیا ہوگا۔ اندر گئے کسی کو نہ پا کر بیگم سے پوچھا:
’’بیگم یہ سائیکل کس کی ہے؟‘‘
بیگم نے جواب دیا: ’’کیا آپ نے بیٹے کو وعدے کے مطابق یہ سائیکل لے کر نہیں دی؟ یہ سائیکل تو وہ گھر لایا تھا۔ میں نے سوچا آپ نے لے کر دی ہوگی۔‘‘
ماسٹرصاحب نے بیٹے کو بلا کر پوچھا: ’’بیٹے یہ سائیکل کس کی ہے؟‘‘
بیٹا اطمینان سے بولا: ’’میری۔‘‘
’’ کہاں سے لائے ہو، کس نے دی؟‘‘
’’کسی نے نہیں دی۔ میں نے خود ہی سائیکل کی دکان سے اٹھائی ہے، وہ دیکھ تھوڑی رہا تھا۔ ‘‘

’’ارے! تو کیا تو نے چوری کی ہے؟ کیا تجھ کو میں نے یہ نہیں بتا یا کہ یہ بہت بُری بات ہے، اس سے اللہ میاں ناراض ہوتے ہیں اور اس کی سزا دیتے ہیں؟‘‘ ’’ جی بتایا تھا، لیکن آپ فکر نہ کریں۔ میں نے اس کا انتظام کر لیا ہے۔ میں نے چوری کر کے اس کا بدلہ اپنے حساب کے ٹیچر کو ایصال کر دیا ہے، وہ سزا بھی بہت دیتے تھے۔ میں تو بچ ہی گیا لیکن ان کو بھی پتا چلے گا نا‘‘۔ ماسٹر صاحب کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

بچے من کے سچے ہوتے ہیں، کوئی عالم فاضل، مولوی یا علّامہ نہیں ہوتے اس لیے جلد حقیقت کو پا لیتے ہیں۔ وہ بھی تو ایک بچہ ہی تھا جو بڑے بڑے فضلا، دانشوروں اور سرکاری عہدہ داروںکی موجودگی میں حقیقت کو پا گیا تھا کہ بادشاہ ننگا ہے۔ ہمیں اس دور کے کسی بچے کا شدت سے انتظار ہے۔ امام مہدی آئیں یا نہ آئیں، کوئی بچہ کسی دِن ضرور آئے گااور ہمارے ذہنوں پر پڑے گہرے پردوں کو چاک کردے گا۔

شاید بدعت اور سنت کے جھگڑوں سے بچنے کے لیے دورِ جدیدمیںایک ماڈرن طریقہ دریافت کر لیا گیا ہے جسے تعزیتی ریفرنس کہتے ہیں۔ دنیاوی سٹیٹس جس کا جتنا بڑا ہو گا، تعزیتی ریفرنس اتنا ہی شاندار ہوگا۔ تنبو اور خیمے، میدان اور پارک تو عام آدمیوں کے حصے میں آتے ہیں۔ پنج ستارہ ہوٹلوں میں ’بڑے‘ آدمیوں کے تعزیتی ریفرنس ہوتے ہیں۔ ان میں ایسی ایسی خوبصورت باتیں سننے کو ملتی ہیں جس سے مرنے والے کے پس ماندگان بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔ تقریروں کے ایسے نمونے ادب کا اعلیٰ شاہکار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ اس شش و پنج میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ باتیں واقعی ان ہی کے بارے میں کہی جا رہی ہیں جس کا تعزیتی ریفرنس ہو رہا ہے یا ممدوح کوئی اور بزرگ ہیں۔ عطا الحق قاسمی نے ایک جگہ کہیں اپنے کسی دوست کے تعزیتی ریفرنس کے بارے میں لکھا ہے کہ مقررین نے ان کے متعلق جو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، جو توصیفی کلمات ادا کیے ہیں، اگر زندگی میں ان کے سامنے کہے گئے ہوتے تو موصوف اس وقت مرحوم نہ ہوتے۔ مُردہ تو بدست زندہ ہوتا ہے، اسی خدشے کے پیشِ نظر ہم نے وصیت کر رکھی ہے کہ یہ بے تُکی سی نئی بدعت سے گریز کیا جائے۔ بہت جلد کوئی بچہ اٹھے گا اور اس رسم کے خلاف فتویٰ دے دے گا۔ ویسے بھی آج کل یہ کام بچوں کے ہی حوالے ہے، اس کا صرف اعلان ہونا باقی ہے۔ دینی درس گاہوں اور ملکی نظم و نسق کے چلانے والے بھی بعض اوقات ایک لحاظ سے بچے ہی لگتے ہیں۔

 ختم ِانبیاء:
گائوں کے کھاتے پیتے لوگ حصولِ خیروبرکت کے علاوہ تقویٰ کی علامت کے طور پر بھی اس رسم کے انعقاد کا اہتمام کرتے تھے۔ عام لوگ چھوٹے ختم پر ہی اکتفا کرتے تھے۔ ختم ِانبیاء کو بڑا ختم بھی کہتے تھے۔ اس میں لوگوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی تھی اور کھانے کے بھی خاص اہتمام ہوتا تھا۔ آیتِ کریمہ کو باقاعدہ حساب رکھ کر پڑھا جاتا تھا۔ ایک بڑے سے کمرے میں پاک صاف سفید چادر بچھا کر اگربتیوں کو جلایا جاتا۔ درمیان میں ایک پلیٹ میں چینی، دودھ اور اسی قسم کی چند اشیارکھی جاتیں۔ تازہ وضو بنا کر لوگ چاروں طرف دوزانوں ہو کر بیٹھ جاتے اور سر ہلا ہلا کر چوکڑی سی بنا کر پڑھنا شروع کردیتے۔ شہد کی مکھیوں کی طرح کمرے میں بھنبنھاہٹ کی مدھر اور مدھم آواز عجیب سا سحر انگیز ماحول پیدا کر دیتی۔ پڑھنے والوں کی خدمت اور مُٹھی چاپی کے لیے تازہ دم نوجوانوں کا دستہ ہمہ وقت تیار رہتا تھا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد ہی پتا چلتا کہ پڑھنے والے تھک گئے ہیں۔ دو چار نوجوان فوراً آ حاضر ہوتے اور سب لوگوں کی کمر دبانا شروع کر دیتے۔ عام حالات میں یہ عیاشی کہاں میسر آتی، یہ سوچ کر ہم بھی کئی دفعہ پڑھنے والوں میں شامل ہو رہتے تھے۔ ’ختم‘ جب واقعی ختم ہو جاتا سب نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے مولوی صاحب کے حوالے کردیتے، اس اعلان کے ساتھ جو کچھ پڑھا میں نے یہ مولوی صاحب آپ کو’’ مِلک ‘‘ کیا۔ پھر مولوی صاحب دعا کرواتے اور جس کو بھی’’ ثواب‘‘ پہنچانا ہو اس کے حوالے کرتے اور ہم سب خوش ہو جاتے کہ فلاں صاحب کو ثواب مل گیا!

یہ بی پڑھئے:  پاکستانی لیفٹ کا کنفیوذ آدمی —— احمد الیاس

 

دورانِ تلاوت بعض بزرگ پوچھتے رہتے کہ بھئی چائے تیار ہوئی یا نہیں۔ جی ہاں، کھانے سے پہلے چائے کا ضرور اہتمام ہوتا۔ کھانے میں چونکہ کافی وقت درکار ہوتا اس لیے پڑھنے والوں کو مسلسل اس میں مصروف رکھا جاتا۔ آخر روزی حلال کرکے ہی کھائی جائے تو بہتر ہے۔ اللہ جانے بعض لوگوں کی طرف سے تقویٰ کا اظہار مقصود تھا یاکھانے کی تیاری میں مہلت حاصل کرنا مقصود تھی، ایک محیرالعقول عقیدہ بھی سامنے لایا گیا۔ میں نے گائوں کی ایک معتبر شخصیت کی طرف سے دورانِ ’ختم شریف‘ ایک اعلان کرتے سنا۔ ہو سکتا ہے یہ عقیدہ پہلے سے پایا جاتاہو، میں نے مگر پہلی دفعہ سناتھا۔ اعلان یہ کیا گیا کہ اندر ایک دوسرے کمرے کی الماری میں ایک برتن میں آٹا ڈھانک کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس ’ ختم شریف‘ کی مقبولیت کی نشانی یہ ہو گی کہ آٹے میں ایک ہاتھ کے پنجے کا نشان نظر آ ئے گا۔ میں اُس وقت شاید میٹرک میں پڑھتا تھا، اس لیے تھوڑی سی سمجھ بوجھ آ گئی تھی۔ عقل نہیں مانتی تھی کہ اس طرح اللہ میاںلباسِ مجاز میں یوں جلوہ فروز ہوں گے۔

میں نے دبے لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو مولوی صاحب نے سن لیا۔ وہ گویا ہوئے کہ پرانے زمانے میں جب لوگ سچے ہوتے تھے ان کی قربانیوں کی مقبولیت کا بھی ایک نشان مقرر ہوتا تھا۔ جس قربانی کو اللہ قبول کر لیتا تھا اس کو آسمان کی آگ اچک کر لے جاتی تھی۔ میرا اتنا علم تو تھا نہیں، خاموش ہی ہوجانا پڑا اور عین اس وقت جب کھانا تیار ہو چکا تھا صاحبِ خانہ برآمد ہوئے اور آٹے والا برتن سب کے سامنے رکھ دیا۔ آٹے پر ہاتھ کا واضح نشان موجود تھا! سب لوگوں نے سبحان اللہ کا نعرہ لگایا اور میری بولتی بند ہوگئی۔ اب خال خال ہی کوئی گھرانا ختم شریف کی محفل منعقد کرتا ہے۔ پتا نہیں آٹے پر نشان لگانے والے اب بھی موجود ہوں گے یا نہیں۔

جمعرات کی دعا:
ایک اور رسم تھی جو ہر گھر میں پائی جاتی تھا۔ وہ جمعرات کی دعا تھی۔ یہ عام دعا نہیں ہوتی تھی، جو نماز وں میں مانگی جاتی ہے بلکہ یہ باقاعدہ ایک طے شدہ طریقِ کار (process) کے بعد معرضِ وجود میں لائی جاتی تھی۔ اس دعا کے لیے باہر سے کسی مولوی صاحب کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اس کا مقصد اپنے عزیز و اقارب کی روحوں کا استقبال کر کے خوش کرنا مقصودہوتا تھا۔ کہا یہ جاتا تھا کہ وہ مغرب کے فوراً بعد تشریف لاتی ہیں اور چولہے کے آس پاس ’اوٹالے‘ کے اوپر آکر بیٹھ جاتی ہیں۔ ہمارے گھر میں دادی جان ہی اس کا اہتمام کرتیں۔ ان کا حکم تھا کوئی بچہ شور شرابا، بلکہ بات چیت تک نہ کرے کیونکہ ’روحانی‘ آنے والے ہیں۔ مغرب سے تھوڑی دیر پہلے سے اس کی تیاری شروع کر دی جاتی۔ ایک آدھ اگر بتی جلا کر گھر میں ’روحانیت‘ کا ماحول پیدا کر دیا جاتا۔ مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر فوراً توے کے اوپر مکھن ڈال کر اس میں تھوم کُوٹ کر ڈالا جاتا اور فضا سڑسڑ کی آواز سے تھرا جاتی۔ اگر کوئی باہر سے آکر اس وقت طوفانی دورہ کر کے جائزہ لیتا تو ہر گھر سے تقریباً ایک ہی قسم کی خوشبو اور ماحول ملتا۔ ہمیں اپنے سوا کوئی اور دکھائی نہ دیتا لیکن حق الیقین تھا کہ ہمارے ساتھ ہی کہیں ’روحانی‘ بیٹھے ہوئے ہوں گے۔

دادی جان کے آگے مٹی کی تھالی میں ایک عدد پُھلکا مکھن سے چپڑ کر رکھ دیا جاتا۔ تھالی کے ساتھ پانی کا ایک گلاس رکھ کر دادی جان دعا کرنا شروع کر دیتیں۔ اس دوران میں گھر کے باقی افراد دَم سادھے دبکے سے بیٹھے رہتے۔ جوں ہی دعا ختم ہوتی سب کی جان میں جان آجاتی۔ ایسے لگتا رکا ہوا سانس بحال ہو گیا ہے۔ چپڑا ہوا پُھلکا تبرک کے طور ہم بھی کھاتے۔ شاید ’روحانی‘ بھی اپنا حصہ لے جاتے ہوں، پر اتنا طے تھا کہ دعا کے بعد وہاں ان کا رکنا کچھ بے کار سا تھا۔ ان سے ٹکرائوکا امکان اب موجود تو تھا نہیں، اس لیے اب ہم آسانی کے ساتھ کمرے میں چکر لگا سکتے تھے۔ وہ زمانہ گیا، رسم و رواج گئے۔ سب کچھ ماضی کا حصہ بن چکا۔ ع اب نہ وہ میں نہ وہ تو نہ وہ ماضی ہے فرازؔ۔ وہ لوگ گئے، وہ ماحول گیا؛ اب تو ایسے لگتا ہے وہ سب کچھ خواب تھا۔ یہ سب کچھ دھندلاہٹ میں لپیٹا ہے۔

؎ سفرِ منزلِ شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں۔

یہ درست کہ یہ رسوم منصوص ہیں نہ ان کی کوئی شرعی حیثیت لیکن وہ خلوص اب کہاںسے لائیں ڈھونڈ کر۔ اب علم کتابوں میں چھَپ بلکہ چھُپ کر رہ گیا اور سینے علم کے نور سے خالی ہو گئے۔ مجھے اپنی پھوپھی یاد آتی ہیں جواپنی نظریں ٹی وی پر جمائے رکھتیں اور جب اذان ہوتی تو ان کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔ اب پاس ہی مسجد سے اذان ہوتی ہے توکان بند اور آنکھیں نور سے خالی رہتی ہیں۔

— جاری ہے —

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

(Visited 96 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: