سگریٹ اور گناہ ٹیکس ——– گل ساج

0
  • 74
    Shares

خبر ہے کہ حکومت وقت نے سگریٹ نوشوں پہ “گناہ ٹیکس” کا اطلاق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیسا ستم ظریف ہے جس نے ٹیکس کا یہ نام ایجاد کیا۔
یک جنبش خیال پاکستان کے ہر ستائسویں شخص کو “گناہ” کا مرتکب قرار دے دیا اور اس گناہ کی سزا بھی ٹیکس کی صورت مقرر کر دی۔
سگریٹ، چائے ادب اور رومان آپس میں اٹوٹ انگ ہیں۔۔۔ بڑا ہی گہرا رشتہ ہے۔ ادب میں سگریٹ ایک استعارہ بن چکی ہے سگریٹ سے ایک رومان وابستہ ہے.
“سگرٹیں چائے دھواں اور رات گئے تک بحثیں
اورکوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے”

بڑے بڑے ادیب شاعر سگریٹ کے رسیا تھے درجنوں نام ہیں فراق گھورکپوری ساحر لدھیانوی ناصر کاظمی احمد فراز جون ایلیا گلزار ابوالکلام آذاد سعادت منٹو ابن انشاء اور فیض احمد فیض کی سگریٹ نوشی تو ضرب المثل بن چکی ہے فیض کالج کے زمانے سے سگریٹ نوشی کرتے تھے اور خوب کرتے تھے۔

ایک مرتبہ ان کے استاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم امتحان ہال کے نگران تھے، کیا دیکھتے ہیں کہ فیض سوالنامہ اور جواب نامہ کے کاغذات سامنے رکھ کر فضا میں نظریں جمائے خاموش بیٹھے ہیں ان کے ہاتھ میں قلم نہیں ہے۔
صوفی صاحب نے قریب آ کر پوچھا کہ تم پرچہ حل کیوں نہیں کر رہے ہو؟ فیض نے صوفی صاحب کی طرف ملتجی نظروں سے دیکھا اور پوچھا
“کیا میں سگریٹ پی سکتا ہوں”
صوفی صاحب کو جیسے کرنٹ لگا ہو آج تک کسی طالب علم نے کمرہ امتحان میں ایسا سوال نہیں پوچھا تھا وہ فیض کو گھورتےہوئے خاموش پیچھے ہٹے۔
کاریڈور میں پطرس بخاری پرنسپل نمودار ہوئے انہوں نے بخاری صاحب کو فیض کی طلب بیان کی، اور دریافت کیا کہ ایسے میں وہ کیا کریں؟ بخاری صاحب نے کہا
“پینے دو”
فیض نے سگریٹ سلگا کر دھواں دار کش لگایااور امتحان ہال کی نئی تاریخ لکھ ڈالی۔۔۔

فیض صاحب کسی محفل میں شریک تھے وہیں
ایک بقراط نے سگریٹ نوشی کے نقصانات پر فیض صاحب کے سامنے تقریر شروع کر دی۔
یہی نہیں بلکہ جیب سے کیلکولیٹر نکال کر فرمانے لگے ”غالباََ آپ پچاس سال سے سگریٹ پی ہی رہے ہوں گے”۔ ایک لمبی “ہوں” میں فیض صاحب نے جواب دیا۔
جس کا مطلب تھا “جی ہاں”۔
اب موصوف فرماتے ہیں
”فیض صاحب آپ ایک دو پیکٹ تو ضرورپیتے ہوں گے، پچاس سال پہلے ایک سگریٹ کا پیکٹ آٹھ آنے کا ہوگا، چالیس سال پہلے ایک روپے کا، تیس سال پہلے 5 روپے کا، بیس سال پہلے 10روپے کا اِن دنوں جو آپ سگریٹ پی رہے ہیں پچیس روپے کا تو ضرور ہوگا”۔ یہ کہہ کر ضرب جمع کر کے بتایاکہ آپ 18لاکھ 74ہزار6 سو42روپے کے سگریٹ پی چکے ہیں۔
بقراط صاحب مزید فرمانے لگے ”اگر آج آپ کے پاس اتنی خطیر رقم ہوتی تو آپ اس کا کیا کرتے؟” حسب معمول فیض صاحب نے ایک لمبی “ہوں” کے ساتھ جواب دیا
”بھئی سگریٹ ہی پیتے”

گلزار موجودہ دور کا مقبول شاعر “سکیچ” کے نام سے انتہائی خوبصورت مختصر نظم لکھی۔
“یاد ہے اِک دن
میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے
سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے
چھوٹے سے اِک پودے کا
ایک سکیچ بنایا تھا
آ کر دیکھو
اس پودے پر پھول آیا ہے”

امرتا پریتم نے سگریٹ کی صورت میں دکھ درد رنج و الم کا اظہار کیا
“ایک درد تھا
جو سگریٹ کی طرح
میں نے چپ چاپ پیا ہے
کچھ نظمیں ہیں
جو سگریٹ سے میں نے
راکھ کی طرح جھاڑی ہیں ”

ایک اور شاعر خود کو سگریٹ سے تشبیہہ دیتے ہوئےکہتا ہے
“مشابہ کتنے ہیں ہم سوختہ جبینوں سے
کسی ستون سے سر پھوڑتے ہوئے سگریٹ
ہمارے سانس بھی لے کر نہ بچ سکے افضلؔ
یہ خاکدان میں دم توڑتے ہوئے سگریٹ”

سگریٹ کی تباہی خیزی سے واقف ہونے کے باوجود اسکی طلب شدید تر ہے۔ ۔ کئی نے سے محبوب کے قرب کا متبادل بنانے کی کوشش کی۔

میرے ہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہے شدید
ایسا کچھ کر مجھے سگریٹ کو جلانا نہ پڑے

اس تعلق سے نکلنے کا کوئی راستہ دے
اس پہاڑی پہ بھی بارود لگانا نہ پڑے۔ ۔ ۔
جس بزر جمہر نے یہ نام کہیں سے مستعار لیا ہے اسے سوچنا چاہئیے کہ یہ نام رکھنے سے سے یہ مراد لیا جائےگناہ کرتے جائیے ٹیکس بھرتے جائیے۔ ۔

ایک تو سگریٹ صحت کے لئیے مضر ہے پھر اپنی بربادی پہ حکومت کو ٹیکس بھی ادا کرو دلچسپ معاملہ ہے۔ ۔ ۔
سگریٹ نوشو ذرا سوچ لیجیئے۔ ۔ ۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: