نظمِ منیر: منظروں سے لپٹی شاعری —- ڈاکٹر مریم عرفان

1
  • 53
    Shares

قفسِ رنگ
بہت دن ہوئے
میں نے اک بادلوں سے بھری صبح کو
خوابگہ کے دریچے سے جھانکا
تو پائیں چمن کا ہر اک پھول
حیرت زدہ لڑکیوں کی لجائی ہوئی آنکھ کی طرح
میری طرف تک رہا تھا!

یہ مختصر مگر جامع نظم منیر نیازی کے کلام سے اقتباس ہے۔ ویسے تو منیر نیازی کے تعارف میں ان کی دیگر تخلیقات بھی آتی ہیں۔ جن میں تیزہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، ساعت سیار، آغاز زمستاں اور اس بے وفا کا شہر وغیرہ شامل ہیں۔ ’’نظمِ منیر ‘‘چاہے ان تخلیقات میں جس بھی نمبر پر آتی ہومگر موضوعات کے حوالے سے اسے کسی طوربھی کم نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کتاب میں کم و بیش تین سو اٹھانوے نظمیں شامل ہیں۔ ہر نظم ایک نیا موضوع لیے ہوئے ہے، جس میں تخیل اور حقیقت کا پرتو بھی سانس لیتے ہیں۔ ’’نظمِ منیر‘‘ کی پہلی خصوصیت ان کی چند نظموں کے کردار ہیں۔ یہ کردار کیا ہیں، گویا کھلی آنکھوں دیکھے جانے والے خواب ہیں، جنہیں منیر نیازی نے بڑے کمال سے لفظوں میں پرویا ہے۔ ’’نظمِ منیر‘‘ کاسب سے پہلا کردار میرا سین ہے۔ یہ وہی میرا سین ہے جس پر میراجیؔفدا تھے۔ اس بنگالی آنکھوں کی سیاہی میں گم ہوجانے والا میراجیؔ جب منیر نیازی کی آنکھوں سے گزرا تو میراسین عنوان بن گئی۔ جس کی تروتازگی کو منیر نیازی نے یوں بیان کیا ہے:

یوں تو اس من موہنے دیس کی ہر بالا مدھو بالاہے
اس کے ہر اک انگ میں میٹھی کا مناؤں کا بھالا ہے
اس کے مکھ کا جو بھی بول ہے جادو کرنے والا ہے

نظم چونکہ خیالا ت سے پُر اور تکلفات سے عاری ہوتی ہے شاید اسی لیے میراجیؔ کی دل بستگی نے منیر نیازی کو میراسین لکھنے پر مجبور کردیا۔ یا پھر یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ منیر نیازی نے اپنے خیالات کو میراجیؔ کے تجربے میں سمویا اور اس سے میراسین دریافت کرلی۔ یہ کوئی تاریخ کا ایسا کردار نہیں تھا جس کی بازیافت نے نئے آنے والوں کے لیے کوئی مثال قائم کی ہو۔ عورت کا وجود جس جمالیاتی اقدار کا خلاصہ ہے اس کا پرتو اس نظم کو سمجھا جا سکتاہے۔ دوسرا کردار ماضی کی وہ داستان ہے، جس میں محبت کے فسانے کی خوشبو بسی ہے۔ یہ کردار لیلیٰ ہے، جس کے عشق میں گرفتار قیس کی کہانی کو منیر نیازی نے اپنے تخیل سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ محض کردار نہیں جو منیر نیازی نے اپنی اس نظم میں استعمال کیا۔ یہ تو اس محبت کی بازگشت ہے، جو منیرنیازی نے اپنے اوپر کیفیت سمجھ کر طاری کی اور لفظوں میں بیان کردی۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:

شش جہت کی تیرگی میں دم بدم بڑھنے لگی ہے مورپنکھوں کی صدا
چھارہا ہے کھڑکیوں پر سرنگوں، پھولوں بھری بیلوں کا رنگیں سلسلا؟
لگ رہا ہے سرخ ریشم سے سجے کمروں میں شرمیلی نگاہوں کا رسیلا جمگھٹا؟

گویا میرا سین ہو یا لیلیٰ، وہ نہ تو میراجیؔ بن کر خود کو آئینے میں دیکھتے ہیں اور نہ قیس کا بھیس بدلتے ہیں۔ یہ کردار ان کے اپنے ہیں جنہیں انہوں نے علامتی انداز میں استعمال کیا ہے۔ اس لمحے لگتا ہے جیسے وہ میراجیؔ بھی خود ہیں اور مجنوں کا جنون بھی اپنے اوپر طاری کیے ہوئے ہیں۔ نظمِ منیر کا ایک اور تاثر مافوق الفطرت عناصر ہیں، جنہیں وہ کسی بھی کیفیت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ چاہے یہ کیفیت عشق کی ہویاسرمستی کی، خواب کی یا خیال کی۔ مثلاً ان کی ایک نظم ’’آمدِ شب‘‘ اس بات کی دلیل ہے جس میں انہوں نے رات کی آمد کو ایسے لفظوں سے تشبیہہ دی ہے کہ بے اختیار تخیل کی فضا ہمیں مافوق الفطرت عناصر کے حصار میں قید کردیتی ہے۔ مثلاً:

سوادِ شہر کے کھنڈر
گئے دنوں کی خوشبوؤں سے بھر گئے
اکیلی خواب گاہ میں
کسی حسیں نگاہ میں

اگرچہ ان لفظوں میں آسیبی قوتوں کے نام نہیں لیکن یہ جو فضا ہے، یہ جو تخیل ہے وہ کسی بھی آسیب کی موجودگی سے کم نہیں لگتا۔ اسی طرح نظم ’’حدیثِ دل‘‘ملاحظہ ہو:

بہار کی رُت میں جب ہوائیں
سلگتی خوشبو اڑا کے لائیں
تو اس کے ہر سمت شور کرتی
ہیں بیتے لمحوں کی اپسرائیں

منیر کے ہاں نظموں کے عنوانات بھی آسیبی ہیں۔ جادوگر، ایک آسیبی رات، جادو گھر، طلسمِ خیال، خزانے کا سانپ، بھوتوں کی بستی، چڑیلیں، سپیرا، سندر بن میں ایک رات، ویران درگاہ میں آواز، مذہبی کہانیوں کا درخت، شام خوف رنگ، دھوپ میں دو سفید عورتیں، سفر کے طلسمات، سانپ کی صفات اورطلسمات جیسی نظمیں خاصا ڈراؤنا تاثر لیے ہوئے ہیں۔ منیر نیازی نے ایسے لفظوں کا سُوت بنا ہے کہ ان میں یہ عناصر سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔ سوچ بے اختیار اس تخیل کو بننے لگتی ہے جوہم سے صدیوں دور ہے۔ اس سلسلے میں ان کی نظمیں ’’طلسمات‘‘اور ’’آتما کا روگ‘‘ قابلِ توجہ ہیں۔ ’’طلسمات‘‘ میں انہوںنے کسی ویران جزیرے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس میں بھوت پریت نظر آتے ہیں۔ یہ طلسمات تو اس اپسرا کا حسن ہے جسے انہوں نے لفظوں میں سمویا ہے۔ اس کی خوشبو کا طلسم ہے جسے انہوں نے بڑے کبھی قریب سے دیکھا ہوگا۔ اس اپسرا کی لجائی آنکھیں، ریشمی دوپٹہ، سیاہ رات اورآہٹ بڑے طلسماتی انداز میں پیش کی گئی ہے۔ جسے یوں بیان کیا گیا ہے:

پرے سے دیکھو تو صرف خوشبو قریب جاؤ تو اک نگر ہے
طلسمی رنگوں سے بھیگتے گھر نسائی سانسوں سے بند گلیاں
خموش محلوں میں خوب صورت طلائی شکلوں کی رنگ رلیاں
کسی دریچے کی چق کے پیچھے دہکتے ہونٹوں کی سرخ کلیاں
پرے سے تکتی ہر اک نظر اس نگر کی راہوں سے بے خبر ہے

اس نظم کا پہلا مصرعہ ہی طلسماتی ہے۔ اپسرا کو دور سے دیکھنا لیکن اس کی خوشبو کو محسوس کرنا طلسم نہیں تو اور کیا ہے۔ ایسے میں اس کے قریب جاکر اسے کسی نگر کی طرح ہرا بھرا، شاداب اور بھرا پرُا پانا بھی طلسمات کا کارخانہ ہے۔ نظم ’’آتماکا روگ‘‘ بھی طلسماتی جزیرے کی داستان ہے۔ جس میں بھاری بھر کم الفاظ کی بھرمار نے اسے اور طلسماتی بنا دیا ہے۔ شراپ، مہاتما، سمے، آتما، سلونے، شیام، گوپیوں، پھاگ، مندر، رادھیکا، گپھائیں، کتھائیں، اپسرائیں اور قیدگاہ جیسے الفاظ اس جادونگری کا احوال پیش کرتے ہیں جہاں انسان کی سوچ تو جاسکتی ہے لیکن اس کا وجود جانے سے قاصر ہے۔ یہ آتما کا روگ کیا ہے؟اس کا جواب ہے تنہائی کا روگ، جسے انسان محسوس تو کرتا ہے لیکن لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ انسان اپنے آغاز سے ہی تنہا ہے، اس کا دنیا میں اکیلے آنا اور جہان فانی سے رخصت ہو جانا بھی اس کی ذات کے خلا کو پر نہیں کر سکتا۔ ہر انسان پر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب وہ اپنے قرب و جوار کے میلے ٹھیلوں سے بھی باغی ہو جاتا ہے اور اس کا دل تنہائی کی پیاس سے پر ہو جاتاہے۔ روگ بھی انسان کی ذات کا دکھ ہے جو اسے خود سے وابستہ لوگوں سے امیدیں لگا کر ملتا ہے۔ یہ اکیلا پن اور اداسی آتما کا روگ بن کر منیر نیازی کی نظم میںیوں نظر آتی ہے:

کہیں سلونے شیام ہیں نہ گوپیوں کا پھاگ ہے
نہ پائلوں کا شور ہے نہ بانسری کا راگ ہے
بس اک اکیلی رادھیکا ہے اور دکھ کی آگ ہے

منیر نیازی جب ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ان کی شاعری میں کردار خودبخود جنم لینے لگتے ہیں۔ یوں وہ کہانی درکہانی بنتے چلے جاتے ہیں۔ نظم ’’پریم کہانی‘‘ بھی ایسا ہی تاثر رکھتی ہے۔ جس میں رادھا اور شیام کی داستان ہے، وہ تنہائی، وہ خموشی اور وہ راگ رنگ سب کچھ لباسِ مجاز میں ظاہر ہوتا ہے تو کہانی کچھ یوں بنتی ہے۔

اس بن میں اک بھولی رادھا
شیام سے ملنے آتی تھی
جب اس کا نہیں پاتی تھی
تو رو رو نین گنواتی تھی

واقعاتی حسن کی انتہا منیر نیازی کی انہی نظموں میں نظر آتی ہے۔ پھر واقعے کا مختصر مگر جامع احوال شخصیت نگاری بن جاتاہے۔ نظمِ منیر کی ایک اور خوبی کرداروں کی سراپا کشی ہے۔ میرؔ نے تو کہا تھا :

اس کی آنکھوں کی نیم بازی میں
ساری مستی شراب کی سی ہے

مگر منیر نیازی نے محبوب کے خدوخال کا وہ نقشہ کھینچا ہے کہ میرؔ کا محبوب اس کے آگے پھیکا لگنے لگتا ہے۔ وینس کے مجسمے کی طرح ان کے محبوب کا سراپا بھی لفظوں کی پوروں سے چھو کر محسوس کیا جاسکتاہے۔ اس کی آنکھیں، ہونٹ، گردن، ہاتھ، بال، دانت، بھنویں، پیٹ، ناف، کمراور رنگت گویا ایسے ہی ہے جیسے ملکوتی حسن انگڑائیاں لے رہا ہو۔ یا مقابلہ حسن میں شامل کوئی حسینہ آنکھوں کو خیرہ کر دے۔ یہ بصارت چھیننے کا فن منیر کی نظم ’’سراپا‘‘ میں واضع نظر آتاہے۔

اس کی آنکھیں کالے بھنوروں کی حزیں گنجار ہیں
ہونٹ اس کے عطر میں بھیگے ہوئے یاقوت کی مہکار ہیں
اس کی گردن جیسے مینائے شراب
اس کے نازک ہاتھ جیسے باغ میں رنگیں گلاب
بال اس کے کالی مخمل کا حسیں انبار ہیں
————-
پیٹ۔ ۔ ۔ مرمر کی تراشیدہ چٹان
ناف۔ ۔ ۔ سکھ کے نشے میں سویا مکان
ساق۔ ۔ ۔ پورے چاند کی پہلی سریلی تان ہے

منیر نیازی کے ہاں خوبصورتی کے مظاہر بکثرت نظر آتے ہیں۔ ’’نظمِ منیر‘‘ میں ہر دو نظموں کے بعد آنے والی نئی نظم کسی نہ کسی چہرے کے حسن کا قصیدہ سناتی ہے۔ ایک لڑکی، ایک خوش باش لڑکی، خوبصورت عورتیں، کشش اور رد کشش، وصال، میںشانت ہوکر تیری پریم کتھا لکھوں گااور حسن میں گناہ کی خواہش جیسی نظمیں ان کے تخیل سے زیادہ حزن و ملال کا ملاجلا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ نظم کشش اور رد کشش میں بھی یہ عوامل مظاہر بن کر ابھرتے ہیں۔

سارے عالم میں مراکز ہیں خوشی کے
عورتوں کے باغ کے
ایک پل کی اور کافی دیر تک کی دوستی کی
صورتوں کے باغ کے
ہیں خیاباں در خیاباں رشتہ ہائے زندگی

منیر نیازی نے مظاہرِقدرت کو بھی نظموں میں بیان کیا ہے۔ جن میں برسات، خزاں، پت جھڑ، خوشبو کے رنگ، گلِ صد رنگ، ایک پتے سے خطاب، روشنی، ذروں کا ملاپ، مینہ، ہوا اور اجنبی شہر ڈھاکہ کے بلدا باغات میں تماشا اور کہسار مری میں سردیاں شامل فہرست ہیں۔ منیرکی نظم ’’برسات‘‘ ان مظاہر کا پول کچھ یوں کھولتی ہے:

آہ!یہ بارانی رات
مینہ، ہوا، طوفانی، رقص صاعقات
شش جہت پر تیرگی امڈی ہوئی
ایک سناٹے میں گم ہے بزم گاہِ حادثات
آسماں پر بادلوں کے قافلے بڑھتے ہوئے
اور مری کھڑکی کے نیچے کانپتے پیڑوں کے ہات

برسات پر اس سے قبل بھی بہت خوبصورت نظمیں لکھی گئی ہیں جن میں اختر شیرانی کی نظم ’’برسات‘‘ بھی شامل ہے۔ منیر نیازی کے ہاں برسات کی یہ بہار تاثراتی رنگ لیے ہوئے ہے۔ نظم ھذا کے یہ مصرعے برسات کی کہانی سنا رہے ہیں۔ منیر نیازی بارانی رات کا نقشہ کھینچتے ہیںتو آنکھوں کے سامنے طوفان کی بلا خیزی کوند جاتی ہے۔ بارش، ہوا، طوفان اور تیز بوندوں کا رقص جبکہ آسمان پر اندھیرے کی پرچھائیں، بادلوں کا بھاگے چلے آنا اور شاعر کی اس کھڑکی کے نیچے جہاں سے وہ قدرت کے ان مظاہر کو دیکھتا ہے پیڑوں کا طوفان کی گود میں ہلکورے لیتے ہوئے جنبش کرنا منظر نگاری کی انتہا نہیں تو اور کیاہے۔ ابھی یہ منظر پورا نہیں ہونے پاتا کہ شاعراس شور میں، اس تنہائی میں، اس فراق میں محبوب کی آواز سنتا ہے۔ گویا ایک طوفان کھڑکی سے باہر ہے اور دوسرا اس کے اندرکہیں سانسیں لے رہاہے۔ یہ شور جھکڑ کی صورت میں چلتاہے تو آواز آتی ہے۔

چارسُو آوارہ ہیں
بھولے، بسرے واقعات
جھکڑوں کے شور میں
جانے کتنی دور سے
سن رہا ہوں تیری بات

نظم منیر کی ایک اور صفت اس کی زبان اور الفاظ کا استعمال ہے۔ شاید یہ بات منیر نیازی کے بھی وہم و گمان میں نہیں ہوگی کہ وہ جانے انجانے کتنی زبانوں کے کون کون سے الفاظ استعمال کرگئے ہیں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں ہم آزادانہ استعمال میں تولاتے ہیں لیکن کہیں بھی ٹھہر کر یہ نہیں سوچتے کہ یہ الفاظ آئے کہاں سے ہیں۔ ایسے ہی بہت سے الفاظ منیر کے ہاں بھی جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ نظمِ منیر میں زیادہ الفاظ سنسکرت کے استعمال ہوئے ہیں۔ اب نظر ذرا ان کی لفاظی پرنظر دوڑائیے۔

سنسکرت زبان کے ان الفاظ میں بن موہ، مدھ، دھاری، چھب، بھوت، کواڑ، پت جھڑ، لڑکی، گجر، بھنور، اپدیش، جگ، کنیا، انگ، مکھ، جمگھٹا، سمے، اپسرا، اگن، کلپائے، بھور، دیپ، برکھا، کال، گھائل، منتر، پریتم، چتا، مہکار، تان، جھیل، مٹی، بھیس، رت، تیکھے، بان، چندر، پھاگ، نار (عورت)، کومل، باس، گگن جتن، رادھا، پنگھٹ، سنگت، کہرام، پنچھی، پنکھ، گرہن، سندر، دھند، گھاٹ، مندر، کلپنا اور بیراگی شامل ہیں۔ جبکہ پراکرت زبان کے الفاظ سپیرا، دھبا، ناچ وغیرہ زیادہ استعمال کیے گئے ہیں۔ ہندی زبان کیا لفاظ میں لہو، بدریا، سنور اور فارسی میں سیاہ، آسودہ، چق، دوشیزہ، جادو، دخت، بت، نادمیدہ، خدا، سبو، زہر، کمان، فانوس، دوزخ، دشت، بارش، خیاباں، پرستش جبکہ عربی میں خزانہ، وحشی، مخمل، عطر، دف، دائم، طناب، عنبر، نعش، مدفن، سراب، موت اور مراجعت کا استعمال زیادہ ہے۔ یونانی لفظ طلسم اوراردو کا لفظ چڑیل نظمِ منیر کا حصہ بناہے۔

منیر نیازی کی یہ لفظی بازی گری علامتیں اور تخیل کی فضا انھیں اپنے عہد کے شعراء سے ممتاز تو کرتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ شعور بھی دیتی ہے کہ شاعر کا وجدان اس کا قلم ہے اور سوچ اس وجدان کی جلا، جسے وہ اپنے خیالات کی زمین میں بوتا ہے تو لفظوں کے خوشے پروان چڑھتے ہیں۔ اب یہ اس کے پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ ان خوشوں کے خمیر سے کیا بناتا ہے۔ منیر نیازی کے وجدان کے خوشے بھی صفحہ قرطاس پر بکھرے ہیں جن سے مظاہر قدرت کی خوشبو آتی ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: