اظہار بھی مشکل ہے —- محمد اظہار الحق

0
  • 114
    Shares

بچپن کی سرحدوں کے آس پاس ایک فلمی نغمہ سنا تھا جس کے ابتدائی بول کچھ یوں تھے ’’اظہار بھی مشکل ہے جپ رہ بھی نہیں سکتے‘‘ میرے معصوم اور نسبتاً کم باشعور ذہن نے اظہار کے لفظی مفہوم سے نابلد ہونے کے باعث اسے کسی شخص کا نام جانا۔ کیونکہ میرے بچپن کے دوستوں میں سے ایک انتہائی کم سخن دوست کا نام اظہار تھا۔ شعوری بلوغت نے در ابہام تو وا کر دیا مگر میرا دل اس لفظ کا کوئی اور مفہوم ماننے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوا۔ برسوں بعد اظہار الحق کو دیکھا تو میرا مطلوبہ مفہوم کھٹ سے سامنے آگیا۔ سر تاپا مشکل ہی مشکل۔ بر بالخصوص مشکل۔ چہرے پر مشکل سی نیم متشرع داڑھی جو ہر مسلک اور ہر وضع کے لوگوں کو دھوکا دے جاتی ہے۔ شریعت، وضع داری اور دنیا داری کے اصولوں پر مرتب شدہ یہ داڑھی اظہار الحق کے چہرے کا پہلا عکس ہے داڑھی کے بعد آنے والی جزئیات اگرچہ زیادہ اسلام پسند نہیں مگر چونکہ ہمارے ہاں اسلام بتدریج نافذ ہو رہا ہے اس لیے پریشانی والی کوئی بات نہیں۔

اظہار الحق کے چہرے پر جو ایک معتبری برستی ہے اس میں ایک انتہائی خوبصورت فریم میں سجی عینک کا بھی دخل ہے یقین نہ آئے تو عینک اتروا کر دیکھ لیں۔ عینک کے پیچھے دو بظاہر سوچتی آنکھیں اس کی شخصیت میں ایک عجیب قسم کی مقناطیسیت پیدا کر دیتی ہیں اور وہ پہلے سے زیادہ مدبر دکھائی دینے لگتا ہے۔ چہرہ ہر حالت میں بالکل سپاٹ رہتا ہے جیسے کہ وہ جذبات سے یکسر عاری ہو مگر حقیقت اس سے مختلف ہے اس شخص کے اندر بھی ہیجان بپا ہوتا ہے مگر وہ اسے ظاہر نہیں ہونے دیتا اس وقت بھی وہ کم و بیش اسی کشمکش میں مصروف ہے اور دیدہ بینا کو دعوت نظارہ دے رہا ہے۔

محمد ضیاء الحق کے بعد محمد اظہار الحق ایک ایسا نام ہے جو اپنے اندر ایک آہنگ لیے ہوئے ہے۔ اظہار الحق میں بھی ضیاء الحق والا جلال خسروانہ موجود ہے اور اس کے چہرے سے بھی منعکس ہوتا ہوا مارشل لاء کا شفیق چہرہ چھپائے نہیں چھپتا۔ اتفاق سے وہ ایک بیوروکریٹ بھی واقع ہوا ہے اور ہزار تہمت دوسروں کے سر دے کر فرقہ افسر شاہی میں داخل ہوا ہے اگر معاملہ برعکس ہوتا تو اس کے سر پر چند بالوں کے ساتھ ساتھ تہمتوں کے انبار بھی ہوتے مگر وہ تہمتیں لینے کا عادی ہی نہیں اور یوں بھی کوچہ ملامت سے صاف بچ نکلنے والے شخص کو کوئی تہمت کیسے دے سکتا ہے۔ اس نے گھی کے کنستروں میں گھرے ہونے کے باوجود پانچوں انگلیاں تو کجا ایک انگلی بھی دبونے کی کوشش نہیں کی۔ شاید یہی اس کی طمانیت کی وجہ ہے۔

چہرے پر مشکل سی نیم متشرع داڑھی جو ہر مسلک اور ہر وضع کے لوگوں کو دھوکا دے جاتی ہے۔ شریعت، وضع داری اور دنیا داری کے اصولوں پر مرتب شدہ یہ داڑھی اظہار الحق کے چہرے کا پہلا عکس ہے داڑھی کے بعد آنے والی جزئیات اگرچہ زیادہ اسلام پسند نہیں مگر چونکہ ہمارے ہاں اسلام بتدریج نافذ ہو رہا ہے اس لیے پریشانی والی کوئی بات نہیں۔

اظہار الحق اکائونٹس کے محکمے کا ایک اعلیٰ افسر ہے اور بلا کا افسر ہے۔ (اب ریٹائرڈ) ایک دفعہ اس نے ایک ایسے دفتر کا چارج سنبھالا جسے اس کے پیشرو کو ایک زبردست تحریک کے نتیجے میں تبدیل کروانے کا شرف حاصل تھا، اظہار الحق نے حالات کی نبض پر دھیرے دھیرے ہاتھ رکھنا شروع کیا۔ اپنے مزاج کے برعکس ملائمت سے ماتحتوں کے ساتھ پیش آنے کی مقدور بھر کوشش کی۔ ایک دن یونین کے سرکردہ لیڈر کو بلا بھیجا نہایت راز داری سے اسے پوچھا کہ پچھلے افسر کے خلاف آپ نے جو پمفلٹ چھپوائے تھے اگر آپ کے پاس کوئی بچا ہو تو ذرا مجھے بھی دکھائیں۔ یونین لیڈر نے نہایت معصومیت سے جواب دیا۔ ’’سر! وہ اشتہار ختم ہو گئے ہیں اگر آپ چند دن ٹھہر جائیں تو مزید چھپوانے کا بندوبست کیا جا سکتا ہے‘‘ اظہار ایسے جواب سننے کا عادی تو نہ تھا مگر خون کے گھونٹ پینا جیسے محاورے کو بھی آخر استعمال کا کوئی موقع چاہیے۔

اظہار الحق ایک سیمابی شخصیت کا نام ہے۔ آنے والے لمحے میں اس کا ردِّعمل کیا ہو گیا کوئی نہیں کہہ سکتا۔ سٹاک ایکسچینج کے بھائو کی طرح اس کے مزاج میں تار چڑھائو آتا رہتا ہے۔ آپ کو اگر کبھی اس کے دفتر میں جانے کا اتفاق ہو آپ نہایت معتبر اور معزز بن کر اس سے گفتگو میں مصروف ہوں گے وہ بھی آپ سے نہایت حلیمی سے بات کر رہا ہو گا۔ آپ اگر کبھی ایک آدھ بار جانے کی اجازت مانگیں گے تو وہ مزید ٹھہرنے پر اصرار کرے گا۔ یکدم کسی آفت زدہ لمحے میں وہ آپ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہے گا۔ ’’اچھا جی پھر خدا حافظ‘‘۔ آپ اپنی باری پر حیران بھی ہوں گے اور پریشان بھی مگر اگلے ہی لمحے وہ خود دفتر سے باہر ہو گا۔ ہمارے کسی دوست کئی بار اس عبرت کدے میں جا چکے ہیں اور اس مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو چکے ہیں ہم چونکہ دوسروں کے تجربے سے سیکھنے کے عادی ہیں اس لیے تا حال اس تجربے سے محروم ہیں۔ بالکل اس طرح اظہار آپ کو فون کرے گا آپ لائن پر آئیں گے دوسری طرف سے ازمنہ وسطیٰ سے آتی ہوئی ایک آواز سنائی دے گی ’’جناب آپ کیسے ہیں‘‘ آپ جواب میں نہایت خوشدلی سے اپنی خیریت کی اطلاع دیں گے اور اپنی آواز میں انتہا درجے کی شائستگی پیدا کرتے ہوئے چند لمحات تک گفتگو کا پروگرام ترتیب دیں گے کہ ’’اچھا‘‘ کی آواز کے ساتھ ٹیلی فون بند ہو جائے گا۔ یعنی آپ کے ساتھ صرف اس شرط پر فون پر بات ہو سکتی ہے کہ آپ کی طبیعت ناساز ہو اور آپ طویل تو کیا مختصر گفتگو کرنے کی بھی پوزیشن میں نہ ہوں۔

اظہار الحق وسط ایشیا کی ریاست ازبکستان کو قدم بوسی کا شرف بخش چکا ہے۔
سمر قند میں شیشہ در شیشہ رس سرخ شہتوت کے
بہشت اس کے میووں سے شرمایا تھا اور میں اس میں تھا

یہ حیرت انگیز شعر اس نے سمرقند میں اپنے قیام کے بارے میں لکھا ہے میں بھی اس کی دیکھا دیکھی سمرقند و بخارا کا سفر کر چکا ہوں مگر جہاں تک نظر گئی کسی بھی ذہین اور دانشمند ازبک کو شیشوں میں شہتوت کا رس ڈال کر پیتے نہیں دیکھا۔ وہ لوگ اس معاملے میں زیادہ باذوق واقع ہوئے ہیں۔ شیشے میں سرخ رنگ کا مشروف ضرور ہوتا ہے مگر اس سے کسی قسم کا اسلامی جذبہ بیدار نہیں ہوتا۔ ہاں ہم جیسے سادہ دل لوگ اسلام دوستی کے جذبے سے مغلوب ہو کر اپنے ازبک مسلمان بھائیوں کو چشم تصور میں شہتوت کا رس پیتے ہی دیکھتے ہیں۔

خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

تاشقند سے لوٹتے ہوئے ہمارے وطن خاصے ایمان شکن تجربوں کی پوٹلی باندھ کر ہمراہ لاتے ہیں مگر اظہار الحق سمرقند و بخارا کے گلی کوچوں سے واپسی پر اپنے ہمراہ مدرسہ میر عرب، مسجد بالائے حوض، قلعہ میر، مشاہدہ گاہ الغ بیگ، مزار امام بخاری، آرام گاہ خواجہ بہائوالدین نقشبند اور شاہ زندہ سے اسلامی تاریخی اور تہذیبی پس منظر کے ٹکڑے اٹھا لایا ہے اور انہیں حال کے تناظر میں رکھ کر جوڑنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس کی پوریں زخمی اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں مگر اس کی اٹھان جس ماحول میں ہوئی ہے وہ اسے جواں حوصلگی عطا کرتی ہے۔ اس کا المیہ یہ ہے کہ وطن واپسی پر اسے نہ تو کوئی گوش نصیحت نیوش ملتا ہے اور نہ کسی دیدہ عبرت نگاہ سے واسطہ پڑتا ہے۔
معاف کیجئے گا شاید آپ اسے مدح سرائی پر محمول کریں مگر جب اظہار الحق جیسی وضع دار شخصیت کا ذکر ہو رہا ہو تو احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ ہی جاتا ہے۔

اظہار الحق کے عناصر ترکیبی بھی دوسروں سے مختلف ہیں۔ وہ صاحب جلال، شاعر جمال، فارغ البال اور کثیر العیال ہے۔ وہ افسر غضب کا، شاعر ڈھب کا، کثیر العیال اب کا اور فارغ البال کب کا ہے۔ ویسے آپ جو بھی کہہ لیں اس کے پر جوں تک نہیں رینگتی۔

مجھے یہ خاکہ لکھنے سے پہلے بہت سے دوستوں نے بہت ڈرانے کی کوشش کی بعض دوستوں نے کہا کہ اظہار بہت زود رنج ہے برا مان جائے گا مگر میرے پاس اس کا اپنا دیا ہوا لائسنس موجود تھا۔ میں نے سب کو ایک ہی جوب دیا۔
ایسے ناداں بھی نہیں جاں سے گزرنے والے
ناصحو، پند گرو راہ گزر تو دیکھو

یہ بھی پڑھئے گا:  جناب عالی — جلیل عالی پر سلمان باسط کا خاکہ

 

اظہار الحق کی شخصیت کی اتنی جہتیں ہیں کہ ان سب کا احاطہ کرنے سے میرے خلاف ایف آئی آر بھی کٹ سکتی ہے مگر اس کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو اس کی شاعری ہے جس کو اس سے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ایک ایسا تناور پیڑ ہے جس کے سائے میں اگنے والے پودے کبھی پھول پھل نہیں سکتے۔ آپ ہی ایمان سے کہئے کہ دیوار آب، غدر اور پری زاد جیسی کتابوں کے خالق سے مسحور ہوئے بغیر کیسے رہا جا سکتا ہے۔ اس کی شاعری ایک طلسم کدہ ہے تو اس کی شخصیت ایک حیرت کدہ اور مجھ جیسے لوگ جب حیرت کی انگلی تھام کر اس طلسم کدہ میں داخل ہوتے ہیں تو پتھر کے ہو جاتے ہیں۔

میں نے اظہار الحق کا خاکہ لکھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کی شخصیت ڈھلی ڈھلائی میرے سامنے آ گئی …..میں نے چند حرف ترتیب دیئے اور خاکہ متشکل ہو گیا۔ ممکن ہے وہ اسے پڑھے اور ناراض ہو جائے، یہ بھی ممکن ہے کہ میری تنخواہ کا بل بھی پاس ہونے سے رہ جائے مگر کیا کیا جائے کہ
اظہار بھی مشکل ہے چپ رہ بھی نہیں سکتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: