اپنے بچوں کو اذیت کا نشانہ بننے سے بچائیں

0
  • 47
    Shares

اسکول بس میں جماعت دوم کی ایک بچی کے ساتھ جماعت پنجم کی اس طالبہ نے کچھ دنوں سے بیٹھنا شروع کیا تھا جو کچھ عرصہ قبل ہی اس بس میں سکول انے جانے لگی تھی. پہلے پہل ہلکی پھلکی بات چیت کے بعد اس نے چھوٹی بچی سے کہا کہ کھڑکی کے پاس میں بیٹھوں گی ، تم یہاں اس طرف ہو کر بیٹھو. پھر ادھر ادھر کی کہانیاں سناتے جب وہ اسے اپنا سکول سے بچا ہوا لنچ یا کوئی بسکٹ ، چپس یا ٹافی کھاتے دیکھتی تو تحکمانہ انداز میں کہتی کہ مجھے بھی دو. اور اس طرح وہ اس کی کھانے پینے کی اشیا پر بھی قبضہ  کرنے لگی. چھوٹی بچی کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا لیکن وہ اسے روک نہیں سکتی تھی کیوں کہ وہ عمر اور قد کاٹھ میں بڑی تھی اور بات بھی تحکمانہ انداز میں کرتی تھی. ایک دو ماہ بعد کی بات ہے کہ بڑی لڑکی اپنی ایک تصویر لے کر آئی اور چھوٹی لڑکی کو دکھانے لگی. پھر اس نے پیش کش کی کہ تم چاہو تو یہ تصویر اپنے پاس رکھ لو. چھوٹی لڑکی کو اس تصویر میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لہٰذا اس نے انکار کیا مگر ادھر اصرار بڑھتا گیا. جب چھوٹی بچی نے مسلسل انکار کیا تو اس نے بالاخر وہ تصویر اس کے بستے میں ڈال دی اور کہا کہ میں تمھاری سہیلی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ یہ تصویر تم اپنے پاس رکھ لو. بچپن کے بے فکری اور لاپروائی کے ان دنوں میں وہ تصویر چھوٹی لڑکی سے کہیں کھو گئی. کچھ عرصے بعد اس نے اپنی تصویر واپس مانگی تو چھوٹی لڑکی نے بتا دیا کہ وہ اسے نہیں مل رہی. کہانی یہاں سے سنگین ہوتی گئی. اب بڑی لڑکی روزانہ چھوٹی بچی کو دھمکاتی اور اپنی تصویر کا مطالبہ کرتی. نہ ملنے کی صورت میں وہ اس سے کبھی پیسے، کبھی لنچ اور کبھی کوئی اور شے ہتھیا لیتی. یہاں تک کہ اس نے اتنی رقم کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا جو کم از کم دوسری جماعت کی اس چھوٹی سی بچی کے لئے بہت زیادہ تھی. بچی کی ماں کو اس وقت تشویش ہوئی جب اس نے سکول جاتے وقت رونا بسورنا اور ضد کرنا شروع کردیا. کبھی اس کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو جاتا اور کبھی سر میں. ہوم ورک بھی نہیں کرتی. چڑ چڑی اور خوفزدہ نظر آتی. بچی کے گھر والے سمجھدار تھے. بات کھلنے پر انہوں نے سکول جا کر بات کی اور بچی کی جان کسی حد تک چھوٹ گئی.

دوسرا واقعہ اس سے زیادہ سنگین ہے. جماعت ہفتم کے ایک  بچے کواس کے والد صاحب ڈاکٹر کے پاس لے کر اے کہ اس کے اساتذہ اور گھر والوں کا خیال ہے کہ اس کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسلہ ہے. یہ بالکل بات نہیں کرتا. گم سم رہتا ہے، سکول میں کارکردگی بالکل خراب ہے. کھیل کود، کام کاج کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتا. پیار اور مار دونوں آزما کر دیکھ لیا، مگر یہ نہیں سدھرتا. بہت کوشش کے باوجود بچہ بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوا.بس  سرہلاتا  اور خالی خالی نظروں سے دیکھنے لگتا. تھوڑے صبر، نرمی، محبت اور چھوٹے چھوٹے سوالات سے عقدہ کھلا کہ بڑی جماعتوں کے بچے اسے ہراساں کرتے ہیں. مذاق اڑانا، بدتمیزی کرنا، تحکمانہ انداز میں اپنے کام کروانا اور کبھی کبھی جنسی طور پر نازیبا حرکات کرنے پر مجبور کرنا ان کی معمول کی سرگرمی ہے. تکلیف دہ صورت حال یہ تھی کہ بچے کے باپ کے خیال میں یہ بات اتنی بڑی نہیں تھی کہ بچے کے اس طرز عمل کا محرک بن سکتی. ان کا خیال تھا کہ سکولوں میں تو یہ ہوتا ہی ہے. ان کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں بھی تو دوسرے بچوں کو کیسے روک سکتا ہوں؟ سکول سرکاری ہے جہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں.  

 بلینگ اپنے سے کمزور کے خلاف طاقت کا مسلسل ناجائز استعمال ہے. مراد یہ ہے کہ کسی اپنے سے کمزور کو مسلسل ذہنی، جسمانی، قولی یا جذباتی طور پر اذیت کا نشانہ بنایا جاۓ. اذیت رسانی کا یہ عمل تعلیمی اداروں ، جاۓ ملازمت اور دوسرے سماجی مقامات پر عام ہے. اذیت رسانی کی یہ تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تاریخ. گزرتے وقت کے ساتھ دوسرے منفی سماجی رویوں کے ساتھ ساتھ اس قبیح فعل کے خلاف بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے.

ایذا رسانی کی کئی صورتیں ہیں. آوازیں کسنا، برے القاب سے پکارنا، تمسخر اڑانا، ڈرانا دھمکانا، زبردستی نا پسندیدہ کاموں پر مجبور کرنا ، جسمانی اذیت پہنچانا یا جنسی طور پر ہراساں کرنا. یہ عمل کئی کئی برس تک جاری رہتا ہے. اس زیادتی کا شکار چونکہ نسبتا کمزور ہوتا ہے اس لئے وہ اس عمل کو روک نہیں پاتا. وہ اس قدر خوفزدہ ہوتا ہے کہ کسی اور سے اس حوالے سے بات بھی نہیں کر سکتا. اور اکثر اوقات یہ سمجھتا ہے کہ جس حوالے سے اسے ہراساں کیا جاتا ہے وہ کمزوری واقعی اس میں پائی جاتی ہے. یعنی وہ خود قصور وار ہے. مثلا یہ کہ وہ بدصورت، کمزور، بزدل اور کم تر ہے. اپنی تذلیل اسے شرمندہ اور خوفزدہ رکھتی ہے. اور اگر کبھی وہ کسی بڑے سے مدد طلب بھی کرنا چاہے تو اسے روکنا آسان نہیں.اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلا اس کی بات کو سنجیدگی سے نہ سنا جانا، مظلوم کا آواز اٹھانے سے احتراز، دوسرے بچوں کی طرف سے متعلقہ معلومات کی فراہمی سے انکار، ظالم کی سماجی حیثیت اور تادیب کے  مناسب اور نتیجہ خیز نظام کی عدم موجودگی.  جسمانی یا ذہنی طور پر معذور افراد سب سے زیادہ ہراساں کیے جاتے ہیں. اسی طرح فربہ ، پستہ قد، کم رنگت والے یا جسمانی و نفسیاتی طور پر مختلف افراد زیادہ تر نشانہ بنتے ہیں.

ایذا رسانی کا نشانہ بننے والے کچھ افراد کے دردناک واقعات نے ترقی یافتہ دنیا میں خاص طور پر اس مسلے کو سنجیدگی سے عوامی سطح پر گفتگو اور آگہی کا موضوع بننے پر مجبور کردیا. سکولوں، کالجوں اور سوشل میڈیا پر ہونے والی یہ ایذا رسانی کئی نوجوانوں کے  خود کشی کر لینے پر منتج ہوئی.کئی بچے نشہ اور اشیاء کا استعمال کرنے لگتے ہیں، کچھ خود ان غنڈہ گردی کرنے والے گروہوں کا حصہ بن جانے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں اور جرائم میں پڑ جاتے ہیں. یہ دلخراش واقعات ثابت کرتے ہیں کہ جن چند الفاظ اور حرکات کو ہم ہلکا پھلکا سمجھتے ہیں وہ کس قدر مہلک ثابت ہو سکتے ہیں. نفسیاتی و جذباتی الجھنیں، تعلیمی کارکردگی کا متاثر ہونا ، رشتوں ناتوں اور روز مرہ کی زندگی میں مسائل کا سامنا کرنا اس کے دیگر اثرات ہیں.

اذیت دینے والے ہراساں کرنے کے اس عمل  خود کو طاقتور اور بہادر سمجھتے ہیں. اس سے وہ شعوری و لاشعوری طور پر مادی یا نفسیاتی فوائد حاصل کرتے ہیں. جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کمزور پر طاقت کا ناجائز استعمال اپنی داخلی کمزوری اور احساس کمتری کا مظہر ہوتا ہے. اس کے علاوہ ماحول، اٹھان اور تربیت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے. جن بچوں کے والدین ان کی طرف سے لاپروا ہوں، خود بھی دوسروں کسی نہ کسی طرح تکیف پہنچانا اپنا حق سمجھتے ہوں یا بچوں کی غلط حرکتوں سے اغماض برتتے ہوں ، ان کے بچے اس طرح کی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں.

اس مسلے سے  نبٹنے کے لئے ضروری ہے کہ اس پر گفتگو کی جاۓ، استاتذہ ، والدین اور بڑے بچوں کے بدلتے ہوے رویوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان سے بات کریں. بچوں کے ساتھ گہرا تعلق رکھیں. بچوں کو ان کی صورت میں محفوظ پناہ گاہ میسر ہونے کا قوی احساس ہو. اپنے بچوں کو اعتماد بخشیں، ان کو مختلف ناگوار واقعات اور رویوں کا سامنا کرنے کے طریقے سمجھائیں. تعلیمی اداروں کے کرتا دھرتاؤں کو خصوصا اس بارے میں عملی اقدام اٹھانے چاہییں.  

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: