جدید علم حیاتیات، خدائی احکام اور دانش صحائف ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر ابراہیم

0
  • 27
    Shares

مغرب ارتقا کی گتھی میں پھر الجھ گیا ہے۔ زندگی کا مستقبل فطرت کے انتخاب پرچھوڑ دینا چاہتا ہے۔ مگر ایک سوال ہے جو پریشان کر رہا ہے۔ حیاتیاتی تاریخ Sapiens کے باب There is no justice in history میں پروفیسر نوح ہراری لکھتے ہیں، انسانی تاریخ کی تفہیم میں زرعی انقلاب کے بعد کا ہزاریہ ذہن کوایک عجیب سوال سے دوچار کر دیتا ہے: انسانوں نے کس طرح بڑے پیمانے پر معاون نیٹ ورکس منظم کیے؟ جبکہ انسان ایسی حیاتیاتی جبلتوں سے کسی قدر عاری ہے، جو ایسے معاشرے منظم کرنے کیلئے لازم ہیں؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ انسان نے ‘’’تخیلاتی احکامات اور صحیفے وضع‘‘ کیے۔ یہ وہ دو انسانی ایجادات ہیں جنہوں نے حیاتیاتی ورثے میں موجود خالی پن کو دور کیا ہے (بے روح حیاتیاتی تسلسل کوتہذیبی معنویت عطا کی ہے)۔ تاہم، انسانی معاشروں کا منظم ہونا بہت سوں کے لیے پر اسرار سی نعمت ہے۔

غریب سائنس کا سارا انحصار قیاس آرائیوں اور اندازوں پر ہے۔ ہربار ’’کیا‘‘ کا جواب پا کر یوں چرچا کیا جاتا ہے جیسے ‘کیسے ’’اور‘ ’کیوں‘‘ کا جواب پا لیا ہو۔ ہر بار ‘’’تخلیق‘‘ کے جس مرحلے پرپہنچتے ہیں، وہیں خدا تراش لیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سائنٹزم ہی کو درپیش نہیں، انساتی گروہوں کا اجتماعی فہم جس مقام تک رسائی پاتا ہے، وہیں سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ ماضی قریب کے سب سے بڑے سائنسدان آنجہاتی اسٹیفن ہاکنگ نے IS THERE A GOD? کا جو جواب دیا ہے، اس میں فطرت کے قوانین کوہی اپنا خدا تسلیم کیا ہے۔ مگر ‘انسانوں کے غیر فطری منظم معاشروں ’’کے سوال پر‘ ’پر اسرا نعمت‘‘ کا گمان رکھنے والوں میں محترم ہاکنگ صاحب بھی شامل ہیں۔ Artificial Intelligence کی اہلیت پر جواب میں انہوں نے انسانی دانش کے مستقبل کیلئے نیک خواہش کا اظہار کیا ہے۔

یہ متناقض نقطہ نظر وہ فیصلہ کن دوراہا ہے۔ جس کی ایک راہ سائنٹزم اور انفو بائیوٹیکنالوجی میں گم ہو رہی ہے۔ جبکہ دوسری راہ انساتی دانش اور روشن روحوں سے منور ہے۔ انساتی دانش لٰہیاتی اقدارکا وہ فطری نظم ہے، جسے انسان میں ودیعت کیا گیا ہے۔ یہ انساتی دانش روح کا وہ کھلا راز ہے، جسے ہرانسان جانتا ہے محسوس کرتا ہے۔

’’اور اے نبی لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بتی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپرگواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا ‘کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ’انہوں نے کہا ‘ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں‘ ہم اس پر گواہی دیتے ہیں ’یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روزیہ نہ کہدو کہ ‘ہم تو اس بات سے بےخبر تھے‘‘۔ (سورۃ اعراف آیت 172)

جدید سائنس کے غیرمحقق بیانیے میں الٰہیاتی اقدار کا فطری نظم ‘تخیلاتی احکامات ’’اور وضع کردہ صحیفوں‘‘ کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ انساتی تہذیب وثقافت کی تشکیل و تنظیم میں ان احکامات اور صحیفوں کا کردارنہ صرف مرکزی ہے بلکہ سکون بخش بھی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ سائنس کا بیاتیہ غیر محقق یا تعصب زدہ کیوں ہے؟ یہ ‘وضع کردہ احکامات اور صحیفے کہاں سے آئے ہیں؟ سادہ سا جواب ہے۔ جدیدیت اور سائنٹزم کی دتیا میں مذاہب پر تمام تحقیق کا انحصارعیسائیت، یہودیت، ہندومت اور بدھ مت وغیرہ پر ہی رہا ہے۔ اسلام کے سوا تمام مذاہب کی تعلیمات اور مقدس کتابیں ‘وضع کردہ ہیں۔ یہ سائنٹزم کے بیاتیے کو تضحیک و تحقیر کا بھرپور سامان فراہم کرتی ہیں۔ اس کی پوری تاریخ ہے۔ قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

’’انہوں نے اللہ کی آیتوں کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راہ سے روکا بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔‘‘ (سورہ توبہ آیت 9)

’’بس ہلاکت اور تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جواپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھرلوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کرلیں۔ ان کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجب ہلاکت۔‘‘ (سورہ بقرہ آیت 79)

’’حق یہ ہے کہ جولوگ ان احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپتی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دتیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھررہے ہیں۔ قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاکیزہ ٹھہرائے گا، اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔‘‘ (البقرہ آیت 174)

’’اور بیشک اہل کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے آگے عجز و نیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اس کتاب پر بھی جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس پر بھی جو ان پر نازل کی گئی تھی، اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت لے کر بیچ نہیں ڈالتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں۔ بیشک اللہ حساب جلد چکانے والا ہے۔‘‘ (سورہ آل عمران 199-200)

یہ آیتیں واضح کر رہی ہیں کہ آسماتی صحیفوں اور تعلیمات میں بگاڑ لایا گیا۔ ان احکامات کو خواہشات اور مفادات کی نذر کیا گیا۔ بتی اسرائیل ‘الٰہیاتی احکامات ’’کو ’تخیلاتی احکامات‘ اور ’صحیفوں‘ کو ’وضع کردہ صحیفوں‘ میں ڈھالنے کا کام مسلسل کرتے رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ سلام، حضرت موسٰی علیہ سلام، حضرت عیسٰی علیہ سلام دین حتیف لیکر آئے تھے۔ مگر اسے یہودیت اور عیسائیت بنادیا گیا۔ بائبل کے حوالے سے رومن ایمپائر کے یہودی درباری جان پال کی تحریفات اور انحرافات ایک ایسی علامتی مثال ہے، جو آیتیں بیچنے والے تمام کرداروں پرصادق آتی ہے۔ ایسا ہمیشہ درباری کاسہ لیس علما سو کے ذریعے کیا گیا۔ انبیا رسل پر ان احکامات کے ذریعے مفادات کا حصول ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ جدید مغرب یہ ثابت کرنے سے یکسر قاصر ہے کہ انبیا ورسل نے ذاتی مفادات یا اقتدار کیلئے کلام اٰلہی وضع کیے اور احکام آسماتی اختراع کیے۔ حضرت آدم علیہ سلام سے محمد مصطٖیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی پیغمبر کی زندگی کا کوئی گوشہ ‘ذاتی مفاد’ سے داغدار نہیں۔ وضع کردہ صحیفے اور تخیلاتی احکامات اقتدار یا ذاتی مفادات کی خاطروجود میں آئے تھے۔ یہی وہ ایک صورتحال تھی، جس کا تذکرہ پروفیسر نوح ہراری نے جدید حیاتیاتی تاریخ Sapiens میں دو مثالوں کے ذریعے کیا، لیکن یہ تذکرہ یہاں خالص مذہب کی تحقیق میں نہیں بلکہ مذہب کی تحقیرکیلئے آیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ”1776 قبل مسیح میں بے بی لون دتیا کا سب سے بڑا شہر تھا۔ یہ غالبا اپنے وقت کی سب سے بڑی ایمپائر تھی، جس میں دس لاکھ سے زائد لوگ آباد تھے۔ میسوپوٹیمیا کے بیشتر حصے پراس کی حکومت قائم تھی، اس میں جدید عراق، شام کے کچھ علاقے، اور ایران شامل تھے۔ اس ایمپائر کا سب سے مشہور بادشاہ حمورابی تھا۔ اس کی وجہ شہرت وہ تحریرشدہ قواتین ہیں، جنہیں Code of Hammurabi کہا جاتا ہے۔ یہ قواتین اور عدالتی فیصلوں کا مجموعہ ہے۔۔۔ مستقبل کی نسلوں نے اس کوڈ آف حمورابی کی پیروی کی۔۔۔ غرض یہ میسوپوٹیمیا ایمپائرکے معاشرتی نظم کیلئے آئیڈیل قانونی کوڈ قرار پایا۔ اس کا متن کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ دیوتاؤں انو، انلیل، اور مردوخ نے حمورابی کوزمین پرانصاف کے نفاذ کاکام سونپا ہے- قواتین کی تفصیل لکھنے کے بعد، جوعدم مساوات اور نا انصافی پرمبتی تھے- حمورابی اعلان کرتا ہے کہ یہ قواتین اور فیصلے ایک ایسے بادشاہ کے نافذ کردہ ہیں، جس نے انصاف کا بول بالا اور زمین پردرست طرز زندگی کارخ متعین کیا۔۔۔۔ اور یہ سب دیوتا انلیل اور مردوخ کی بخشش ہے۔ حمورابی کی موت کے ساڑھے تین ہزار سال بعد شمالی امریکا کی تیرہ برطانوی کالونیوں نے محسوس کیا کہ انگلینڈ کا بادشاہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کررہا۔ ان کالوتیوں کے ترجمان شہر فلاڈیلفیا میں جمع ہوئے، اور چار جولائی 1776کواعلان کیا کہ وہ اب برطانوی شاہی حکومت کے تابع نہیں۔ انصاف کے کائناتی، ابدی، اور ربانی اصولوں پرمبتی اعلان آزادی ہوا،کہ ہم ان تسلیم شدہ سچائیوں کے ساتھ ہیں، جن کے مطابق تمام انسان برابرہیں۔ اور انہیں ان کے رب کی جانب سے حقوق عطا کیے گئے ہیں۔ ان حقوق میں زندگی، آزادی، اور خوشی کا حصول ہے۔ حمورابی کوڈ کی طرح امریکا کا اعلان آزادی بھی آنے والی نسلوں کیلئے مثال بن گیا۔ دوسو سال سے اسکول کے بچے یہ اعلان آزادی لکھ رہے ہیں پڑھ رہے ہیں، زباتی یاد کر رہے ہیں۔‘‘ ان دو مثالوں کے بعد پروفیسر ہراری لکھتے ہیں کہ قدیم اور جدید دتیا کے دونوں ہی قواتین اور اصول انصاف غلط ہیں، مگرانہیں رباتی اور آسماتی قراردیکرجواز مہیا کیا گیا۔ مذہب کے سہارے استعماری معاشروں کا غیر فطری انتظام کیا گیا۔

ان دومثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ وقت کی مقتدرقوتوں نے خود ساختہ اور وضع کردہ احکامات اپنے مفادات کیلئے استعمال کیے۔ مذاہب کے نام پراپنا نظام مستحکم کیا۔ یہ صورتحال محض تاریخ ماضی نہیں، بلکہ آج بھی موجود ہے۔ صہیوتی اور پروٹیسٹنٹ عیسائی مذہب کی جس وضع قطع پر عامل ہیں، وہ فتنہ وفساد ہے۔

مشرق کے مذاہب کی مثال لے لیجئے۔ ہندو تہذیب، چیتی تہذیب، فارسی تہذیب، اور دیگرتہذیبوں کی بتیادیں ان ہی ‘مسخ شدہ’ تعلیمات سے بگاڑی گئیں۔

مسخ شدہ صحیفوں اور غصب شدہ احکامات کے باوجود انساتی دانش کا سفر تعظیم وتکریم کے ساتھ جاری رہا۔ کیا جدید سائنس ثابت کرسکتی ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ سلام یا موسٰی علیہ سلام یا ابراہیم علیہ سلام جوتعلیمات لائے تھے، وہی مغربی مذاہب کی بتیاد ہیں؟

یقینا ًیہ مسخ شدہ مواد ہی ہے جو ’’وضع کردہ‘‘ ‘’’دیو مالا‘‘ محسوس ہوتا ہے، اس کا ایسا ہی تعارف ممکن ہے۔ مگر قرآن حکیم کی آیات اوراسلام کے الٰہیاتی احکامات کا رد ممکن نہیں۔

صورتحال یہ ہے، کہ آج علم حیاتیات اور ٹیکنالوجی وہاں پہنچ گئے ہیں، جہاں زمین پرانسان کی بقا دشوار نظر آرہی ہے۔

سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ Will we survive on earth? کے جواب میں مکمل مایوس نظر آتے ہیں، کہتے ہیں بلاشک وشبہ یہ واضح ہے کہ دتیا بدترین سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں معاشی اور معاشرتی طور پردیوار سے لگے نظر آرہے ہیں۔ نتیجتاً وہ پاپولسٹ ہوتے جارہے ہیں، ایسے سیاستدان ابھررہے ہیں جنہیں حکومت چلانے کا بہت محدود تجربہ ہے۔ جن میں فیصلہ سازی کی صلاحیت نہیں۔ لگتا ہے قیامت کی گھڑی قریب آلگی ہے۔ دتیا کئی حوالوں سے خطرے میں ہے۔ میرے لیے بہت مشکل ہے کہ دتیا کے مستقبل کے معاملے میں مثبت بات کرسکوں۔ خطرات بہت ہولناک اور بہت زیادہ ہیں۔ ہمارے مادی وسائل تیز رفتاری سے ختم ہورہے ہیں۔ اس پر ہم نے دتیا کو موسمی تبدیلی جیسی تباہی کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ عالمی حدت کے ذمے دار ہم انسان ہیں۔ ہم گاڑیوں اور پرتعیش زندگی کی دوڑ میں لگے رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ تباہی سر پہ آکھڑی ہوئی ہے۔ زندگی کیلئے زمین پر جگہ کم ہورہی ہے۔ ہمیں دوسری دتیاؤں کی جانب دیکھنا ہو گا۔

بلا شبہ اسٹیفن ہاکنگ کے خدشات اس بات کا اعتراف ہیں کہ جدید سائنس انسانوں کیلئے کسی بہتر مستقبل کا پیغام نہیں ہے۔ یہ صرف عالمی اشرافیہ کیلئے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل طرز زندگی کا انتظام کررہی ہے اور جیتیاتی انجینئرنگ کے ذریعے موت کو شکست دینے کی راہ ڈھونڈ رہی ہے۔

اب انسانوں کا معاشرہ کہاں جائے؟ تہذیب کا مستقبل کہاں تلاش کرے؟ الٰہیاتی اقدار کا فطری نظم ہی وہ انساتی دانش ہے، جس کا انحصار ‘’’احکام الٰہی‘‘ اور ‘’’قرآن فرقان‘‘ پر ہے۔ انسانوں کوخالص احکامات پرعمل کرنا ہو گا۔ اسی میں انساتی تہذیب کی بقا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: