ایک سے زائد نکاح: اعتراضات و جوابات —— مفتی احسن قریشی

0
  • 171
    Shares

فیس بک پر ایک معروف خاتون لکھاری کی دوسری شادی کے حق میں چلائی گئی مہم سے اس موضوع کے بہت سے پہلووں پر قارئین کی آراء پڑھنے کا موقع ملا۔ ہم اکثر مکالمات خاموشی سے پڑھتے رہے اور سر دھنتے رہے۔

دوسری شادی پر خواتین و حضرات کے اعتراضات ہیں کہ رک ہی نہیں رہے۔ ہم یہاں ان اعتراضات کا ایک جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جن کے دو پہلو نمایاں محسوس ہوتے ہیں:

ایک یہ کہ خاتون کی ذات پر بات کی جانے لگی۔ جو کچھ کہا/لکھا گیا، اس کی تفصیل یوں ہے کہ:
1۔ وہ نفسیاتی مریض ہے۔
2۔ وہ غالباً کسی کی دوسری بیوی ہے۔
3۔ وہ خود نمائی کے شوق میں یہ سب کررہی ہے۔
اب تک چوتھا ذاتی اعتراض نہیں مل سکا۔ اگر کسی کو ملے تو ضرور بتائے۔

یہ تینوں اعتراضات شکست خوردہ رویہ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ کسی کے دلائل کا مقابلہ ایسے اعتراضات سے کرنا جن کا تعلق ذات سے ہو، بجائے خود کمزوری اور شکست علامت ہے۔ اب یہ بات کرنے والکے کی قسمت کہ اس کے پاس بجز ان دلائل کی طاقت کے کسی کا ساتھ نہ ہو، گویا وہ تنہا ہو، تب بھی وہ ہارا نہیں ہے۔

محترمہ کی تمام تحاریر کو بغور دیکھنے اور ان پہ کمنٹس کا مطالعہ کے بعد ایسا کوئی تاثر نہیں بنا جو اوپر بیان کردہ الزامات کی تصدیق کررہا ہو۔ انکے موقف کے خلاف کچھ لکھاریوں کی تحاریر معاصر ویب سائٹس پر بھی جگہہ بنا چکی ہیں۔

محترمہ کی تمام تحاریر وضاحت کرتی ہے کہ ان کا موقف ایسے مشاہدے پر مبنی ہے، جو اسلام کے درخشاں اصولوں سے بھی مطابقت رکھتا۔ اور یہی ان کا قصور ہے۔

اسلام کی رہنمائی کی بات بعد میں، اس سے قبل وہ اعتراضات جن کا تعلق اسلام ہی سے ہے۔ کہا گیا کہ:
1۔ دوسری شادی کو حکم بنا رہی ہے۔
2۔ یہ اجازت صرف اس زمانے کے اسلام میں تھی اب اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
3۔ دوسری شادی کا نہ ہونا، زنا کے عام ہونے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔
4۔ دوسری شادی صرف وہی پاکیزہ ہستیاں کرسکتی تھیں۔
5۔ دوسری شادی میں پہلی بیوی کے حقوق مارے جاتے ہیں۔
6۔ دوسری شادی کا دین سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ کارپوریٹ سیکٹر کا گند ہے۔
7۔ یہ بھی کہا گیا کہ اپنی بیگمات کو دوسرے مردوں کے پاس بھیج کر دیکھ لیں ٹھیک لگے تو آپ بھی کسی کو لے آئیں۔
8۔ دوسری شادی عیاشی ہے۔
9۔ اب تک بپا ہونے والی دوسری شادیوں ک دیکھ کر یہ علم ہوا کہ مرد انصاف نہیں کرتا اس لئے یہ شادی ہی معاشرے میں تقریباََ اور عملاِِ حرام قرار دے دی گئی ہے۔

پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ انکی کسی تحریر میں یہ تاثر بھی نہیں ملا کہ وہ اجازت کو حکم بنا رہی ہیں۔

دوسری بات کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ اجازت زمانے سے مخصوص تھی تو قرآن میں بیان ہوتا جبکہ ایسا بیان پورے قرآن میں نہیں بجز نکاح کے بیان کے۔ اگر ہے تو پیش کیا جائے اور عند اللہ ماجور ہوں اور مجھے توبہ کا موقع فراہم کریں۔ قرآن میں تو یہ بات یوں ہے:

فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ:

لہذا نکاح کرو دو دو تین تین چار چار ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (اس میں کوئی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ پسند دو طرفہ ہی ہونی چاہئے)

تیسری بات کے تحت کئی نکات ہیں جس میں سے پہلے کے جواب میں میرا سوال ہے کہ کیا پہلی شادی معاشرے کو زنا سے بچانے کا سبب ہے یا نہیں؟
دوسرا نکتہ بھی سوالیہ ہے کہ زنا کرنے والے کے لئے دوسرا فریق مہیا ہونا کیونکر ممکن ہوتا ہے؟
اسی طرح ناجائز تعلق قایم کرنے والی کے لئے ایسا ہی ساتھی کیونکر دستیاب ہوتا ہے؟
اگر مرد کو اس کی پسند کی ذمہ داری اٹھانے پر اس کا ساتھ دیا جاتا تو کیا وہ پھر بھی یہی کرتا رہتا؟
نیز خاتون کو اس کی پسند پر ڈرایا نہ جاتا اور اس کی شادی اس کی پسند سے ہوجاتی تو کیا وہ پھر بھی یوں ہی کرتی رہتی؟

اس کا جواب صرف اس معاشرے کو سامنے رکھ کر سوچیں۔ نیز یہ سوالیہ نکات غیر شادی شدہ مرد اور عورت، جن کا تعلق بن گیا، کو سامنے رکھ کر پیش کئے ہیں نہ کہ جنسی مریضوں کو جو ایسے بن چکے کی ہر روز نیا شکار ڈھونڈتے ہیں۔

چوتھے نمبر پر یہ کہا کہ دوسری شادی صرف وہی پاکیزہ ہستیاں ہی کرسکتی تھیں۔

یہ تو اعتراض ہی نہیں ہے بلکہ فیصلہ کردیا گیا ہے گویا۔ جواب وہی ہے کہ قرآن نے دوسری شادی کی اجازت دی لیکن یہ بیان نہیں کیا کہ وہ پاکیزہ ہستیوں کو ہی زیبا تھا، بلکہ عام اجازت دی:

فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ:

لہذا نکاح کرو دو دو تین تین چار چار ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہیں۔۔۔۔۔

اس کا کیا کیا جائے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بیان ہی دو سے شروع فرمایا۔ اور اس کے بعد مرد کو مخاطب کیا، جو کہ کسی ایسے شخص کے لئے اس آیت میں تعدد کا استثناء سمجھ لیا جائے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ عدل نہیں کرسکے گا تو وہ ایک ہی پر اکتفا کرے۔ آیت کا یہ حصہ یہ بھی بتاتا ہے کہ پانچویں اعتراض کو آپ کے اٹھانے سے قبل ہی اللہ نے اس کا حکم بیان کردیا۔ لہذا یہ کہنا کہ عدل ہو ہی نہیں سکتا غلط ہے۔ نیز یہ فیصلہ کس نے کرنا ہے؟ اسی بندے نے؟ یا محلے کے ناظم نے، یا گھر کے کسی بڑے نے؟ یا پہلی بیوی نے؟ درست معاشرے میں یہ بات واضح ہونا مشکل نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں یہ بات پہلے سے فرض کرلی گئی ہے کہ یہ ظلم ہے۔

بعض لوگ اس کو امیر لوگوں (کارپوریٹ کلچر) کا گند بھی کہتے ہیں اور غلط فہمی سے اسے دین کا حصہ نہیں جانتے۔ یہ چھٹا اعتراض ہے۔

یاد رکھیں کہ دین اسلام امیروں کے لئے بھی اترا ہے۔ بلکہ جو شادی کی ذمہ داری بالکل نہیں اٹھا سکتا اس کا حکم بھی موجود ہے۔چانچہ شادی کا حکم اور زیادہ شادی کی اجازت ذمہ داری کو اٹھانے کی صلاحیت پر ہی موقوف رہے گی۔

ساتواں اعتراض تو عجیب ہے۔ گویا سوئنگر پارٹی ارینج کی جائے۔ ارے دوسرے کی بیوی نہیں لانی جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے نکاح میں ہوں، بلکہ ایک مکمل غیر شادی شدہ سے شادی کرنا ہے، اعلانیہ۔

رہی بات عورت کا ایک وقت میں دو نکاح کرنا تو یہ ممکن نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے حکم اور نسل کی حفاظت کی وجہ سے۔ چاہے اس کے لئے ڈی این اے کی موجودہ سہولیات کو بھی بحث میں لا کر مزید دلائل کھڑے کر دئے جائیں عورت کے ایک سے زائد نکاح کے حق میں۔ اس رجحان کی قبولیت کے لئے اسلام سے نکل کر ہی کچھ ممکن ہوسکے گا۔ ہاں ناپسند ہونے کی صورت میں خلع لے کے جب چاہے دوسرا کیا تیسرا چوتھا نکاح کرسکتی ہے۔

آٹھویں بات یہ کہ دوسرا نکاح عیاشی بھی نہیں اور اگر ہے تو پہلی شادی بھی عیاشی ہی ہے کم از کم اس اعتبار سے کہ جتنا خرچہ آپ سب اس پر کر لیتے ہیں اس سے آسان ہے کہ ایک ویک اینڈ پر اپنے اپنے پارٹنر تلاش کرکے خوش ہولیا جائے۔ نہ ذمہ داری کا بوجھ نہ سسرال کی جھنجھٹ۔ یاد رہے سہاگ رات ہو یا بعد کا کوئی زمانہ جنسی تعلق انجوائے کرنے کے علاوہ کیا ہے؟ اور دنیا بھر کے وہ ملک جن کے سب پیرو کار ہیں وہ اس کے علاوہ کس طرح سوچتے ہیں اس سب عمل کو؟

شادی اور بغیر شادی کے رہنے میں حقوق و ذمہ داری قبول کرنے اور نہ کرنے کا فرق ہی تو ہے۔ اور وہ جو شادی چھوڑ چکے ان کی سب سے بڑی دلیل ہی ذمہ داری سے بچنا ہے کہ بہرحال آخری نتائج یکساں ہیں یعنی ایک دوجے سے لطف اٹھانا۔

نویں اعتراض کا جواب یہ ہے کہ انصاف کی یہ شرط اللہ تعالی نے انسان کی بساط اور دائرہ اختیار کے مطابق ہی لگائی ہے نہ کہ مجرد معنوں میں کوئی ناممکن الحصول سی شرط کا ذکر کیا گیا۔ معاملہ یہ ہے کہ جو مرد انصاف کرنے کی کوشش کرتے بھی ہیں تو پہلی بیوی، اسکے رشتہ دار اور بعد کو خود دوسری بیوی بھی یہ ترازو اپنے ہاتھ میں لے کر اس انصاف کے عدم و وجود کا فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور تلاش کر کر کے، ناانصافی سامنے لا لا کے، اس مرد کی کوششوں کو ناکام بناتے رہتے ہیں۔ عرب معاشرے میں اور خود ہمارے ملک کے شمالی علاقوں میں چونکہ دوسری شادی کو قبولیت حاصل ہے تو وہاں یہ ’انصاف‘ کا مسئلہ دوسری شادی میں حارج نہیں ہوتا۔ ہم شاید طویل عرصہ تک ہندو کے ساتھ رہے تو یہ انکے کلچر کے اثرات ہیں جس نے عورت کی نفسیات ایسی بنا چھوڑی ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا یہ انصاف کی شرط کو شادی کی کامیابی کے لئے استعمال کیا جاتا مگر منفی ذہنیت نے اس شرط کو شادی نہ کرنے اور ہوجائے تو ناکام بنانے کے ہتھیار کے طور پہ استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس روش کا نتیجہ ہر سوچنے سمجھنے اور معاشرہ پہ نظر رکھنے والا خوب جانتا ہے۔

حیران کن امر یہ بھی ہے لوگ خود لذتی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ لیکن اگلے سانس میں دوسری شادی کے خلاف ہیں بوجہ ہمارے رویوں کے یا کسی اور بنا پر؟ جس کی انتہا سیکس ڈولز پر یا سیکس ٹوائیز پر منتج ہو یا کیا ہو آگے چل کر، واللہ اعلم۔ دین فطرت سے ہٹتے جائیں گے تو ایسا ہی ہوگا۔ بجائے اس کے کہ لوگوں کو حق سناتے اور ان کی تربیت کا بندوبست کرتے اور غلط فہمی یا غلط علم کو درست علم سے بدل دیا جاتا۔ درست علم وہ ہے جس کو اللہ کے واضح فرمان کا سہارا ہو۔ اور غلط کو یہ سہارا حاصل نہیں چاہے آپ کو کتنا ہی اچھا لگے۔

وہ جذبہ کیا ہے جس کی وجہ سے انسان /جانور اپنے اپنے پارٹنر ڈھونڈنے پر مجبور ہیں؟
لطف اٹھانا اور نتیجے میں صرف اور صرف نسل بڑھانا، اپنے آپ کا سروائیول!
لذت اندوزی بھی تو قدرت کا ودیعت کردہ احساس ہے کوئی خود ساختہ چیز تو نہیں۔

لہذا دو مزاج ہر ہر زمانے میں رہے ہیں اور اب تو اکثر یہی ہے کہ:

خواہش پوری ہوگئی اب کیا ضرورت ہے ذمہ داری اٹھانے کی۔ وہ جانے جس نے بچے پالنے ہیں۔ یہ تو ہے جانور مزاج۔

انسانیت والا مزاج کیا ہے؟ اعلان کرو اور آپس کا اعلانیہ معاہدہ کرو جس کے تحت معاشرے کو پتہ ہو کہ یہ عورت اور مرد اپنی نسل کو ایک دوسرے کے ذریعے سے بڑھائیں گے۔ اور پھر اس نسل کی پرورش بھی مل جل کر کریں گے۔ چنانچہ ان کو حقوق حاصل ہیں ایک دوسرے پر اور معاشرہ ان کے حقوق کے ساتھ کھڑا ہو گا اور ان کے اس تعلق کو تحفظ دے گا نہ کہ ان کا جینا حرام کردے گا۔ چنانچہ یہاں یہ بیان لازمی ہے کہ معاشرے کی یہ تربیت ہونا ضروری ہے۔

یہ بھی قدرتی بات ہے کہ عورت میں ملکیت کا احساس بہت زور دار ہے۔ بقول کسے عورت موحد ہے۔ حال یہ ہے کہ موحد عورت اپنے شوہر کے خلاف کس قدر زور آور ہے، ہر شادی شدہ جانتا ہے۔ نتیجہ سوائے بگاڑ کے اور کچھ نہیں۔ یہ مکینزم قدرتی ہے جو اس کو حق کے لئے لڑنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ صلاحیت دو بیویوں کی صورت میں ہونے والی حق تلفی یا کسی اور قسم کی حق تلفی کے خلاف استعمال ہوتی تو بات تھی لیکن ہوتا یہ ہے کہ یہ صلاحیت ہر رشتے میں صرف بلیک میلنگ کے ہی کام آتی ہے۔ حق سے زیادہ چھیننے کی پلاننگ کرتے رہنا بس یہی رہ گیا ہے۔

اور آخر میں گھر کے سکون کے لئے ایک مفید مشورہ:

سوچنا کبھی کہ شوہر گھر گھستے ہی عتاب کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ ساری زندگی گھر والی اور بچوں کے لئے مشقت جھیلنے والا گھر گھستے ہی بے بسی کی انتہا پر کیوں ہے؟ کیا اس کو سکون کی ایک لحظہ ضرورت نہیں؟

اس کا جواب یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہم بھی تو سارا دن محنت کرتی ہیں۔ جب کہ یہی خواتین خود صرف مارکیٹ سے ہو آئیں تو کم از کم کچھ دیر ان کو گھر میں کرفیو لگا ملتا ہے۔ یا وہ خود کامیابی سے نافذ کرلیتی ہیں: میں ابھی باہر سے آئی ہوں خبردار کوئی بات مت کرو۔

بی بیو کبھی شوہر کے گھر میں گھستے ہی اس کا بھی لحاظ کرکے دیکھو پھر بتانا کہ گھر پرسکون ہوگیا کہ نہیں۔ پھر شکوہ کرنا کہ اس نے تمہارا لحاظ کیا یا نہیں۔

اس آخری بات پر گفتگو کو روکتا ہوں، ممکنہ اگلی قسط تک۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: