رسالۃ الغفران : ایک غیر معمولی شاعر کی غیر معمولی نثر

0

ابولعلاء المعری (پیدائش 973ء/363ھ – وفات 1057ء/449ھ)  کا شمار عربی زبان کے اہم مگر متنازعہ  شعراء   میں ہوتا ہے جسکے  بعض خیالات کی وجہ سے اس پر ملحد ہونے کا الزام لگایا گیا۔  اس کے نظریات  خاصے دلچسپ تھے مثلاً   وہ سبزی خور تھا اور گوشت سے پرہیز کرتا تھا۔ اقبال کا  زبانِ زد عام مصرع    ؎      "ہے  جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات "جس نظم سے لیا گیا ہے اس کا نام ہی  ابولعلاء المعری ہے جس میں اسکی سبزی خوری کا  ذکر کرتے ہوئے اقبال نے یہ فقرہ المعری کی زبان سے اس بھنے ہوئے تیتر سے خطاب کے دوران کہلوایا ہے جو اسے کسی دوست کی طرف بھیجاگیا تھا۔  بہرحال اس  کے  خیالات  و نظریات اور اس پر لگنے والے  الزامات الگ سے ایک دلچسپ موضوع ہے جبکہ اس مضمون میں اسکی ایک نثری کتاب ‘رسالۃ الغفران’ کا تعارف کروانا مقصود ہے جس کیلئے بس اتنا جاننا کافی ہوگا کہ وہ مذہبی حوالے سے متنازعہ شہرت کا حامل تھا۔
رسالۃ الغفران کئی حوالوں سے ایک انتہائی دلچسپ اور غیر معمولی کتاب ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیاگیا ہے کہ دانتے نے ‘طربیہ خدواندی’ کی تخلیق کیلئے المعری کی اسی کتاب سے تشویق پائی۔ یہ دعویٰ تو محل نظر ہے مگر ‘رسالۃ الغفران’ اپنی جگہ ایک اہم اور دلچسپ کتاب ہے۔
یہ رسالہ  المعری نے ابن القارح نامی ایک  ادیب  کے خط  کے جواب میں تصنیف کیا۔ ابن القارح  المعری کے ایک واقف کار ابوالحسن المغربی کے  بااثر خاندان کے بچوں کا استاد تھا   تاہم جب یہ خاندان  شاہی عتاب کا شکار ہوا تو ابن القارح نے نہ صرف ا س کا ساتھ چھوڑدیا بلکہ  اس کے کچھ افراد کی شان میں ہجویہ  اشعار بھی کہے ۔ اس پر ناخوش ہوکر  المعری نے اپنے ملنے جلنے والوں سے  ابن القارح کے متعلق    منفی رائے کا اظہار کیا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ابن القارح نے اپنے متعلق المعری کی منفی رائے  کی خبر ملنے  پر ہی اس کے نام خط لکھا۔   

ابن القارح  کا خط   نہایت   دلچسپ ہے  جس میں وہ  المعری کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے  اس سے ملاقات کی شدید خواہش کے اظہار اور اس خواہش کی تکمیل میں حائل اپنی کبر سنی کے  ذکر کے علاوہ اپنی زندگی کے کچھ واقعات  مثلاً اپنی بھانجی کے ہاتھوں  چوری ہوجانے والے اسی (80) دیناروں کا ذکر کرتا ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ بار بار مختلف شعراء کے شعروں کے حوالے دیتا  اور ان کے فنی محاسن  وعیوب اور مختلف الفاظ  و قواعد پر عالمانہ تبصرے کرتا ہے۔یہاں عام قاری بھی یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا ہے کہ ابن القارح  اپنے مخاطب یعنی المعری کو اپنے تبحرعلمی سے مرعوب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ مگر  اس سے بھی زیادہ   دلچسپ  خط کا وہ حصہ ہے جس میں ابن القارح بہانے سے  کئی ملحدوں اور بدعتیوں کا  ذکر شروع کردیتا ہے  اور  ان کے  افکار و اعمال کا تفصیلی بیان کرتے ہوئے ان سے شدید نفرت کا اظہار کرتا ہے۔   یہاں کوئی  بھی محسوس کرسکتا ہے کہ ابن القارح ملحدوں اور بدعتیوں کے ذکر  کے ذریعے المعری کے افکار و نظریات  کی طرف ہی اشارہ کرکے ان سے نفرت کا  اظہار   کررہا ہے۔  خط میں  وہ بجائے ابوالحسن کے خاندان سے غداری کے فعل پر کوئی شرمندگی ظاہر کرنے کے   یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کرتا ہے کہ  یہ لوگ بالکل پاگل اور ناقابلِ اعتبار تھے۔ تاہم خط کا اختتام وہ پھر المعری کی تعریف پر کرتا ہے۔

یہ ایک نہایت دلچسپ صورتِ حال ہے جہاں بظاہر تو  پورے خط میں ابن القارح  المعری کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے لیکن بین السطور نہ صرف اس پر چوٹیں کر رہا ہے کہ  بلکہ اپنے علم و فضل کا رعب بھی گانٹھ رہا ہے اور اپنی غداری کی توجیہات بھی پیش کررہا ہے۔  المعری اس پر یقیناً تلملا اٹھا ہوگا  جبھی اس نے ابن القارح کی حکمت عملی اسی پر الٹانے کا فیصلہ کیا۔

المعری کا جوابی خط  ‘رسالۃ الغفران’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ خط ایک  حیران کن اور بے مثل ادب پارہ  اور المعری  کے تبحر علمی، زباں آوری  اور طباعی  کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ اس میں ابن القارح کیلئے اسی کی طرح  عزت و تکریم اور نیک خواہشات  کا اظہار کرتا ہے  یہ کہتے ہوئے کہ اس  کا خط ایسا شاندار ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ قیامت تک اس کیلئے مغفرت طلب  کرے گا   ایسا منظر تخلیق کرتا ہے کہ ابن القارح  جنت میں پہنچ گیا ہے جہاں وہ  شاعروں اور ادیبوں کی صحبت میں ہے۔ اب وہ ابن القارح کی ان شاعروں اور ادیبوں سے گفتگو اور جنت  کی منظر کشی شروع کرتا ہے۔ اس منظر میں  سب سے پہلے تو  ابن القارح وہاں کچھ ایسے شاعروں کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے جو اس کے خیال میں جنت کی بجائے دوزخ میں ہونے چاہیے تھے مثلاً  قبل از اسلام کے شعراء الاعشیٰ، زہیر اور عدی ابن زید۔ الاعشیٰ محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی سفارش پر بخشا گیا ہے جبکہ زہیر شرک میں مبتلا نہ ہونے  اور عدی مسیحیت کی پیروی کی وجہ سے۔ یہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ المعری  ایک طرف تو  صرف مسلمانوں کے بخشے جانے کے نظریے کو چیلنج کررہا ہے  جبکہ دوسری طرف ابن القارح   کو بھی اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرلینے کی طرف متوجہ کررہا ہے۔ بہرحال  ابن القارح ان شاعروں  سمیت جنت میں موجود دوسرے شاعروں   سے بھی گفتگو کرتا ہے  اور ایک سوراخ سے جھانک کر جہنم میں موجود شاعروں سے بھی ۔ حتیٰ کہ جنت میں ایک سنسان دکھائی دینے والے گوشے میں اس کی ملاقات جنوں کے ایک شاعر سے بھی ہوتی ہے جو اسے اپنی ایک لمبی نظم سناتا ہے۔ جنت و جہنم کے شاعروں سے گفتگووں میں ابن القارح ان سے ان کی شاعری کےبارے میں دریافت کرتا، فن اور قواعد پر تبصرے کرتا اور ان کی شاعری  پر  مختلف اعتراضات بھی کرتا ہے۔تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے کئی اعتراضات اور سوالات  بظاہر اہم معلوم  ہونے کے باوجود محض احمقانہ ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً وہ کئی شاعروں    کی شاعری پر اعتراض کرتا ہے تو وہ ان اشعار سے لاتعلقی ظاہر کردیتے ہیں کہ یہ اشعار ہم سے غلط منسوب کیے گئے ہیں۔ ایک دفعہ تو خدا کی قدرت سے راوی بھی وہیں آن موجود ہوتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ سنتے تھے بلا تحقیق ہی  بیان کر دیا کرتے تھے۔ اسی طرح  وہ کئی شاعروں  کو ان کے شعر سنا کر اعتراض کرتا ہے کہ یہاں اس لفظ  کی بجائے یہ لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا تو وہ اسے بتاتے ہیں کہ نہیں اس لفظ کا یہ معنی بھی ہوتا ہے۔  صاف معلوم ہوتا ہے کہ المعری ایسے مناظر تخلیق کرکے ایک طرف تو اپنے علم کی دھاک بٹھا رہا ہے اور دوسری طرف  ابن القارح کو باور کروا رہا ہے کہ اس کا علم محض سطحی ہے۔

کئی شاعر تو جنت کی خوشی یا حشر اور جہنم کی سختیوں کی وجہ اپنی شاعری بھول چکے ہیں اور اس کے بارے میں بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ایسے ہی  ایک شاعر نے  جب ابن القارح سے  کہا کہ لگتا ہے کہ تمہیں حشر میں سختیاں برداشت نہیں کرنی پڑیں تو وہ اپنی کہانی سنا تا ہے کہ اس نے حشر میں بہت سختی اٹھائی۔ اس سے اس کی توبہ کی سند کھوگئی  اور گرمی میں جھلستا رہا۔ اس نے جنت کے فرشتوں کی شان میں قصیدے لکھ کر ان کو خوش کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسے اندرجانے دیں لیکن فرشتوں کو شاعری کی کوئی سمجھ ہی نہیں تھی۔ بالآخر بڑی مشکل سے اسے اپنی توبہ کا ایک گواہ میسر آیا اور پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی سفارش سے اسے جنت میں جانے کی اجازت ملی لیکن پھر وہ پل صراط پر ڈگمگانے لگا جہاں سے پھر اسے  حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی ٰ عنھا کی ایک خادمہ نے پار کروایا۔ اس ساری مصیبت کے بعد جب وہ جنت کے دروازے پر پہنچا تو  جنت کے دربان رضوان نے پھر اسے روک لیا جہاں سے اس کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کی سفارش سے  گلو خلاصی ہوئی۔ یہاں بھی دراصل توبہ اور حشر کی سختیوں کے ذکر سے المعری ابن القارح کو  اس کے گناہوں اور ان سے توبہ کی ضرورت کی طرف متوجہ کررہا ہے۔

خط کے اس حصے میں جنت کے محیرالعقول مناظر کی بھی المعری نے تفصیلی تصویر کشی ہے جو بہت دلچسپ ہے۔ اس ساری منظر کشی کے بعد المعری خط کا دوسرا حصہ شروع کرتا ہے جس میں وہ ابن القارح کے  خط کا براہ راست جواب دیتا ہے لیکن یہاں بھی وہ کمال ہوشیاری سے پھر ابن القارح پر چوٹیں کرتا ہے۔ مثلاً وہ شروع تو یہاں سے کرتا ہے  کہ  شیخ یعنی ابن القارح تو منافقت سے بالکل پاک ہیں لیکن پھر کئی صفحے منافقت پر لکھ ڈالتا ہے اور تعریفی الفاظ میں لپیٹ لپیٹ کر بہت لطیف طریقے سے ابن القارح کی  منافقت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

اسی طرح وہ ملحدوں اور بدعتیوں کے نام لے لے کر ان کی مذمت کرتا ہے لیکن ساتھ ہی باور کرواتا  ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں ساری روایات صحیح نہیں ہیں ۔ اسی طرح وہ بین السطور یہ بھی کہہ جاتا ہے کہ خرافات اور توہمات سے تو کوئی بھی گروہ اور قوم پاک نہیں ہے۔ ایک  جگہ تو وہ  کئی شاعروں سے منسوب کرکے یوں لگتا ہے کہ وہ خود مذہبی فکر پر ہی چوٹ کرگیا ہو۔  یہ  ایک لحاظ سے خط کا سب سے پیچیدہ حصہ ہے کیونکہ  اس میں المعری نے لفظوں کا ایسا ہیر پھیر کیا ہے کہ کسی طور معلوم نہیں پڑتا کہ  وہ  ملحدوں اور بدعتیوں کی واقعی مذمت کررہا ہے یا  طنز کررہا ہے۔

خط کے آخری حصے میں  المعری کئی صفحے  ابن القارح کے چوری ہوجانے والے دیناروں کے حوالے سے لکھ دیتا ہے جس میں وہ ان دیناروں کے ایسے ایسے فضائل بیان کرتا ہے کہ قاری ہنسے یا کم ازکم  مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ صاف معلوم ہوتا ہے وہ ابن القارح کا مذاق اڑا رہا ہے۔

المعری کا یہ رسالہ صرف قاری کو ایک پر لطف تجربہ ہی مہیا نہیں کرتا بلکہ  یہ عربی زبان کے بڑے شاعروں اور ان کی شاعری کا جامع تعارف بھی  ہے۔ میرے سامنے اس کا انگریزی ترجمہ ہے  جو نیویارک یونیورسٹی پریس نے  شائع کیا ہے۔ اس میں ابن القارح کا خط اور المعری کا رسالہ دونوں شامل ہیں۔ ترجمہ بہت محنت سے کیا گیا ہے اور اس میں سینکڑوں حواشی بھی شامل کیے گئے ہیں جو متن کو سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے  میں مدد دیتے ہیں۔

ضروری انتباہ: کتاب پر تبصرہ کتاب کا قائم نہیں ہوتا لہذا کوئی بھی تبصرہ  آپ کو  کتاب پڑھنے کی ضرورت سے بے نیاز نہیں کرسکتا۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: