قارئین و مصنفینِ دانش کے نام —– لالہ صحرائی

1
  • 280
    Shares

میرے اندازے سے “دانش” کا دوسرا سال مکمل ہونے میں کوئی دو ماہ ہی باقی رہ گئے ہوں گے لیکن اس مختصر سے عرصے میں انتظامیہ نے اس پلیٹ فارم کو نہ صرف ادبی اور پُرمغز تحریر و تجزیئے کا مرکز بنا دیا ہے بلکہ نامساعد مالی حالات میں بھی اپنا فریضہ پوری تندہی کیساتھ انجام دئیے چلے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو دانش کے علاوہ ایسا کوئی معتبر پلیٹ فارم موجود نہیں جو تخلیقی ادب میں افسانہ، انشائیہ، مزاح، فکر و فلسفہ، قدیم و جدید ادبی مقالات کے علاوہ تعمیری سیاسی مباحث اور تجزیوں کیساتھ ساتھ پاکستانیت کے فروغ، مذہبی ایمانیات اور ان دونوں کی نظریاتی اساس اور جدید معروضی نظریات پر بھی سیر حاصل مطالعاتی مواقع فراہم کرتا ہو۔

ایسا کوئی دوسرا معیاری برقی مجلہ اگر موجود ہے تو وہ بھی سراہنے جانے کے قابل ہے لیکن اس وقت ہم دانش کی بات کر رہے ہیں جو اپنی ذات میں ایک گرانقدر پرو۔پاکستانی، پرو۔ریلیجئیس اور مثبت جدیدیت کیلئے کھلا گرانقدر پلیٹ فارم ہونے کے علاوہ اپنی ذات میں ایک علمی انجمن بھی ہے جو بہت سوں کیلئے باقاعدہ ایک درسگاہ کا درجہ بھی بن چکا ہے۔

دانش کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کسی قسم کے مالی یا سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے نہ تو کسی مخصوص گروہ کو سپورٹ کرتا ہے، نہ ہی اپنی سائٹ پر منفیات، انکشافات اور سنسنی سے بھرپور لٹریچر شائع کرکے پبلک کا رش لیکر کاروباری یا عامیانہ ادویات کے اشتہارات سے پیسہ کمانے میں ملوث ہے بلکہ یہ اپنے ذاتی مالی وسائل کے اندر رہتے ہوئے نہ صرف تعمیری لٹریچر کے فروغ میں منہمک ہے بلکہ اپنا انفرادی اور نیوٹرل تشخص بھی نہایت باوقار طریقے سے قائم رکھے ہوئے ہے۔

عام آدمی کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ ایک ایسی ویب سائٹ چلانے کیلئے کتنے سرمائے کیساتھ کتنی محنت بھی لگتی ہے جو صرف شخصی مالی قربانیوں اور دانش کی ادارتی ٹیم کی شبانہ روز کاوشوں کا نتیجہ ہے، یقیناً دانش کا انویسٹر، ادارتی ٹیم اور انتظامیہ بھی لائق صد تحسین ہے جو علم و ادب کے فروغ کیلئے اپنا قیمتی وقت روزانہ کی بنیاد پر اس پلیٹ فارم کیلئے وقف کرتے ہیں۔

خاص آدمیوں اور مصنفین کو بھی شائد اندازہ نہیں کہ ان کے آرٹیکلز عوام تک پہنچانے کیلئے چھپنے سے قبل کتنے مراحل سے گزرتے ہیں اور پھر چھپنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی زیادہ سے زیادہ ترسیل پر دانش کی ٹیم کس قدر محنت انویسٹ کرتی ہے۔

یہاں تک جو کچھ بیان کیا ہے اس سے دانش کی تعریف یا خوشامد کرنا ہرگز مقصود نہیں بلکہ میرا مقصد اس امر کی طرف توجہ دلانا ہے کہ مہتمم اور پندرہ رکنی ٹیم کے اتنے رکھ رکھاؤ اور اتنی محنت کے بعد جس چیز کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے وہ ہے اس فورم پر چھپنے والے آرٹیکلز پر ہمارے رائئٹرز اور اہل علم کی عدم شرکت۔

توجہ دلاؤ جذبے کے تحت مجھے یہ بات کہنے میں عار نہیں کہ کسی آرٹیکل پر ناقدانہ تبصرہ بعض اوقات خود اس مضمون کے مصنف کو بھی برا لگ جاتا ہے اور وہ پلٹ کے قارئین یا تنقید نگاروں کیخلاف جوابی کاروائی بھی کر جاتا ہے یا اس صورتحال سے بچنے کیلئے وہ اپنی پوسٹ اٹینڈ ہی نہیں کرتا، نہ قارئین کے سوالوں کا جواب دینے آتا ہے حالانکہ اس مصنف سے بہتر اپنی پوسٹ کا دفاع کوئی نہیں کر سکتا، نہ اس سے بہتر کوئی دوسرا، قارئین کو اس کی پوسٹ کا نکتہ نظر ہی سمجھا سکتا ہے۔

پہلی گزارش ان مصنفین سے ہے کہ کم از کم اپنے آرٹیکل پر تو انہیں ڈسکشن کا ایک دو گھنٹے کا ماحول ضرور بنانا چاہئے جس سے آپ خود بھی سیکھ سکتے ہیں اور دوسرے بھی آپ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جبکہ دانش پر چھپنے والے اکثر آرٹیکل اور مصنفین سنسنی خیزی، اور اشتعال انگیزی پر مبنی تحاریر کی بجائے ہمیشہ سنجیدہ اور پرمغز گفتگو لے کے آتے ہیں تو پھر اپنی پوسٹ اٹینڈ کرنے میں ڈر کس بات کا ہے۔

کم از کم اپنے قارئین کو فرداً فرداً نہیں تو کسی خاص سوال کرنیوالے کو آکے جواب ضرور دینا چاہئے، اور باقی تبصروں کو بھی لائیک کرنا چاہئے تاکہ انہیں بھی احساس ہو کہ جس طرح انہوں نے مصنف کی تحریر کو توجہ دی ہے اسے مصنف نے بھی ریسپروکیٹ کیا ہے، ایک آدھ دن بعد اپنی پوسٹ پڑھنے والوں کا آخر میں شکریہ ادا کرجانا بھی کوئی معیوب بات نہیں بلکہ اس سے آپ کی عزت افزائی اور قارئین سے بہتر ریلیشن شپ قائم ہوگی۔

دوسری گزارش بھی انہی مصنفین سے ہے جو دانش پر چھپتے ہیں، وہ یہ کہ چلیں آپ کسی وجہ سے اپنے آرٹیکل پر ایک خاطرخواہ محفل جمانے کا حوصلہ یا وقت مینج نہیں کرسکتے تو کوئی بات نہیں، لیکن آپ یہ تو کر سکتے ہیں کہ دو چار دوسرے آرٹیکلز پر بھی کچھ توجہ دے جایا کریں، دوسروں کا بھی حق بنتا ہے کہ آپ جیسا مصنف جس کا آرٹیکل دوسروں کے آگے پیچھے چھپتا ہے، اپنے ان ساتھی مصنفین کی حوصلہ افزائی کیلئے ایک دن میں کم از کم کسی ایک آرٹیکل پر تو کچھ تنقید، کچھ تحسین یا کوئی تبصرہ کر جایا کرے تاکہ دوسرے مصنفین کو بھی آپ سے کچھ سیکھنے، سمجھنے یا داد پانے کا موقع مل سکے اور انہیں یہ احساس بھی ہو کہ انہیں عام قارئین کے علاوہ کوئی اچھا مصنف بھی پڑھتا ہے۔

تیسری گزارش اہل علم اور اہل رائے سے ہے، ہم یہ بات مانتے ہیں کہ ہر مضمون پر کچھ ناپختہ کار بھی ہوتے ہیں جو علمی گفتگو کی بجائے ذاتی تعصب کے آئینے میں تبصرہ کرتے ہیں اور باہمی چپقلش کا ایک ماحول بھی بنا دیتے ہیں، ایسے میں وہ اہل علم اور اہل رائے کے تبصرے کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے بچنے کیلئے ہم کب تک کنارہ کشی اختیار کئے رکھیں گے۔

میرا خیال ہے کہ یہ اہل علم اس قابل ہیں کہ ہر قسم کا رویہ رکھنے والی گیدرنگ میں ایجوکیشنل وے میں اپنی بات کہہ سکیں مگر بیشتر اہل رائے اپنی شریف النفسی اور نفیس طبیعت کی وجہ سے کنارہ کشی کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

میری ان حضرات سے خصوصی درخواست ہے کہ دانش پر اپنی شمولیت کو بہتر بنائیں، ابتدائی طور پر آپ بیشک الجھاوے کو بائی پاس کرنے کیلئے ایک معتدل سا تبصرہ کریں لیکن میدان کھلا نہ چھوڑیں، آپ یقین کریں کہ کچھ ہی عرصہ میں آپ کی رائے پر کان دھرنے والے آپ کی رائے کا انتظار کیا کریں گے، ان لوگوں کو لڑنے بھڑنے کیلئے اکیلا چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں، آپ ایجوکیشن نہیں کریں گے تو کون کرے کیونکہ یہ میڈیا ہی اب نسلیں بنانے اور بگاڑنے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے، ایسے میں معلمین بھی جب پیچھے ہٹ جائیں گے تو ان کی رہنمائی کا آسرا ہی ختم ہو جائے گا، یہ درخواست اسلئے بھی اہم ہے کہ دانش کا فورم ماحول کے اعتبار سے باقیوں کی نسبت بہت بہتر ہے، یہاں اتنی فریکوئینٹ بدمزگی نہیں ہے جتنی ہمیں دیگر فورمز یا انفرادی دیواروں پر نظر آتی ہے۔

چوتھی اور آخری گزارش قارئین سے ہے، اس اعتراف کیساتھ کہ دانش کا اصل حسن ہی آپ کی آمد سے ہے، مجھے دانش کے سب قارئین سے کوئی شکایت نہیں، ان کا آنا جانا، تبصرے کرنا، پوسٹوں کو رونق بخشنا جہاں پڑھنے سے آپ کی رغبت کا عکاس ہے وہاں ساری رونق ہی آپ کے دم قدم سے ہے مگر صرف ایک گزارش ہے کہ اوپر جو حالات بیان کئے ہیں اور ان حالات میں جن اہل علم سے دانش پر شمولیت کی استدعا کی گئی ہے ان کو آپ کے درمیان بات کرنے سے بیجا مخالف، طنز، بے ادبی اور ہوٹنگ سے اگر واسطہ نہ پڑے اور یہ حضرات اپنی شمولیت کو میری خواہش کیمطابق بڑھا لیں تو یقین کیجئے آپ کیلئے سیکھنے کے بہت نادر مواقع میسر آئیں گے۔

یقیناً جب آپ دانش کا ایک آرٹیکل پڑھتے ہیں تو اس میں سے کچھ حاصل کرنے کیلئے ہی پڑھتے ہیں، اس آرٹیکل پر اگر ایک معلم بھی اپنے صائب تبصرے کے ذریعے سے آپ کو مزید کچھ حاصل کرانے کیلئے آپ کا معاون ثابت ہو جائے تو سودا برا نہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ایسے صاحب مطالعہ، صاحب فہم، صاحب رائے اور عزت دار لوگوں کیلئے آپ ایک قابل احترام ماحول پیدا کریں گے۔

میں ذاتی طور پر دانش کی انتظامیہ کا حصہ نہیں لیکن انتظامیہ سے تعلق خاطر ہے اور دانش کا مصنف بھی ہوں اسلئے اس فورم کو اپنا سمجھتے ہوئے یہ محسوس کرتا ہوں کہ دانش انتظامیہ کی ساری محنت اپنی جگہ لیکن دانش کی کامیابی میں قارئین کی شمولیت اپنی جگہ ایک بڑا اور اہم فیکٹر ہے، اس میں آپ ہی کی مدد سے ایک فیکٹر یہ بھی شامل کرلیا جائے کہ آپ کے قابل داد رویئے کی وجہ سے اگر کچھ بڑے لوگ اپنی علمی صوابدید آپ تک پہنچانے بھی آنے جانے لگیں تو یقیناً جس مقصد کیلئے آپ دانش پر آتے ہیں اس مقصد کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔

مصنفین جو کچھ بھی لکھتے ہیں اور اس پر جو بھی تبصرے آتے ہیں ان کا فائدہ صرف یہ ہے کہ بہت سوں کو علم حاصل ہوتا ہے، بہت سوں کو مصنف کی زبانی اپنے جذبات و خیالات کی عکاسی دیکھ کر اپنے خیالات کے حق ہونے کا اعتبار آنے لگتا ہے، بعض کی غلط فہمیاں دور ہوجاتی ہیں اور بعض کو ان مباحث سے ہمہ جہت سوچنے کا ڈھنگ آجاتا ہے۔

لہذا جہاں کوئی آرٹیکل یا کوئی تبصرہ آپ کے خیالات سے مطابقت نہیں رکھتا وہاں شدومد سے مخالفت یا لڑائی مارکٹائی کی ضرورت اسلئے نہیں ہے کہ مصنف یا تبصرہ نگار نے جو کچھ لکھا ہے اس تحریر کا مدار صرف معلوماتی اور ایک زاویہ نظر کی طرح کا ہوتا ہے، وہ کوئی قانون نہیں بن جاتا جسے بزور قوت روکنا از حد ضروری ہو جاتا ہے، اسلئے ہمیں اپنے مباحث کے ماحول میں ہتک آمیز گفتگو کی بجائے اپنے اپنے زاویہ نظر یا علمی صلاحیت کو ایکدوسرے سے تبادلۂ خیال تک محدود رکھنا چاہئے، اس طرح ایک بہتر علمی ماحول پیدا ہو جائے گا جو مخالفت برائے مخالفت سے ممکن نہیں۔

امید ہے مصنفین، اہل علم، اہل رائے اور قارئین ان باتوں پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: