سعیء لاحاصل —– محمد خان قلندر

0
  • 72
    Shares

انسانی تہذیب یا ہیومن سویلائزیشن کے یہ اہم پہلو زیادہ تر نظرانداز رہتے ہیں کہ جغرافیہ سے تاریخ بنتی ہے اور تاریخ جغرافیہ بدل دیتی ہے۔

کہتے ہیں کہ عقل اور دولت باہم سوتن ہیں جو یکجا نہی رہ سکتیں، عقل محکم ہو تو دولت کم ہو جاتی ہے اسی طور سے دولت بڑھ جائے تو عقل معدوم ہونے لگتی ہے۔ دنیا میں جنگیں بنیادی طور پر دولت کے حصول کے لئے لڑی جاتی ہیں وسائل سے مالا مال علاقوں پر چڑھائی کر کے ان پر قبضہ کرنا مقصود ہوتا تھا،  لیکن ابتدائی زمانے میں جنگ کے لئے مذہب کو استعمال کیا جاتا تھا۔ یہود و نصاری کی باہمی جنگوں کے بعد صلیبی جنگوں تک مذہب کو ہی وجہء نزاع بنایا گیا۔ مذہبی جنگوں میں قباحت یہ تھی کہ ان میں وقفے کے دوران متحارب گروہ آپس میں متصادم ہو جاتے تھے۔ عیسائی مذہب کی پیروکار حکومتوں میں چرچ اور بادشاہ کی مخاصمت جب حد سے بڑھی تو بادشاہوں نے چرچ کو حکومتی نظم سے نکال کر اٹلی کے شہر روم میں علیحدہ مختصر ترین خود مختار ریاست ویٹیکن بنا دی اور مذہب کو چرچ میں محدود کر دیا۔ اس تبدیلی نے جمہوریت کو جنم دیا، لیکن بادشاہت بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی۔

مشین کی ترویج اور صنعت کی ترقی سے جنگ کی وجہ اب زمین سے صنعتی خام مال اور مزدور پر مرتکز ہو گئی۔ ترقی یافتہ ممالک نے غیر ترقی یافتہ ملکوں کو نوآبادی نظام کے تحت زیر تسلط کرنا شروع کیا اس بیک گراؤنڈ کے ساتھ پچھلی صدی میں جنگ عظیم اوّل اور دوئم ہوئیں، جن کے نتیجے میں دنیا کا جغرافیہ تبدیل ہو گیا۔ پھر سُپر ٹیکنالوجی متعارف ہوئی تو دنیا منڈی کی معیشت میں بدلنے لگی۔ ڈائرکٹ نوآبادی کنٹرول سے مارکیٹنگ کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیاں وجود میں آئیں، کرہ ارض کو گلوبل ویلیج بنانے کی ترکیب بنی۔ اب جنگ کا پیٹرن بھی تبدیل ہو گیا، مشرق میں محاذ جنگ تو بدستور رہے لیکن معاشی مفادات کے لئے پراکسی وار زیادہ استعمال ہونے لگی۔ حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ، تبدیلی اور محدود علاقے میں تجارتی مفادات کے حفاظت کے لئے بڑے ممالک کی مداخلت ہنوزجاری ہے۔ اب تجارت نیا عامل جنگ شامل ہو گیا، جس کے لئے صدیوں سے مستعمل بحری شاہراہوں تک رسائی اور ان پر قبضہ رکھنا اہم ترین ٹارگٹ قرار پایا۔

اس تناظر میں پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت اجاگر ہو گئی یوں تو یہ اہمیت تو ہمیشہ سے تھی، لیکن ہمیں اس کا نہ ادراک تھا اور نہ ہمیں ایسے حکمران نصیب ہوئے جو اپنے ذاتی اقتدار اور مفاد سے بالاتر ہو کر سوچتے۔

سکندر میرزا اور جنرل ایوب خان، جنرل یحیی خان سے ذوالفقار علی بھٹو  تک جنرل ضیاء سے نواز شریف تک اور جنرل پرویز مشرف سے زرداری اور عمران تک سب دولت اور مرتبے کے غلام اور قومی معاملات کے وسیع تر مفادات کے ادراک سے نااہل ثابت ہوئے۔ گوادر کی خرید کے علاوہ یہاں کسی نے ملکی سرحدوں کی مکمل نشاندہی بھی نہ کی، جب کہ ہم دنیا کی سب سے مصروف بحری شاہراہ پر بیٹھے ہیں، خلیج بنگال، بحر ہند اور بحیرہ عرب سے متصل دیگر خلیجی راستوں تک سب سے قریب رسائی ہمارے بحری ساحل کی ہے۔

لیکن طاقتور مغربی اور مشرقی طاقتوں نے اپنے اپنے مفاد کے لئے ہمیں دیگر مسائل میں الجھا کر استعمال کیا، ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت تھی، جس کی وجہ سے ہمارے پچاس کی دہائی کے بجٹ سرپلس تھے۔ اس پر پہلی ضرب سندھ طاس کے منصوبے نے لگائی۔ کہاں ہمارے ہاں پانی کی فراوانی سے ہر سال سیلاب آتے تھے اور کہاں اب پینے کے لئے پانی کے لالے پڑے ہیں۔ صنعتی ملک بننے کے چکر میں ہم ایک طرف توانائی کے بحران کا شکار ہیں تو دوسری طرف ہماری زرعی پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے۔

امریکہ، یورپ روس اور چین کو ہم سے کوئی نامعلوم خدشات لاحق رہے جب ہی سیٹو سینٹو میں ہم شامل تھے لیکن پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں میں کسی نے بھی ہماری مدد نہ کی۔ یاد رہے کہ سب سے اہم پہلو شائد ہمارا جغرافیہ ہی ہے۔ گلوب پر دیکھیں تو پاکستان سے ملحق افغانستان میں امن قائم ہو جائے تو ہمارے تعلقات دو مسلم برادر ملک کے ہو سکتے ہیں۔ جس کے بعد وسطی ایشیائی ممالک ترکمانستان، ازبکستان، کازغستان، تاجکستان سے زمینی رابطے استوار ہو جائیں تو چین کا مسلم اکثریت کا صوبہ سنکیانگ بھی متصل ہو گا۔ ترکی اور ایران تک بھی زمین راستے سے رسائی ہو گی، اور مڈل ایسٹ کے ممالک شامل ہو کر ایک مسلم اتحاد بن سکتے ہیں۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت معاون ہے، لہذا یہ بلاک دنیا کا سب سے بڑا فوجی اور تجارتی ہب ثابت ہو سکتا ہے، زمینی وسائل اور بحری رسائل تو ویسے موجود ہیں۔

یہی ممکنات سب سے بڑا خطرہ بننے کا اندیشہ ہیں جس وجہ سے روس نے افغانستان پر چڑھائی کی جہاں امریکہ سترہ سال سے یہاں موجود ہے اور چین بھی اب اپنا اثر رسوخ بڑھا رہا ہے لیکن ہم پہلے کی طرح جیسے سرد جنگ میں روس کے خلاف امریکی بلاک کے پٹھو بنے تھے۔ اسی طرح آج امریکہ اور چین کی تجارتی رقابت کے بیچ لٹکے ہوئے ہیں اور اندرونی محاذ پر ناسمجھی سے کرپشن کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔ ہمیں ترجیحی بنیاد پر معاشی بدحالی سنبھالنے کے لئے دنیا کے مستند فارمولے پر کام کرنا چاہیے۔ احتساب ہونا چاہیے لیکن اس کے لئے شور شرابہ نہی عملی کاروائی کرنا ہوگی۔

حکومت وقت کو فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر معیشت میں استحکام پیدا کرنے کے لئے یکسوئی سے ملک میں پھیلی بے یقینی کی فضا ختم کرنی چاہیے۔ مزید برآں صبح شام وزراء کے اکانومی پر متضاد بیان بند کریں کہ یہ گومگو اور یوُٹرن کے چکروں میں معیشت منہدم ہو سکتی ہے۔

معیشت کی بحالی کا روڈ میپ بنائیں عوام کو اعتماد میں لیں، سیاسی درجہء حرارت کم کریں ساتھ ہی ذاتی انا سے نکلیں اور ملکی استحکام کی خاطر اپوزیشن کو ساتھ ملا کر چلیں کہ احتساب تو احتساب کے اداروں نے کرنا ہے۔

ملک میں صوبائی منافرت، بد امنی اور تشدد پرستی کی فضا دب ضرور گئی ہے تاہم ختم نہیں ہوئی چنانچہ حکومت کو ان مسائل کے دیرپا حل کے لئے بہت بڑے فیصلے اور اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

اس سارے پس منظر میں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہمارا فرض ہے۔ جس کے لئے دو کام کرنے کی تیاری لازم ہے۔ جس کے بعد علاقائی مسلم ممالک سے اتحاد کا ڈول ڈالا جا سکے گا۔ اوّل ملک کی تمام سرحدوں کی درست نشان بندی، دوسرا صوبوں کی نئی حلقہ بندی، جس کے لئے آئین میں بڑی ترامیم کرنا ہوں گی بلکہ شائد ریفرنڈم یا دستور ساز اسمبلی کے انتخاب ضروری ہوں۔

ہمارے ملک کو قدرت نے بہترین محل وقوع، زرخیز زمین، محنت کش عوام، افرادی قوت اور صحتمند آب و ہوا سے نوازا ہے بس تھوڑی تنظیم نو کی ضرورت ہے۔ پاکستان نیا نہی بن سکتا البتہ صوبے نئے بن سکتے ہیں۔ تبدیلی کے نعروں کی نہیں  بلکہ آئین کے مسخ شدہ حصے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قانون پوری استقامت سے رائج ہوسکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: