فیض صاحب، کلچر اور ایکس کیوز می —– عزیز ابن الحسن

0
  • 145
    Shares

فیض صاحب کلچر پر گفتگو کر رہے تھے اور یہ ستر کے دہائی تھی۔

لیکن ذرا ٹھہریے یہ میں جو ان دنوں تہذیب و ثقافت کے مسئلے کو لے بیٹھا ہوں تو یہ اتنی بھی بے وقت کی راگنی نہیں۔ غالبا نوے کا عشرہ تھا انتظار حسین نے اپنے کسی مضمون میں لکھا کہ ہم تو سمجھتے کہ کلچر کے مسئلے کو ہماری نسل کے لوگوں نے بیس پچیس سال پہلے حل کردیا تھا۔ لیکن صاحب، فحاشی کی طرح کلچر بھی ایک ایسا موضوع ہے، لگتا ہے کہ اس پر وقتا فوقتا بات چلتی رہے گی۔

ذکر تھا فیض صاحب کی کلچر پر گفتگو کا۔ یوں تو فیض صاحب کا انداز بھی کوئی ایسا نادانہ و محققانہ نہیں تھا دکھی دل میں ہے تنقیدی نہیں تھا۔ صاف سیدھی سیدھی باتوں میں کلچر کے خدوخال واضح کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فیض کی یہ گفتگو ڈاکٹر خورشید عبداللہ نے لطف اللہ خان کے آواز خزانے سے سانجھ کی ہے۔ [دیکھئے نیچے دی گئی وڈیو)

کلچر کے موضوع پر فیض صاحب کے خیالات اور ان کے نقطہ نظر کے حوالے سے پھر کسی موقع پر ان شاء اللہ کچھ عرض کروں گا سردست اس میں سے کی ایک بات پر کچھ توجہ دلانا مقصود ہے۔

فیض صاحب گفتگو ختم کرچکے تو سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ سوالات کرنے والوں میں یوں تو بہت سے نام تھے لیکن ان میں سے جی الانا اور اشفاق احمد خاص طور پر پہچانے گئے۔ باقی لوگوں کے سوالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف علاقوں سے اور مختلف زبانیں بولنے والے دانشور تھے اور ان میں سے ہر ایک کلچر کے بارے میں کوئی سوچی سمجھی رائے ضرور رکھتا تھا۔

قیاساً کہا جاسکتا ہے کہ اس پروگرام کی ریکارڈنگ کا زمانہ انیس سو پچھتر یا ستر کے درمیان تھا۔ فیض صاحب کی یہ ساری گفتگو تصور پاکستان اور دو قومی نظریے کو ایک حقیقت مان کر اور اسکی جغرافیائی حدود کے اندر پائے جانے والے مخصوص کلچر کے حوالے سے تھی جو یہاں کی مختلف قومیتوں کے رسم و رواج، مختلف زبانوں، علاقائی انفرادیت اور ان کے مذہبی تصورات کے تال میل سے بنا ہے۔ اسے فیض صاحب پاکستانی کلچر کہہ رہے تھے۔ اور صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا کہ اس معاملے میں یعنی کلچر کے مسئلے پر فیض صاحب کے تصورات اس زمانے کے ترقی پسندوں کے عمومی تصوراتِ کلچر سے الگ ہیں۔ فیض صاحب پاکستان کے مسلمانوں کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک الگ اکای مان کر اس سرزمین کے کلچر کا تعیین کر رہے تھے۔

جب سوالات کا سلسلہ شروع ہوا تو مجھے دیکھ یہ دیکھ کر یک گونہ حیرت اور خوشی ہوئی کہ انیس سو پچھترتک بھی پاکستان کی مختلف زبانوں اور علاقوں کے دانشوروں میں ابھی نظریہ پاکستان یعنی دو قومی نظریے کی مذہبی اساس پر بالعموم اتفاق ہی پایا جاتا تھا اور یہ کہ کسی سوال کنندہ نے بھی اس حقیقت سے ذرا انکار یا انحراف نہیں کیا کہ پاکستان ایک مذہبی نظریاتی حقیقت ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اگر کہیں کسی نے محسوس کیا کہ فیض صاحب کی باتوں میں اس حوالے سے کچھ تھوڑا سا ابہام یا غیر واضح پن ہے تو انہوں نے فیض صاحب کو اس طرف متوجہ کیا کہ پاکستان ہمارا ایک نظریاتی خطہ ہے اور اس کے کلچر اور اس کے اظہار کی مختلف صورتوں یعنی فنون، ادب، شاعری، تعمیرات اور موسیقی وغیرہ کو بھی اسی حوالے سے متعین ہونا چاہیے۔

یہ سب سنتے ہوئے میں یہ سوچتا رہا کہ اگر آج پاکستانی کلچر کے حوالے سے کوئی اس طرح کی بحث اٹھائے تو اول تو ہمارے دانشور ہی اس بات پر طوفان اٹھا دیں گے کہ پاکستان ایک نظریاتی وحدت ہے۔

خیر ہم آگے چلتے ہیں اور اشفاق احمد کے اٹھائے ہوئے ایک سوال پر غور کرتے ہیں۔ اشفاق احمد کا سوال بہت دلچسپ تھا کہنے لگے کہ

“فیض صاحب ہم نے اپنے بچپن میں یہ دیکھا اور بزرگوں سے یہی سیکھا کہ کام کا آغاز بسم اللہ سے کرنا چاہیے جب چھینک آئے تو الحمدللہ کہنا جاہیے۔ ہماری نسل روزمرہ کی زندگی اور مختلف موقعوں پر الحمدللہ اور بسم اللہ کو اپنی ذہنی تربیت کا حصہ مان کر جوان ہوئی ہے اور یہی الحمدللہ بسم اللہ ہمارے کلچرل آداب میں سے ہیں۔ لیکن اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری نئی نسل چھینک آنے پر الحمد للہ کہنے کے بجائے “ایکس کیوز می” کہنا پسند کرتی ہے۔ تو یہ جو تبدیلی آرہی ہے اور ہم الحمد اللہ اور ایکسکیوزمی کے درمیان جولتے جھولتے اب ایکسکیوز می کی طرف مائل ہورہے ہیں اسکا سبب کیا ہے اور اسکا سدباب کیا ہے؟”

زیادہ تفصیل میں جائے بغیر عرض ہے کہ فیض صاحب نے اس کے جواب میں اور بہت کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ یہ کہا کہ

“یہ سب کچھ ہمارے ہاں تیزی سے پیدا ہونے والے انگلش میڈیم اسکولوں اور ان جیسی تربیت گاہوں سے نکلنے والے بچوں کی عادات کی وجہ سے ہے اور ہمیں اس پر بجا طور پر تشویش ہونی چاہیے”

یہاں توجہ اس نکتے پر مرکوز کرانا مقصود ہے کہ ہماری روزمرہ کی زندگی کے اظہارات اور ہمارے آداب اور رسوم جو کہ کلچر کا حصہ ہوتے ہیں ان پر بھی ہمارے ذہنی تصورات اور اقدارِ حیات کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہمارے اقدار حیات اور ہمارے ذہنی تصورات، جن کا فاعلی حصہ مذہب سے آتا ہے اورانفعالی جہت ارضی مظاہر سے متعین ہوتی ہے، بالآخر کلچر کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے کلچر انھی تصورات اور اقدارِ حیات کا خارجی سنگی قلعہ ہوتا ہے جس کی فصیلوں پر باہر سے سیندھ لگانے والی قوتوں کیطرف سے ہر لمحے چوکنا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی اشفاق احمد کی تشویش اور فیض صاحب کی تصویب تھی۔

یہاں لطیفے کے طور پر ایک شے کی طرف اشارہ کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ قیام پاکستان کے گردوپیش ہمارے ہاں جو کلچر کے مباحث پیدا ہوئے ان میں بعض لوگوں نے لوٹے کی ٹونٹی میں بھی مسلم کلچر کی انفرادیت ڈھونڈ نکالی تھی۔ اشفاق احمد کی بات میں کلچر کے حوالے سے جو فرق و امتیاز الحمد للہ اور ایکسکیوزمی میں نظر آتا ہے کچھ ویسا ہی معاملہ برصغیر پاک وہند میں پیدا ہونے والے مسلمانوں نے یہاں کی گڑوی میں ٹونٹی لگا کر کیا۔ گڑوی میں ٹوٹی لگنے سے جو ایک ممتاز شے پیدا ہوئی اس کا نام لوٹا رکھا گیا۔ ہندو کڑوی اور مسلمان لوٹے میں مناکحت کے نتیجے میں وہ شے پیدا ہوئی جسے ہندوستان میں “ہند مسلم کلچر” کہا جانے لگا۔ کلچر جہاں بسم اللہ والحمد اللہ جیسے ذھنی اظہارات اور آداب محفل پیدا کرتا ہے وہاں ٹھوس لوٹے مصلے کو بھی جنم دیتا ہے اور تعمیرات و موسیقی جیسی فنی اوضاع تک میں بھی اپنی انفرادیت کا ٹھپا لگا دیتا ہے۔

ہندوستان میں یہ گڑوی/لوٹا اور شمالی ہند کی خیال موسیقی/کرناٹک گائکی صدیوں تک ساتھ ساتھ پرامن بقائے باہمی کے تحت رہتے رہے تا آنکہ یہاں “ڈرائی کلیننگ” سے کام چلاتا ہوا انگریز بہادر تشریف لایا جسے نہ کڑوی سے کوئی مطلب تھا اورنا لوٹے کی حاجتت تھی۔ اس نے فورٹ ولیم کالج اور اس سے بھی کچھ پہلے یہاں پر گڑوی اورلوٹے، معاف کیجیے گا کہ ہندو اور مسلمان کو دو بالکل الگ الگ اور ایک دوسرے سے متحارب وجود بنا کر پیش کرنے کی بِنا ڈالی۔ پھر یوں ہوا کہ اپنی اپنی انفرادی شناخت کے ساتھ صدیوں تک ساتھ ساتھ رہنے والی دو ممتاز قومیں ایک دوسرے کے خلاف دو متحارب گروہوں میں تبدیل کردی گئیں۔ اپنے رومن آباء و اجداد کی صدیوں پرانی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو (divide et impera in Latin) ہونے ہندوستان میں اس حد تک کامیابی سے برتا کہ انگریز بہادر کو یقین ہو گیا کہ یہ دوقومیں اب کسی کی لاکھ کوشش سے بھی متحد نہیں رہ سکیں گی۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  فیض: انقلابِ چین سے انقلابِ ایران تک ——- فتح محمد ملک

 

برصغیر پاک و ہند میں مسلمان اور یہاں کے مقامی اسلام قبول کرنے والے لوگ اپنے روز اول ہی سے بالقوۃ و بالعمل ایک الگ قوم بن گئے تھے۔ مگر ان کا یہ الگ قوم ہونا اپنے لاکھوں کروڑوں ہموطنوں سے عموما کسی جھگڑے کا سبب نہ بنتا تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ قدیم ترین ہندو مسلم فساد کی تاریخ بھی انگریزوں کے یہاں قدم جما لینے کے کافی عرصے بعد اور انہی کی سرتوڑ کوششوں سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے گرد و پیش کے زمانے میں انگریز کی لڑاؤ اور حکومت کرو پالیسی کے اثرات اتنے گہرے ہو گئے تھے کہ خود ہندوؤں میں بھی مسلمانوں کو اپنے سے الگ ایک وجود سمجھنے کا رجحان شدت اختیار کرچکا تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مسلمانوں کے اندر علیحدگی کا کوئی رجحان نہیں تھا۔ ہندووں اور مسلمانوں میں مذہب تہذیب اور کلچر تو ہمیشہ سے ایک امتیازی نشان رہا اور دونوں کو یہ بھی خوب احساس تھا کہ وہ دو الگ الگ وجود ہیں لیکن ان دونوں طبقوں میں عملی اشتراک پیدا کرنے والا سب سے اہم وسیلۂ ابلاغ، انکی باہمی زبان جسے تاریخ میں مختلف اوقات اور علاقوں میں مختلف نام دیئے گئے ـــ ہندی ہندوی گجری دکنی اور ریختہ وغیرہ ـــ یہ زبان ان دونوں طبقوں میں صدیوں تک اتحاد اشتراک میل جول اور ربط ضبط کی اتنی مضبوط زنجیر رہی ہے کہ ہزار اختلاف کے باوجود ان میں کبھی کوئی بڑا ملک کی قسم کا فرقہ ورانہ مناقشہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ اور اگر خلجی و اورنگ زیب کے عہد میں مہاراجگانِ دیوگیری و مرہٹانِ دکن میں جنگیں ہوئی بھی ہے تو وہ عام اصول ملک گیری کی اصول کے تحت ہوئی ہے مذہبی بنیادوں پر نہیں تھیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ اورنگزیب کی فوج میں ہندو بھی تھے اور مرہٹہ لشکر میں مسلمان امراء بھی شامل رہتے تھے۔

لیکن فورٹ ولیم کالج کے منشیوں کے ذریعے صاحب بہادر نے جب مسلمانوں کے لئے عربی+فارسی آمیز “اردو زبان اور ہندوؤں کے لیے سنسکرت آمیز “ہندی زبان” “ایجاد” کرائی تو یہ گویا ہندو مسلم اتحاد کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوئی۔ اس کے بعد تو بعض مسلمان بھی اس مفروضے پر ایمان لے آئے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے او ہندی ہندو کی زبان ہے۔ ہندو مسلم اتحاد کی سیاست میں مستقل تفرقہ ڈالنے کے لئے انگریز نے یوں تو بہت سی جہات سے کوششیں کیں مگر راقم کے خیال میں اس دو لسانی پالیسی سے زیادہ خطرناک کوئی شے اس نے اس ہندوستان میں ایجاد نہیں کی۔
لسانی افتراق کا یہ ہتھیار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ اس سے پیدا ہونے والے تنافر اور ہندو ہٹ دھرمی کے آگے ہندو مسلم اتحاد کا سفیر محمد علی جناح بھی اپنی آخری آخری کوششیں کرکے تھک ہارا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسباب خواہ کچھ بھی رہے ہوں اب ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا مل کر رہنا ممکن نہیں رہ گیا۔ اور آئندہ جب کہ بین الاقوامی حالات کے دباؤ کے تحت جلد یا دیر انگریز کا یہاں سے بوریا بستر سمیٹ کر چلے جانا طے ہے تو اقتدار و سیاست کی نئی اور فیصلہ کن قوت یعنی جمہوریت، جو اس سے پہلے ہندوستان میں کبھی بھی متعارف اور اور مروج نہیں ہوئی تھی، کی موجودگی میں مسلمانوں کے لیے اس ہندوستان میں برابری کی کوئ جگہ نہیں بچے گی و لہذا قائداعظم علیحدگی پر ڈٹ گئے اور بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔

یہاں ایک بات مکرر واضح کرنا ضروری ہے کہ راقم کے نزدیک دو قومی نظریے کی بنیاد اول و اخر مذہب ہی تھا۔ مذہب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دیگر ضمنی مظاہر از قسم تہذیب و کلچر کے علاوہ دوسری ایسی کوئی شے نہیں تھی، حتیٰ کہ زبان بھی نہیں، جو ہندوستان کے ہندو اور مسلمان باسیوں کو اتنی شدت اور اتنے فیصلہ کن انداز میں ایک دوسرے سے الگ کرتی ہو۔ یہاں ضمنا یہ بھی عرض کردوں کہ جو لوگ سادگی میں یہ کہا کرتے ہیں نا کہ ‘ہندو اور مسلمانوں کے درمیان اصل مسئلہ معاشی تھا مذہبی نہیں تھا’ تو ان کا موقف اگر انھی کی لفظیات و اصطلاحات میں ہی مان لیا جائے تو تب بھی ان سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ “ہندو معاش اور مسلمان معاش کو ایک دوسرے سے اس حد تک جدا کرنے والا وہ عنصر کونسا تھا جس سے ان کے مفادات میں اس ہولناک حد تک تصادم پیدا ہوچکا تھا”۔ اس کے جواب میں راقم نے جتنی بھی آئیں بائیں شائیں قسم کی سخن سازیاں آج تک سنی ہیں، آخری تجزیے میں اس کا جواب مذہب ہی نکلتا ہے۔

لیکن مذہب کی بنیاد پر ہندوستان میں دو الگ قوموں کے امتیاز کو، جو کہ ایک حقیقی امر واقعہ تھا، افتراق انتشار اور اختلاف کا ایسا زہریلا بیج بنانے والے کہ جس کے برگ وبار تقسیم سے کم کسی صورت میں ظاہر ہوں، ہندو یا مسلمان نہیں بلکہ انگریز تھے۔ اپنی اس پالیسی کا آغاز انہوں نے انیسویں صدی کے آغاز ہی میں کر دیا تھا۔ اس کسیلی اور کٹیلی حکمت عملی کے تمام تر ثمرات تو انگریز نے سمیٹے اور ہندوستان و پاکستان کے رہنے والے ہم لوگ اس کے اثراتِ بد کو آج اتنے عرصے بعد بھی بھگت رہے ہیں۔ یہی وہ پس منظر تھا کہ جب سیاسی منافرت اس حد تک پہنچا دی گئی تو کچھ مسلمان اہل دانش نے لوٹے کو بھی مسلم کلچر کی ایک علامت بنادیا تھا۔

میں یہاں مکرراً اور تاکیداً یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہندو مسلم اتحاد میں تفرقے کا پہلا اور مہلک ترین بیج تو انگریز نے بویا تھا مگر متحدہ ہندوستان کو باقی نہ رہنے دینے اور اس سلسلے میں قائداعظم کی تمام تر کوششوں کو سبوتاژ کرنے میں فیصلہ کن کردار ہندوؤں کے چند مقتدر نیتاؤں ــسیکولر نہرو اور متعصب ہندو سردار پٹیلــ نے ادا کیا تھا جس کی گواہی انتہا پسند راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے جسونت سنگھ نے قائداعظم محمدعلی جناح پر اپنی کتاب میں بھی دی تھی کچھ ایسی ہی باتیں بعد میں اسی انتہا پسند تنظیم (آر ایس ایس) کے سابق سربراہ سور درشن بھی کرتے رہے ہیں۔

https://www.bbc.com/urdu/lg/india/2009/08/090825_jinah_rss_sz.shtml

اور اس سلسلے میں اگر خوشونت سنگھ جیسے لبرل بلکہ لامذہب مورخ کی گواہی بھی مطلوب ہو تو عمران شاہد بھنڈر جیسے لبرل دانشور کی یہ تحریر دیکھی جاسکتی ہے:

《”کل رات میں نے آزاد اور روشن خیالی کے چشمے لگا کر خشونت سنگھ کی کتاب ”بھارت کا خاتمہ” مکمل کی۔ پہلے صفحے سے لے کر آخری صفحے تک مجھے یہ خیال آتا رہے کہ خشونت سنگھ کوئی آزاد خیال یا روشن خیال نہیں ہے، بلکہ طالبان کا ساتھی یا پھر القاعدہ کا رکن ہے، کیونکہ اس نے بھارت کے مسلمانوں کی ہر جگہ حمایت کی ہے اور ہندو دہشت گردی کے اس گھنائونے چہرے کو عیاں کیا ہے، جس پر لبرل ہمیشہ پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ آئیے ایک اقتباس ملاحظہ کرتے ہیں:

‘مسلمانوں کا رویہ صرف سیاسی نہیں بلکہ قومی ہے۔ ہم نے 1947 کے بعد انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ غیر مسلمانوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو متعصب، جنونی اور غدار تصور کیا ہے۔ ہمیں بچپن میں پرتھوی راج چوہان، مہارانا پرتاب، گرو گوبند سنگھ، اور چھتر پتی شیو جی کی کہانیاں سنائی گئیں۔ ہمارے سب ہیرو غیر مسلم تھے، جنہوں نے مسلمانوں سے جنگیں لڑی تھیں۔ ہماری دیو مالا میں کوئی ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔ اکبر محض ایک نمائشی شخصیت تھا۔ ہمیں صرف یہی بتایا جاتا تھا کہ مسلمان فاتحین نے ہمارے مندر مسمار کیے، ہمارے لوگوں کو ہلاک کیا اور جزیہ وصول کیا۔ اگرچہ برطانیہ کی حکومت قائم ہونے کے بعد یہ سب ختم ہوگیا مگر ہم نے مسلمانوں پر بے اعتمادی جاری رکھی۔ چند زیادہ لبرل غیر مسلمانوں نے مسلمانوں سے دکھاوے کی دوستی کی، تاہم ان کی موجودگی میں ہم سکون محسوس کرتے تھے اور نہ کھل کر اختلاف کرتے تھے۔ ہم نے مسلمانوں سے ہمیشہ منافقت برتی۔ وہ ہندوستانی مرکزی دھارے کا حصہ نہیں تھے۔ محمد علی جناح کو دو قومی نظریہ وضع نہیں کرنا پڑا تھا، یہ تو ہر ایسے شخص کے لیے پہلے سے موجود تھا جو آنکھیں رکھتا ہو۔ ہم ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو ایک الگ قوم بنائے رکھا۔ ہم نے ہی انہیں تہذیبی، معاشی اور سیاسی اعتبار سے ایک الگ اکائی قرار دیے رکھا۔ چنانچہ جناح نے دو قومی نظریہ پیش کیا تو وہ غلط نہیں تھے۔ کیونکہ ان سے پہلے ہم خود مسلمانوں کو ایک الگ قوم تصور کرچکے تھے۔’》

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10152547221306129&id=633796128

اس تناظر میں اب فیض صاحب کی گفتگو کو دیکھیے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور اس کی اس کی بغل بچہ تنظیم ترقی پسند تحریک من حیث الجماعت اگرچہ ایک مدت تک تحریک پاکستان کو ایک فرقہ وارانہ تحریک گردانتی رہی اور اس کے مقتدر قائدین نے ایک مدت تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا اور اسی لئے قیام پاکستان کے بعد پاکستانی کلچر کے مباحث میں ترقی پسند سرکاری نقطہ نظر پاکستان کے کلچر سے مذہبی عنصر کے انکار پر جما رہا تھا لیکن غصے اور کرودھ کی فضا جب ذرا ٹھنڈی ہوئی تو فیض صاحب تو رہے ایک طرف کہ وہ تو تھے ہی “حافظ فیض احمد فیض”، ممتاز حسین جیسے بڑے ترقی پسند نظریہ کار نے بھی پاکستانی کلچر کی مذہبی بنیادوں کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ وہ اس پر اصرار بھی کرتے نظرآئے تھے۔

اس سارے پس منظر میں اشفاق احمد کا یہ سوال اپنی جگہ آج بھی اہم ہے کہ بسم اللہ والحمدللہ کی فضاؤں میں تربیت پانے والوں کی اگلی نسل کیوں ایکس کیوز می کہتی نظر آتی ہے، اور اقبال کے بعد ہمارے انتہائی اہم شاعر و دانشور فیض احمد فیض کو اس پر بجا طور پر تشویش ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس کا سدباب ہونا چاہیے۔

سچ ہے کہ
ہر رہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے۔

(Visited 214 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: