اے چاند! بھٹائی سے کہنا۔۔۔ اعجاز منگی

0

کراچی پر موسم سرما کی بارش ہو رہی تھی۔ آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا ۔ اگر مطلع صاف بھی ہوتا پالیوشن کے پردے کی وجہ سے چاند کہاں نظر آتا! ویسے بھی اس رات ربیع الثانی کی ستائیں تاریخ تھی۔ چاند کہیں نہیں تھا۔مگر پھر بھی نیشنل میوزم کے ہال میں بلند قامت اور سانولی رنگت والا وہ سندھی فنکار مسلسل گائے جا رہا تھا:
’’اے چاند! بھٹائی سے کہنا
جس رات میں تم نے گیت لکھے
وہ رات ابھی تک جاری ہے!‘‘
کہتے ہیں کہ سیاست سے زیادہ ثقافت اور ادب سے شغف رکھنے والے جی ایم سید نے جب یہ گیت پہلی بار سنا تھا تب وہ بہت رویا تھا۔مگر وقت کی گردش آنکھوں کے آنسو چھین چکی تھی۔سکھر سے لیکر کوٹری تک دریائے سندھ کا مٹیالا پانی پلوں کے نیچے گذر چکا تھا۔ لوگ پرانی باتیں بھول چکے تھے۔ مگر حالات سے بے نیاز وہ فنکار وجد جیسی کیفیت میں گا رہا تھا اس شاعر کا گیت جواب اس دھرتی میں ایسے بیج کی طرح سما چکا ہے جس کا موسم ابھی تک نہیں آیا۔
وہ موسم کب آئے گا؟
انور پیرزادہ کب دانے سے انبار بن جائے گا؟
اس وقت تو وادی سندھ کے دریدہ دامن میں انور جیسے دانے بھی نہیں۔
جنگلات کے ساتھ ساتھ صرف شیر ہی نہیں بلکہ جذبات کے ساتھ ساتھ وہ شاعر بھی کم ہوتے جا رہے ہیں جن کے سخن کی جڑ اس سرزمین کے سینے پر گیلی لکڑی کی طرح سلگتی رہتی تھی۔ وہ ظالم حکمرانوں کے ثناخواں نہیں بلکہ مظلوم عوام کا حوصلہ بڑھانے والے وہ آرٹسٹ تھے جنہیں قدیم سندھی زباں میں ’’چارن‘‘ کہا جاتا تھا ۔ وہ چارن مشہور آئرش شاعر اور گلوکار ’’تھامس مور‘‘ کے اس کردار کی طرح جیتے اور مرتے تھے جس کردار کو اس نے اپنی شہرہ آفاق نظم "The Minstrel Boy”(مغنی لڑکا) میں لافانیت سے ہمکنار کردیا تھا۔
کس قدر خوبصورت تھا وہ گیت جس میں تھامس مور نے اس نوخیز نوجوان کی کہانی بیان کی تھی۔ وہ کہانی جس میں اس نے بتایا تھا کہ:
’’مغنی لڑکا جنگ پر گیا
تم اس کا نام مرجانے والوں کی لسٹ میں دیکھ پاؤ گے
وہ لڑکا جس کے کمر پر والد کی تلوار لٹک رہی تھی
اور جس کی پیٹھ پر تھاشعلہ نوا ساز‘‘
انگریز ایسے کرداروں کو ’’بارڈ‘‘ بلاتے تھے۔ سندھی زباں میں ایسے کرداروں کے لیے ’’چارن‘‘ کا لفظ لکھا جاتا ہے۔
انور پیرزادہ بھی ایک چارن تھے۔ ایک ایسے چارن جو اپنے فن کو عوام کی امانت سمجھتے تھے۔ شاہ لطیف بھٹائی کا عوام دوست آرٹسٹک تسلسل تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ ان کا احتساب صرف وہ عظیم شخصیت کر سکتی ہے جس کو محبت سے وہ صرف ’’بھٹائی‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔
بھٹائی کے ساتھ سندھ کے الگ الگ لوگوں کا الگ الگ رشتہ ہے۔ تھر کی مشہور لوک فنکارہ مائی بھاگی کا یہ کلام ابھی تک سندھ کی سماعت کو اچھا لگتا ہے ؛ جس میں وہ اپنی دونوں آنکھیں بند کرکے ؛ سر پردوپٹہ اور ایک کان پر ہاتھ رکھ کر اپنے مخصوص انداز سے گاتی تھی کہ:
’’بھٹ کے بھٹائی
تیرا بھٹ رہے پرنور
میری مراد تم نے پوری کی‘‘
وہ عظیم شاعر اور داناہ دانشور جو پیری مریدی کا مخالف تھا سندھ کے سادہ لوح لوگوں نے اسے بھی روایتی روحانیت کے رنگ میں رنگ دیا۔ یہ بات ان انسانوں کے لیے تکلیف کا باعث ہے جو اپنے آپ کو بھٹائی کے فکری تسلسل سے جڑا ہوا سمجھتے ہیں۔ انور بھی اس قافلے کا فرد تھا جو سیاسی صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے جب بہت تھک جاتے ہیں تب بھٹ شاہ میں بھٹائی کے مزار کی دیوار ان کی دکھتی ہوئی پیٹھ کو ایک سکون فراہم کرتی ہے۔
جب بھٹ شاہ پر رات کے کاکل کھل جاتے ہیں اور چاند آسمان کی جھیل سے دھل کر نکلتا ہے اور فقیر ’’شاہ کا راگ‘‘ گاتے ہوئے مست ہوجاتے ہیں ۔ جب بھٹائی کے ’’سر کھنبھات‘‘ کے وہ اشعار ساز کی تاروں پر صدا بن جاتے ہیں؛ جن میں چاند کو قاصد بنا کر بھٹائی کہتا ہے کہ :
’’اے خوبصورت چاند ! میرا پیغام محبوب کو دینا
اور ایک ایک لفظ ایمانداری سے پیش کرنا
اور اس کے پیروں کو چھوتے ہوئے
اور اس کے ساتھ ادب سے مخاطب ہونا‘‘
اس وقت ایک مستی کی کیفیت نہ معلوم کیوں بھٹائی کے مزار پر تیرتے ہوئے پورے چاند کو آنکھوں میں بھرتے ہوئے اس صدا میں تبدیل ہوجاتی ہے کہ:
’’اے چاند! بھٹائی سے کہنا
جس رات میں تم نے گیت لکھے
وہ رات ابھی تک جاری ہے‘‘
وہ رات بھی مذکورہ گیت کے مرکزی خیال کی طرح کچھ سرد اور بہت سیاہ تھی۔ وہ رات جس میں ایک فنکار انور پیرزادہ کا گیت بلند آواز میں گا رہا رتھا۔اور بھٹائی کو اس دور کے بارے میں بتا رہا تھا کہ وقت کے ساتھ وہ دور سنگین ہوتا جا رہا ہے جس دور میں عوام ان کے کلام سے شعور حاصل کرنے کے بجائے اس کی مزار پر بیٹے کی مراد پوری ہونے کے لیے جاتے ہیں۔
اگر سندھ میں عوامی سطح تک شعور پہنچ چکا ہوتا تو آج سندھ اس سیاسی زوال کا شکار نہ ہوتی۔ انور پیرزادہ کے گیت کا ہر بول اس زخم کی پٹی کھول رہا جو سندھ کے وجود پر صدیوں سے بندھی ہوئی ہے۔ وہ پرانے زخم ابھی تک نہیں بھرے جن زخموں کے بارے میں شیخ ایاز نے لکھا تھا کہ:
’’اپنے زخم پرانے تھے
یاوہ وید دیوانے تھے؟‘‘
سندھ کے موجودہ سیاسی اور سماجی حالات کا موقف یہی ہے کہ کچھ زخم پرانے ہیں اور کچھ سیاسی حکیم علاج سے انجان ہیں۔
دنیا میں جہاں جہاں تبدیلی آئی ہے ؛ وہاں عوامی سیاست نے انقلابی ادب کی نشونما کی ہے مگر سندھ میں ادیب کا قلم روات بن کر سیاست کی تلوار کو تیز کرتا ہے۔ مگر اب وہ قلم اجتماعی جدوجہد کی راہ ہموار کرنے کے بجائے انفرادی مفادات تک محدود ہوگیا ہے۔ ادب کا سورج بہانوں کے بادلوں پیچھے چھپ گیا اس لیے آدرشوں کے سورج مکھی اداس ہیں۔
سندھی ادب میں عوامی محبت کی وہ روایت جو بھٹائی نے اپنے کلام میں بوئی تھی اور جو روایت انور کے دور تک چلتی آئی اب اس روایت کی نبض رک گئی ہے۔اب سندھی ادب عوامی شعور کو اجاگر کرنے والا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ وہ ادیب جو اپنے فن اور شعور کو تاریخ کی امانت سمجھتے تھے وہ اب اس دھرتی کے اندر تو ہیں مگر اس دھرتی کے اوپر نہیں۔ اس لیے اس رات انور کا گیت صرف اس دور کی دہائی نہ تھا جس دور میں انور جیسے ادیب اور شاعر قلم کو علم بنا کر جہالت اور غلامی کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ کرنا چاہتے تھے مگر یہ المیہ اس دور میں زیادہ تکلیف کا باعث بن گیا ہے جس دور کو انور پورے اعتماد کے ساتھ مخاطب ہوکر کہہ سکتا ہے کہ:
’’ہم سہل پسند کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے؟‘‘
سندھ کی اس زوالی صورتحال کا ذمہ کس پر عائد کیا جائے؟ کیا یہ ان سیاستدانوں کا قصور ہے جو اپنے آدرشوں سے پیچھے ہٹ گئے اور اجتماعی نجات کے پیغام کو فراموش کرکے اب وہ انفرادی مفادات تک محدود ہوگئے ہیں! یا پھر بقول شیکسپےئر ساراقصور چاند کا ہے۔ یہ مفادات کا چاند اس دھرتی کے اتنے قریب آگیا ہے کہ انسانوں کے لیے اپنا ہوش سنبھالنا ممکن نہیں رہا۔ کیا یہ صورتحال صرف سندھ تک محدود ہے؟ یا پوری دنیا آدرشوں کے حوالے سے کنگال ہے؟
وہ ادب کہاں ہے؟ جس کا تذکرہ تبدیلی کا تذکرہ ہوا کرتا تھا۔ وہ ادب کہاں ہے ؟ جس کے حوالے سے کل شیخ ایاز نے لکھا تھا کہ :
’’یہ گیت ہے اور یہ گولہ ہے
تم جو بھی چنو؛ تم جو بھی چنو
میرے لیے دونوں ایک سماں!!‘‘
وہ گیت جو کل گلاب کے پھولوں جیسے گوریلے تھے آج مایوسی کی علامت کی طرح نیلے اور پیلے ہیں۔
سندھی ادب پر اترا ہوا مایوسی کا یہ موسم محسوس کرنے والے بھی اب کہاں ہیں؟
اب سب کے لیے ادب ایک تفریح ہے۔ وہ ادب جو کبھی ایک طوفان تھا ۔ وہ ادب اب تھوڑی طنز اور بہت سارا مزاح ہے۔ وہ ادب جو کبھی زخمی ہونٹوں پر بکھری ہوئی ایک مسکراہٹ تھا۔ وہ ادب ایک آوارہ قہقہ بن چکا ہے۔ وہ ادب جو پہلے ایک فریاد تھا ؛ وہ ادب اب محض ایک داد بن چکا ہے۔ وہ ادیب اب تاریخ سے کیے ہوئے سارے وعدے بھول چکے ہیں۔ وہ ادیب اب سرکاری محفلوں کا منورنجن ہیں؛ جن ادیبوں سے کبھی شیخ ایا ز نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا:
’’میرے دیدہ ورو
میرے دانشورو
پاؤں زخمی سہی
ڈگمگاتے چلو
راہ میں سنگ و آہن کے ٹکراؤ سے
اپنے زنجیر کو جگمگاتے چلو!!‘‘
اب سندھ کا ادبی چمن ان دیدہ وروں سے محروم ہوچکا ہے جنہیں ایا ز نے ہدایت کی تھی کہ:
’’میرے دیدہ ورو اپنی تحریر سے
اپنی تقدیر کو نقش کرتے چلو
تھام لو ایک دم
یہ عصائے قلم
ایک فرعون کیا
لاکھ فرعون ہوں
ڈوب ہی جائیں گے
ڈوب ہی جائیں گے‘‘
وہ ادب جو کبھی یلغار تھا؛ وہ ادب ایک شرمندہ ہار بن چکا ہے۔
ایسے ماحول میں انور پیرزادہ کا یہ گیت بھولی بسری تاریخ کی ایک چیخ ہے۔
وہ چیخ جو چاند کو پکار رہی ہے اور کہہ رہی ہے :
اے چاند! بھٹائی سائیں کی چوکھٹ سے اپنے آپ کو ٹکراؤ
اور اسے بتاؤ:
’’جس رات میں تم نے گیت لکھے
وہ رات ابھی تک جاری ہے!!‘‘

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: