اور سندھ بہتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عبداللہ

0
  • 20
    Shares

کنڈیارو کا لیموں باغ ہو یا فقیر مشتاق کا مے خانہ، خیر پور کا فیض محل ہو یا مہرانوں کا وہ جنگل جس میں بے شمار ہرن، پرندے اور وہ چار مرغابیاں بھی جن کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں، موہنجوداڑو کے سرخ کھنڈرات ہوں یا سرمست، قلندر اور بھٹائی کی درگاہیں، عمر کوٹ اور خدا آباد کا ذکر ہو یا تھر کی کنیاؤں اور دوشیزاؤں کا حوالہ، مستنصر حسین تارڑ کے تمام سفر ناموں میں سے شاید سندھ کا یہ سفرنامہ “اور سندھ بہتا رہا” سب سے منفرد اور لاجواب سفرنامہ ہے۔

بہت کم سفرنامے ایسے ہوتے ہیں جو قاری کو دوران مطالعہ ہی ان مقامات تک پہنچنے کے شوق اور حسرت میں مبتلا کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے سفرنامے جن میں تاریخ، جغرافیہ اور معلومات ہونے کے ساتھ ساتھ ادب، منظر نگاری اور کردار سازی بھی ہو موجودہ دور میں بہت کم لکھے جاتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کا یہ سفر نامہ اسی نوعیت کا ہے کہ جس میں آپ سفری احوال کے ساتھ ساتھ تاریخ اور ادب سے بھی واقفیت حاصل کر پاتے ہیں۔ “اور سندھ بہتا رہا” پڑھنے والے کو اپنے ساتھ یوں بہاتا چلا جاتا ہے کہ ایک ہی نشست میں اسے ختم کیے بنا اٹھنا محال ہو جاتا ہے۔ کہیں کہیں ہلکا مزاح اور رومانیت بھرا انداز سفرنامے کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

فیض محل کے تذکرے میں صاحب کتاب لکھتے ہیں،

“یہ ایک عجب سانحہ ہے کہ اگر سلطانی جمہور کے زمانے آتے ہیں، برصغیر برطانیہ کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہےاور سینکڑوں ریاستیں اور راجواڑے کچھ اپنی مرضی سے، کچھ مجبوراً کہ ان پر فوج کشی کی گئی ان نو آزاد ملکوں میں مدغم ہو جاتے ہیں، جمہور جشن مناتے ہیں کہ شکر ہے راجوں، مہاراجوں اور نوابوں وغیرہ سے نجات ملی لیکن کچھ عرصہ بعد یہی جمہور اپنے مہاراجوں اور نوابوں کی یاد میں آہیں بھرنے لگتے ہیں، وہ پھر سے غلام ہونا چاہتے ہیں۔ یعنی بہاولپور کے لوگ اپنے عباسیوں کو ترسنے لگتے ہیں، قلات کے لوگ اپنے خان کی یاد میں سوگوار ہونے لگتے ہیں، سوات والوں کو اپنے والی کا انصاف پسند اور ترقی پسند عہد سنہری لگنے لگتا ہے اور اسی طرح خیر پور میں بھی عوام الناس میروں کے زمانوں کے تذکرے اکثر کرتے ہیں، یہ ایک عجیب تاریخی المیہ ہے”۔

مہرانوں کے جنگل کی منظر کشی تارڑ صاحب نے بہت خوبصورت انداز سے کی ہے کہ پڑھنے والا خود کو اسی جنگل کے کسی غزال یا پکھیرو کے سحر میں ڈوبتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ جنگل کا ذکر کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں،

“اس ڈھلتی شام میں سرمئی پانیوں پر تیرتے پرندے اپنے اپنے رنگ کھو کر سب سرمئی ہوتے جاتے تھے اور ان میں کچھ پرندے میری تحریروں میں سے نمودار ہو کر یہاں اس جھیل میں اتر گئے تھے۔ ان میں یقیناً “راکھ” کی وہ چار مرغابیاں بھی تھی جن کا خوشی سے کوئی تعلق نہ تھا اور وہ قادر آباد جھیلوں سے اڑان کر کے ادھر اتر آئی تھیں اور وہاں کہیں پرندوں کے اس غول میں گم ایک پکھیرو بھی تو موجود ہو گا۔ خس و خاشاک زمانے کا امیر بخش جو دریائے چناب کے کنارے ایک سدھارتھ کی مانند براجمان ایک پرندے کا روپ دھار گیا تھا شاید اسی جھیل پر آن اترا ہو اور وہ فریدالدین عطار کے پرندے تھے جو میری بیشتر تحریروں میں ظاہر ہوتے رہتے تھے شاید انہوں نے سچ کی تلاش میں قاف کے پہاڑوں کی جانب پروازیں کرتے مہرانوں کی اس جھیل کو دیکھ کر اپنا سفر موقوف کر دیا ہو کہ اتنی دور کیا جانا سچ تو یہ سروٹوں میں گھری سحر بھری جھیل ہے تو یہیں ٹھہر جاؤ۔

سچل سرمست کے بارے میں تارڑ صاحب کہتے ہیں،

” ایک محقق نے کہا تھا کہ ’میں دو الہامی کتابیں ہیں” گیتا” اور” دیوان غالب”۔ اگر وہ محقق” دیوان آشکار” پڑھ لیتا تو شاید وہ یہ بیان کرنے پر مجبور ہو جاتا کہ دوسری الہامی کتاب دیوان آشکار ہے۔ مجھے بھی اس دیوان کے تفصیلی مطالعہ کے بعد احساس ہوا کہ میں ابھی تک نامکمل تھا اور سچل کے دیوان نے مجھے مکمل کر دیا”۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی اور شہباز قلندر کی درگاہوں کا بھی مصنف نے صوفیانہ انداز میں تعارف کروا کر پڑھنے والوں کو وہاں تک پہنچنے کا ایک نیا بہانہ دے دیا ہے۔ خداآباد کے بارے چاچا جی اس کا تاریخی تعارف کچھ یوں کرواتے دکھائی دیتے ہیں،

“اور خدا آباد کیا تھا، میں نہیں جانتا تھا۔ یہ انڈس ہائی وے پر دادو سے اٹھارہ کلومیٹر کی مسافت پر واقع کلہوڑہ حکمرانوں کا 1768 تک شاندار دارالسلطنت تھا۔ میاں یار محد کو اورنگ زیب عالمگیر نے “خدا یار خان” کا شاہانہ خطاب دیا تو اس مناسب سے یہ شہر خدا آباد کہلایا۔ خدا آباد اپنے زمانوں کا ایسا نایاب اور پر کشش شہر تھا کہ اس کی شان میں قصیدے لکھے جاتے تھے۔ یہ شہر یکدم تاریخ کے صفحوں سے تب اوجھل ہونے لگا جب میاں غلام شاہ نے کلہوڑہ سلطنت کے لیے حیدرآباد کو دارالسلطنت قرار دے دیا۔ رہی سہی کسر تالپوروں نے پوری کر دی جنہوں نے ایک قتل کا بدلہ لینے کے لیے خدا آباد کو برباد کر دیا”۔

سفرنامے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں مصنف نے گاہے بگاہے موقع کی مناسبت سے اپنے سابقہ ناولوں اور سفرناموں کا جن میں اندلس میں اجنبی، غار حرا میں ایک رات اور راکھ سمیت دیگر سفرنامے شامل ہیں موقع کی مناسبت سے ان کا بھی ذکر شامل کیا ہے۔ اس انداز سے سفرنامے میں ایک فکشن سی کیفیت پیدا ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ سندھ کا یہ سفرنامہ گو کہ کچھ مختصر ہے لیکن تارڑ صاحب نے سندھ کی قدیم ثقافت اور تاریخ کو زندہ کرنے کی بہترین کوشش کی ہے اور سابقہ سفرناموں کی نسبت یہ سفرنامہ زیادہ پراثر اور دلچسپ انداز میں لکھا ہے۔ اگر آپ سندھ کو تاریخی انداز میں کھوجنے کے متلاشی ہیں تو یہ سفرنامہ آپ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

(Visited 124 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: