ڈاکٹر جنید کی کتاب ’بنگلہ دیش کی تخلیق: فسانے اور حقائق‘ —- شاہد اعوان

0
  • 25
    Shares

سقوط مشرقی پاکستان کا زخم ایسا زخم ہے جو مسلسل رستا رہتا ہے۔ اگرچہ ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کے یہ زخم مندمل ہو چکا ہے مگر وقتاََ فوقتاََ اسکی ٹیسیں اپنی موجودگی کا شدید اظہارکرتی رہتی ہیں۔

پاکستانی قوم کے اجتماعی حافظہ میں محفوظ یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس نے پاکستان کی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ 16 دسمبر سے پہلے کی تعریف اور 16 دسمبر کے بعد کی تعریف۔

اس سانحہ کے حوالے سے اب تک ضبط تحریر میں لائے جانے والے بے شمار تحقیق لوازمہ کے باوجود سچ یہ ہے کہ خود ہمارے مقتدر حلقوں نے بھی اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر مکمل سچائی کو سامنے لانے سے گریز ہی کیا۔ اس کے نتیجے میں دشمن کا پروپیگنڈا اور جزوی صداقت پر مبنی بیانیہ حقیقت بن کر مسلط ہوتا چلا گیا۔

اپنی بے بصیرتی اور ناکردہ کاریوں کے باعث ہم قومی، بین الاقوامی اور خود بنگلہ دیش کی سرزمین پر تصویر کا دوسرا رخ نہ دکھانے کے باعث حسینہ واجد کی گذشتہ حکومت کے ہاتھوں پاکستانی وفاداروں کی لاشیں دیکھتے رہے۔ آج بھی وہاں دو قومی نظریہ کے علمبردار ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ آج وہاں پر دو قومی نظریہ یہ ہے کہ ’’ہم بنگالی نہیں ہم بنگلہ دیشی ہین‘‘۔ بنگلہ قوم پرستی تقسیم بنگال کی سرحد گرا دیتی ہے مگر بنگلہ دیشی قومیت بنگلہ قومیت سے جداگانہ مقام رکھتی ہے۔

ہمارا میڈیا اور بالخصوص انگریزی میڈیا اپنی نہاد میں بھارتی موقف کا سیلز مین ہے۔ جیسے حسینہ واجد انڈیا کی سیلز ایجنٹ۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے میڈیا کے پاکستان دشمن کردار کی وجہ سے ہی بین الاقوامی سطح پر بھی اس موضوع پر جو رائے عامہ تشکیل پاتی رہی ہے وہ پاکستان دشمنی پر مبنی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران نے کبھی اسے روکنے یا جوابی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی ہی نہیں کی۔ یہ جنگ عوامی سطح پر کسی حد تک اور مخصوص اور محدود میڈیا کے حلقے میں تو شاید سال میں ایک بار لڑی جاتی رہی مگر قومی سطح پر ایسی کوئی کاوش دیکھنے میں  نہیں آئی۔

اس پس منظر میں ڈاکٹر جنید صاحب کی اس تحقیقی کتاب کا انگریزی زبان میں شائع ہونا محب وطن پاکستانیوں کے لئے ایک خوش کن منظر ہے۔ یہ کتاب سقوط ڈھاکہ پراپنی نوعیت اور معیار کی پہلی کاوش ہے۔ جملہ تحقیقی معیارات کو پورا کرتا یہ علمی کام ایک ایسی تاریخی دستاویز کی صورت میں سامنے آیا ہے جس میں بے شمار ایسی معلومات اور حقائق موجود ہیں جو پہلی بار سامنے لائے گئے ہیں۔ معلومات کے اس خزانے تک رسائی ایک عام شہری کے لیے تقریبا ناممکن تھی مگر ڈاکٹر جنید کی خوشقسمتی کہ اس خزانہ سے استفادہ کرتے ہوئے ایسا شاندار کام کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

کتاب میں پیش کردہ حقائق اور معلومات دراصل اس موضوع پر پاکستانی موقف اور قومی بیانیہ کی تشکیل کی بنیاد ہیں۔ کتاب کے اردو ترجمہ کی اشاعت کے بعد تو گویا فرض کفایہ ادا ہو گیا کہ عام پاکستانی تک ان حقائق کا ابلاغ ہو گیا جن سے اسے آج تک محروم رکھا  گیا۔

سچ پوچھیں تو یہ کتاب اس قومی فرض کی ایک بہترین قسط کی صورت میں ادائیگی ہے جسے اتارنے کے لیے ہم سب ہی نظریں چراتے رہے ہیں۔
اب یہ ہمارے دانشوروں، اساتذہ، صحافیوں اور ارباب ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ اس بیانیے کو تشکیل دیں اور دنیا کے سامنے پیش کریں، ابلاغی جنگ کے محاذ پر اپنا کردار ادا کریں۔

میں ایک بار پھر براہ راست مصنف کو اس کی ہمت اور محنت کی داد دیتا ہوں اور بالواسطہ ان سب کو بھی جو اس شاندار کام کی تکمیل کا سبب بنے۔

ڈاکٹر صاحب آپ اگر مزید کچھ نہ بھی کرسکے تو صرف اس کام کی بنیاد پر یہ کہ سکتے ہیں کہ
شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم


کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر بحریہ یونیورسٹی اسلام آبا میں پڑھا گیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: