قیامِ پاکستان اور جدید پاکستان: سمتی و جہتی غلط فہمیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ رائو جاوید

0
  • 23
    Shares

پاکستان کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی ہی نہیں جارہیں بلکہ تسلیم کی جارہی ہیں اور انکی آئینی و قانونی بنیادیں فراہم کی جارہی ہیں۔

پاکستان 11/9 کو وجود میں نہیں آیا تھا بلکہ 1947 کو ایک ہی دفعہ مکمل طور پر وجود میں آگیا تھا۔ بعد ازاں کچھ لوگوں نے اسے صرف جمہوری آئینی فریم ورک کے تحت جانا اور مانا تو کچھ نے بعد از بھٹو یا بعد از ضیاء الحق فریم ورک میں جبکہ جدید دور میں مشرف ڈاکٹرایین نے اسے بعد از 11/9 کے حادثاتی اثرات کے ماتحت کردینے کی ٹھانی ہے۔ نفاذِ شریعت کے مطالبات کبھی بھی نئے نہیں رہے۔ نہ ہی جدیدیت کیلئے موجودہ ادوار کے عالمی دباؤ بالکل آج ہی وجود میں آئے۔ یہ ہمیشہ سے تھے اور ہمیشہ باقی رہیں گے۔ لیکن انکی قرار واقعی حیثیت وقت کیساتھ ہی متعین ہوگی جو کہ ہو سکتا ہے کہ قومی زندگی میں صرف ایک تاریخی نوٹ کے طور پر باقی رہ جائیگی۔ قومیں اپنی تحریر کردہ آئینی حیثیت میں وجود پانے اور متفقہ تسلیم شدہ قومی اجماع کے بعد سے کسی نئی جہت کو ہمیشہ اپنانے سے باز رہتی ہیں۔ یہ وقتی اور قلیل مدتی دباؤ صرف اور صرف قانونی پیرائیوں میں موجود ہوسکتے ہیں۔ انہیں آئینی و مقصداتی پہلؤوں میں اپنایا ہی نہیں جاسکتا۔ مقصداتی جہت آئین سے بھی بالاتر ہوتی ہے جیسے کہ قراردادِ مقاصد اور اسکے ساتھ اصولی حِکم۔ لیکن بعد ازاں کے شامل کئے گئے بنیادی حقوق یا قوانین اور آئینی تجدیدات کی حیثیت وقتی ہوتی ہے۔ اس لئے جن لوگوں نے موجودہ دور میں چند ایک وقتی اشارات کو قوانین کا رتبہ دیا ہے، انہیں ایسے معاملات کی حقیقی حیثیت کو سمجھنا چاہیے۔ یہ صرف مطالباتِ شریعت ہی نہیں بلکہ ان سے منسلک قومی زندگی کا مکمل شعور ہے جسے متنازعہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ایسے ہی بے ہنگم افکار چند نسلی و صوبائی تعصبات کی بناء پر بھی وجود میں آئے ہیں جنہیں تاریخی پسِ منظر دینے کے علاوہ حقیقی قومی اور نظریاتی وجود دینے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ایسا ہرگز تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانیوں سے برِصغیر پاک و ہند کی تحریک اور اصولی قیادت کی جدوجہد کا باب ہمیشہ کیلئے تاریخ میں رقم ہے۔

جیسے قبل از برطانوی سامراجی جدوجہد تسلیم شدہ ہے ایسے ہی بعد ازاں کی عالمی سامراجیت کے سامنے پاکستانی قوم کی قرار واقعی جدوجہد ایک حقیقت ہے۔ پاکستان کا افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف کردار، امریکی بالادستی کے برخلاف حکمتیار و برہان الدین ربانی کے مجاہدین کی حکومت کا قیام اور بعد ازاں امارات اسلامی افغانستان کو تسلیم کرنا ایک شعوری کوشش تھی۔ ملک میں جاری طویل کشمکش نے اب یہ رُخ اختیار کیا ہے کہ بعد از 11/9 کے واقعات و قوانین یا قومی ترجیحات پسِ پُشت ڈالی جارہی ہیں۔ یہ ایک حادثہ ضرور تھا لیکن اسے پاکستان کی قومی اور امتِ مسلمہ کی اجتماعی زندگی میں معمولی سی حیثیت ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ اس سے قومی سمت اور مقصداتی جہت تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عمران خان سے افغان طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے تعاون اس تمام جہت کو پامال کردیتا ہے۔ ساتھ میں دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ کی قانونی حیثیت بھی صفر ہوجاتی ہے۔ جس سے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی حیثیت انسانی حقوق کی چوتھی نسل کی نہیں بلکہ قرار واقعی وقتی حادثے کی ہی رہ جاتی ہے۔ اس لئے یہ تسلیم کرنا کہ جمہوریت اور پُرامن جمہوری جدوجہد ہی واحد طریقہ ہے، مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر ایسا ثابت ہوجائے تو اس سے بہت سے عالمی اداروں کی سمت اور مقصداتی جہت بھی تبدیل ہوگی۔

پاکستان میں شریعت کا مطالبہ کرنے والے ہتھیار بند طالبان کیساتھ سابق وزیرِ اعظم نوازشریف اور موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ اسی جانب ایک واضح اشارہ ہے۔ اسلئے جن افراد اور گروہوں نے ملکی باگ ڈور سنبھالنے کی کوشش میں اسکا رُخ ہی پھیر دینے کی کوشش کی تھی، انہیں جلدہی یہ احساس ہوگیا ہوگا کہ یہ قوم اپنی حقیقی آئینی سمت اور مقصداتی جہت کو بھول نہیں پائی ہے اور اپنی منزل کے انتخاب اور اس کیلئے کوشش میں کسی صورت دیر نہیں کرنا چاہتی۔ اس لحاظ سے پاکستانی قوم اس تمام جدوجہد میں بہت پہلے سے یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ شریعت کی بالادستی اور اسکا نفاذ بنیادی اور اولین فرائض میں سے ہے جبکہ امن کیلئے شور و غوغا بعد کا مسئلہ ہے۔

پُرامن قومی زندگی بھی درست سمت اختیار کرنے اور مناسب اندازِ عمل کے ساتھ ساتھ اصولی حِکم کو اپنانے اور ان پر عمل کو آگے بڑھانے میں مُضمر ہے۔ اگر کسی جماعت یا قیادت نے اس میں دیر کی یا اس نے اس رُخ ہی کو بدلنے کی کوشش کی تو وہ خود تو مِٹ سکتی ہے لیکن قوم کی سمت یا مقصداتی جہت میں غیر ضروری تبدیلی نہیں لاسکتی۔ یہ ایک نئی بحث ہوسکتی ہے کہ کیا بعد از آزادی 1947 یا بعد از قراردادِ مقاصد (1949) کوئی نئی قومی جہت، نئی سمت یا نیا انداز باقاعدہ قومی زندگی میں آیا ہے یا آنا چاہیئے۔ عالمی دباؤ کے تحت جمہوریت کی پہلی دو کے بعد تیسری لہر اور سیاسی کے بعد انسانی حقوق کی نئی نسلوں؛ معاشی (سرخ) و ماحولیاتی (سبز) پر پارلیمانی قانونی عمل اختیار کئے گئے ہیں، انکی سمتی و جہتی حیثیتوں پر کوئی خاطر خواہ تحریری کوششیں سامنے نہیں آسکی ہیں۔ ایسے ہی کسی حقیقی قومی سمت یا جہت یا ان مقاصد پر عمل کے بارے میں تحت از سمت و جہت کام پر مختصر تبصرہ بھی معلوم نہیں ہوپایا۔ قوم نے اس پر کسی قومی اجماع کا انداز بھی اختیار نہیں کیا کہ جس پر پاکستانی پارلیمان اور اسلامی و قومی گروہوں کو رائے کیلئے طلب کیا گیا ہو یا اس پر کوئی بڑی قومی کانفرنس منعقد کی ہو یا مطالعاتی کمیٹی/کمیشن ہی قائم کیا ہو۔ اس لئے یہ قومی و عالمی اور اسلامی امہ کے ذمے واجب فرائض ہیں جن کی انجام دہی کسی نہ کسی طور ہونی چاہیئے۔

ایک ضمنی معاملہ یہ ہے کہ شاید امجد اسلام امجد صاحب نے کسی دور میں تحریر فرمایا تھا کہ کانسینسس کا اردو مترادف موجود نہیں۔ لیکن اسلام نے عربی میں اجماع کا لفظ ایک ہزار سال سے بھیی قبل جاری کیا تھا۔ یہی کانسینسس کا حقیقی مترادف ہے۔ اجماع کو اسلامی کیساتھ ساتھ قومی اجماع کیلئے بھیی کانسینسس میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ قومی اجماع سے مراد کسی ایک دور میں کسی ایک اہم معاملے پر تمام قومی گروہوں کا اتفاق مراد ہوسکتا ہے۔ ایسے میں انگریزی لفظ کانسینسس کے استعمل کی ضرورت سے بچا جاسکتا ہے اور ایک عربی و اسلامی اصطلاح کے عمومی استعمال کو فروغ دیکر برِصغیر میں اسلامی لسانی روایت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: