تہذیب —— لالہ صحرائی کا افسانہ

0
  • 342
    Shares

اپنے ڈرائیور اور اس کی بیوی کے ساتھ وہ اپنے گھر میں اکیلی ہی رہتی تھی، اس تنہائی میں اس کی ساتھی کتابوں سے بھری الماریاں تھیں جن میں انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ چند اردو کی کتابیں بھی موجود تھیں۔

اسے اردو سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا، ایک بار بچپن میں لندن سے اس کی کزنز آئیں تھیں، ان کا انگریزی لب و لہجہ اس کے اندر انگریزی زبان کیلئے ایک سنگِ میل دھر گیا تھا اسلئے انگریزی ہی اس کا اوڑھنا بچھونا بن چکی تھی البتہ اردو کی ان چند کتابوں سے اس کی کچھ جذباتی یادیں وابستہ تھیں۔

انگریزی ادب میں امتیازی حیثیت سے ڈگری لے کر وہ پڑھانے لگی اور کچھ ہی عرصے میں ایک معروف ایجوکیشنسٹ کی حیثیت سے ابھری، وقت کے کچھ ماہ و سال اس کی گود میں دو لڑکیاں ڈال کے اس کے شوہر کو شراب کی بھٹی اور کسی رقاصہ کے عشق کی بھینٹ چڑھا گئے تھے۔

اس خلاء کو پر کرنے کیلئے اس کے پاس ایک بار پھر تہذیب کے دامن سے اپنے آنسو پونچھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اس کی نظریں جب کبھی اپنی خاطر اس زمانے کی طرف اٹھتیں تو بس کتابوں کی الماریوں تک ہی جاتیں، کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان شیلفوں میں سجی کتابوں کے درمیان اردو کے چار مجموعے اس کی جان تھے، ان چار کتابوں کے اندر کہیں نہ کہیں وہ چند عبارتیں تحریر تھیں جنہیں وہ اکثر و بیشتر پڑھتی رہتی تھی۔

کسی ایک کتاب میں لکھا تھا…!

“تہذیب کا غلاف اوڑھ کر شکستہ روحوں کو روائیتوں کے قبرستان میں دفن ہونا ہی پڑتا ہے ورنہ یہ آسیب زدگان جس گھر میں اپنے زندہ ہونے کا احساس دلائیں وہاں نحوستوں کی گہری پرچھائیاں امڈ آتی ہیں”۔

اس مصنف کی ہر دوسری کتاب آنے تک اسے تین سے چار سال تک کا انتظار کرنا پڑا تھا، اس کی پہلی کتاب بھی منظر عام پہ آنے کے آٹھ سال بعد ملی تھی۔

اپنے ادارے کی سربراہ بننے کے بعد وہ صرف ادبی ٹیوٹورئیلز میں ہی لیکچر دیا کرتی تھی جہاں انگریزی ناولز اور شیکسپئیر کو جب وہ اپنے انداز میں پڑھاتی تو ماحول پر ایک سحر طاری ہو جایا کرتا تھا، پوری کلاس پر پن ڈراپ سائیلینس چھا جاتا اور طالبعلموں کا گروہ اس کے لہجے اور باڈی لینگوئیج کو کہانی کے کرداروں میں ڈھلتا ہوا دیکھ کر دم بخود رہ جاتا۔

لیکچرز کے دوران سارے جزبات و ہیجان سے گزرنے کے بعد جب وہ لڑکے لڑکیوں کی آنکھوں میں نمی کے آثار دیکھتی تو پھر کتاب ڈائیس پر پھینک کر ایک خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی؛

اوئے بچو، یہ کہانی تھی کہانی،
دی جـَـگلری آو ورڈز،
اٹ ہیز نتھنگ ٹو ڈو وِد یو۔

استاد کا رویہ جب دوستانہ ہو تو اس کے آگے محبت پر سوال و جواب نوجوانوں کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے، ٹیوٹورئیلز میں ایسے ہی سوالات اس کے سامنے بھی آتے تھے، وہ ان سوالوں کا جواب ہمیشہ ان الفاظ میں سم اپ کیا کرتی جن میں کسی کو محبوب بنا کر اس سے محبت کرنے کا واضع انکار پنہاں ہوتا تھا۔

محبت توانائی کے قانون کی طرح سے ہے، جسے آپ نہ تو پیدا کر سکتے ہیں اور نہ ہی ختم کر سکتے ہیں، یہ ایک قدرتی عنصر ہے، ہر انسان میں محبت کا نغمہ موجود ہوتا ہے، آپ محبت کو صرف دان کر سکتے ہیں، یہ نغمہ کسی کو سنا سکتے ہیں لیکن اسے پیدا نہیں کرسکتے نہ فنا کرسکتے ہیں۔

اپنے ارد گرد محبت بانٹیئے، اسے کسی ایک فرد تک محدود نہ کریں، محبت صرف محبوب کے لئے ہی نہیں ہوتی، آپ کی محبت پر سب کا یکساں حق ہے، اگر آپ اسے کسی فرد واحد تک محدود کریں گے تو باقی سماج سے محبت آپ کو قربان کرنا پڑے گی۔

وقت کے ساتھ ساتھ محبت کے دائرے بدلتے رہتے ہیں، بلکل گراموفون ریکارڈ کی طرح، جیسے اس کی سوئی ایک دائرے سے دوسرے دائرے میں داخل ہوتے ہوئے نئے سُر، نئے سوز اور نئے ساز کا پتا دیتی ہے ویسے ہی محبت بھی ایک دائرے سے دوسرے میں داخل ہوتی رہتی ہے، اور اس نغمے کے رنگ برنگے سُر آپ کو محظوظ کرتے رہتے ہیں۔

لیکن جب آپ اپنی محبت کو کسی ایک محبوب کے نام کر دیتے ہیں تو آپ سماجی قدروں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور یہ ایسا ساز ہے جو آپ کو تلخ نوائی کے سوا کچھ نہیں سنوا سکتا۔

پرنسپل بننے کے بعد اس نے کالج کو ایک تاریخی موڑ دیا تھا اور یہیں سے اس کی اپنی زندگی بھی موڑ کاٹ کے واپس گاؤں کی گلیوں میں آسیب کی طرح بھٹکنا شروع ہوئی۔

ایک دن جب وہ ٹیوٹورئیل میں لیکچر دے کر واپس اپنے دفتر پہنچیں تو ایک پارسل ان کے انتظار میں تھا جس کے اندر سے برآمد ہونے والی کتاب نے اس کے معتدل فلسفۂ محبت کے سارے تار و پو ہلا کے رکھ دیئے۔

یہ ڈاکٹر احمد شفیع کی پہلی کتاب تھی، اس کے بعد اس کی دوسری کتابیں بھی چھپنے کے کچھ عرصہ بعد اسے ملتی رہیں، وہ گھنٹوں اس کی تصویروں کو دیکھتی رہتی، ہر کتاب میں ایک مختلف تصویر تھی مگر سب میں سائیڈ کی مانگ نکلی اور کلائی گھڑی سے خالی۔

اسے گئے گزرے سمے کے کیواڑوں کے پیچھے دو آوازیں سنائی دیتیں؛

احمد تیری گھڑی کتھے
؎ یہ رہی جیب میں

کلائیمیکس کی ہے ناں ….. بہت اچھی لگتی ہے ….. لگا کے رکھا کرو…!

؎ جب میں نے وقت کو روکنا ہوتا ہے تو اسے جیب میں رکھ لیتا ہوں، تمھیں دیکھ کر وقت رک جائے تو اچھا لگتا ہے بس…!

تو میرے بھائیوں سے مار کھا لے گا کسی دن، ایسی باتیں نہ بنایا کرو…!

؎ اچھا…؟
اور لڑکیاں تو سیدھی مانگ نکالتی ہیں تم سائڈ پہ کیوں نکالتی ہو؟

وہ تو تمھیں اچھی لگتی ہے اس لئے، اور تم کیوں درمیان میں مانگ نکالتے ہو؟

؎ سو بار تو بتا چکا ہوں پر تم اس دن سمجھو گی جس دن واقعی مجھے تمھارے بھائیوں سے مار پڑی۔

ماہ و سال کی گردشیں اس کے مرتبے، ذمے داریوں، الماریوں میں رکھی کتابوں اور اس کے سفید بالوں میں اضافہ کرتی رہی، بچیوں کی شادیاں کر کے اس نے اپنا یہ فرض بھی ادا کر دیا تھا۔

احمد کی کوئی کتاب ایسی نہیں تھی جو اس نے ایک بار سے زائد پڑھی ہو، ہر کتاب کا کرب وہ ایک ہی بار برداشت کر پائی تھی دوسری بار پڑھنا اس کے لئے سوہانِ روح سے کم نہ تھا البتہ ورق گردانی کر کے وہ کچھ پیرے ضرور پڑھا کرتی جن میں اس نے تہذیب کے منہ پر بڑے زور دار چانٹے مارے تھے۔

“ایک طرف تہذیب کا عَـلم وہ سفید جھنڈا ہے جو عشق اور باد مخالف کے درمیان طبل جنگ بجنے سے روک لیتا ہے ورنہ زندہ وجود اپنے جسموں سے کھنکتی ہنسی اور مہکتی سانسوں کی جگہ خون کا ایک فوارہ اگل کر سچ مچ کے قبرستان میں جا کے سو جاتے ہیں”۔

“محبت کی بساط پر تہذیب وہ مُہرہ ہے جو سب سے پہلے دو دلوں کے درمیان سوالیہ نشان بن کے کھڑا ہو جاتا ہے، اگر اسے درمیان سے ہٹا دیا جائے تو پھر یہ سماج کی طرف سے شعلہ بن کے لپکتا ہے اور اپنے پیچھے راکھ کا ایک ڈھیر چھوڑ جاتا ہے، جو اس کو سفید جھنڈے کی طرح تھام لیتا ہے وہ سماج کے ہاتھوں روندے جانے سے تو بچ جاتا ہے لیکن اس کا سفید رنگ دیکھتے ہی دیکھتے کالے آسیب میں بدل کر دو خوش رنگ وجودوں کو اپنے سیاہ فام جبڑوں میں عمر بھر بھنبھوڑتا رہتا ہے”۔

ایسے پیراگراف پڑھ کے وہ پھر ماضی کے کیواڑ کھول کر کسی ویرانے میں نکل جاتی تھی۔

اگر میں اس کے ہاتھ میں سفید علم نہ دیتی تو اس دن واقعۃً ایسا ہی ہونا تھا، احمد کے سینے سے ایک فوارہ خون کا نکلتا اور بس کہانی ختم، یہ میں ہی تھی جو اس کو سمجھا بجھا کے چپ کرا دیا تھا اور صرف میری خاطر اس نے اپنی زبان سی لی تھی۔

اس دن ہم کیفے ٹیریا میں بیٹھے تھے، ابا جان اور چچا جی کے بیچ زمینوں کا تناؤ کافی حد تک بڑھ چکا تھا، گاؤں میں ملنا تو اب کسی طور بھی ممکن نہیں تھا، ہمیں دونوں طرف سے سمجھایا جاتا کہ یونیورسٹی میں بھی ایک دوسرے سے دور رہا کرو۔

احمد نے کہا اب ایک ہی صورت ہے، میں سب سے بھڑ جاؤں گا لیکن میں نے سختی سے منع کر دیا اور تجویز رکھی کہ ہم دونوں مقابلے کے امتحان میں بیٹھیں گے، ہم میں سے ایک بھی کامیاب ہوگیا تو ہم اس تہذیب کی گرفت سے آزاد ہو جائیں گے، تم پاس ہو گئے تو تم پولیس گروپ جوائین کر لینا، میں پاس ہو گئی تو ڈی ایم جی یا فارن سروس جوائین کر لوں گی پھر ساری منزلیں آسان ہو جائیں گی لیکن ایسا ہو نہ سکا، ہم دونوں ہی ہار گئے اور تہذیب کی وراثت جیت گئی، پھر نمبردار کے لڑکے سے مجھے بیاہ دیا گیا۔

یونیورسٹی سے فارغ ہو کے میں گھر جا رہی تھی، بس اڈے سے تانگہ لیا جو گرمیوں کی دوپہر میں گاؤں کی طرف جانے والی سڑک پر رواں دواں تھا، گھوڑے کے سُموں سے پکی سڑک پر ٹاپوں کی آواز ایک ردھم سے جا ری تھی۔

تانگے کے اگلی طرف بیٹھے دو لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے، کبھی کبھار تانگے والا بھی ان کی کسی بات پر گرہ لگا دیتا تھا، پچھلی سیٹ پر میرے ساتھ دو خواتین بھی مردوں کی موجودگی پر میری طرح اپنی اپنی جگہ خاموش بیٹھی تھیں۔

چچا جی کا ٹیوب ویل نظر آیا تو دل دھک دھک کر اٹھا، گاؤں کی حدود شروع ہونے والی تھی، اپنا اسٹاپ بتانے کے پیش نظر میں نے گردن گھما کے کوچوان سے کہا، مجھے کرنل صاحب کی حویلی کے پاس اتار دینا۔

اسی لمحے اس نے گھوم کر مجھے دیکھا تھا، نمبردار کا لڑکا فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا، میری آواز کا کوئی سُر اس کے دل میں گھر کر گیا اور مجھے دیکھ کر اس کا چہرہ مبہوت ہو رہا، وہ بھی میرے ساتھ ہی اتر گیا۔

مجھے یاد آیا، اس کا گھر تو گاؤں کے دوسری طرف ہے اسے اگلے اسٹاپ پر اترنا چاہیئے تھا، یہ میرے ساتھ ہی کیوں اترا، بس ایک تو اس سے بچنے کیلئے اور دوسرا بیگم صاحبہ سے بات کرنے کی خاطر میں کرنل صاحب کی حویلی میں چلی گئی۔

کرنل صاحب کی ابا جی سے اور بیگم صاحبہ کی امی سے اچھی دوستی تھی، کئی بار سوچا چچی بیگم سے سب کچھ کہہ دوں یا کرنل صاحب سے کہوں کہ ہماری خاطر ہی سہی ابا اور چچا کے درمیان تصفیہ کرا دیں، آپ کسی طرح ان دونوں پر دباؤ ڈالیں، کوئی ایک تو آپ کی بات مان ہی جائے گا، کبھی کرنل چچا کا منہ دیکھتی تو کبھی چچی بیگم کا مگر میری بات گاؤں میں نہ نکل جائے اس ایک خوف سے اصل بات میری زبان پر آ نہ سکی۔

آخر چچی بیگم نے میری ادھیڑ بن کو بھانپ کر پوچھ ہی لیا، میری رانی تو ہمیشہ کھلی کھلی رہتی تھی، آج کچھ اداس اداس کیوں ہے؟

میں ایک دم آنے والے اس سوال سے جھینپ گئی اور بات بنا کر جان چھڑائی۔

چچی بیگم ایک تو ساڑھے تین گھنٹے بس کا سفر، پھر آدھا گھنٹہ تانگے کا راستہ، اوپر سے گرمی، اسی لئے بہت تھک گئی ہوں۔

شربت کا ایک گلاس پی کر اجازت چاہی تو کرنل چچا نے ایک زور دار آواز لگائی……… اوئے کوئی ہے؟……… اوئے نوراں چل تو ہی ادھر آ زرا……… جا میری بیٹی کو گھر تک چھوڑ کے آ…!

یہ اپنائیت بھرا لہجہ سن کر دل میں ایک چیخ سی اٹھی کہ کرنل صاحب چاہیں تو وہ اپنا فیصلہ ابا اور چچا پر مسلط بھی کر سکتے ہیں۔

دل میں آئی کہ ان کے گلے لگ کے رو دوں اور سب کچھ کہہ دوں لیکن یہ سوچ کر سارے جزبات مجروح ہو کے رہ گئے کہ میری بات کو عامیانہ سمجھ کر کہیں مجھے بے شرم و بے حیاء نہ کہہ دیں، یہ ساری محبت میرے حیاء دار ہونے کی وجہ سے ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مجھے تہذیب یافتہ بیٹی سمجھتے ہیں، یہ خیال آتے ہی دل میں آیا ہوا بھونچال ایک دم سے بیٹھ گیا۔

نوراں کے آنے تک میں چپ چاپ کھڑی رہی پھر چچا نے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا، رزلٹ آ جائے تو میری بیٹی نے ایک بار مقابلے کا امتحان ضرور دینا ہے، ٹیچنگ از آ سیکنڈ آپشن، تیرے ابا کو میں خود سمجھا لوں گا، لاہور جا کے یہاں تک پڑھنا بھی کرنل چچا کے کہنے سے ہی ممکن ہوا تھا ورنہ گاؤں کی لڑکیوں کو اتنا کون پڑھنے دیتا تھا۔

اس لمحے مجھے پھر لگا کہ یہی وہ مضبوط سہارا ہے جو ہمارے کام آ سکتا ہے لیکن دوسرا خیال وہی تھا کہ چچا کے سامنے اپنے سر سے چادر کیسے اتاروں، بس اپنی چیخ کو دبا کر اور آنسووں کو چھپا کر چپ چاپ وہاں سے چل دی۔

نمبردار کا لڑکا ابھی تک اسی راستے پر کھڑا تھا، شائد اسے میرا ہی انتظار تھا، نوراں کو میرے ساتھ دیکھ کر وہ قریبی گلی میں چلا گیا لیکن جانے سے پہلے اس نے میرا بھر پور جائزہ لیا تھا۔

چچی بیگم کو شیشے میں اتار کر کل انہیں یہ کہوں گی کہ مجھے اس پیار ویار سے کوئی غرض نہیں لیکن احمد نے کوئی سیاپا کھڑا کر دیا تو بدنامی پھر بھی میری ہی ہو گی اسلئے اس معاملے کو کرنل چچا نمٹا دیں تو اچھا ہے۔

یہ تجویز سوچ کر مجھے بہت ڈھارس بندھی تھی لیکن شام کو ہی نمبردار کی بیوی اور بیٹیاں رشتہ لے کر آگئیں، سارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور میرے اندر آسیب اتر گیا، میرے اندر سے رونے کی بجائے بانسری کی کوئی دلدوز تان ابھر رہی تھی جس میں کسی موت کا اعلان تھا، ایسی موت جس کا نہ کوئی جنازہ پڑھتا ہے اور نہ ہی اسے دفنایا جاتا ہے، بس لال گھاگھرا پہنا کر میت کسی دولہا کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

ہیر آکھیا جوگیا چُوٹھ بولیں
کون وچھڑے یار ملاؤوندا ای
ایسا کوئی نہ ملیا وے میں ڈھونڈ تھکی
جیہڑا گئیاں نوں موڑ لیاؤوندا ای
میرا جیو جما جیہڑا آن میلے
سر صدقہ اوس دے نام دا ای
بھلا موئے تے وچھڑے کون میلے
ایویں جیوونا لوک ولاؤوندا ای
ساڈے چم دیاں جتیاں کرے کوئی
جیہڑا جیو دا روگ گواؤوندا ای
دیواں چُوریاں گھئیو دے بال دیوے
وارث شاہ جیس راہویں آؤوندا ای

نمبردار کی زمینیں اتنی تھیں کہ چار بیٹوں میں بانٹ کر بھی اس دولہا کے حصے میں دو مربعے آتے تھے اور شہر میں اس کا بیوپار بھی سیٹل ہو رہا تھا۔

احمد سے ایک آخری ملاقات ہوئی تھی، وہ صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ میں نے ہاں کیسے کر دی، وہ اپنے گھر پہ شدید جھگڑا اٹھا کے آیا تھا جسے کافی رد و کد کے بعد اس کے گھر میں ہی دفن کر دیا گیا اگر اس کی بازگشت ہمارے گھر تک پہنچتی تو شائد جنگ کا پہلا حملہ ہمارے گھر سے ہی ہونا تھا۔

احمد تم مجھے بہت عزیز ہو
؎ میں تمھیں صرف عزیز ہوں؟

نہیں تم میری جان ہو مگر میں نے شہر میں ایک کوٹھی اور نوکری کرنے کی تحریری اجازت کے عوض اس محبت پہ تہذیب کی مٹی ڈال دی ہے، یہ اس سے اچھا ہے کہ میرا نام تمھارے نام کے ساتھ گلی گلی اڑتا پھرے۔

تمھارا اے۔ایس۔پی بننا بہت ضروری ہے ورنہ تم دو گھروں سے کیسے لڑو گے، نمبردار کے چار لڑکے ہیں اور میرے ابا کے تین۔

اگر میں اے۔سی بن گئی یا ڈپلومیٹ تو پھر میں کرنل صاحب کو منا لوں گی وہ سب سے نمٹ لیں گے، منگنی کا کیا ہے، منگنیاں ٹوٹتی رہتی ہیں بس کوئی خالص وجہ ہونی چاہئے، نمبردار جب بیوروکریٹ کے ماتحت آتے ہوں تو وہاں کلاس کا فرق منگنی توڑنے کیلئے بہت کافی ہوتا ہے۔

؎ ڈپلومیٹ تو تم بن چکی ہو ورنہ سات کیا میں تو تیس بندے مار کے بھی نہ مرتا۔

تتیئے نی ساڈا دل توڑیا
تے آپ ڈولی بیہہ چلی ایں
ویرنے نی کچیئے جوبان دیئے

وہ جب بھی مجھ سے ملتا تھا تو درمیان سے مانگ نکالا کرتا تھا اور وقت کو روک لینا چاہتا تھا، اس دن اس نے میرے سامنے سائڈ سے مانگ نکالی اور گھڑی اتار کر جیب میں رکھ لی۔

پھر کہیں جا کر پتا نہیں کتنا رویا ہوگا، پتا نہیں کتنا کرلایا ہوگا، پتا نہیں کتنا سلگا ہوگا کہ ہر کتاب ہر ناول ہر افسانہ اس کا کرب کی آغوش میں مچلتا ہے، گیلی لکڑی کی طرح سلگتا ہے، وہ جب تک برق رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر ایک زور دار چابک تہذیب کے منہ پر نہ مارے تب تک اسے چین نہیں آتا۔

“تہذیب اس بانسری کا نام ہے جسے بجایا جائے تو صرف ہجر کا ایک دلدوز نغمہ پھوٹتا ہے جو جینے دیتا ہے نہ مرنے، تہذیب کی اقدار بڑی پکی ہوتی ہیں یہ ہر رات کسی ادھ موئے وجود کو اگلی رات پھر سے ملنے کا وعدہ کر کے اسے جیتا مرتا چھوڑ جاتی ہیں، ہر صبح تہذیب کا طوطی اسی طرح سے بولتا ہے، ہر رات اسی تہذیب کے وجود سے نغمہ سنج ہوتی ہے”۔

یہی پیرے پڑھ کر مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے اور یہی پیرے پڑھ کر مجھے کوئی خلش گھیر لیتی ہے، اس نے زمینوں میں سے اپنا حصہ لے کر ملک ہی چھوڑ دیا تھا اور لندن جا کر میری ایک کزن سے شادی کر لی لیکن نباہ نہ ہو سکا، بچے بڑے ہوئے تو وہ ڈومینیٹ کرنے لگی، احمد کے سامنے ایک بار پھر تہذیب کی بانسری بجنے لگی تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے اسے مشرقی تہذیب کا سامنا تھا اور اب مغربی تہذیب اس کے سامنے کھڑی تھی جس کی تلخی سے دو ناولوں نے جنم لیا، جیسے میرے منہ سے تہذیب کا نغمہ سن کر اس کے من سے افسانوں کے دو مجموعے بہہ نکلے تھے۔

کئی سال بعد جب رابطے بحال ہوئے تو میں نے اسے بتایا، نمبردار کا لڑکا بھی روائیتی چوہدریوں سے مختلف نہیں تھا، اس نے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش بھی نہیں کی، بزنس، شراب، مجرے اور کچھ میری بے اعتناعی سے وہ دن بدن مجھ سے دور ہی ہوتا گیا اور پھر لوٹ کر کبھی نہیں آیا، اسے بیٹا چاہئے تھا جس کی پیدائش پر وہ مجرا کرا سکتا مگر دونوں بار بیٹیاں ہوئیں تو اس کی نوکدار مونچھیں دونوں طرف سے نیچی ہو گئیں۔

لڑکیاں تو ہوتی ہی صبر کا پیکر ہیں لیکن اب احمد نے بھی کسی صبر کی وادی میں دم لے کر افسانوں کے بعد “تہذیبوں کی اساس” اور “دو تہذیبوں کا ثمر” دو کتابیں اور دے دیں۔

میں تھک گئی ہوں لیکن وہ نہیں تھکا، وہ آج بھی کسی غصے میں بائیں طرف ہی مانگ نکالتا ہے، درمیان سے مانگ نکالنا اس کا بہت دلفریب اسٹائل تھا مگر کس کیلئے کرے، اس کی کلائی ابھی تک گھڑی سے خالی ہے، وہ وقت کے دیئے کرب کو اپنے ارد گرد روک کے کھڑا ہے جبھی وہ اتنی زہریلی تحریر لکھتا ہے۔

باہر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی تو وہ اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آگئی۔

ملازمہ نے دروازہ کھولا تو دونوں بیٹیاں بے چینی سے اس کے کمرے کی طرف بھاگیں، لیکن وہ اسٹڈی میں راکنگ چئیر پر احمد شفیع کی ایک کتاب چہرے پہ رکھے نیم دراز تھی۔

بس بہت ہو گئی ہٹ دھرمی، اب آپ ہمارے ساتھ رہیں یا ہم باری باری آپ کے پاس رہیں گی، اتنا کچھ ہو گیا اور ہمیں خبر تک نہیں کی۔

ارے نہیں بیٹا …!
میں اب ٹھیک ہوں، بس کل زرا سا دل پہ بوجھ تھا، اسی لئے رات کو ہسپتال لے گئے تھے، ڈاکٹر نے چار چھ گھنٹے آبزرویشن میں رکھ کے چھوڑ دیا تھا، اب میں بلکل ٹھیک ہوں۔

بیٹیوں کی والدین سے محبت بھی اسی تہذیب کا حصہ ہے جس پر احمد شفیع جیسا محبوب ہو یا بیٹیوں کے شوہر ہوں کوئی بھی غالب نہیں آسکتا، ان دونوں نے بھی اپنی ماں کے پاس ڈیرے لگا لئے۔

بیٹیوں کے اصرار پر اس نے کالج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو لیٹر بھی لکھ دیا کہ جب تک آپ کسی قابل پرنسپل کا انتخاب نہیں کر لیتے تب تک میں جیسے تیسے کالج چلاتی رہوں گی، بورڈ کے استفسار پر اس نے موزوں ترین امیدوار کے طور پر ڈاکٹر احمد شفیع کو ہی ریفر کر دیا۔

ایک دن دروازے پر ایک اجنبی آیا، اس کے تعارف کرانے سے پہلے ہی ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ لڑکی نے سوال کر دیا، کیا آپ افسانہ نگار انکل احمد ہیں، مانچسٹر والے، ہم سب آپ کے بڑے فین ہیں، آپ اندر آئیں ناں پلیز۔

اس نے احمد کو دیکھا تو دیکھتی رہ گئی، آج اس کے ہاتھ پر گھڑی بھی تھی اور مانگ بھی اس کے حسب پسند، احمد نے پھر گھڑی اتار کر جیب میں رکھ لی وہ وقت کو اب اسی مقام پر روکنا چاہتا تھا لیکن وقت کسی کا غلام نہیں، لڑکیاں کھانے پکانے میں لگ گئیں اور وہ دیر تک باتیں کرتے رہے، وہ بیشتر باتوں کا جواب سر ہلا کر دیتی رہی یا کبھی اس کی آنکھیں نم ہو جاتیں، رات دیر تک ان کے گھر محفل جمی رہی، پھر اجازت لے کر وہ واپس چلا گیا لیکن ایک بار پھر اسے گھائل کر گیا، سمے کا کرب اس کے رگ و پے میں اترنے لگا اور دو دن بعد لامحالہ اسے پھر ہسپتال لے جانا پڑا۔

ڈاکٹر نے دونوں بیٹیوں سے شکوہ کیا، آپ کی امی ہیں تو میری استاد ہیں، رشتہ تقریباً ایک جیسا ہی ہے، اسیلئے میں نے طوطے کی طرح سمجھایا تھا کہ انہیں کوئی خوشی یا دکھ کی خبر ایک دم سے مت دینا، وہ دونوں حیران تھیں کہ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا، پھر وہ دو دن وینٹیلیٹر پہ رہ کے وقت کی قید اور تہذیب کے چنگل سے نکل گئیں۔

باہجھ عشق دے موت شہید ناہیں
ٹیک صبر دی باہجھ ہتھیار ناہیں
رضا رب دی باہجھ نہ ملے نجات
نفس ماریاں باہجھ سوئیکار ناہیں

ڈاکٹر احمد بھی صرف ٹیوٹورئیل کے پیرئیڈ میں ہی لیکچرز دیا کرتے تھے، ان کا انداز بھی مسحور کن تھا، کلاس پر پن ڈراپ سائیلینس چھا جاتا، سب ان کے لہجے اور باڈی لینگوئیج کو کہانی کے کرداروں میں ڈھلتا ہوا دیکھ کر دم بخود رہ جاتے، لیکن تہذیب کی طرف ان کا رویہ بہت جارحانہ ہوتا، وہ ان مصنفین کی طرح سے بولتے جو معاشرتی ٹیبوز کو بے لاگ بیان کیا کرتے ہیں، جنہیں قبول کرنا مشکل ہوتا ہے، جنہیں فیس کرنا کبھی ضروری اور کبھی مجبوری بن جاتا ہے، ساتھ ہی ساتھ وہ ان ٹیبوز کو ایک جھڑدی پلائے بغیر نہیں رکتے تھے۔

“تہذیب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے سماج کے لوگ اس تند و تیز بارش کی طرح ہوتے ہیں جو پکے مکانوں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتی مگر کچھے کوٹھے بہا کے لے جاتی ہے، کہیں یہ پگڈنڈیاں دھو دیتی ہے اور کہیں کچے راستے کیچڑ سے بھرپور کر دیتی ہے، جو اپنی بقا چاہتا ہے اس انسان کے پاس ایک ایسی مضبوط لاٹھی ہونی چاہئے جو ٹیک ٹیک کے اس ماحول میں اپنی مرضی کی راہ بنا کر چل سکے”۔

ڈاکٹر احمد ایک قبر کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، مستری نے قبر پر کتبہ فٹ کر کے آواز دی، لؤ جی ڈاکٹر صاحب، دیکھو اب ٹھیک ہے…؟

ڈاکــــٹر فـــریحــہ مــہر
سابق پرنسپل سینٹ جوزف کالج
“آپ انگریزی ادب کی ماسٹر اور مشرقی تہذیب کی بیمثال وارث تھیں”

کتبہ پڑھتے ہوئے کالج کے ٹیوٹورئیل ہال سے خود ان کی اپنی ہی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی تھی۔

“ڈئیر کڈز … محبت اور تہذیب کو کبھی آمنے سامنے مت آنے دینا … ورنہ …. محبت مر جائے گی”۔

مستری انہیں چپ کراتا رہا لیکن اسے نہیں پتا تھا کہ برسوں کا کرب جب آنسؤوں میں ڈھلنے لگے تو کسی قبر کے سرہانے روتے روتے شام بھی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:  میری مورنی جٹی: لالہ صحرائی

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: