لاحاصل کا حاصل ——- حمزہ حیدر

0
  • 14
    Shares

اصل کو اپنی زندگی میں وقف کی حد تک لاتے لاتے ’’وہ انا کی عجب جنگ لڑنے لگا ہے، اصل اب بھی غیر حاضر اور گمان سماں چار لئے ماحول میں پوری طرح متن کو محسوس کروانے میں مصروف ہے۔ ’’وہ‘‘ خود کو کسی ٹھوس چیز پر سہارا دینا چاہتا ہے مگر وہ دانستگی میں بھی نادانستگی کا ذوق رکھتا ہے۔ ’’وہ‘‘ جس شے کو اپنے جیون میں حاضر کرنا چاہتا ہے وہ دلاسوں کے لہراتے وہ پردے ہیں جو اپنے رقص سے اس کو جھوٹی تسلیاں دیتے رہیں۔ البتہ ’’وہ‘‘ کسی حد تک اب خود کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوتا جارہا ہے۔ طمانیت اُسے زندہ اور شور و غل اسے اپنا گرویدہ رکھے ہے۔

جس طرح چھوٹے بچے ضدی تو ہوتے ہیں مگر تسکین حاصل کرنے کے لئے جتن کے جس ہنر سے واقفیت اور اس پر عبور رکھتے ہیں وہ قابلِ دید ہے۔ شاہراہ پر من پسندیدہ کھیل اگر انہیں اُبھرنے کا جوش دلاتا ہے تو وہ ایک عمر تک اس جوش کا ساتھ نبھاتے ہیں بعد میں ان کے شوق تبدیل ہوجاتے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے ان کا دل سوجاتا ہے اور پھر وہ ذہانت کا نمونہ پیش کرتے ہیں، ذہانت نے دل کو کئی جگہ پر نامناسب رویوں سے چوٹ دی ہے جس کی وجہ سے عمر کا ایک حصہ ایسا آجاتا ہے کہ دل خاموش ہوجاتا ہے اور ذہن وسیع مطالعے کے ساتھ بے بنیاد تصاویر اور نظریے پیش کرتا ہے۔

اگر دل کسی طرح ذہن کو اپنے تابع کرلے تو نتائج بڑے حیثیت کے حامل ہوتے ہیں مگر دل زبردستی اپنے ڈیرے ذہن پر ڈال دے تو نتائج شر میں مقید رہتے ہوئے انسان کو نیم پاگل کردیتے ہیں۔

وہ شخص دراصل بچپنے کے سوز میں چور سا تھا اس کا مقصد صرف دل کی خواہشات کے پیچھے دوڑنا تھا اور اس کا تن اُسے خواہشات سے آشنائی دلاتا رہتا ہے مگر بن گھنگھرو جھنکار کا ہرسوں پھیلنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے، وہ شخص اب پختہ عمر طے کررہا ہے اس کا بچپن آج بھی اسے ماضی سے نکلتی آوازوں کی تجوری سے جوڑے رکھتا ہے۔ وہ خیالات کو محفوظ رکھنے کے لئے روز ان کو زندگی بخشتا اور نئے کمالات اس کو اس کے وجود سمیت پسِ پشت پٹختے رہتے، منافقت کو پیدا کرنے والا ہنر ہے جو اپنے آپ کو اس طرح حاوی کرلیتا ہے کہ عزائم کی دوڑ کچھ بھی کروانے پر آمادہ رہتی ہے۔ اندازوں کے اس جہان میں ایک دن نیند کا غلبہ بھی حاوی ہوگا اور اندازے اُڑ جائیں گے اور حقیقت اپنا چہرہ دکھائے گی، جو کبھی نہیں سمجھ آیا وہ افسوس جنم لے گا اور جو ہمیشہ سے تھا وہ اختتام پذیر ہوجائے گا۔

انتظار وہ حقیقت ہے جس کے ختم ہوجانے کے منتظر بہت بڑی تعداد میں ہیں اور کچھ لوگ انتظار سے پیدا ہونے والے غم کو اپنا ساتھی کرلیتے ہیں لیکن آرزو کا ٹپکنا خون سے دور کردیتا ہے اور انسان اپنی زندگی کے سر آغاز کو ثابت کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے۔

نظریئے کا کوئی محل نہیں… کبھی کسی در تو کبھی کسی در۔ نظریہ اگر قابل داد ہو تو اسے اپنانے والے کامران اور اگر شرپسند ہو تو لہولہان تاریخ قرطاس پر جگہ بنالیتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: