کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی: مرض، موت – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 10

0
  • 56
    Shares

جناب انور عباسی کی مشہور سوانح حیات کا یہ سلسلہ دانش کے صفحات پہ کچھ عرصہ تک شایع ہوتا رہا، وقفہ کے بعد اسکی نویں قسط پیش خدمت ہے۔ نئے پڑھنے والے قارئین اس کا پچھلا حصہ اس لنک پہ دیکھ سکتے ہیں۔ عباسی صاحب کی یہ کتاب زیر طبع ہے اور اس سال کے آخر تک قارئین کے لئے دستیاب ہوگی۔


مرض، موت:
بیماری اورموت انسان کی زندگی کے ساتھ چمٹی ہوئی دو حقیقتیں ہیں۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس کی ابتدا پیدائش کے وقت سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ عناصر میں جو ترتیب اللہ تعالیٰ نے رکھی ہوتی ہے وہ ایک دِن بکھر جاتی ہے اور قصہ ختم۔ یہ انسانوں ہی کا مقدر نہیں بلکہ تمام جانداراس منزل سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ قرآن کے فلسفے کے مطابق یہ زندگی وموت کا سلسلہ انسان کی آزمائش کے لیے بنایا گیا ہے۔ خلق الموت والحیوٰۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ (۶۷/۲)۔ یہ اتنی یقینی شے ہے کہ انگریزی میں بطور محاورہ بولتے ہیں as sure as death یعنی موت کی طرح یقینی۔ اتنی یقینی چیز سے ہم سب بالعموم غافل رہتے ہیں۔ یہ ہمارا المیہ ہے۔ ہمیں کہ ایک محدود عرصہ گزار کر اس دنیا سے بہر حال رخصت ہونا پڑے گا۔ معلوم ہے ہمیں کہ ہمارا سارا مال و متاع اسی دنیا میں رہ جائے گا۔ جانتے ہیںہم کہ قبر میں ہمارا یہ جسم گل سڑ کر کیڑوں کی خوراک بن جائے گا۔ پتا ہے ہمیں یہ سب لیکن شادی بیاہ کی طرح بیماری اور موت بھی ایک معاشرے میں انسانی روابط کی تشکیل بھی دیتی ہیں اور اس کا پتا بھی بتاتی ہیں۔ انسانی معاشروں میں ان کے متعلق بھی مختلف قسم کے رسم و رواج ملتے ہیں۔ ہمارے گائوں میں آج ہی کی طرح بیماروں کی عیادت اور تیمارداری کے لیے ہر کوئی چلا آتا۔ رشتہ داروں کے علاوہ گائوں کے دوسرے لوگ بھی موجود ہوتے۔ دن یا رات کی کوئی قید نہ تھی۔ رات کو گھر سے کھانا کھا کر ہاتھ میں لالٹین یا دِیہلی کا مٹھہ جو بیاڑ یا چیڑھ کی روغن والی لکڑیوں پر مشتمل ہوتا تھا، لے کر بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوتے اور حسبِ استطاعت مریض کو حوصلہ دینے کی بجائے دبی دبی زبان میں کچھ مایوسی کا اظہار بھی کر دیتے۔ وقفے وقفے کے بعد تیماردار آپس میں حالاتِ حاضرہ پر سیر حاصل بحث بھی کرتے (جو زیادہ تر غیبت پرمشتمل ہوتی)۔ ڈاکٹر تو ہوتے نہیں تھے اس لیے، کچھ اپنی طرف سے حکیمی نسخے بھی تجویز کرتے۔ کچھ لوگوں کی طرف سے تعویذ اور دم درود کا بھی مشورہ دیا جاتا۔ غذا کے لیے مختلف تجاویز سامنے آتیں۔ گھر کے افراد کے لیے فیصلہ کرنا ممکن نہ ہوتا کہ وہ کس کے مشورے کو زیادہ اہمیت دیں اور کس کو ترک کریں۔ ان کو اسی کشمکش میں چھوڑ کر لوگ نسوار، حقہ اور چائے پانی پی کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے۔

مریضوں کی عیادت کرنے میں خواتین کا طریقہِ واردات یعنی اسلوبِ عیادت ذرا مختلف قسم کا تھا۔ اللہ خوش رکھے حتی الامکان کبھی کسی کو جینے کا حوصلہ نہیں دیا۔ رات کی بجائے دن کا وقت ان کے لیے مخصوص تھا۔ اس کی وجہ غالباً دن کی مصروفیات رہی ہوں گی ورنہ ان کا بس چلتا تو دن رات لگا کر مریض کو جلد چلتا کر دیتیں۔ مریض کو موت سے قریب تر اور لواحقین کا حوصلہ پست کرنے میں ان کو یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ کہنا چاہیے کہ اس میدان میں انھوں نے سپیشیلائز کر رکھا تھا۔ مریض کی طرف کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے اس کی نیکیاں گنواتیں اور ذرا اونچی آواز میں گھر والوں سے باتیں کرتیں تاکہ مریض لازماً سن لے۔ ان کو مطلع کرتیں کہ اوہو وہ تو بہت ہی کمزور ہو گیا ہے، اب اللہ ہی خیر کرے۔ بعض ہمدرد یہ اطلاع بھی بہم پہنچاتیں کہ فلاں شخص کی موت کے وقت بھی علامات تقریباً یہی تھیں۔ کبھی کبھی مولوی اور جن نکالنے والوں کا پتا بتایا جاتا، کوئی نسخہ بھی تجویز کیا جاتا۔ ان کے تجویز کردہ نسخے سے کبھی کسی کے جانبر ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ ہم اس وہم میں مبتلا تھے کہ یہ خصوصیات کوئی ہمارے ہی گاوں کی خواتین میں پائی جاتی ہیں، لیکن پطرس نے گواہی دی کہ یہ ’خصوصیات‘ یا عوارض اگر انٹرنیشنل نہیں تو کم از کم برِصغیر میں عام ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’کہیں بیمار پرسی کو جاتی ہیں تو بیمار میں وہ وہ بیماریاں نکال کے آتی ہیں جو ڈاکٹر کے وہم و گمان میں نہ تھیں۔ جتنی دیر سرہانے بیٹھی رہیں، بیمار کی ہر کروٹ پر ہاتھ ملتی ہیں۔ بے چارہ کہیں گلا صاف کرنے کو بھی کھانسے تو یہ سورہ یٰسین تک پڑھ جاتی ہیں۔ رنگت کی زردی، بدن کی کمزوری، سانس کی بے قاعدگی، ہونٹوں کی خشکی، ہر بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ حتیٰ کہ بیمار کو بھی اپنی یہ خطرناک حالت دیکھ کر چار و ناچار منحنی آواز میں بولنا پڑتا ہے۔ جوں جوں بیمارپرس عورتوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے، موت قریب آتی جاتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ بعض عورتوں کو مریض کے بچ جانے پر صدمہ ہوتا ہوگا کہ اتنی بیمار پرسی کی اور نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا۔‘‘ ( پطرس کے مضامین، ص ۱۴۰)۔

موت کی اطلاع دینے کے لیے اس دور میں ٹیلیفون تھا نہ مساجد میں لائوڈ سپیکر۔ انسانی ذرائع ہی کو استعمال کیا جاتا تھا۔ کسی بلند آواز والے مرد کی تلاش کر لی جاتی جو مناسب جگہ کھڑے ہو کر دور کسی کو آواز دے کر پکارتا اور موت کی اطلاع دیتا۔ آواز دینے کے اس عمل کو ’’آلہ دینا یا مارنا‘‘ کہتے تھے۔ دوسرا کسی تیسرے کو اور تیسرا کسی چوتھے کو اور اس طرح دور دراز دوسرے گائوں تک یہ اطلاع پہنچ جاتی۔ جہاں اس طرح اطلاع پہنچانا ممکن نہ ہوتا ایک ہرکارہ اس طرف دوڑایا جاتا۔ سڑکیں تھیں نہ گاڑیاں، لہذا ہرکارہ پیدل ہی مارچ کرتا اور رفتار تیز رکھتا۔ گائوں کے لوگ تو جلد ہی پہنچ جاتے جو قبر کا انتظام کرتے، تاہم تدفین کے لیے دور پار کے رشتہ تعلق والوں کا انتظار کرتے۔ قبر کی کھدائی، پتھر نکالنا، قبر تیار کرنا یہ آج ہی کی طرح اُس دور میں بھی اپنی برادری ہی کے ذمے تھا۔ یہ ایک پسندیدہ رواج، الحمد للہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک قائم ہے لیکن ایک فرق پڑا ہے۔ قبر میں حاضری تو سب ہی دیتے ہیں، کام کم لوگ ہی کرتے ہیں۔ پتھر نکالنے اور قبر تک اٹھا کر لانے کے لیے چند لوگ ہی آگے بڑھتے ہیں۔ ہر فرد یہ تلقین کر رہا ہوتا ہے بھئی اٹھو، آگے بڑھو اور خود گُل محمد کی طرح جگہ سے ہلنے کا نام نہیں لیتا۔ اسی طرح قبر تیار کرنے میں بھی صرف ایک دو افراد ہی پیش پیش رہتے ہیں، اللہ ان کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ پچھلے زمانے میں نمازِ جنازہ میں قدم حساب وغیرہ ہوتا تھا، آج کل نمازِ جنازہ سے پہلے تقریریں ہوتی ہیں۔ لوگ اس چکر میں ہوتے ہیں کہ جلد نماز پڑھیں اور اپنے گھروں کو جائیں لیکن مولوی صاحب، اور کسی ’بڑے‘ شخص کے جنازہ کی صورت میںکئی دوسرے حضرات، کو تقریریں سنانی پڑتی ہیں۔ ان کو اس بات کی بالکل فکر نہیں ہوتی کہ بات دوسروں تک پہنچتی ہے یا نہیں بس ایک ڈیوٹی نبھانی ہے اور بس۔ اللہ اللہ کرکے یہ مرحلہ جب اختتام کو پہنچتا ہے تو لوگ اطمینان کا سانس لیتے ہیں۔

آج کل ہی کی طرح خواتین جوق در جوق جمع ہوتیں لیکن ایک بہت بڑا فرق تھا۔ اُس دور میں خواتین بین کرتے ہوئے اس ’’تقریب‘‘ میں شامل ہوتیں۔ اس اجتماعی رونے کو ’’رواس‘‘ کہتے ہیں۔ دستور یہ تھا ہر عورت کسی دوسری ہم مزاج عورت کو پکڑ کر اس کے گلے سے لگ کر رونا شروع کردیتی۔ موت کا ماحول ہی ایسا ہوتا ہے کہ بلکتے بچوں، سسکتی مائوں کو دیکھ کر رونا آہی جاتا ہے۔ ایسا نہ بھی ہوا تو ہر کوئی کسی اپنے بچھڑے ہوئے کو یاد کر کے زبردستی رونے کا ماحول پیدا کرتی۔ عام طور پر بین کرنے والی خواتین کا پہلے سے طے شدہ جوڑا ہوتا تھا۔ یہ خواتین سفر بھی اکٹھا ہی کرتی تھیں۔ بصورت دیگر ان کو وہاں موت کے گھر میں دوسری عورت کو تلاش کرنا ہوتا تھا۔ نئی آنے والی خواتین کو بعض اوقات پہلے سے موجود عورتیں یہ سہولت پہنچاتیں اور کسی فارغ بیٹھی ہوئی عورت کو اشارہ کرتیں کہ اٹھو اور فلاں کے گلے لگ جائو یا گلے پڑ جائو۔ جوڑیاں بین کرتے ہوئے ’’ماڑیے مائے، تے ماڑیا پیو‘‘ بھی گاتیں حالانکہ ان کے والدین بقید حیات ہوتے تھے۔ کئی خواتین ایک دوسرے کے گلا پکڑے ہوئے ایسے ہی بے معنی الفاظ بولتی رہتیں تاکہ رونے کا تاثر پیدا ہو۔ میں نے اپنی قریبی دو خواتین کو کہتے ہوا سنا کہ وہ گلے لگ کر ہنس رہی تھیں اور زور زور سے ہل کر کانپنے کی ایکٹنگ کر رہی تھیں تا کہ روتی ہوئی معلوم ہوں۔ گائوں کے سرکردہ لوگوں نے برادری کی سطح پر فیصلہ کر کے اس بے معنی اور فضول رسم کو ختم کرا دیا۔ آج کل خواتین جمع ہو کر قرآن پڑھتی ہیں یا زبانی کلمے کا وِرد وغیرہ کرتی ہیں۔

نماز جنازہ کے وقت ایک رسم یہ تھی کہ اعلان کروایا جاتا تھا کہ سب کہو کہ یہ مرنے والا/والی بہت نیک تھا /تھی۔ اس پر سب بلند آواز میں یہ جملہ دہراتے۔ اس پر سب خوش ہو جاتے کہ متوفیٰ یا متوفیہ کے لیے جنت کے داخلے کا ٹکٹ مل جائے گا۔ یہ رسم اِس دور میں بھی ایک آدھ بار دیکھنے کو ملی۔ شاید یہ ایک حدیث کی غلط تعبیر کا نتیجہ ہے۔ کوئی خوش ہو رہا ہو تو اس کی خوشی میں بھنگ نہیں ڈالنا چاہیے، حقیقت جلد سب پر عیاں ہو ہی جائے گی۔ اپنے ایک عزیز کی تدفین پر اسی طرح کا اعلان ہوا تو میرا بیٹا اپنے چچا سے مخاطب ہوا ’’چچا جی! چچا جی یہ جب زندہ تھے تو سب ان کو گالیاں دے رہے تھے، اب نیک اور پرہیز گار کس طرح ہو گئے۔‘‘ چچا نے شش شش کر کے جلدی سے اس کا منہ بند کر دیا۔ اللہ نے ہمارا شرم پردہ رکھ لیا ورنہ لوگ بچے سے تو کچھ نہ کہتے ہماری خبر خوب لیتے۔

میت کی تجہیز و تکفین میں بھی کچھ ایسی رسمیں تھیں جو آج کل نا پید ہیں۔ کفن تیار کرنے کے لیے بالعموم مولوی صاحب کی خدمات حاصل ہوتی تھیں۔ کفن تو اسی طرح کا ہوتا تھا البتہ الگ سے ایک کفنی بھی ہوتی تھی، اس کو کفن کی مونث سمجھئے۔ یہ بھی کفن کے کپڑے سے کاٹ کر بنائی جاتی تھی۔ ایک چھوٹا سا ٹکڑا جس پر مولوی صاحب کلمہ شریف یا کوئی دوسری آیت پکی پنسل سے تحریر کرتے اور میت کے سینے کے اوپر رکھتے۔ عقیدہ یہ تھا کہ اس طرح قبر حساب میں آسانی رہتی ہے۔ ہم جیسے نامعقول لوگوں کی ایک ناقابل ذکر اقلیت اس کو غیر ضروری سمجھتی لیکن وہ عقیدہ ہی کیا جو اس طرح ختم کیا جاسکے۔ عقیدے کے ماخذ کے بارے میں کسی کو جستجو تھی نہ فکر کہ یہ آیا کہاں سے اور کیسے ہمارے دل و دماغ میں پیوست ہو کر رہ گیا۔ ایک عرصے کے بعد معلوم ہوا کہ بہت سے دوسرے بے معنی عقائد کی طرح یہ بھی سینہ گزٹ ہی کی پیداوار تھا۔

کفنی ہی کی طرح ’’قدم حساب‘‘ اور ’’اسقاط‘‘ نکالنا بھی ایک شے تھی۔ مکان کے اوپر چڑھ کر میت کو کندھوں پر اٹھاکر آہستہ آہستہ ایک ایک قدم کر کے چھت کے چاروں طرف پھرایا جاتا۔ اس کو قدم حساب کا نام دیا گیا تھا۔ اسی موقع پر کچھ غلہ وغیرہ نکال کر ایک پراسیس کے بعد مولوی صاحب کو دیا جاتا۔ عقیدہ تھا کہ اس طرح میت کے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں، اسی لیے اس کو اسقاط کا عمل کہتے تھے۔ آج کل اسقاط مُردوں کے گناہوں کا نہیں بلکہ بعض ناگزیر ضرورت کے تحت کسی اور چیز کا کراتے ہیںلیکن اس کے لیے مولوی صاحب کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں نہ ان کو کوئی غلہ وغیرہ ہی دیا جاتا ہے۔ یہ سارے بے تکے رسم و رواج اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اور نوجوان نسل کو پڑھ کر شاید ہنسی بھی آجاتی ہو۔ ہمیں پختہ یقین ہے کہ جوں جوں علم کی روشنی پھیلتی جائے گی، اس طرح کے باقی ماندہ رسم و رواج بھی ختم ہو جائیں گے۔ بس ذرا نمی کی ضرورت ہے، مٹی تو زرخیز ہے۔

میت کی تدفین کے بعد ورثا کو اکیلا نہیں چھوڑا جاتا تھا۔ کچی دعا یعنی تیجے (قل) تک اور بسا اوقات کئی کئی دنوں تک آس پاس کے لوگ رات کو پُرسا دینے کے لیے آ موجود ہوتے۔ اس عمل کو رات نکلوانے کے نام سے پکارتے تھے۔ یعنی اگر لوگ وہاں حاضر نہ ہوں گے تو لواحقین اکیلے میں رات کس طرح گزاریں گے؟ ویسے بڑی حد تک اس عمل سے ان کا غم غلط بھی ہو جاتا تھا۔ آج کل تعزیت صرف دن کو کی جاتی ہے، پہلے زمانوں میں یہ فریضہ رات کو ادا کیا جاتا تھا۔ آدھی رات گزارنے کے بعد لوگ گھروں کو واپس جاتے۔ اس رسم کا سماں ہی الگ تھا۔ سریلی آواز والے حضرات کی ڈیوٹی ہوتی کہ وہ قصص الانبیاء، سیف الملوک یا اسی طرح کی دوسری پنجابی کتابوں کو بلند آواز سے پڑھتے۔ پنجابی زبان میں کتب سیرت کی ابتدا منظوم قصوں، نعت، میلاد ناموں، جنگ ناموں، معراج ناموں، نور ناموں اور معجزات کے رسائل سے ہوئی۔ ابتدائی کتابیں زیادہ تر منظوم ہی تھیں۔ اگرچہ بعد میں نثر میں بھی کافی کام ہوا تاہم پنجابی زبان کا بہترین ادب ِ سیرت نظم کی صورت میں ہی ملتا ہے۔ میں نے کئی ایسے مواقع پر ڈونگا کھیتر والے حمید چچا کو اکرامِ محمدی یا گلزارِ محمدی نامی کتاب پڑھتے سنا ہے۔ بڑی اچھی آواز میں یہ کلام سناتے تھے۔ آج کل وہ سب کچھ کرنے پر ہرگز تیار نہ ہوں گے۔

غزل خواں افراد الگ ہوتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، میرے چچا خوبصورت آواز میں نعت، میں سو جائوں یا مصطفیٰ کہتے کہتے، پڑھتے اور لوگوں پر وجد سا طاری ہو جاتا۔ صوفی عزیز صاحب، جو ان کے ہمجولی تھے، اکثر ان کا ساتھ دیتے۔ میں یہ غزل سننے کے لیے ہی ضد کر کے چچا کے ساتھ ہو لیتا تھا۔ اس دوران میں چائے پانی اور حقے کا دور بھی چلتا اور حسبِ عادت اور حسبِ توفیق ’’حالاتِ حاضرہ‘‘ پر دھیمی آواز میں پُرمغز اور سیر حاصل گفتگو بھی جاری رہتی۔ اب یہ منظرصرف چند لوگوں کے ذہنوں میں ہی رہ گیا ہے، وہ بھی کب تک۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو

یقینا یہ تماشا قابلِ دید ہو گا۔

— جاری ہے —

پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: