رکھ بابل گھر اپنا، دھی چلی بگانے دیس

0

ساڈا چڑیاں دا چنبا وے بابلا
اساں اْڈ جاناں‘ اساں اْڈ جاناں
جتھے کھیڈے گْڈیاں پٹولے
جند اج اوسے گھر وِچ ڈولے
میرے درد سنے اج کون وے
امبڑی‘ بابل‘ ویر پئے تکدے
جاندی واری سلام گذاراں
تیرے قسمت دے نال میل وے
ساڈا چڑیاں دا چنبا وے بابلا اساں اڈ جاناں۔ والد محترم کو ہم سے بچھڑے دس برس ہو گئے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے وہ یہیں کہیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کا سپاہی ڈیفنس لاہور فیز نائن میں اپنی اراضی میں مدفن ہے۔ والدہ بھی ان کے پہلو میں آرام فرما رہی ہیں۔ ڈیفنس لاہور بہت پھیل چکا ہے۔ والد کی زرعی اراضی بھی ڈیفنس سوسائٹی نے لے لی ہے۔ جو آج فیز نائن بنا دیا گیا ہے۔ لاہور کینٹ آرے بازار سے بھٹہ چوک سے بیدیاں روڈ پر موضع لدڑ سے آگے موضع ٹھیٹھر کے سامنے آباد رہا ہے۔ اس گائوں میں والد کی اراضی ہے جس میں والد نے فارم ہائوس بنایا اور یہاں روحانی محافل کا اہتمام کیا جاتا۔ اسی روحانی مرکز میں والدین کی وصیت کے مطابق آخری آرام گاہ بنا دی گئی جس کے اطراف ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹی کا فیز نائن بن چکا ہے۔ والدین کی قبور زندہ ہوتی ہیں۔ جب زیارت کرو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملاقات ہو گئی۔ ہمارا مرشد خانہ ہمارے والدین کا مرقد ہے۔ بابل نے پردیس بیاہ دیا لیکن وطن اور اپنے دل سے رخصت نہ کر سکے۔ ساڈھا چڑیاں دا چنبا اے‘ بابلا اساں اڈ جاناں۔۔۔۔۔
باپ اور بیٹی کا رشتہ دنیا کا خوبصورت ترین رشتہ ہے۔ کیونکہ اس رشتہ میں کائنات کی خوبصورتی کا ہر رنگ موجود ہے‘ موسم جیسی سختی‘ ہواؤں جیسی نرمی اور پھولوں جیسا خلوص اور خوبصورتی۔ اس رشتے کی خوبصورتی کو وجاحت سے بیان کرنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت فاطمہؓ کی ذات اقدس کو بطور نمونہ پیش کیا۔ ماں کا جواب نہیں اور باپ کا نعمل البدل نہیں۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے انسان کو ان دو نعمتوں سے نواز کر بندے کو ایثار اور قربانی کا مفہوم سمجھا دیا۔ یہ وہ رشتے ہیں جو آخرت میں بھی ساتھ ہوں گے۔ روزِ قیامت انسان انہی رشتوں سے پکارا جائے گا۔ ماں باپ کے چہروں کو دیکھنا زیارت کعبہ کے مترادف ہے۔ نافرمان اولاد خواہ پیغمبروں کی ہو‘ آزمائش ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے نافرمان بیٹے کو غرق کر دیا اور اس کی معافی کے لئے اپنے مقرب پیغمبرکی گزارش کو بھی مسترد کر دیا۔ بیٹا اپنے باپ کا مان ہوتا ہے‘ اس کی طاقت اس کی پہچان ہوتا ہے‘ اس کی دنیا و آخرت کی نجات ہوتا ہے مگر نافرمان اولاد باپ کو عمر سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر تین اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے، اول نیک اعمال کر جائے دوم ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں سوم نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔‘‘ تیسرا عمل جس کا ثواب ملتا رہے‘ جب تک یہ لڑکا دنیا میں زندہ رہے گا، اس کی نیکیوں کا ثواب اس کے ماں باپ کو ملتا رہے گا اور اپنے ماں باپ کے حق میں دعائیں کرے گا۔ لڑکے کے لئے صدقہ جاریہ کی خاص تاکید فرمائی گئی ہے کہ لڑکی شوہر کے حقوق کی پابند ہے جبکہ لڑکا وراثت میں بھی زیادہ کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ مرد مضبوط ہوتا ہے مگر فولادی اعصاب کا مالک مرد بھی جب باپ بن جائے تو بچے کی معمولی سی تکلیف پر ٹوٹ جاتا ہے ۔
جانتا ہوں اک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر گیا تھا وہ مگر رویا نہیں۔۔۔۔۔۔
باپ اور بیٹی کی محبت سمندر سے زیادہ گہری ہوتی ہے، خاموش اور طاقتور۔ اور بیٹے کی محبت رگوں میں دوڑتا لہو ہے۔ ہمارے ابا جان ہمہ وقت خدمت خلق میں مصروف رہتے۔ کبھی والدہ کہتیں کہ آپ لوگوں کے دکھ سکھ سنتے ہوئے تھکتے نہیں تو فرماتے کہ یہ پریشان حال مجبور لوگ کہاں جائیں۔ اس زمانے میں ہر کسی کو اپنی پڑی ہے۔ خود غرض زمانہ ہے۔ خون سفید ہو گئے ہیں۔ ہر کوئی اپنے ’’کاکے کھڈا‘‘ رہا ہے۔ رشتے ایک دوسرے کی حق تلفی کر رہے ہیں۔ والدین کے گستاخ ہو گئے ہیں۔ نافرمان ہو رہے ہیں۔ اللہ کے بندوں کی خدمت ہم پر فرض ہے۔ بندوں کے اندر چھپا شیطان نظر انداز کر دیا کرو اور آخری وقت تک کوشش کیا کرو کہ وہ بندہ سدھر جائے۔ ہم نے اپنے والد کو کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں دیکھا۔ کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔ کسی سے حسد نہیں کیا۔ کسی کے خلاف کینہ یا بغض نہیں رکھا۔ درگزر کی دولت سے مالا مال تھے۔ کبھی کسی سے نفرت نہیں کی۔ کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ جھوٹے‘ بے ایمان اور منافق لوگوں پر غصہ آیا بھی تو عارضی۔ غریبوں اور حاجت مندوں کے لئے بے حد حساس تھے۔ گھر آتے ہوئے راستے میں کوئی چھابڑی والا مل جاتا تو گاڑی سے اتر کر اس سے پھل خریدتے۔ اس کے ساتھ گپ شپ لگاتے۔ فرماتے کہ سجی سجائی دکانوں سے تو سب ہی خریداری کرتے ہیں، ان غریب چھابڑی والوں سے بھی خریدنا چاہئے۔ عقیدتمندوں کے بارے میں کہا کرتے ’’چکی میں آٹا پستا ہے لیکن کچھ دانے چکی کے ساتھ لگے رہ جاتے ہیں۔ وہ نہیں پستے۔‘‘ یعنی جو ساتھ لگے رہ جاتے ہیں وہی حقیقی عقیدت مند ہوتے ہیں۔ باپ کے مقام دعا کا ادراک ہو جائے توکوئی بیٹا اپنے باپ سے گستاخی کی ہمت نہ کر ے۔’’باپ‘‘ اردو زبان کا لفظ ہے اور یہ تین لفظوں کا مجموعہ ہے یعنی ’’ب‘‘ سے برکت و بزرگی والا … ’’الف‘‘ سے اساس واصل اور آبیاری والا… اور ’’پ‘‘ سے پیار و محبت والفت کے مجموعے کا نام ’’باپ‘‘ ہے۔ اگر باپ کی عظمت کا پاس کرتے ہوئے اس کی اطاعت‘ فرمان برداری ،خدمت اورتعظیم کرکے اس کی رضاحاصل کی جائے تو اللہ پاک کی طرف سے ہمیں دین ودنیا کی کامیابیاں‘ سعادتیں اورجنت ایسی نعمتیں مل سکتی ہیں۔ ماں باپ سی نعمت کوئی دنیا میں نہیں ہے حاصل ہو یہ نعمت تو جہاں خْلدِ بریں ہے۔ والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں، اگر کسی کویہ نعمت حاصل ہے اور وہ اْن کی خدمت واِطاعت کر رہا ہے تو وہ بڑا سعادت مند اور اللہ کا محبوب بندہ ہے۔ والدین کے مرقد پر قدموں کی سمت بیٹھے یہ چند سطور لکھنے کی جسارت کی ہے۔ اور پھر پردیس سدھار جانا ہے۔۔۔ ساڈھا چڑیاں دا چنبا اے بابلا اساں اڈ جاناں۔۔۔۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: