امریکہ، چین اور پاکستان: پلٹتی بازیاں —– فرحان شبیر

0
  • 12
    Shares

امریکہ ان دنوں خاصے کرائسس کا شکار ہے۔ جسکا پاکستان نے اچھی طرح ادراک کرلیا ہے اور چین کے ساتھ سی پیک کی صورت میں مضبوط ہونے والی دوستی نے پاکستان کو ایک حوصلہ بھی دیا ہے۔ امریکی چین اور روس کو قابو کرنے میں پاگل ہوئے ہوئے تو وہیں پاکستان بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ اور ٹکا ٹکا کر بھگو بھگو کر جواب دیئے جارہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انتخابات سے پہلے واشننگٹن پوسٹ سے لیکر نیویارک ٹائمز تک اور حسین حقانی سے لیکر دا ہندو اخبار تک عمران خان کے وزیراعظم بننے کے امکانات پر ماتم کیا جارہا تھا۔

دیکھا جائے تو حالیہ ادوار میں امریکی نظام سیاست، خارجہ پالیسی، معیشت بدترین بحران سے گزر رہے ہیں۔ اور اسکے اثرات نمایاں طور نظر آرہے ہیں۔ بجائے اسکے کہ امریکی اپنے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اور اپنی کارپوریشنز کے مفادات کے تحفظ کے لئیے لڑی جانے والی جنگوں پر معافی مانگیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں ایک دفعہ پھر liberal world order کے تحفظ کی قسمیں کھا بھی رہے ہیں اور یورپی ممالک کو بھی اٹھوا رہے ہیں۔ جن میں برطانوی اسٹیبلشمنٹ سر فہرست ہے۔

ایک طرف امریکہ کا وزیرخارجہ سابق سی آئی اے چیف لبرل ورلڈ آرڈر کا نفاذ چاہتا ہے تو دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ گلوبلائزیشن کو ناکام قرار دے کر پروٹیکشنزم کی آڑ لے رہا ہے۔ چین کے ساتھ چھیڑے جانے والی تجارتی جنگ ہو یا ایران کے ساتھ نیوکلئیر معاملات پر ہونے والے معاہدے سے یک طرفہ طور پر پھرجانا۔ روس پر میزائل تیاری کا الزام لگا کر خود INF ٹریٹی سے نکل جانے کا 90 دن کا الٹی میٹم دینا۔ جمال خشوگی کے قتل سے لیکر سعودیہ امریکی تعلقات تک اور پاکستان کو چار دن پہلے بے کار کی تڑیاں لگا کر بعد میں مدد کی درخواست کرنا۔ یہ اور اس جیسے کئی معاملات میں امریکی انتظامیہ کے اقدامات کچھ اور ظاہر کرتے ہیں اور پینٹاگون کے اقدامات کچھ اور۔

دیکھا جائے تو جس لبرل آرڈر کو نافذ کرنے کے لئیے امریکی وزیر خارجہ بات کرتے ہیں اس لبرل ورلڈ آرڈر کا ہی شاخسانہ ہے امریکی اور یورپی ممالک کی سیاست اور حکومت بڑے بڑے فنانشل انسٹیٹیوشنز اور ایلیٹ کلاس کے حقوق کی نمائندہ اور محافظ بن کر رہ گئیں ہیں۔ لبرل اکانومی، گلوبلائزیشن کا فائدہ امریکی، یورپی ملکوں کے عوام کے بجائے انکے بڑے بڑے بزنس جائینٹس، کارپوریشنز، فنانشل انسٹیوشنز کے ڈائریکٹرز، شیر ہولڈر کو زیادہ پہنچا۔ امیر اور غریب کے درمیان خلیج بھی انہی پچھلے چالیس پینتالیس سالوں میں زیادہ گہری ہونا شروع ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج فرانس جیسا ملک پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تین ہفتوں سے مظاہروں اور احتجاجوں کی زد میں ہے۔ پیرس لٹریلی جل رہا ہے۔

اسکے برخلاف چین نے اپنی ملک کی معیشت اور امیروں کو کینڈے میں رکھا۔ کنٹرولڈ اکانومی کا نظریہ رکھا اور فنانشل انسٹیٹوسنز کو من مانی کی اجازت نہیں دی یہی وجہ ہے کہ 2008 کے فنانشل کرائسس نے جہاں امریکی معیشت کو متزلزل کر کے رکھ دیا تھا وہیں چین میں 2008 سے 2018 تک فی کس آمدنی اوسط 2000 ہزار ڈالر سالانہ سے بڑھ کر 8000 ہزار ڈالر تک پہنچی ہیں۔ اور اسکی گروتھ بھی 2008 سے 2014 تک 10 فیصد کی نمو سے بڑھی ہے۔ جبکہ امریکی معیشت ریسیشن کا شکار رہی اور خود امریکی عوام کی فی کس آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ویجز رکی رہیں ہیں اور سستی لیبر کی تلاش میں امریکی کمپنیاں چین ویت نام ملائشیا تھائی لینڈ چلی گئیں۔ امریکی عوام 2008 سے 2018 کی دس سالوں کو گمشدہ دہائی یعنی lost decade کے نام سے پکار رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں امریکی، یورپی معاشی نظاموں میں بھی دڑاریں پڑ گئی ہیں۔ گلوبلائزیشن کے علمبردار ملک امریکہ کے صدر ٹرمپ نے چینی کمپنیوں سے اپنے ملک کی مصنوعات بچانے کے لئیے چینی امپورٹس پر ڈیوٹیاں لگا کر پروٹیکشنزم کو گلے لگا لیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: ماسکو فارمیٹ: طالبان کے ساتھ بھارت کے رابطے —— پروفیسر ضمیر اعوان

 

بے شک امریکہ کا دفاعی بجٹ اس سال بھی دنیا میں سب زیادہ تھا اور کئی سالوں تک رہیگا لیکن اپنی جنگی مشینری کو رواں رکھنے کے لئیے اسے ڈالروں کی روانی برقرار رکھنا مشکل ہوتی جارہی ہے۔ 13 بحری بیڑوں میں سے چار تو صرف 2 ارب ڈالرز مرمتی رقم نا ہونے کی وجہ سے صرف کھڑے ہوئے ہیں۔

ڈالر کے متبادل پر تو اب بہت تیزی سے دنیا رخ کرنے جارہی ہے۔ روس، چین اور سعودیہ کا تیل ڈالر سے ہٹ کر دوسری کرنسی میں خرید و فروخت پر بات چیت کا آغاز کرنا ہی ڈی ڈالرائزیشن کا آغاز ہے۔ ایک دفعہ ڈالر ڈالر ڈی لنک ہوا نہیں امریکی نظام سطوت و شوکت میں ٹوٹ پھوٹ بڑھتی جائیگی۔ جرمنی سمیت یورپی یونین کے ممالک بھی اب امریکی بوجھ سے چھٹکارا پانے کی کوششوں میں ہیں اور اسی لئیے ٹرمپ کی بدزبانی کا نشانہ بھی بنتے جارہے ہیں اور ردعمل میں دور بھی ہو رہے ہیں۔

یہ اور جیسے کئی اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ امریکہ کہ اب اتنی نہیں چل رہی جتنی ماضی میں چلا کرتی تھی اور روس اور بالخصوص چین اتنے کمزور یا بے وقعت نہیں رہے جتنے 20 پچیس سال پہلے۔ اور پاکستان میں بھی اب وہ لوگ حکمران نہیں رہے جو امریکی حکمرانوں کی چاپلوسی کو اپنی سیاست کی معراج سمجھتے تھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: