اسلامی تہذيب اور بائيولوجيکل تصور انسان —– عمر ابراہیم

0
  • 15
    Shares

جديد علم حياتيات کی دنيا ميں ‘تہذيب’ بے وقعت ہوچکی ہے۔ نظريہ ارتقا کا نيا سلسلہ ‘تہذيب’ کا فطری ہونا تسليم کرنے کيلئے تيار نہيں۔ ستم بالائے ستم يہ کہ مغرب کا معاشرہ تہذيب سے معذوريت کا عملی نمونہ بن چکا ہے۔ انسانی تہذيب کا يہ انکارکيوں ہے؟ يہ معذوريت کيسی ہے؟ مائيکرو بائيولوجی کی نئی تحقيق ميں اس کا فخريہ اعتراف موجود ہے، ايسا کيوں ہے؟

معروف برطانوی ماہرجينيات ايڈم رتھرفورڈ حياتياتی تاريخ A Brief History of Everyone Who Ever Lived کے باب horny and mobile ميں کہتے ہيں، ”زندگی کا کہيں کوئی آغاز نہيں، اور اگر کوئی اختتام ہے، تو ہماری نظرميں نہيں۔ ہم سب ہميشہ سے درميان ميں ہيں، ہمارے سارے سلسلے لاپتہ ہيں۔ ہميں کوئی ايسا مقام نہيں ملتا، جہاں سے زندگی شروع ہوئی ہو۔ کہيں زندگی کا کوئی شرارہ نہيں ملتا، کہيں خدا کی کسی روح کا سراغ نہيں ملتا جو آدم کے پيکرخاکی ميں پھونکی گئی ہو۔ کسی زندگی کا کوئی تعين نہيں کيا جاسکتا۔ تمام مخلوقات کی چار جہتيں ہيں۔ سب خلا ميں معلق ہيں۔ وقت کے دھارے ميں بہہ رہے ہيں۔ درحقيقت صرف وہی ٹھہرے ہوئے ہيں، جو مردہ ہيں۔ ہمارے آباؤ اجداد کا وہ سلسلہ جو نامعلوم ماضی تک چلا جاتا ہے۔ اس سے پيچھے يہ دو ٹانگوں والوں، اور پھر چوپايوں تک پہنچتا ہے، وہاں سے خطرناک درندوں ميں جا نکلتا ہے، اس سےپہلے يہ سمندر کي نباتاتی حيات ميں کہيں پايا جاتا ہے، آخرسمندری چٹان ميں منجمد ملتا ہے۔ بات چار ارب سال پيچھے چلی جاتی ہے۔۔۔”چند سطروں کے بعد ايڈم ردرفورڈ يہ تسليم کرتے ہيں کہ ”ہم نہيں جانتے، وہ کون سا اور کيسا تسلسل ہے، جو بندروں سے ہم تک پہنچا ہے۔ اس سلسلے ميں بہت بے ربطگی اور پيچيدگياں ہيں (ارتقا کے تسلسل ميں تعطل آيا ہے يا نہيں، کہيں کوئی گيم چينجر ہوا ہے؟ يا نہيں؟، نہيں جانتے!)۔ ہمارے پاس ارتقا کي پيشرفت کے حوالے سے کوئی معلومات نہيں، نئی تحقيق کے بعد انواع کے اعلٰی اور ادنٰی ہونے کا بھی کوئی مفہوم نہيں رہا۔ ۔ ۔ يہاں تک کہ چارلس ڈارون نے بھی اپنی دوسری اہم کتاب The Descent of Man ميں مرکزی سوال يہی اٹھايا کہ کيا ديگر انواع کي طرح واقعي انسانی زندگی بھی گزشتہ کسی حالت سے منتقل ہوئی ہے؟”

ماہرين جينيات اور ماہرين حياتيات کي نظرميں يہ ہے انسان کا وجود، جس ميں تخليق اور تہذيب کا کہيں گزر نہيں۔ ارتقا پر اندھا ايمان بھی ديکھا جاسکتا ہے اور لا علمی کا واضح اعتراف بھي نظر آتا ہے۔ بيانيہ دليل قاطع سے تہی دست ہے۔ تاہم تفہيم اور تنقيد کا مفيد مواد يہاں ملتا ہے۔ خاص طور پر چارلس ڈارون کی وہ الجھن، جس ميں ماہرين آج تک الجھے ہيں، اور مزيد الجھتے جارہے ہيں۔ کيونکہ ارتقا کے کسی نامعلوم وقفے ميں انسان کی تخليق کا مرحلہ تسليم کرنے کا مطلب مذہب کي سچائی تسليم کرنا ہوگا، اور ايسا کرنا سائنسدانوں کيلئے نظريہ حيات بدلنے جيسا ہوگا (ماہر فلکيات اسٹيفن ہاکنگ نے Black hole essays کے تعارف ميں يہ خدشہ ظاہر کيا ہے کہ اگرکائنات کا خالق مان ليا گيا، توسائنسی انقلاب کا کيا بنے گا؟)۔ لادين سائنس کی تاريخ کا رخ ہی بدل جائے گا۔ لٰہذا ماہرين حياتيات بہرصورت تصور تخليق کارد چاہتے ہيں۔ گوکہ يہ رد محض قياسات اور ظنيات پرمشتمل ہے۔ نظريہ ارتقا کي دليل اس حقيقت کے بعد مزيد کمزور پڑچکی ہے، کہ انواع ميں ادنٰی سے اعلٰی کی طرف سفرکا کوئی سلسلہ نہيں ہے۔ يہ نئی حقيقت نظريہ ارتقا کی وہ جڑ ہی کاٹ ديتی ہے، جس پرانسان کا نسبی درخت پروان چڑھايا گيا ہے۔ بندر سے انسان تک بننے والی مشہور ارتقائی تصوير قطعی جھوٹ ثابت ہوچکی ہے۔ چار ارب سال کے ارتقا کی سست روی اور دس ہزار سال کی شعوری اور تہذيبی پيشرفت کا براہ راست تعلق تلاش کرنا بھی منطق سے دوراورخود فريبی سے بہت قريب ہے۔ انسان کا اشرف المخلوق ہونا بالکل واضح ہے۔ مگر سائنٹزم کا رويہ اسفل السافلين کي تفسير بن چکا ہے۔

مولانا شہاب الدين ندوی رحمۃ اللہ عليہ نے ايک عرصہ قبل عظيم تصنيف ‘تخليق آدم اور نظريہ ارتقا’ ميں جديد سائنس کی نفسیات اور نظريہ ارتقا کا لاجواب تجزيہ کيا تھا، آج بھی قابل نقل ہے، ”ارتقا پسند لوگ کہتے ہيں کہ موجودہ انسان سے لاکھوں سال پہلے سے انسان جيسی شکل و صورت کی انواع کی باقيات کا پايا جانا ارتقا کا ناقابل ترديد ثبوت ہے۔ مگر حقيقت کے اعتبار سے ديکھا جائے تو اس سے ارتقا کا ثبوت نہيں ملتا۔ کيونکہ زمانی اعتبار سے کسی نوع کا دوسری نوع سے مقدم ہونے کا يہ مطلب نہيں ہے کہ مابعد کي نوع نے لازمی طور پر اسی کے بطن سے جنم ليا ہو۔ بلکہ زيادہ قرين قياس بات يہ ہے کہ ‘ترقی يافتہ انواع’ زمين کے طبيعی حالات کی سازگاری کے اعتبار سے زمانی طور پر يکے بعد ديگرے وجود ميں آئی ہوں۔ پھرجب زمين کے حالات بدل گئے تو اس ناسازگاری کی وجہ سے اگلی انواع ختم ہوگئی ہوں۔ غرض اس لحاظ سے سابقہ انواع کے چند جزئی آثار و باقيات کو ديکھ کر يہ جو قياس کرليا گيا ہے کہ زندگی کا ارتقا ادنٰی سے اعلٰی حالتوں کي طرف خود بخود بتدريج موجودہ ترقی يافتہ حالت تک پہنچا ہوگا، وہ کسی بھی طرح صحيح نہيں ہوسکتا۔ ۔ ۔ خود ڈارون نے اعتراف کيا ہے کہ مختلف شکلوں کے ايک سلسلے ميں جو بندر نما مخلوق سے موجودہ انسان تک غير محسوس طور پر بتدريج رونما ہوئے ہيں اس بات کا تعين کرنا ناممکن ہے کہ ان کيلئے انسان کی اصطلاح کہاں اور کب استعمال کی جائے؟ نماياں حقيقت يہ ہے کہ حياتياتی ارتقا کی بہ نسبت شعوری و نفسياتی ارتقا جس نے مدنيت وعمرانيت کو جنم ديا، بہت تيزی سے واقعہ ہوا ہے۔ انسائيکلو بريٹينکا کہتی ہے کہ حياتياتی اور نفسياتی۔ ۔ ۔ عمرانی ارتقا کا بہت بڑا فرق يہ بھی ہے کہ حياتياتی ارتقا بہت ہی سست رو واقع ہوا ہے، جس نے انسان کو پيش کرنے کيلئے تقريبا تين ارب سال لے ليے جبکہ اس کے برعکس نفسياتی۔ ۔ ۔ عمرانی ارتقا نہايت تيزی کے ساتھ صرف ايک قليل مدت يعنی دس ہزار سال ميں ہوگيا۔ ۔ ۔ آپ مادہ اوراس کے عناصر کا تجزيہ کيجئے اور ان کےخواص و تاثيرات کا تفصيلی جائزہ ليجئے، آپ کو کہيں بھی ‘شعور ادراک’ کی پرچھائياں تک بھی نہ مليں گی۔ يہ ايک ايسی پراسرارچيز ہے جس کو ‘روح خداوندی’ يا ‘خدائی پھونک’ کے علاوہ اور کوئی نام نہيں ديا جاسکتا۔ يہ ايک فوق الطبيعی شے ہے۔ جس کي حقيقت تک انسان کبھی رسائی نہيں پاسکتا۔ اسے طبعيات کی دنيا ميں تلاش کرنا بے سود ہے۔ مگر يہی وہ ‘امر الٰہی’ ہے جس کے ذريعے انسان ديکھتا اور سنتا ہے، بولتا اور لکھتا ہے، سوچتا اور خيال کرتا ہے اور احساس واستدلال کرتا ہے۔” مولانا ندوی کی اس دليل قاطع کے بعد، نظريہ ارتقا ميں ڈی اين اے اور جينوم کے سلسلے پر تحقيق کيلئے گراں قدر کام کا اضافہ ضرورشامل ہوا ہے۔ ليکن بات اجزا و عناصر کی مماثلتوں سے آگے نہيں بڑھی۔ انسان کے جذبات، شعور، ادراک، احساسات کی خلياتی و ميکانيکی توجيح پيش کردی گی ہے، مادی تعاملات کی باريکيوں کو ہی زندگی کا بنيادی محرک سمجھ ليا گيا ہے۔

موضوع پر آتے ہيں، ماہرين حياتيات کے تصورتہذيب کی بنياد نظريہ ارتقا پرقائم ہے، يہ نظريہ انسان پربات ہی نہيں کرتا۔ اس کا سارا زور’معاشرتی حيوان’ اور اس کی جبلتوں پرہے۔ يوں ماہرين حياتيات کا کوئی تصور ثقافت و تہذيب ہے ہی نہيں۔ جہاں يہ اصطلاحيں استعمال کی جارہی ہيں، وہاں بھی تصور’تہذيب’ اور تصور ‘ثقافت’ کا جوہری فرق مٹاديا گيا ہے۔ نظريہ حيات، معاشرتی اقدار، اور اخلاقيات پرلباس، خوراک، اور رہن سہن کے انداز کو فوقيت دی گئی ہے۔ انسانوں کے احساسات، نظريات، اور جذبات محض کيميائی اور حياتياتی عناصرکا تعامل قرارديے گئے ہيں، اور کچھ بھی نہيں۔ يہاں اصل شے ايک ايسا دو پيروں والا جانور ہے، جوجديد ترين مادی فوائد کيلئے بدترين ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے، اورکامياب انسان قرار پاتا ہے۔ يہی وہ رويہ ہے، جوانسانی تہذيب کی ہرتعريف کا دشمن ہے۔ اسے حياتياتی سائنس کی نفسيات ميں واضح ديکھا جاسکتا ہے۔۔۔ سائنٹزم ميں انساني تہذيب کی گنجائش نہيں، بلکہ يہ نماياں طورپرحالت تصادم ميں ہيں۔ معروف تاريخ Sapiens کے محقق يوول ہراری نے باب The arrow of history ميں انسانی ثقافت و تہذيب کو غير فطری قرار ديا ہے، ”طبعياتی قوانين کے برخلاف، انسان کا وضع کردہ (ثقافتی وتہذيبی) نظام اندرونی تضادات کا شکار ہوتا ہے۔ ثقافتوں نے مسلسل ان تضادات سے مصالحت کی کوشش کی، جس کے ردعمل ميں تبديلی کی لہر اٹھی۔ ۔ ۔ درحقيقت ‘معاشرتي حيوان’ کی جبلت ميں ‘گروہی مفادات’ کی تحريک نہيں پائی جاتی۔ کوئی چمپينزی ديگر چمپينزيزکے مفادات کی چنداں فکر نہيں کرتا۔ ۔ کوئی مکھی يہ اعلان کرتی نہيں پھرتی کہ دنيا بھر کی مزدور مکھيو! متحد ہو جاؤ۔ مگر انسانوں ميں ايک دوسرے کيلئے بھائی چارے کي فضا بنی۔ گروہی اور ثقافتی شناختيں وضع ہوئيں۔ ۔ ۔ تين ہزار سال سے لوگ اپنے اپنے (تہذيبی) تصور جہاں کی تبليغ کر رہے ہيں۔ پہلے ہزاريے ميں تين عالمی نظام ابھرکر سامنے آئے۔ پہلا معاشی، دوسرا سياسی، اور تيسرا مذہبی تھا۔ ” نظريہ ارتقا کا پروفيسر ہراری پر جو اثر ہوا ہے، اس کے اظہار ميں انہوں نے ديانت داري سے کام ليا ہے۔ يقينا جب انسان خود کو جانور سمجھنے لگے، تو جانور بننے ميں کتني دير لگائے گا؟ عالمی جنگيں دراصل اعلٰی وادنٰی نسل پرست معاشرتی حيوانوں کے درميان ہی چھڑی تھيں۔ غرض نوح ہراری کا انسان دراصل بندر اور مکھی کی برادری سے ہے۔ لٰہذا ايسا انسان جس کی فطرت ميں (نظريہ ارتقا کے مطابق) معاشرہ بندی اور تہذيب سازی نہيں ہے، وہ کس طرح انسانی تہذيب کا وارث و دعويدار ہوسکتا ہے؟ بلکہ ايسی کوئی بھی کوشش تہذيب اور بائيولوجيکل تصور انسان ميں تصادم پيداکرے گی۔ نظريہ ارتقا بيسويں صدی کے اوائل ميں بھی عام قتل وغارت کا بنيادی محرک بنا، آج مزيد تباہ کن ہوچکا ہے۔ آج کا شام، عراق، يمن، ميانمار، اور فلسطين اس خبر کی عملی مثاليں ہيں۔ پروفيسر ہراری کے ہاں تضاد کی يہ کيفيت نماياں ہے کہ جو انسان تہذيب سازی نہيں کرسکتا، وہ حيوانی جبلت کے برخلاف مالی و مادی محرک پر روئے زمين پر فوج کشی کرسکتا ہے، کيسے؟ پروفيسر ہراری مالی محرک ہی کو انسانی تعلقات کی بنياد قرار ديتے ہيں، کيونکہ يہ ان کی مادی خواہشات پوری کرتا ہے، يہاں وہ بندر اور مکھی کی جبلتيں بھول جاتے ہيں، جنہيں مال ودولت جمع کرنے کا کوئی شعور نہيں، سود کا کوئی لالچ نہيں۔ دوسري جانب حال يہ ہے کہ مال کی محبت کو دلوں کی بيماری بھي بيان کرتے ہيں۔ مگر يہ نہيں سمجھتے کہ کفر پرڈٹ جانا بدترين بيماری ہے، جو صرف انسان کی جبلت ميں شامل ہے، کسی بندر سے وراثت ميں نہيں ملی۔ باب Scent of money ميں قصہ سناتے ہيں کہ 1519 عيسوی ميں ہسپانويوں نے جب ميکسکو پر حملہ کيا، جواب تک ايک الگ تھلگ خطہ تھا، Aztec قوم کے لوگ يہاں رہتے تھے۔ انہوں نے محسوس کيا کہ حملہ آور چمکدار زرد دھات ميں بہت دلچسپی لے رہے ہيں۔ جبکہ يہ دھات کسی کام کي نہيں۔ جس دھات کو نہ کھايا جاسکے نہ اس کا کوئی اوزار بنايا جاسکے۔ يہ لوگ لين دين کيلئے کوکوا بيج اور ديگر اناج وغيرہ استعمال کرتے تھے۔ جب انہوں نے ہسپانوی حملہ آوروں سے پوچھا کہ سونے ميں کيا خاص بات ہے؟ تمہاری اتنی دلچسپی کيوں ہے؟ تو ايک ہسپانوی نے جواب ديا کہ مجھے اور ميرے ساتھيوں کو دل کی ايک بيماری ہے، جس کا علاج صرف اس دھات ميں ہے۔

دل کی اس بيماری کا عملی نمونہ مغربی اور مغرب زدہ معاشرے ہيں۔ انہيں معاشرہ سمجھنا بھي تعريفی طور پر ممکن نہيں ہے۔ يہ منتشر انسانوں کا ايسا انتظامی ہجوم ہے، کہ اگرمادی آسائشات نکال دی جائيں يا کم ہوجائيں، تو شيرازہ بکھر کر رہ جائے۔ صورتحال يہ ہے کہ سيد مودودی کی پيشگوئی کے مطابق ضبط ولادت نے مغرب کی آبادی خوفناک حد تک گھٹادی ہے۔ نئے فرد کا يہاں کوئی خيرمقدم نہيں ہے۔ بس چاہتے ہيں کہ کسي طرح موت کو شکست ديکر ہميشہ کی زندگی حاصل کرليں (Sapiens ميں پروفيسر نوح ہراری نے اس خواہش کے اظہارميں خوفناک خود غرضی کا اظہار کيا ہے)۔ خدمت اور مزدوری کيلئے غريب دنيا سے غلاموں کي کھيپ منگواليتے ہيں۔ اس منظر نامے کيلئے معروف عالم حامد کمال الدین کے (فرائيڈے اسپيشل کوديے گئے) انٹرويو سے مدد ليتے ہيں۔ انہوں نے اس صورتحال کا مناسب نقشہ کھينچا ہے، ”یہ بھی تو اہلِ نظر کے لیے ایک لطیف قسم کا عذاب ہے کہ اُن (مغرب) کی آبادی بتدریج گھٹ رہی ہے، اسکینڈے نیویا سے لے کر امریکہ اور کینیڈا تک یہی صورت حال ہے۔ کینیڈا ہر سال لاکھوں لوگوں کو امیگریشن دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بغیر اُس کا ملک چلے گا ہی نہیں۔ اگرچہ اسے ضرورت اس سے بھی زیادہ لوگوں کی ہے لیکن وہ اتنے ہی لوگ اپنے ہاں بلاتا ہے، اور وہاں اُنہیں ایڈجسٹ کرتا ہے۔ بہرحال عقل مند ہیں کہ وہ اتنے ہی لوگ بلواتے ہیں جو اُن کے ثقافتی سانچے میں ڈھل جائیں۔ بعد میں نئی کھیپ منگوا لیتے ہیں۔ ایک دم اتنے انسان نہیں بلوائے جا سکتے جو اُن کے معاشرتی ماحول سے سازگاری کے ضمن میں دشواریاں پیدا کریں۔ آخرکار یہ کس طرف اشارہ ہے کہ آدھی آبادی جیلوں میں ہے، آدھی آبادی Homesexual ہے۔ خاندان کا جو ادارہ ہے، اُس پر آپ نے ہاتھ ڈالا تو اللہ نے دنیا میں اُس کی سزا دے دی۔ یہ تو افریقی عورت ہے جو اُن کو بچے جَن کے دیتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی آبادی میں ذرا رمق پیدا ہوئی ہے۔ یہ اِسی عورت کے ایثار کا نتیجہ ہے کہ یہ انہیں زندگی دیتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ان ممالک کے سفارت خانوں کے سامنے لمبی لمبی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ یعنی اگر تیسری دنیا Stable ہوتی تو کہاں ہوتے یہ لبرل معاشرے؟ وہ جو خاندانی محبتیں ہوتی ہیں اُن کے لیے خواب ہیں، کیوں کہ خاندان ہوگا تو محبت ہوگی۔ دس میں سے دو عورتیں ہوں گی جو کہ اپنی پہلی شادی کے بعد آخر عمر تک اپنے خاوند کے ساتھ رہ لیتی ہیں۔ ہر مرد عورت نے کئی کئی شادیاں کی ہیں۔ ایسے ماحول میں خاندانی محبتیں خاک ہونی ہیں! کئی ایسی مغربی عورتوں کے تاثرات سننے کو ملے جو امریکہ میں مسلمان ہوجاتی تھیں تو مسلم ممالک سے گئے ہوئے لوگوں کے ساتھ اُن کی شادی ہوجاتی تھی۔ ظاہر ہے کچھ عرصے کے بعد پاکستان یا دیگر مسلم ممالک میں ان کی اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ واپسی ہوتی تھی، تو اُن سے پوچھا جاتا کہ کیسے حالات رہے؟ تو وہ بتاتی تھیں کہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ مشترکہ خاندان میں کزن اور خاندان کے دیگر افراد اس طرح بھی محبت کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے لیے تو یہ نارمل بات ہے، لیکن اس کی قدر اُن سے پوچھو جن کی خاندانی روایت دم توڑ چکی ہے۔ جس نے بھی فطرت کے ساتھ مذاق کیا، اُسے یہ سارے سانحے دیکھنے پڑے۔ وہاں پر بہت سے کام ریاست (State) کرتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں جو بوڑھے اور معذور ہیں، ان کو کون سنبھالے؟ جس کے پاس پیسہ ہے وہ تو خرچہ کرلے گا، جس کے پاس نہیں ہے اُس کو ریاست سنبھالتی ہے۔ ”سادہ سی حقيقت ہے، معاشرہ و تہذيب انسانوں سے بنتے ہيں، بے جان اشياسے نہيں۔ تہذيبيں، جو فنا ہوئيں، ان کے بےجان مادی آثار ہی ملتے ہيں، اور آثار ہی کہلاتے ہيں۔ معاشرہ فرد، خاندان، رشتے داروں، احباب، اورباہم محبت کے رشتوں سے پروان چڑھتا ہے، جو بتدريج ثقافت اور پھر تہذيب کی صورت اختيارکرليتا ہے۔ يہی ہے وہ تہذيب و معاشرت، جس نے انسان کو اس مقام تک پہنچاديا، کہ جہاں وہ پروفيسر، ڈاکٹر، ماہر حياتيات، ماہر جينيات، اور ماہر عمرانيات بن سکا ہے، اور اب اپنی ہی تشکيل ومعاشرہ بندی کا منکر ہوا جاتا ہے۔ پروفيسر ہراری کا اپنا مستقبل کيا ہو اگرطالب علم ہمہ تن گوش نہ ہوں؟ اگرمتجسس قاری نہ ہوں؟ اگرکتاب کی دس دس ملين کاپياں خريدنے والا معاشرہ نہ ہو؟ پھران دانشوروں کيلئے کسی تعريف و توصيف اور عزوشرف کا کيا مفہوم رہ جائے؟ کہ جب انسانی زندگي کيڑے مکوڑے کی سی بے وقعت ہوجائے؟ پھر يونيورسٹيز، ليکچرز، اور دلائل کی بھی کيا ضرورت رہ جائے؟ پھر کيوں نہ سب جانوروں کی طرٖح مکمل بے حس و سفاک ہوجائيں؟ ان سوالوں پر اثبات کا مطلب تباہی ہے۔

انسانوں کي تہذيب کا مستقبل کہاں محفوظ ہے؟ جواب کيلئے استاذ سيد مودودی رح سے نقل کرتے ہيں، اسلامی تہذيب کے اصول و مبادی ميں وہ لکھتے ہيں،

”زندگی کے تمام تصورات ميں صرف اسلام کا ہی تصور ايک ايسا تصور ہے جو فطرت اور حقيقت کے مطابق ہے، اور جس ميں دنيا اور انسان کے تعلق کو ٹھيک ٹھيک ملحوظ رکھا گيا ہے۔ ۔ ۔ نہ انسان اتنا حقيرہے کہ دنيا کی ہر قوت اس کی مسجود ہو اور نہ اتنا غالب و قاہر کہ وہ دنيا کی ہر شے کا مسجود بن جائے۔ نہ وہ اتنا بے بس ہے کہ اس کا ارادہ کوئي ذاتی چيز ہی نہ ہو، اور نہ اتنا طاقت ور کہ بس اس کا ارادہ ہی سب کچھ ہو۔ نہ وہ عالم ہستی کا مطلق العنان فرماں روا ہے اور نہ کروڑوں آقاؤں کا بيچارہ غلام۔ حقيقت جو کچھ ہے وہ ان مختلف اطراف و نہايات کے درميان ايک متوسط حالت ہے۔ ۔ ۔ يہاں تک تو فطرت اور عقل سليم ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ ليکن اسلام اس سے آگے بڑھتا ہے اور اس امر کا ٹھيک ٹھيک تعين کرتا ہے کہ دنيا ميں انسان کا حقيقی مرتبہ کيا ہے؟ انسان اور دنيا کے درميان کس نوع کا تعلق ہے؟ اور انسان دنيا کو برتے تو کيا سمجھ کر برتے؟ وہ يہ کہہ کر انسان کی آنکھيں کھول ديتا ہے کہ توعام مخلوقات کی طرح نہيں ہے بلکہ روئے زمين پر رب العالمين کا ذمےدار وائسرائے ہے۔ دنيا اور اس کی طاقتوں کوتيرے ليے مسخرکيا گيا ہے۔ تو سب کا حاکم اور ايک کا محکوم ہے۔ سب کا فرماں روا اور صرف ايک کا تابع فرمان ہے۔ تجھے تمام مخلوقات پر عزت و شرف حاصل ہے۔ ۔ ۔ (يہی ہے وہ اسلام کا تصور) اسلامی تہذيب کی بيخ و بنياد (جس) ميں متمکن ہے۔”

 

(Visited 119 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: