ٹیکس ریٹرن فائلر اور نان فائلر کا اشو —— لالہ صحرائی

1
  • 216
    Shares

اقوام عالم کے قانون، اسکوپ آف ٹیکس، میں یہ درج ہوتا ہے کہ حدود اربعۂ مملکت میں جو بھی فرد کسی زریعہ سے ایک مقررہ حد سے زائد آمدنی حاصل کرتا ہے اس پر ٹیکس نیٹ میں رجسٹر ہونا، پھر اپنی سالانہ آمدنی، اس پر اداشدہ ٹیکس، اپنے سالانہ اخراجات اور اخراجات کے بعد بچنے والی رقم جو کسی نہ کسی شکل میں اس فرد کا اثاثہ بن رہی ہے اس کے متعلق تماتر معلومات بزریعہ گوشوارہ‌، یعنی تفصیل آمدنی و خرچ و اثاثہ جات، حکومت کو فراہم کرنا اس فرد پر لازم ہے، یہی بات ہمارے قانون میں بھی لکھی ہوئی ہے۔

اس کام کیلئے مختص لفظ ریٹرن کا مطلب یہ ہے کہ اپنی آمدنی اور محصولات کا حساب جمع کرائیں کہ کاروباری سہولیات کے عوض اس مملکت کو آپ نے کیا دیا ہے، اس پر کئی لوگ اس غلط فہمی کا اظہار کرتے ہیں کہ جب ہم ہر چیز پر ٹیکس ادا کر دیتے ہیں تو پھر ہمارے اوپر ریٹرن جمع کرانے کی اضافی ذمہ داری کیوں ہے؟

مثال کے طور پر ایک مرد یا خاتون کی تنخواہ پچاس ہزار روپے مہینہ ہے جو سالانہ چھ لاکھ روپے بنتے ہیں، اس رقم پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، پھر اس رقم میں سے وہ راشن، سگریٹ، میک اپ، ڈریسنگ، فیشن، ادویات سمیت اپنی جو بھی ضروریات پوری کرنے جاتے ہیں تو ان سب اشیاء پر قیمت کے ساتھ وہ سیلز ٹیکس بھی ادا کر دیتے ہیں، اس کے بعد اب ٹیکس ریٹرن کیوں جمع کرائیں جبکہ ان پر کوئی واجب الادا ٹیکس ہی باقی نہیں رہتا؟

یہ غلط فہمی کم و بیش پانچ کروڑ لوگوں کے ٹیکس نیٹ سے باہر ہونے کا باعث ہے، جبکہ قانون میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے، اس لحاظ سے حکومت اگر نان۔فائلرز کیخلاف کوئی کریک۔ڈاؤن کرنا چاہے تو ایسی کاروائی میں قانونی طور پر وہ بالکل حق بجانب ہوگی لیکن اس اقدام سے حالیہ اینکروچمنٹ ڈرائیو والی ہی صورتحال برآمد ہوگی اسلئے کسی بھی حکومت نے کبھی ایسا غیرمقبول فیصلہ کرنے کی کوشش نہیں کی جس سے اس کا ووٹ بینک متاثر ہو ورنہ سالانہ کسی ایک سیکٹر کو بھی ٹارگیٹ کرتے تو پچھلے دس سالوں میں کم و بیش ایک کروڑ لوگ تو رجسٹر ہو چکے ہوتے۔

حقیقی تصور کے مطابق ٹیکس ریٹرن کیلئے مناسب لفظ ڈیکلئیریشن یعنی اظہاریہ بمعنی اپنی قانونی مالی حیثیت کا اعلان ہے، ریٹرن اور گوشوارے کی رٹ لگانے کی بجائے عوام کو یہی لفظ اس کے معنی کیساتھ باور کرانا چاہئے۔

ڈیکلئیریشن کا مطلب بالکل وہی ہے جو الیکشن کے امیدوار سے اثاثے ظاہر کرانے کیلئے سمجھا جاتا ہے تاکہ ہر بندے کی ظاہر کردہ آمدنی اور اثاثوں میں توازن کو سال بہ سال مانیٹر کیا جا سکے۔

مثلاً ایک بندہ اپنی آمدنی چھ لاکھ روپے سالانہ ڈیکلئیر کرتا ہے اور اپنی ویلتھ میں زیرکفالت افراد ایک بیوی اور دو بچے بتاتا ہے اور ہر سال اپنی پرانی موٹر سائیکل کی فروخت اور نئی کی خریداری دکھاتا ہے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اگر وہ ہرسال اسی آمدنی میں چھ افراد کی کفالت کیساتھ ذاتی اثاثوں میں کار، بنگلہ یا کوئی ایسا اتار چڑھاؤ بتاتا ہے جو اس کی آمدنی میں ممکن نہ ہو تو اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ اپنی ٹیکس۔ایبل انکم کو چھپا رہا ہے۔

حقیقت میں لوگ فائلنگ سے الرجک بھی اسلئے ہیں کہ اس میں اپنی جائیداد اور آمدنی کا توازن ثابت کرنا ایک مشکل کام ہے، یہ پورٹفولیو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ آمدنی اور اثاثوں میں عدم توازن قبول ہی نہیں کرتا اسلئے آمدنی چھپائیں تو اثاثے بھی چھپانے پڑتے ہیں، اثاثے پورے دکھائیں تو آمدنی بھی پوری دکھانی پڑتی ہے جس پر اضافی ٹیکس دینا پڑجاتا ہے، اگر ٹیکس بچائیں تو جب کبھی کنسیلمنٹ سامنے آجائے گی تب ٹیکس+جرمانہ بھرنا پڑے گا جو چھپائی گئی دولت کا پچاس فیصد تک بن سکتا ہے۔

ملکی اکانومی کی پراپر ریکارڈنگ کیلئے اصولی طور پر ہمارے برسرِ روزگار ہر فرد کی ڈیکلئیریشن جانی چاہئے لیکن بیشتر عوام چونکہ پڑھی لکھی نہیں اسلئے ہمارے قانون میں ڈیکلئریشن کی ذمہ داری تنخواہ دار، ٹریڈر، ہولسیلر، ریٹیلر، صنعتکار، سروس پرووائیڈر، کرایہ داری، فائنانسنگ اور ایگریکلچر کی سرگرمیوں سے صرف قابل ٹیکس آمدنی حاصل کرنیوالوں پر لاگو ہوتی ہے۔

اب سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ جب سرکاری، نیم سرکاری و غیرسرکاری تنخواہ دار کی ماہانہ انکم پر اور چھوٹا موٹا بزنس کرنے والے کی سپلائیز، سروسز، بینک ٹرانزیکشن یا کسی اور مد میں پیمنٹس پر ایٹ۔سورس ٹیکس کٹ جاتا ہے اور اپنے نفعے سے گھریلو ضروریات کی خریداری پر وہ نقد سیلز ٹیکس بھی ادا کر دیتا ہے تو اب اس پر ریٹرن فائل کرنے کی ذمہ داری کیوں رکھی جائے؟

دراصل ٹیکس ریٹرن فائل نہ ہونے سے مملکت کو چند بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پہلا یہ کہ ملکی اکانومی کا وہ حقیقی دائرہ سامنے نہیں آتا جس پر سے یہ ٹیکس اکٹھا کیا گیا ہے۔

مثلاً تنخواہوں پر تقریباً دو ارب سے زائد رقم اکٹھی ہوتی ہے لیکن یہ پتا نہیں چل سکتا کہ اس کل رقم کا حجم کیا تھا جس پر سے یہ رقم بطور ٹیکس حاصل ہوئی ہے، یہ پتا اسی وقت چلے گا جب تمام ٹیکس گزار اپنی اپنی انکم اور کٹے ہوئے ٹیکس کا ڈیکلئیریشن جمع کرائیں گے۔

دوسرا نقصان یہ ہے کہ جب تنخواہ دار اور تاجر طبقہ اپنا ڈیکلئیریشن نہیں دیتا تو جہاں جہاں اس کا ٹیکس کٹا ہوتا ہے وہاں سے ڈیڈکشن سرٹیفکیٹ بھی نہیں لیتا، جہاں کوئی سرٹیفکیٹ مانگنے والا نہ ہو وہ وہاں ٹیکس کاٹنے والا بھی ٹیکس کاٹ کے حکومت کو جمع نہیں کراتا لہذا وہ رقم بھی ضائع ہو جاتی ہے۔

اسی طرح جب چھوٹا موٹا بزنس کرنے والا ان۔رجسٹرڈ بندہ اپنی سپلائیز، سروسز، بینک ٹرانزیکشن یا کسی اور مد میں ایٹ۔سورس ٹیکس کٹوانے پہ مجبور ہو کے ٹیکس تو دے دیتا ہے لیکن اپنی ڈیکلئیریشن داخل نہیں کرتا تو ان لوگوں کا بھی اربوں روپے کا وہ ٹرن اوور سامنے نہیں آتا جس پر سے یہ ٹیکس کاٹا گیا ہوتا ہے۔

اس ٹرن اوور کا حجم دریافت کرنے کیلئے ہمارے پاس ورک بیک کا فارمولا تو ہوتا ہے مگر وہ کسی ایک فرد کے دئے گئے ٹیکس کی اصل رقم تو صحیح بتا سکتا ہے لیکن کئی افراد کے ٹیکسوں کے مجموعے کی اصل رقم کا صرف اندازہ ہی دے سکتا ہے، دوسرے طریقے میں یہ ہے کہ جو لوگ ٹیکس کاٹ کے جمع کراتے ہیں وہ اصل رقم کا تذکرہ بھی کرتے ہیں، وہاں سے بھی اصل ٹرن اوور تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن اسے اکانومی کا ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔

ہماری اکانومی کا ثبوت صرف ہمارا رجسٹرڈ بزنس ٹرن اوور سرکل + ہمارے کیپیٹل ایسیٹس ہیں، عالمی ریٹنگ ایجنسیاں ہماری اکانومی کا جب پورٹفولیو بناتی ہیں تو قابل تصدیق اکنامک سرکل، اس سے حاصل شدہ ریوینیو، کیپیٹل پروسیڈز اور ان سب سے ترتیب پانے والے بجٹ کے آئینے میں اکنامک انڈیکیٹرز طے کرتی ہیں۔

یہ بھی دیکھئے:  ٹیکس گردیاں: ایک عبرت آمو ز داستان ۔۔۔ عماد بزدار

 

اب قوم کی کثیر تعداد جب اپنا اکنامک ٹرن اوور ہی ریکارڈ نہیں کرائے گی تو یہ پورٹفولیو ہماری اکانومی کا حقیقی عکاس بھی نہیں ہوگا، اس ڈینٹ کا براہِ راست اثر ہمارے کرنسی نوٹ کی ویلیو پر پڑتا ہے۔

پرانے وقتوں میں گولڈ بیکڈ کرنسی ہوتی تھی، اسے ختم ہوئے بھی آدھی صدی کے قریب وقت گزر گیا ہے، اب نوٹ پر لکھی ہوئی عبارت “حامل ہذا کو مطالبہ پر ادا کرے گا” کا مطلب یہ نہیں کہ اس نوٹ کے بدلے میں معینہ مقدار میں سونا مل جائے گا، یہ سکت اب امریکہ میں بھی نہیں ہے کہ اپنے ایک فیصد ڈالر کے بدلے ہی گولڈ فراہم کرسکے، موجودہ سسٹم میں اس جملے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہماری حکومت کی اتھارٹی پر آپ کو اس نوٹ کے بدلے میں جہاں سے چاہیں وہاں سے جنسِ مبادلہ مل سکتی ہے۔

گولڈ بیکڈ سسٹم میں آپ اپنے سونے کے ذخائر کی نسبت سے اپنی کرنسی کا کل حجم ویریفائی کرا لیتے تھے لیکن اب آپ کرنسی نوٹ گولڈ کے بدلے نہیں بلکہ اپنی اکانومی کے پروپورشنیٹ سے چھاپتے ہیں، اسے ڈالر پیگڈ سسٹم کہتے ہیں، یعنی آپ کی اکانومی ڈالر کی اکانومی کے مقابلے میں جتنی سکت رکھتی ہے آپ اتنی مالیت کے نوٹ چھاپ لیں۔

مثال کے طور پر ڈالر کی اکانومی کی سٹرینتھ اگر سو پوائینٹ ہے اور روپے کی اکانومی کی سٹرینتھ بھی سو پوائینٹ ہے تو امریکہ اگر سو ڈالر چھاپ سکتا ہے تو آپ بھی سو روپیہ چھاپ سکتے ہیں، اس صورت میں ایک ڈالر ایک روپے کا ہی آئے گا۔

لیکن اگر ہم اسی اکانومی کی اتھارٹی پر دو سو نوٹ چھاپنا چاہیں تو پھر ہمیں اپنی کرنسی ڈی۔ویلیو کرنی پڑے گی، ہمارے نوٹ چھاپنے پر تو کوئی پابندی نہ ہوگی لیکن وہ دو سو روپیہ مقابلۃً ایک ڈالر کے برابر ہی گنا جائے، جب اکانومی میں خسارہ ہو تو بھی کرنسی ڈی۔ویلیو ہوجائے گی۔

ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کی قدر بڑھانے کے دو ہی راستے ہیں، یا تو کرنسی طے شدہ فارمولے کے مطابق چھاپیں یا اکانومی کو گروتھ دے لیں، اکانومی میں گروتھ کا انڈیکیٹر جی۔ڈی۔پی ہے اور جی۔ڈی۔پی ہماری کل رجسٹرڈ اکانومی کا نام ہے۔

اب اپنی معیشت کا اصل چہرہ سامنے لانے کیلئے دو میں سے ایک کام لازمی کرنا پڑتا ہے، پہلا یہ کہ ملکی معیشت کی ساری سرگرمیاں کم و بیش پانچ کروڑ افراد کی ڈیکلئریشن کے ذریعے ایف۔بی۔آر کے پلیٹ فارم پر ریکارڈ ہو جائیں، اس سے مملکت کی حقیقی اکانومی سامنے آجائے گی جو ایک طرف ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں خاطرخواہ اضافہ کرے گی، اور ثانوی طور پر کل ٹیکس ایبل ورتھ اور ٹیکس کی مقدار بھی بڑھا دے گی۔

یا پھر حسب معمول ہر خاص و عام کو چھوٹ دئے رکھیں، اور ٹیکس کا سارا بوجھ صرف موجودہ رجسٹرڈ پرسن پر ہی ڈالتے جائیں، اس صورت میں ٹیکس پہ ٹیکس لگتا جائے گا جس سے ٹرن اوور اور ٹیکسز یہ دونوں سائیڈیں تو کسی حد تک اوپر چلی جائیں گی لیکن ساتھ ہی مہنگائی سے سب کی چیخیں بھی نکل جائیں گی۔

ہمارے ہاں لگ بھگ پانچ کروڑ لوگوں کی ریٹرن فائل ہونی چاہئے جس میں قابل ٹیکس آمدنی بیشک ایک کروڑ لوگوں کی ہو باقی بیلو۔ٹیکس۔لیول والے ہوں، اس سے ایک تو اکانومی کے حجم میں مثبت فرق پڑے گا، دوسرا وہ بوجھ ایک کروڑ ٹیکس دہندگان پر تقسیم ہو جائے گا جو فی الحال ہم صرف دس۔بارہ لاکھ لوگوں پر ڈال کے بیٹھے ہوئے ہیں، موجود گوشوارے داخل کرنیوالے صرف بیس لاکھ لوگ ہیں، ان میں سے ٹیکس دینے والے صرف دس۔بارہ لاکھ ہیں، جن پر پوری قوم کا انحصار ہے۔

کیا اپنے ارد گرد آپ ایسے درجنوں لوگوں کو نہیں جانتے جو چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں لیکن لاکھوں کی ایسی جائیداد بنا لیتے ہیں جو تنخواہ دار ٹیکس گزار خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا؟

اب جہاں آپ ایک تنخواہ دار سے تو بزور شکنجہ ایٹ۔سورس ٹیکس وصول کرلیتے ہیں وہاں ان بندوں کو کیوں آزاد چھوڑا ہوا ہے جو تنخواہ دار کے مقابلے میں ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیتے ہیں اور جائیدادیں بھی خوب بنا لیتے ہیں؟

اس مسئلے کو حل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں، پہلا یہ کہ اینکروچمنٹ ڈرائیو کی طرح ہر بندے کی جامہ تلاشی لی جائے، جس کی آمدنی بیلو۔ٹیکس۔لیول ہے، اس سے صرف ڈیکلئیریشن جمع کروائی جائے، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آئیندہ کیلئے وہ سال بہ سال اپنی آمدنی اور جائیداد کا تناسب مینٹین کرنے پر مجبور ہو جائے گا، اگر وہ جائیداد خریدے گا تو لازمی اس کی قیمت کے برابر اسے وائٹ۔منی بھی درکار ہوگی، جب وائٹ۔منی درکار ہوگی تو وہ اپنی اصل آمدن بھی سامنے لانے پر مجبور ہو جائے گا جس پر ٹیکس بھی دینا پڑے گا، کیونکہ بیلو۔ٹیکس۔لیول آمدنی سے تو کوئی بندہ بھی جائیداد نہیں بنا سکتا۔

پھر جس بندے کی آمدنی ٹیکس۔ایبل ہے اور اس نے ٹیکس بھی ادا کیا ہوا ہے لیکن ڈیکلئیریشن نہیں دیتا تو اس کا بھی صرف ڈیکلئیریشن ہی جمع کرایا جائے۔

پھر جن لوگوں کی آمدنی ٹیکس۔ایبل ہو اور وہ ٹیکس نیٹ میں نہ ہوں تو ان سے صرف پچھلے ایک سال کا ٹیکس اور ڈیکلئیریشن لیکر انہیں بھی ریگولرائز کر دیں۔

لیکن کوئی بھی مصلحت کوش حکومت اتنی محنت اور غیر مقبول فیصلہ کرنے کو تیار نہیں ہوتی، یہ کام ایک سنجیدہ حکومت ایک واضع بیانیے سے قوم کو اعتماد میں لیکر ہی کر سکتی ہے۔

سردست سامنے آئے بغیر اس کام کیلئے پچھلے پندرہ سال سے جو سٹریٹجی انفورس ہے وہ صرف ایڈوانس ٹیکس یا ڈیڈکشن ایٹ۔سورس ہی کی ہے، اس کے بعد فردر ٹیکس لگایا گیا پھر بینک ٹرانزیکشنل ٹیکس کا نفاذ ہوا، ان تینوں کا مقصد ایک ہی تھا کہ ہر بزنس انکم کرنے والا کہیں نہ کہیں سے مجبور ہو کے اپنی ڈیکلئیریشن بھی جمع کرانے لگے لیکن یہ اضافی ٹیکسز ادا کرنے کے باوجود بھی ڈیکلئیریشن دینے کو تیار نہیں ہوتے حالانکہ نان۔فائلرز ان تینوں ٹیکسز کی مد میں فائلر کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی ٹیکس دے بیٹھتے ہیں جو فائلر بننے کی صورت میں بلاشبہ کم ہو جائے گا۔

ایڈوانس ٹیکس کی بدولت مملکت کے ریوینیو کی مقدار بڑھانے کا مقصد تو یقیناً کسی نہ کسی حد تک پورا ہوجاتا ہے مگر اکانومی کی ریکارڈنگ کا مقصد پھر بھی پورا نہیں ہو پاتا، اسلئے بزنس ایکٹیویٹی کرنیوالوں کی تین کیٹگریز بنا دی گئی ہیں، ایک ایکٹیو۔فائلر ہے جو مقررہ وقت میں اپنی ڈیکلئیریشن جمع کراکے نارمل سطح پر مروجہ ٹیکس دیتا رہتا ہے۔

دوسرا وہ فائلر ہے جو مقررہ وقت پر ڈیکلئریشن نہیں دیتا اسلئے سسٹم پر ان۔ایکٹیو نظر آنے کی وجہ سے اسے ہر سطح پر ایکسٹرا ٹیکس دینا پڑتا ہے اسلئے وہ بھی ایکٹیو رہنے پر مجبور ہوجاتا ہے، اسی طرح جو رجسٹرڈ نہیں ہے وہ بزنس سے متعلقہ خریداری میں جگہ جگہ فردر ٹیکس دینے پر مجبور ہوجاتا ہے، اسلئے اسے بھی ٹیکس نیٹ میں آنا پڑجاتا ہے مگر اس کی رفتار بہت سست ہے۔

ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے پرامپٹ ایکشن لینے جیسا غیر مقبول فیصلہ کرکے حکومتیں ڈائریکٹ اپنا ووٹ بینک خراب کرنے کی بجائے اس شکنجے والے طریقے سے ہی اپنا کام چلا رہی ہیں مگر اس طریقے میں پوری قوم کو ٹیکس نیٹ میں آتے آتے شائد پندرہ سال ابھی اور لگ جائیں گے۔

ٹیکس نیٹ بڑھانے کی افادیت کیا ہے، اس ضمن میں عمومی خیال تو یہی کیا جاتا ہے کہ اس سے مملکت کا ریوینیو بڑھ جائے گا جس سے تعلیم، صحت، ویلفئیر، یوٹیلٹیز اور انفراسٹکچر کیلئے پیسہ زیادہ ملے گا لیکن اس کے تین بڑے فائدے اور بھی ہیں، پہلا اکانومی کی سٹرینتھ سے متعلق ہے جو اوپر ڈسکس ہو چکا ہے، دوسرا یہ کہ عوام جب اپنی آمدنی اور خرچ میں توازن ثابت کرنے پر مجبور ہو جائے گی تو رشوت ستانی کا کلچر بھی دم توڑ دے گا، لوگ پیسہ لیکر کریں گے کیا جب اس سے کچھ بنا ہی نہ پائیں گے، بنائیں گے تو چھپا نہ پائیں گے۔

تیسرا فائدہ یہ ہے کہ آپ ذاتی یا گھریلو ضروریات کی جو اشیاء خریدتے ہیں ان پر ادا کرنیوالے ٹیکسز کی شرح بھی آدھی سے زیادہ کم ہو جائے گی، اس چیز کو درج ذیل مثال سے سمجھاتا ہوں۔

ہر وہ طریقہ کار جس میں کسی چیز کو پراسس کرکے ایک نئی چیز بنائی جائے، جیسے گندم سے آٹا یا چند اشیاء ملا کر ایک نئی چیز بنا دی جائے، جیسے سن فلاور، کلر اور دیگر ایجنٹ ملا کر کوکنگ آئل، اسی طرح سوئی سے لیکر ہوائی جہاز تک ایسے تمام کام مینوفیکچرنگ کے زمرے میں آتے ہیں، عوام جب یہ اشیاء خریدنا چاہتی ہے تو حکومت عوام سے اس خریداری پر ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے۔

اس کا ایک طریقہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ حکومت ہر بندے پر نظر رکھے یا ہر کسی کے پیچھے گھومتی رہے تاکہ جہاں کوئی چیز خریدے وہاں اس سے ٹیکس لے لیا جائے، یہ چونکہ ممکن نہیں اسلئے حکومت نے ہر فروخت کنندہ کو ہی اپنا ایجنٹ شمار کر لیا ہے تاکہ جو کوئی اس کے پاس کچھ خریدنے کیلئے آئے تو وہ اپنی چیز کی قیمت کیساتھ حکومت کا ٹیکس بھی خریدار سے وصول کرکے خزانے میں جمع کرا دے۔

تنخواہ دار کی نسبت ایک بزنس۔مین کو سیلز ٹیکس میں صرف اسلئے رجسٹر ہونا پڑتا ہے کہ قانون کی نظر میں وہ حکومت کا کلیکشن ایجنٹ قرار دیا گیا ہے اسلئے جو رجسٹر نہیں ہوتا وہ مجرم ٹھہرتا ہے۔

مینوفیکچرر جب اپنے کسی ڈیلر کو چیز بیچتا ہے تو اس سے 17 فیصد ٹیکس لیکر خزانے میں جمع کرا دیتا ہے، حکومت کا کسی بھی خریدار سے ٹیکس وصول کرنے کا اسکوپ یہاں پر ختم ہو جاتا ہے۔

لیکن جب ڈیلر وہی چیز آگے کسی کو بیچتا ہے تو ایک نیا اسکوپ شروع ہوجاتا ہے کیونکہ قانون اپنی جگہ پر انفورس ہے، وہ کہتا ہے کہ جہاں بھی کوئی چیز خریدی جائے گی وہاں خریدار سے ٹیکس لیکر حکومت کو دیا جائے گا۔

لہذا جب ڈیلر کسی ہولسیلر کو چیز بیچے گا تو ایک نئی خریداری عمل میں آئے گی، پھر جب یہ ہولسیلر کسی ریٹیلر کو بیچے گا تو تیسری خریداری عمل میں آئے گی، پھر جب ریٹیلر عوام کو بیچے گا تو چوتھی خریداری عمل میں آئے گی۔

اب اس چین میں مینوفیکچرر کے علاوہ باقی تین لوگ رجسٹرڈ نہ ہوں تو وہ یہ کہنے میں بہرحال حق بجانب ہیں کہ ہم ٹیکس ادا کرکے آئے ہیں، عوام نے بھی ٹیکس ادا کر دیا لیکن حقیقت میں یہ ذمہ داری پوری نہیں ہوتی اسلئے کہ اس پریکٹس میں ٹیکس صرف پیداواری سٹیج پر ادا کیا گیا ہے، آخری قیمت پر نہیں دیا گیا جبکہ ٹیکس اس قیمت پر درکار ہے جس پر وہ چیز عوام کو فروخت ہو رہی ہے۔

ہم نے اوپر دیکھا کہ ہمارے پاس ٹیکس کا بوجھ اٹھانے والے صرف دس سے بارہ لاکھ لوگ ہیں، باقی عوام موج کر رہی ہے، ان موج کرنیوالوں میں دراصل وہ تین قسم کے ایجنٹ شامل ہیں جو ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ نہیں، ان ایجنٹوں کی تعداد کنٹری۔وائڈ کروڑوں میں ہے، یہ اگر ٹیکس نیٹ میں آجائیں تو پھر کیا شکل بنے گی؟

پھر یوں ہوگا کہ مینوفیکچرر نے ڈیلر کو 100 روپے کی چیز بیچی اور 17 روپے ٹیکس لیکر خزانے میں جمع کرا دیا، اب ڈیلر نے ہولسیلر کو 110 روپے میں بیچی تو اس پر ٹیکس بنے گا 18.70 روپے۔

ڈیلر اپنے خریدار سے 18.70 روپے لے گا اور 1.70 روپے خزانے میں جمع کرائے گا کیونکہ 17 روپے وہ اپنی جیب سے پہلے دے چکا ہے اور چیز خود استعمال نہیں کر رہا اسلئے وہ اپنے 17 روپے اپنی جیب میں رکھے گا اور باقی 1.70 روپیہ خزانے میں جمع کرا دے گا۔

ہولسیلر کے ہاتھ میں مال آنے تک اس کی قیمت 110 روپیہ ہے جس پر 18.70 روپے ٹیکس بنتا ہے اور یہ ٹیکس ایک جگہ 17 روپے اور دوسری جگہ 1.70 کی شکل میں حکومت کے پاس چلا گیا ہے۔

اب ہولسیلر جب ریٹیلر کو وہی چیز 120 کی بیچے گا تو اس سے 20.40 روپے ٹیکس وصول کرے گا جس میں سے اپنے 18.70 اپنی جیب میں رکھے گا اور باقی 1.70 روپے حکومت کو دیدے گا، اب یہاں ریٹیلر کے ہاتھ میں پہنچنے تک چیز کی قیمت 120 روپے ہے جس پر ٹیکس 20.40 روپے بنتا ہے اور وہ تین قسطوں میں حکومت کو پہنچ چکا ہے، یعنی پہلے 17 پھر 1.70 اور پھر مزید 1.70، کل ملا کے 20.40 روپے۔

اب جب ریٹیلر عوام کو وہی چیز 130 کی دے گا تو ٹیکس بنے گا 22.10 روپے، وہ عوام سے یہ رقم لیکر اپنے 20.40 روپے اپنے پاس رکھ لے گا اور اوپر کے 1.70 روپے پھر سے حکومت کو دیدے گا، جس کے بعد وہ چیز اپنے فائنل کنزیومر یعنی عوام کے پاس پہنچ جائے گی اور اس کی آخری قیمت پر حتمی ٹیکس بالترتیب، 17+1.70+1.70+1.70 کرکے حکومت کو بھی پہنچ چکا ہوگا تو قانون کا ڈسکورس یہاں پورا ہو جائے گا۔

اب اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ پورے ملک میں صرف یہی چار افراد رہتے ہیں، جن کا اوپر ذکر ہوا ہے، اور اس ملک کی معیشت کا سرکل کسی صورت بھی ان چار افراد کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا لیکن جب اس میں سے تین لوگ ان۔رجسٹرڈ رہیں گے تو کیا فرق پڑے گا؟

پہلا فرق یہ ہے کہ جب صرف مینوفیکچرر اپنی ڈیکلئیریشن دے گا تو اس ملک کی اکانومی صرف 100 روپیہ اور ٹیکس کلیکشن صرف 17 روپے نظر آئے گی لیکن جب یہ چاروں رجسٹر ہو کر قانون کیمطابق ایمانداری سے اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کریں گے تو پھر وہی اکانومی 130 روپے اور ٹیکس کلیکشن 22.40 روپے ریکارڈ پر آئے گی۔

یہ تو تھا ان۔ڈائریکٹ ٹیکسز کا فریمورک جس میں ایک روپیہ بھی بزنس۔مین اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے بلکہ بحیثیت کلیکشن ایجنٹ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے متعلقہ ٹیکس آگے سے آگے پاس۔آن کرتے جاتے ہیں، حتمی طور پر یہ ٹیکس عوام ہی اپنی جیب سے ادا کرتی ہے۔

اس کے بعد یہ چاروں لوگ جب اپنی اپنی سیلز کی مالیت سے اپنی لاگت اور خرچہ منہا کرکے اپنی ٹیک۔ہوم۔انکم بتائیں گے تو اس پر مجوزہ تھریشولڈ کیمطابق ڈائریکٹ ٹیکس یعنی انکم ٹیکس بھی ادا کریں گے جو خالصتاً ان کی اپنی کمائی سے ادا ہوگا، وہ بھی شامل ہونے کے بعد 22.40 روپے کی کلیکشن میں کچھ مزید اضافہ ہو جائے گا۔

اب زرا یہ تصور کرکے دیکھیں کہ اس ملک میں صرف آٹھ سے بارہ لاکھ وہ لوگ ہیں جو مینوفیکچرر یا سپلائرز کے طور پہ رجسٹرڈ ہیں جبکہ کراچی سے وانا تک یہ معاشی سرکل چار قسم کے لوگوں کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتا تو باقی کے تین گروہ جن کی تعداد کروڑوں میں بنتی ہے ان کا ٹیکس نیٹ سے باہر رہنا اکانومی پر کتنا بڑا منفی اثر ڈالتا ہے۔

سیلز ٹیکس کا 17 فیصد ریٹ بھی اسیلئے رکھا گیا ہے کہ چونکہ اتنا بڑا طبقہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، جس کی ویلیو ایڈیشن پر ٹیکس نہیں ملتا، اسلئے پہلی سٹیج پر ہی وہ ٹیکس وصول لیا جائے جو آخری اسٹیج تک چار قسطوں میں ملنا تھا۔

عوام نے جب ہر طرح سے 17 فیصد ہی دینا ہے تو ان لوگوں کو باہر کیوں رکھا جائے جو لاکھوں کی انکم کما جاتے ہیں اور حساب بھی نہیں دیتے، بلکہ یہ نظام اگر سو فیصد رجسٹریشن پر آجائے تو امید ہے کہ عوام کو 17 کی بجائے 12 فیصد چارج کرکے بھی اتنا ٹیکس اکٹھا ہو جائے جو ابھی 17 فیصد میں بھی نہیں ہو رہا کیونکہ اس صورت میں جہاں ان۔ڈائریکٹ ٹیکس کم ہوگا وہاں ڈائریکٹ ٹیکس میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوگا، سائیڈلائن میں اکانومی کے انڈیکیٹرز بھی کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے اور کرنسی کی ویلیو میں بھی اضافہ ہوگا۔

یہاں دو تین باتیں کہنا اشد ضروری ہیں، پہلی یہ کہ ان اقدامات سے اکانومی اور کرنسی کے انڈیکٹرز ضرور مضبوط ہوں گے لیکن عوامی خوشحالی نہیں آئے گی، قدیم ریاست مدینہ اور حالیہ مغرب جیسی خوشحالی لانے کیلئے ایک بنیادی، مشکل مگر ناگریز فیکٹر کو ایمپلائے کرنا پڑتا ہے، وہ اقدام کرنے کیلئے بڑے بولڈ فیصلے اور سخت محنت کرنی پڑتی ہے، تب جاکے مطلوبہ ویلفئیر اسٹیٹ پیدا ہوتی ہے، وہ فیکٹر سمجھانے کیلئے مجھے اتنا ہی طویل ایک مضمون الگ سے لکھنا پڑے گا جو کسی دن موقع ملا تو ضرور لکھ کے دوں گا۔

دوسری یہ کہ حکومت وقت سے عوام کو جو بھی سہولیات درکار ہیں وہ سب اسی ٹیکسیشن کی رقوم سے ہی پیدا کی جاتی ہیں، اسلئے ہر بندے کا اپنی آمدنی پر مقررہ شرح سے ٹیکس ادا کرنا اس کا قومی فرض بنتا ہے لیکن جب کوئی بندہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے پر راضی نہ ہو تو ایڈوانس ٹیکس ایٹ۔سورس اور فائلر و نان۔فائلر جیسے شکنجے کسنا بالکل مناسب طریقہ ہے، اس پر جزبجز ہونا قطعاً جسٹیفائیڈ نہیں ہے۔

تیسری یہ کہ جو حکومت بھی یہ کہتی ہے کہ ہمارے لگائے گئے ٹیکسز سے عام آدمی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ سراسر جھوٹ بولتی ہے اور ٹیکس نیٹ کو فروغ دینے میں اپنی ناکامی کو شرح ٹیکس بڑھا کر پورا کرنے کے چکر میں رہتی ہے، حقیقتاً تمام ڈائریکٹ اور ان۔ڈائریکٹ ٹیکسز صرف عوام ہی دیتی ہے، بزنس۔مین اپنی آمدنی پر انکم ٹیکس بھی اس منافع سے ادا کرتا ہے جو اس نے عوام ہی سے کمایا ہوتا ہے اور ان۔ڈائریکٹ ٹیکسز بھی پاس۔آن کرتے کرتے بلآخر وہ عوام کے ہی متھے مارتا ہے۔

ان حالات میں بہتری کیلئے ایک طرف حکومت کو چاہئے کہ عوام کو ڈائریکٹ اعتماد میں لیکر باسہولت اور دوستانہ طریقے سے ایسے اقدامات کرے جن سے ٹیکس نیٹ سو فیصد پہ چلا جائے اور ٹیکس ریٹ پہلے سے آدھا رہ جائے تو عوام اور حکومت دونوں کیلئے بہت اچھا ہو جائے گا۔

دوسری طرف عوام کو چاہئے کہ کسی بھی طبقے کی حکومت یا اس سسٹم سے بلاوجہ کی عقیدت یا نفرت رکھنے کی بجائے اس پورے سرکل اور اس کے اندر اپنے اپنے کردار کو عوامی اور ملکی مفاد کی عینک سے دیکھنا ہی ایک درست رویہ ہے، آپ کے پیسے کا ٹوٹل حساب بجٹ ڈاکومنٹ جسے ہم فائنانس بل کہتے ہیں اس میں پچھلے سال کی کلیکشن اور خرچے کی تمامتر تفصیلات کے ساتھ موجود ہوتا ہے، کرپشن ایک الگ چیز ہے وہ صرف پراجیکٹ ٹو پراجیکٹ آڈٹ میں ہی سامنے آتی ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھیں کہ آپ کی آمدنی، خرچ، منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد کی خریدوفروخت، بینک اکاؤنٹ، کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور ہر وہ سرگرمی جس میں آپ کے شناختی کارڈ کا حوالہ آجاتا ہے وہ سب کچھ ایف۔بی۔آر کی نظر میں ہے لیکن کوئی بھی حکومت چونکہ اپنا ووٹ بینک خراب کرنے کیلئے ہاتھ نہیں ڈالتی اسلئے آپ محفوظ ہیں، جب کوئی بے لاگ حکومت آگئی تو اینکروچمنٹ والوں کی طرح نان۔فائلر اور گھوسٹ سب رگڑے میں آجائیں گے، اسلئے فائلنگ کی طرف رجحان رکھنا چاہئے تاکہ اچانک کسی انہونی سے واسطہ نہ پڑے۔

اپنی ڈیکلئیریشن یا عرف عام میں ٹیکس ریٹرن یا گوشوارہ جمع کرانے کیلئے این۔ٹی۔این حاصل کرنا اور آنلائن اپنا پورٹل بنانا اب بہت آسان ہے، آپ آئی۔آر۔آئی۔ایس ڈاٹ جی۔او۔وی ڈاٹ پی۔کے پر جائیں اور اپنا شناختی کارڈ نمبر، بائیومیٹرک شدہ سیلفون نمبر اور ایمیل ایڈریس ڈالیں تو آپ کا آنلائن پورٹفولیو بن جائے گا جس کی آئی۔ڈی آپ کا شناختی کارڈ نمبر ہی ہوگی، اس کا پاسورڈ آپ کو ایمیل پر آئے گا، پن کوڈ سیلفون پر آجائے گا اور این۔ٹی۔این بھی اس پروفائل کے اندر اپر۔رائٹ کارنر پر ایک ٹیب میں موجود ہوگا تاکہ جہاں کہیں این۔ٹی۔این دکھانے کی ضرورت ہو وہاں اس ٹیب سے پرنٹ کرکے یا پی۔ڈی۔ایف میں ڈاؤنلوڈ کرکے دے دیں۔

اس کے بعد پڑھا لکھا ہر بندہ اپنی آمدنی و اثاثہ جات کی سالانہ ڈیکلئیریشن خود تیار کرکے، پن کوڈ سے ویریفائی کرکے، جمع کرا سکتا ہے، پن کوڈ آپ کے دستخط کے مترادف ہے۔

اپنی ڈیکلئیریشن بنانے اور جمع کرنے کا مکمل طریقہ کار ٹیکسٹ اور ویڈیو میں ایف۔بی۔آر ڈاٹ جی۔او۔وی ڈاٹ پی۔کے اور یوٹیوب پر بھی تصویری وضاحتوں کیساتھ موجود ہے، پھر بھی سمجھ نہ آئے تو فون پر جتنی چاہیں طویل کال کرکے ایف۔بی۔آر کی ہیلپ لائن سے مدد لے سکتے ہیں یا دو ہزار روپے خرچ کرکے کسی قریبی پروفیشنل کی مدد لے لیں، یا مجھ سے بھی بلامعاوضہ پوچھ سکتے ہیں۔

رجسٹریشن کا یہ طریقہ کار صرف تنخواہ دار طبقے اور نان۔سیلز۔ٹیکس۔ایبل بزنس۔مین افراد کے انکم ٹیکس و ویلتھ ریٹرن کیلئے ہے۔

سیلز۔ٹیکس۔ایبل انفرادی بزنس، پارٹنرشپ فرم اور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کیلئے اپنے زون کے ٹیکس آفس میں بزنس کے آتھورائزڈ سگنیٹری کی بائیومیٹرک تصدیق اور کمپنی آفس کی ویریفکیشن بھی کرانی پڑتی ہے، مینوفیکچرنگ یونٹ کو مشینری یا پروڈکشن ہاؤس کی بھی ویریفکیشن کرانی پڑتی ہے۔

مزید کوئی سوال ہو تو کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔

(Visited 822 times, 7 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. راجا محمد امین on

    اسلام علیکم۔ میں ٹیکس کے بارے کچھ سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
    کتنی سالانہ آمدن پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
    میں سرکاری ملازم ہوں کیا میں فائلر بن سکتا ہوں ؟
    میری مسسز گھر میں کپڑے سلائی کرتی ہے کیا وہ بھی فائلر بن سکتی ہے ؟
    کتنی اور کونسی جائداد پر ٹیکس بنتا ہے۔
    میرے پاس ایک موٹر بائیک، ایک 5 مرلے کا دومنزلہ مکان ہے جسکا ایک پورشن میں نے کرائے پر دیا ہوا ہے، کیا اس پر بھی ٹیکس بنتا ہے ؟
    فائلر بننے کا آسان طریقہ کیا ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: