پڑتال — ایمان و الحاد کی پرانی جنگ اور نئے دانشور —– لالہ صحرائی

0
  • 107
    Shares

کائنات برزخ کے مراحل سے گزر رہی تھی، یومِ نُشُور طلوع ہونے میں ہزاروں صدیوں کا وقت ابھی باقی تھا، قیامت سے پہلے نوع انسان یوں تو سینکڑوں ستاروں پہ رہائش اختیار کر چکی تھی مگر اس کا مرکزی دارالحکومت آخری دم تک کرہء ارض کے شہرِ بیمثال، کوئینز لینڈ، میں ہی واقع تھاـ

کوئینز لینڈ کے مشرق میں برادرانِ اسلام حسب معمول اپنی عاقبت سے بے خبر اپنے رنگ برنگے مسلکوں کے کفن اوڑھے، گندگی سے بھرپور گورستانوں میں اپنی بے ترتیب قبروں کے اندر خواب غفلت میں ڈوبے، بے سدھ پڑے، سو رہے تھے جو ان کے بھائی بندوں نے ہی اِن کیلئے کھودی تھیں۔

شہر کے مغربی کنارے، پاورڈ یونیورسٹی کی عقبی سیمٹری میں، ہزاروں دانشور، فلسفی اور سائینسدان اپنی ان قبروں میں آسودۂ خاک تھے جو ہر کونے تک جیومیٹریکل ترتیب سے قطار اندر قطار بِچھی ہوئی تھیں، سیمٹری کی راہداریوں میں حسنِ ترتیب کیساتھ برقی فانوس روشن تھے۔

ہر شخصیت کی مرقد کے سرہانے ماتمی سیاہ مرمر کے پتھر ان کی داستانِ علم و فضل اپنے سینے پر کندہ کئے، زمین میں اپنے پاؤں گاڑے، صدیوں سے دست بستہ غلاموں کی طرح باادب، مُہربہ لب اور پرسکُوت کھڑے تھے۔

اس قبرستان کے پُراسرار حُسن کو چار چاند لگانے والا سائنسدان اپنی کتاب “ٹُچوں کے سر سینگ” میں عقل سے پیدل مسلمانوں کو جن الفاظ میں ان کی اوقات بتلا کر منڈی یزمان سے ہجرت کرکے یہاں آیا تھا ان الفاظ کے خیرمقدم میں تین دن کے اندر اندر اسے گرین کارڈ سے نواز دیا گیا تھاـ

اس عظیم آدمی نے فزکس میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد بنی نوع انسان کی فلاح کیلئے اپنی حیرت انگیز ایجاد “انفنٹ بیٹری سیل” پیش کیا تھا جس پر اسے نوبل انعام سے بھی سرفراز کیا گیا تھا۔

پاورڈ یونیورسٹی کی سیمٹری میں روشن برقی شمعیں اسی انفنٹ بیٹری سے جِلا پا رہی تھیں جو سابقہ عین الدین یزمانوی المعروف ڈاکٹر اے۔ڈی۔جیزمن نے بنائی تھی، کھربوں سال گزرنے کے بعد بھی اس بیٹری کی آدھی توانائی ابھی باقی تھی۔

اسی قبرستان کے مرکز میں ایستادہ گھنٹہ گھر کے اوپر وہ ڈیجیٹل کلاک پیوست تھا جو موضع ٹِبی والا کے ایک مایہ ناز سپوت فرید عزیز کی ایجاد تھا۔

فرید عزیز کو بھی مائیگریشن مسلمانوں کی مٹی پلید کرنے اور نوبل پرائز اس انفنٹ کلاک کی ایجاد پر دیا گیا تھا جو اب گھنٹہ گھر کے اوپر اس انتظارِ مسلسل کی گھڑیاں گن رہا تھا کہ کب یومِ نشور طلوع ہو اور وہ مسلمومنین کو یہ بتا کے شرمندہ کر سکے کہ اس دوران وہ کتنے ہزار ملین سال تک برزخ کی نیند سوئے ہیں۔

فرید عزیز کی قبر بھی اسی گھنٹہ گھر کی پہنائی میں واقع تھی اور اس پر نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر الفریڈ ایزز کے نام سے کتبہ لگا ہوا تھا۔

برزخ کی پیمائش کیلئے مسلمومنین کو رائی کے دانوں والا کیلنڈر پڑھایا گیا تھا کہ زمین و آسمان کے درمیان اگر رائی کے دانے بھر دئے جائیں اور سو سال بعد چڑیا ایک دانہ اٹھا کے لیجائے تو سارے دانے ختم کرنے میں جتنی صدیاں گزریں گی اس کے بعد یوم حشر قائم ہوگا۔

اس کیلنڈر کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس وقت زمین پر صرف ایک فٹ کے قریب دانے باقی بچے ہوئے تھے گویا یومِ نُشُور طلوع ہونے میں ہزاروں صدیوں کا وقت ابھی بھی باقی تھا۔

کائنات میں چہار سو ایک مہیب سناٹا اور چاندنی مائل اندھیرا چھایا ہوا تھا، ہر کوئی گہری نیند سو رہا تھا کہ یکایک ایک خوفناک آواز اس کائنات کے اندر پھیل گئی۔

ایسا لگا جیسے کسی کیمیائی لیب کے اندر کوئی دھماکہ رونما ہوا ہے مگر جائے وقوعہ کا کوئی اندازہ نہیں تھا، آواز سن کے اکثریت نے کروٹ لی اور دوبارہ سوگئے مگر ایک دیسی فلسفی جو اپنی فانی زندگی میں بھی پکی پی کے کچی نیند سونے کا عادی تھا، اس نامعلوم کھٹکے سے، ہمیشہ کی طرح، اس غریب کی ایکبار پھر پوری آنکھ کھل گئی اور وہ اٹھ کے اکڑوں بیٹھ گیا۔

اس کی قبر پر لگے کتبے کے مطابق ڈاکٹر کیمرون کا وطن مالوف تحصیل چُونیاں کے آس پاس کہیں واقع تھا جس کی شہریت ترک کرنے پر امیگریشن اور اس کے تحقیقی مقالے “ہاف تکبیر” پر اسے ڈاکٹر آف فلاسفی کی اعلیٰ ترین ڈگری سے نوازا گیا تھا۔

اپنے مقالے میں اس نے یہ ثابت کیا تھا کہ میں نے جب خدا کو آواز دی تو وہ نہیں آیا، اس کے دلائل کیساتھ اس کا پورا عہد متفق تھا سوائے اسلامی دنیا کے جو اپنی تمامتر خستہ خواری کے باوجود بھی ایک ان دیکھے خدا کی پرستش سے باز آنے اور پروفیسر کیساتھ اتفاق کرنے کو ہرگز تیار نہ تھی۔

مکرمی کو اس بات کا ہمیشہ قلق رہا کہ سمجھانے کے باوجود مسلمومنین اس کی بات سمجھنے کو تیار نہیں، اس کی بلانوشی کی اصل وجہ بھی اس کا یہ اکلوتا غم ہی تھا۔

پروفیسر کامران ملک جسے دنیا ڈاکٹر کیمرون ٹَیلی کے نام سے جانتی تھی وہ اپنی قبر کے پاس بیٹھا ابھی اس ماحول کا گہرا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ ایک خوفناک دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور کسی نامعلوم بلیک ہول سے ایک عجیب و غریب نسل کا سیب اس کی گود میں آ گرا۔

تم کون ہو؟
تم کہاں ہو؟
کیا تم خدا ہو؟
دوبارہ کوئی جواب نہ پا کر اور اپنے مقالے کی سچائی کو مدنظر رکھ کے ڈاکٹر کیمرون نے اس قدر زور کا نعرۂ ہاف تکبیر لگایا کہ اس کی آواز کائنات کے اندر دور دور تک پھیل گئی۔

لاالہٰ کو اس نے ہاف تکبیر کا نام دے رکھا تھا، کائنات کے اندر مسلسل بہتی ہوئی لاالہٰ کی بازگشت نے ڈاکٹر ڈی۔جے۔ایل کو جگا دیا، یہ وہی ڈاکٹر تھا جو رزق، صحت اور زندگی دے کر مسلمانوں کا ایمان تبدیل کرایا کرتا تھا، اسے ہر چیز پر حُکم لگانے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے پر ملکہ حاصل تھا۔

ڈاکٹر ڈی۔جے۔ایل کو یاد آیا کہ وہ تو اس دنیا پر خدائی کیا کرتا تھا مگر اب کوئی بھی پجاری اس کے آس پاس نہیں، چنانچہ اس نے اپنا سَنکھ نکالا اور اسے اپنے منہ سے لگا کر کوئینز لینڈ کی دھرتی پر صُور پھونک دیا۔

سَنکھ کی آواز پھیلتے ہی کوئینز لینڈ کی دنیا ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی، ہزاروں سائنسدان، فلسفی، نفسیات دان اور مشرقی علاقے کے مسلمومنین اپنی اپنی قبروں سے باہر نکل آئے۔

جیسے ہی ڈی۔جے۔ایل نے برزخی دور کا کنٹرول سنبھالا تو اہل فزکس و فلسفہ نے بیک زبان ہاف تکبیر کا نعرہ بلند کیا، جواب میں مسلمانوں نے نعرہ تکبیر کا اعادہ شروع کر دیا اور یوں وہی تنازعہ وہیں سے دوبارہ شروع ہوگیا جہاں پر قیامت کے دن رُکا تھا۔

مغرب سے صدا آتی تھی؛
لاالہٰ، لاالہٰ، کوئی خدا نہیں
لاالہٰ، لاالہٰ، ہرگز کوئی خدا نہیں

اور
مشرق سے صدا آتی تھی؛

حسبی ربی جل اللہ
لاالہٰ الااللّہ، سوائے خدا کے کچھ نہیں
الااللّہُ، الااللّہ، ہرگز اس کے سوا کچھ نہیں

نعرے بازی میں تندی و تیزی آئی تو علامہ عرضوی صاحب شدتِ جلال سے مغلوب ہو کر اپنے اسلاف کا مشہور زمانہ نعرہ پی۔ڈی۔ایس بھی میدان میں لے آئے، جواب میں مسلمانوں کی طرف سے، اوئے تہاڈی پین دی سری، کی گونج بھی کائنات کے طول و عرض میں پھیلنے لگی۔

اس سے قبل کہ یہ مناظرہ جھگڑے میں بدل جاتا، ایک دیسی دانشور جو ڈاکٹر کیمرون سے کئی صدیاں پہلے اس دنیا سے گزرا تھا، اس نے سمجھایا کہ نہ صرف خدا موجود ہے بلکہ اس کیساتھ میرے بہت اچھے مراسم بھی رہے ہیں، اس مہربان نے مجھے شراب خانے میں ایسا جام بھر کے دیا تھا جس سے میں ابھی تک مست ہوں، یقین کرو خدا ایسا ہرگز نہیں جیسا یہ مسلمومنین بتاتے ہیں، بلکہ وہ تو ہمارا ہمنوا ہے جبھی اس نے اہل فزکس و فلسفہ کو مسلمانوں پر زمانے میں برتری دے رکھی تھی۔

یہ بھی ملاحظہ کریں:  جدید فزکس الحاد کو کیوں رد کرتی ہے؟ سکاٹ ینگرن کی تحقیق: اسامہ مشتاق

 

اسی نے ڈاکٹر ڈی۔جے۔ایل کو آسانیاں بانٹنے کیلئے کُن کی طاقتیں عطا کی تھیں لیکن یہ مسلمان حقارت سے اسے دجال کہتے تھے، مجھے خدا پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ آخری فیصلہ بھی ہمارے حق میں ہی کرے گا کیونکہ وہ “ایکؤیل اپرچونیٹی ایمپلائر” ہے لہذا خاطر جمع رکھو اور میری پھٹپھٹی تیار کردو تاکہ میں حسب سابق خدا کو ڈھونڈ کے لاؤں اور ان مسلمومنین کو ایکبار پھر سے سبق سکھا دوں۔

ڈاکٹر ڈی۔جے۔ایل نے اپنی فزکسئین قوتوں کو بروئے کار لا کے اس کی حنوط شدہ پھٹپھٹی دوبارہ چلنے کے قابل کردی اور وہ پِھٹ پِھٹ کرتا ہوا بلادِ غیب کی طرف روانہ ہوگیا۔

چڑیا جب رائی کا ایک اور دانہ اٹھانے آئی تو متحاربین کو اندازہ ہوا کہ لگ بھگ ایک صدی اس انتظار میں گزر گئی ہے لیکن خدا کے بھیدی ڈاکٹر زیڈ۔ای کا ابھی تک کوئی اتا پتا نہیں، پھر کچھ عرصے بعد ایک طرف سے پھٹپھٹی کی آواز سنائی دی، دیسی دانشور اس بار اکیلا ہی تھا مگر اس کے پیچھے پیچھے ایک ایسی نورانی سواری آرہی تھی جس پر سینکڑوں فرشتوں کے جلو میں ایک برگزیدہ ہستی بھی براجمان تھی۔

فرشتوں نے پاورڈ یونیورسٹی میں ایک نورانی تخت بچھا دیا، صاحب حُکم جب اس تخت پر جلوہ افروز ہوئے تو فزکسئینز کے وکیل ڈاکٹر زیڈ۔ای نے ڈاکٹر فلاں بن فلاں کی معاونت سے مسلمومنین کیخلاف اس عدالت میں پانچ نکاتی مقدمہ قائم کر دیا۔

  • مسلمان علم فزکس کی برتری تسلیم نہیں کرتے۔
  • لادینیت اور اس کے کلمے ہاف تکبیر کی حقانیت نہیں مانتے۔
  • مسلمان شدت پسند اور دشنام طراز ہیں۔
  • مسلمان ایک قدیم بائیس سو سالہ دور کے اندر اتری ہوئی چند کتابوں اور شخصی ماورائیت سے اس قدر متاثر تھے کہ مذہب کی جدید دور سے ہم آہنگ کسی تشریح اور کسی جدید شارح کو ہرگز برداشت نہیں کرتے تھے حالانکہ اسی چیز میں ان کی ترقی اور بقا کا راز پنہاں تھا، جبکہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ خدا کسی قابل معذور، شیمیل اور فیمیل کو بھی پیغمبر مقرر کر سکتا تھا کیونکہ ہمارے حساب سے وہ “ایکؤیل اپرچونیٹی ایمپلائر” ہے، مگر یہ نہیں مانتے تھے۔
  • یہ استحصال پسند طبقہ عورت کو جنسی فتنہ گر اور پاؤں کی جوتی سمجھتا تھا حالانکہ خدا فیمینسٹ بھی ہو سکتا ہے، مگر یہ نہیں مانتے تھے۔

عدالت کی کاروائی شروع ہوئی تو پہلے دعوے کے حق میں سائینس کی ہزاروں گواہیاں پیش کی گئیں جن کی بنا پر ان کے نزدیک کائناتی سسٹم ہی خدا ہے اسلئے وہ خدا نامی کسی ہستی کی بجائے یونیورسل سسٹم کی پرستش کرتے اور ہاف تکبیر کا نعرہ لگاتے ہیں تاہم وہ بھیدی کے قائل کرنے پر اس بات پہ متفق ہیں کہ خدا اگر اپنی ہستی کا ہونا ثابت کردے تو وہ اس پر بھی ایمان لے آئیں گے۔

مقدمہ سن کے نورانی صورت والے صاحب حُکم نے مسلمومنین کو اپنی صفائی کا موقع دیا تو ان کے امام علامہ عرضوی صاحب نے کہا؛

ہم تمہیں خدا …!
اور اس عدالت کو خدا کی عدالت ہرگز نہیں مانتے …!
بھلا وہ بھی کوئی خدا ہے؟
جو بندوں سے اپنی صفائی مانگے …!

دشمن ہمیشہ دشمن کی غلطی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے لہذا یہ سنتے ہی پنڈال میں طعن و تشنیع کا دور چل نکلا کہ مسلمانوں نے اپنے ہی خدا کا انکار کر دیا ہے، ان حالات میں علامہ عرضوی صاحب کو ایک بار پھر جلال آگیا، پھر ایک طرف ہاف تکبیر اور دوسری طرف نعرۂ تکبیر کا دور چل نکلا۔

مشرقی کیمپ سے پھر صدا آنے لگی؛

حسبی ربی جل اللہ، لاالہٰ الااللّہُ،
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ

ماحول میں جب حدت کیساتھ شدت بھی آگئی تو جامعہ جلالیہ کے فاضلین نے بات ایک بار پھر پین دی سری تک پہنچا دی۔

فرشتوں نے بزور قوت عوام کو قابو کیا اور عدالت کی کاروائی دوبارہ شروع ہوئی، اس بار مسلمانوں کی کمان علامہ عرضوی کی بجائے آصف علی واصفؔ صاحب نے سنبھال لی جنہیں واصفِ ثانی بھی کہا جاتا تھا، واصفِ ثانی کی تصانیف لمحہ لمحہ قربت، نفس نفس ذکر اور اشک اشک ندامت ہر دور کی بیسٹ سیلر کتب رہی تھیں اور مسلمانوں کے ہر مکتبہ فکر میں انہیں عزت و احترام کا نہایت اعلیٰ درجہ بھی حاصل تھا۔

واصفِ ثانی نے حمد و ثناء کے بعد یوں اپنا خطبہ پیش کیا، اے صاحب حُکم، ہم صوفی لوگ جمال اول اور جلال آخر پر یقین رکھتے ہیں لیکن ہمارے علامہ عرضوی صاحب زرا مُلائی طبیعت کے مالک ہیں اسلئے وہ جلال پہلے اور دلائل بعد میں دیتے ہیں البتہ ان کی بات میں دم ہے، اسلئے عرض ہے کہ “اِنکَ لاتُخلفُ المِعَیاد” سے شروع کر لیتے ہیں، بیشک خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، جبکہ یہاں سورج ہے نہ تانبے کی زمین، میزان لگی ہے نہ جمیع الخلقت، ابوالبشر ہیں نہ انبیاء اکرامؑ اور نہ ہی امام الانبیاء علیہ السلام تشریف لائے ہیں۔

لہذا یومِ نُشور کا کورم پورا نہیں ہوتا، اسلئے ہم آپ کو خدا ماننے سے قاصر ہیں، یہاں موجود اول و آخر کے ہر مسلمان کا ایمان اپنے اپنے نبی کیساتھ مشروط ہے، وہی اپنی اپنی امتوں کو خدا کے سامنے پیش کریں گے اور امام الانبیاءؐ ان سب کی شفاعت فرمائیں گے، اب یا تو آپ ہمارے وارثوں کو لے آئیں یا اپنی اصلیت سے آگاہ کریں، باقی باتیں بعد میں ہوں گی…..!

واصف ثانی کے دلائل سن کے،
مشرقی کیمپ سے پھر ذکرِ خدا بلند ہوا؛

الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ

صاحب حکم نے خطبہ سن کے کہا؛
آپ نے ٹھیک سمجھا حضرت،
یہ احکم الحاکمین کی عدالت نہیں،

میرا نام فزکسائیل ہے،
میں لاکھوں فرشتوں کا سردار اور اس کائنات کے سائینٹیفک اصولوں کا مہتمم ہوں، ڈاکٹر ڈی۔جے۔ایل اور اس کی ٹیم کے لوگ بھی فزکس کو چونکہ اہل تصرف کی حد تک جانتے ہیں اسلئے اب یہ کسی کو سونے نہ دیں گے لہذا اس قضیئے کو نمٹانا بہت ضروری ہے، اب آپ اس عدالت کو قبول کر لیں اور اپنے اوپر لگے الزامات کی صفائی پیش کریں ورنہ یکطرفہ فیصلہ سنا دیا جائے گا اور اسپر عمل بھی ہوگا۔

علامہ عرضوی نے آگے بڑھ کے واصفِ ثانی کے ہاتھ چومے اور کہا، یہ ہوتا ہے ایمان والوں کا جلوہ…۔

انبیاء اکرامؑ پر ایمان نہ ہو تو واللہ خدا کی پہچان بھی نہیں ہوتی، توحید کے جام پِھٹپِھٹیوں پر نہیں ملتے، یہ انبیاءاکرامؑ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے پر ملتے ہیں ورنہ مکے کے جاہلوں کو کونسا خدا کا پتا نہیں تھا۔

اس کے ساتھ ہی مشرقی کیمپ میں،
الااللہ کے جام کا ایک اور دور چل نکلا؛

الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ

حضرت فزکسائیل کو خدا مان کے چلنے والوں میں تھوڑی سی شرمندگی تو آئی مگر وہ جلد ہی سنبھل گئے۔

واصف ثانی کو جو لوگ صرف کتابوں کی حد تک جانتے تھے وہ انہیں اپنے سامنے دیکھ کے ہاتھ چومنے کو ٹوٹ پڑے، فرشتوں نے ایکبار پھر بزور قوت عدالت کا ڈیکورم بحال کیا اور درویش نے اپنا جواب دعویٰ شروع کیا۔

اے ہمارے رب کے رازداں؛
بیشک ہر علم کی ایک فضیلت ہے، بیشک علم حاصل کرنے کا حکم ہے اور بیشک ہم ناکام ہو کے دنیا سے پیچھے رہ گئے تھے لیکن جب ہمارے حکمرانوں نے ہماری تعلیم پر خرچنے سے منہ موڑ لیا تھا تو ہم بھی کیا کرتے، ہاں البتہ ان حالات میں کچھ لوگ پاورڈ یونیورسٹی کی تائید سے زمانے میں ہم سے آگے ضرور بڑھ گئے تھے، بیشک علم کی دنیا میں انہوں نے کچھ نام کما لیا تھا مگر اس کیلئے ایمان تو ایک طرف انہیں اپنا اصلی نام تک بدلنا پڑا تھا جبکہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ؛

“گر با اُو نہ رسیدی، تمام بُولہبی است”
جو اپنے وارث تک نہ پہنچا، وہ گیا کام سے!

حضرت واصف نے ڈاکٹر اے۔ڈی۔جیزمن، الفریڈ ایزز اور کیمرون ٹیلی کی طرف دیکھتے ہوئے جب یہ جملے ادا کئے تو خدا کے بھیدی ڈاکٹر زیڈ۔ای نے نقطۂ اعتراض اٹھایا کہ موصوف کوئی ڈھنگ کا جواب دینے کی بجائے ان کے دوستوں کی ذات پر حملہ کر رہے ہیں، ان کی ایسی ہی لایعنی باتوں سے ہماری قوم کو ہر جگہ منہ کی کھانی پڑتی تھی۔

میری گزارش ہے می لارڈ…..!
ان کی بہانے بازیوں اور ذاتی حملوں پر سخت سے سخت گرفت ہونی چاہئے…..!

حضرت واصف نے خلقت پر ایک نظر ڈالی جس میں اپنی قوم کی خستہ حالی الگ ہی نظر آرہی تھی، اس پر گرفت بھی ہونی چاہئے کا مطالبہ ان کیلئے مزید دل شکستگی کا باعث بنا، پھر ایک لمحہ کا کرب سہہ کر وہ گویا ہوئے…..!

اے ہمارے رب کے راز داں…..!
کیا آپ کو نہیں معلوم کہ جس دین کی ابتدا ہی “پڑھ” سے ہوتی ہے اس دین کے ماننے والے دنیاوی تعلیم میں “انپڑھ” کیوں رہے…..؟

کیا آپ کو معلوم نہیں، جب مقرب فرشتے نے کہا تھا “پڑھیئے” تو اسے کیا جواب ملا تھا،
فقلت ما انا بقاری
فرمایا کہ میں نہیں پڑھنے والا۔
اس نے تین بار بازؤوں میں بھینچ کے کہا کہ پڑھیئے!
مگر ہر بار ایک ہی جواب سن کر اس نے کہا،
یا رب! تیرا محبوب تو نہیں پڑھتا،
پھر رب اعلیٰ نے کیا فرمایا تھا؟
کہ پوری بات کرو؛

“اقراء باسم ربک”
اے محبوب اپنے رب کے نام سے پڑھیئے،
کیا اس کے بعد حضورؐ نے پڑھ نہیں دیا تھا؟
اقرا باسم رب الذی خلق، خلق الانسان من علق، اقرا و ربک الاکرم، الذی علم بالقلم، علم الانسان مالم یعلم، کلا ان الانسان لیطغٰی۔

ہمارا معظم نبیؐ جب اپنے رب کا نام لئے بغیر قرآن بھی نہ پڑھے تو ہم وہ سائینس کیسے پڑھ لیں جو خدا کے انکار سے شروع اور اس کے انکار پہ ہی منتج ہوتی تھی، ہم اس بات کے قائل ہی نہیں جو ڈاکٹر فلاں بن فلاں کہے، ہم صرف اپنے حبیبؐ کی سنت کے قائل ہیں، ہمیں بڑی اچھی طرح پتا ہے “گر با اُو نہ رسیدی تمام بُولہبی است”۔

ہمیں یہ بھی پتا ہے کہ جو لاالہٰ پہ اٹک جاتے ہیں وہ پھر خدا سے بے تکلف ہوکے شرابیں ہی مانگتے ہیں اور اسے معرفت بھی سمجھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مشرقی کیمپ ایکبار پھر جھوم گیا؛

الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ

ڈاکٹر زیڈ۔ای نے نکتۂ اعتراض اٹھایا کہ
یہ ایکدم ذاتیات پر اتر آئے ہیں می لارڈ…..!

حالانکہ شراب خانے اور جام سے میرا مطلب یہ تھا کہ خدا ایکؤیل اپرچونیٹی ایمپلائر ہے، وہ صرف ملاؤں کا خدا نہیں ہے مگر انہوں نے میری بات کو غلط رنگ دیا تھا، یہ موصوف بھی اسی جامد سوچ کے مالک نکلے جو مسلمومنین کا خاصہ ہے، یہ میرے جام کو معرفت کی بجائے واقعۃً شراب ہی سمجھ بیٹھے ہیں۔

آبجیکشن سسٹیئنڈ
فزکسائیل نے زیڈ۔ای کی حمایت کر دی تو مشرقی کیمپ میں تھوڑی سی یاسیت کا پرتو نظر آنے لگا۔

ایک وقفے کے بعد واصف ثانی دوبارہ کٹہرے میں آگئے!

می لارڈ…..!
اصنافِ سخن میں استعارہ اپنی منطق سے پہچانا جاتا ہے، ہمارے صوفی سُخنوَر ایسی گفتگو کو جن مبادیات سے جوڑتے تھے ان سے صاف سمجھ آجاتی تھی کہ میخانے سے مراد بزم طریقت اور جام سے فیض دینوی مراد ہے، موصوف کا قبلہ چونکہ مغرب تھا تو ہم ان کے استعارے کا بھی وہی مطلب لینے پر مجبور ہیں جو ان کے ہاں رائج تھا، پھر میرے کنبے کے ہزاروں نوجوان جب ایسی یاوہ گوئی سے خدا کے حضور حدِ ادب کھو بیٹھیں تو مجھے حُکم لگانے کا حق بھی حاصل ہوجاتا ہے۔

حضرت فزکسائیل نے کہا؛
آپ صرف اپنے مقدمے کے دفاع پر توجہ دیں، ذیلی گفتگو مقدمے کا حصہ نہیں، فیصلہ صرف اس بنیادی دعوے کیمطابق ہوگا جس کیلئے انہوں نے مجھے مدعو کیا ہے۔

جو حکم می لارڈ…..!
ہمیں اصل میں فزکس سے انکار نہیں تھا بلکہ اس لادینیت اور اس کی ہاف تکبیر سے انکار تھا جو اس تعلیم کے پیچھے چھپی ہوئی تھی، ہم ہاف کے نہیں، پوری تکبیر کے قائل ہیں اسلئے ہم نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ اس فزکس سے دور ہی بھلے جو خدا کے انکار سے شروع ہو یا اس کے انکار پہ ختم ہو جائے، اسلئے کہ دنیا منزل نہیں رستہ تھا اور رستے کو گھر نہیں سمجھا جاتا، بلآخر اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی کی منزل پیش آنی ہے، کچھ شک نہیں کہ اس کو تمہارے پروردگار ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

یہ بھی اہم ہے:  سائنس، الحاد اور خدا: مجیب الحق حقی

 

ہم نے بُرا بھلا جیسا بھی مِلا، ہر قسم کا دکھ درد اٹھا کے، اپنا اپنا رستہ کاٹ لیا ہے، اب تو فیصلہ یہ ہونا ہے کہ کون کون اپنے انبیاء کا دیا ہوا کلمہ اپنے اپنے ساتھ لایا ہے اور اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ، پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے، عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا، یہ جاننے کے بعد کون کون، کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی، مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے،کی مثل نکلے گا۔

یہ سن کر لارڈ فزکسائیل نے ایک دلآویز مسکراہٹ کیساتھ کہا، سچ فرمایا حضرت، آپ کا کوئی ثانی نہیں…..!

ڈاکٹر زیڈ۔ای نے عدالت کو مسلمانوں کے وکیل سے متاثر ہوتے دیکھا تو اس نے اپنے مقدمے کو ایک نئی لَیس لگا دی؛

می لارڈ، یہ ان کی خودپسندی ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور صاحب ایمان نہیں حالانکہ ہم تو خدا کو اس یقین کیساتھ مانتے تھے کہ وہ صرف ہم جیسے بے ضرر لوگوں کو ہی جنتوں کا مالک اور اپنا نمائیندہ بناتا ہے، اسی بات کی ہم تبلیغ بھی کرتے تھے۔

جبکہ یہ علم دشمن لوگ ہیں جنہوں نے اپنے سمیت ہرکسی کی دنیا جہنم بنا رکھی تھی، ان کو علم سے واسطہ ہوتا تو چلو جنت کو ہی علمگاہ کی حیثیت دے لیتے مگر ان کے نزدیک جنت بھی صرف حوروں کیساتھ جنسی بسرام کی آماجگاہ ہے، جبکہ ہم انسان دوست لوگ دنیا میں بھی علم کے شائقین تھے اور جنت میں بھی لائبریری کے مشتاق ہیں۔

لارڈ فزکسائیل نے کہا؛
واصف ثانی زیرک اور دانشمند انسان ہیں، ان کے دوستوں کی سوچ بھی پرکھنی چاہئے ورنہ فیصلہ قرین انصاف نہ ہوگا اسلئے مجوزہ سوال کا جواب علامہ عرضوی صاحب دیں گے۔

کٹہرے سے نکلتے ہوئے واصف صاحب نے علامہ کو دھیرے سے کہا حضرت مسلمانوں کی عزت کا مسئلہ ہے، آپ اچھے عالم ہیں مگر جذباتیت ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے۔

علامہ عرضوی کو معاملے کی سنگینی کا کچھ کچھ احساس ہوگیا تھا اسلئے بات تو شائستگی سے شروع کی مگر آخر میں جلال تک پہنچا گئے؛

جناب سائنسدان فرشتہ صاحب!
قصہ یوں ہے کہ ہمارے علاقے میں گھر کے کاموں سے فارغ ہو کے چند سہیلیاں گُڈے گُڈی کا بیاہ رچایا کرتی تھیں، پھر ایک لڑکی کی شادی ہوگئی اور وہ ان سے بہت دُور چلی گئی، وہ کچھ مہینوں بعد جب واپس آئی تو حسب معمول سب سہیلیاں اسے گھسیٹ کے ترنجن میں لے گئیں تاکہ وہی گڈے گڈی کا بیاہ رچائیں۔

وہ لڑکی پہلے تو ان کی بات پر خوب ہنسی پھر اس نے کہا، بیوقوفو اس گڈے گڈی کے کھیل میں کچھ نہیں رکھا، مزا تو بس اپنی شادی میں ہے، چھوڑو اس گڈی گڈے کو، بہت بار بیاہ دیا ان کو، اب تو تم اپنے اپنے بیاہ کی فکر کرو۔

اے مقدس اور سائنسدان فرشتے!
جس کی شادی ہو جائے وہ حجلۂ عروسی میں گڈے گڈی کا کھیل رچاتے ہوئے بندے کا پتر لگتا ہے ویسے؟

جب رب کریم نے کہہ دیا کہ میرے لئے زندگی کی تلخیاں سہنے والو، جاؤ اس باغ میں گھومو پھرو، کھاؤ پیو اور حوروں کیساتھ رہو، تو ہم بھلا زوجیت چھوڑ کے کتابیں کیوں پڑھیں گے؟

اے نفس قدسیہ…..!
یہ اہل چرچ کا عقیدہ ہے کہ وہاں چند کتابیں میسر ہوں گی، باقی جو لکھنا چاہے گا وہ لکھ بھی سکے گا، ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ جس بندے کی تشنگی عِلمِ نبوت سے نہ مٹے، اس کی تشنگی کوئی بھی دوسرا تیسرا عِلم مٹا سکتا ہی نہیں، ہمیں تو کوئی تشنگی ہے نہیں سوائے اس کے کہ صبح و شام بس خدا کا حکم پورا کرو، یہ ٹھیک ہے کہ جنت میں جو مانگو گے وہ ملے گا مگر جو رب کا حکم چھوڑ کے کتب بینی کی مشقت جھیلتا پھرے وہ تو ہے ای جھلا…..!

اوئے جھلیا،
یہ انسان کا جسم بھی ایک کتاب ہی ہے، اس میں بھی پڑھنے کیلئے بہت کچھ ہے، ہم تو جنت میں ایسی ستر کتابیں پڑھنے کا شغف رکھتے ہیں، تو پتا نہیں کونسی کتاب کا متلاشی ہے۔

لارڈ فزکسائیل کو متاثر ہوتے دیکھ کر مدعی کونسل نے سوچا کہ شدت پسندی کا سوال بھی اسی سے پوچھا جائے، یہ جذباتی بندہ کوئی اونگی بونگی مار کے لازمی پھنس جائے گا۔

علامہ نے کہا، اس کا واحد جواب یہ ہے کہ جہاں تکذیب ہوگی وہاں مدافعت بھی ہوگی، آپ کو وہ یہودی عالم یاد نہیں؟ جس نے اس آیت کا مذاق اڑایا تھا؛

مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّہ قَرْضًا حَسَنًا ۔
ایسا کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے۔

جب فنحاس نے کہا کہ تمہارا اللہ تو فقیر ہے جو بندوں سے قرض مانگتا ہے اور ہم تو غنی ہیں، اس گستاخی پر سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا تھا کہ نہیں؟ جب حضرت صدیقؓ پر مقدمہ قائم ہوا تو ان کے حق میں آیت کی گواہی اتری تھی کہ نہیں؟

لَقَد سَمِعَ اَللَّہُ قَولَ الَّذِینَ قَالُو اِنَّ اللَّہَ فَقِیر وَنَحنُ اَغنِیَائُ۔
اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی تھی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔

جناب سائنسدان فرشتہ صاحب!
آپ سے بہتر یہ بات کون جانتا ہے کہ یومِ نُشور جس ہستی کو سب سے پہلے بلاحساب کتاب جنت الاٹ ہوگی وہ یہی صاحبؓ ہیں جنہوں نے تکذیبِ مذہب و اہانتِ الہٰی کی پاداش میں یہودی عالم کے منہ پر تھپڑ دے مارا تھا۔

یہ اگر شدت پسندی ہے تو پھر معاملہ بھی اس کے برعکس ہونا چاہئے، مگر ہم اپنے دین کے مکلف ہیں، ان لوگوں کے مکلف نہیں جو پہلے گستاخی کرتے تھے پھر انسانی حقوق کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے تھے، جسے تھپڑ پسند نہیں وہ تکذیب نہ کرتا، آج یہ ہاف تکبیر کو اہل جنت کا مذہب قرار دیں گے تو پھر نعرہ تکبیر بھی ضرور سنیں گے۔

علامہ کو سن کے مشرقی کیمپ پھر وجد میں آگیا؛

الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ

ہاف تکبیر کی تکذیب سنتے ہی ڈاکٹر کیمرون ٹیلی آپے سے باہر ہوگیا، گو کہ اب تک وہ ڈی۔جے۔ایل کی فزکسیانہ قوت سے کئی بوتلیں بنوا کے چڑھا چکا تھا لیکن عرضوی کو سن کے اس کی پیتی پلائی ساری ہی لیہہ گئی۔

حضرت واصف نے کیمرون کے تیور دیکھ کے اندازہ لگایا کہ بس اتنا ہی کافی ہے، سنگین الزامات اور کیمرون کے سامنے علامہ عرضوی کا کھڑے رہنا خالی از خطر نہیں، عدالت کی اجازت سے ایک بار پھر دفاعی کونسل کی سربراہی واصف ثانی نے سنبھال لی۔

ڈاکٹر کیمرون نے لڑھکتے پھڑکتے کہا، کہاں ہے خدا، وہ میرے پکارنے پر کیوں نہیں آتا؟ تم لوگوں نے مجھے کالج کی کینٹین میں کتے کی طرح مارا تھا تو اس نے میری فریاد کیوں نہ سنی، وہ میری سن لیتا تو میں تمہاری نیشنیلٹی تمہارے منہ پہ مار کے یہاں نہ آتا، میری ماں میرا منہ دیکھنے کو ترستی ترستی مرگئی مگر میں تمہارے دیس میں فقط اس لئے واپس نہ گیا کہ تم اک وحشی قوم ہو، تم سب جھوٹے ہو، خدا کے نام پر ہماری جانوں سے کھیلتے ہو، یہ زیڈ۔ای بھی جھوٹا ہے، غریب کو کمی کمین اور عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والو، کہاں ہے تمہارا اپرچونیٹی ایمپلائر؟

اس سوال پر پہلی تحسین ڈاکٹر اے۔ڈی۔جیزمن کی طرف سے بلند ہوئی، پھر ڈاکٹر الفریڈ ایزز نے بھی سر دُھننا شروع کیا تو ڈاکٹر کیمرون ٹیلی اپنا ہاف تکبیر کا نعرہ مارے بغیر نہ رہ سکا۔

بس اس کیساتھ ہی مسلمومنین بھی اللہ ہُو کے ذکر پر کمربستہ ہو گئے، ماحول میں عوام کی آواز ایکبار پھر شامل ہو گئی۔

الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ
الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ، الااللّہُ الااللّہ

لارڈ فزکسائیل بھی اللہ ہُو کے ذکر پر وجد میں آنے لگے تو فاضلین جامعہ نے ہُو کی ضربیں بڑھانا شروع کر دیں اور یہی کام غلط ہو گیا۔

حضرت واصف جانتے تھے کہ جب کڑا وقت ہو تو ایمان والوں کو ہی امتحان دینا پڑتا ہے، اسلئے وہ عوام کو خاموش کرانا چاہ رہے تھے مگر فزکسائیل کو سردھنتا دیکھ کر بپھری ہوئی عوام کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اسلئے وہ آنے والے وقت کے خوف سے مدافعت ترک کرکے واپس اپنی جگہ پر جا کے بیٹھ گئے۔

یہ وجد اس وقت ٹوٹا جب چڑیا رائی کا اگلا دانہ اٹھانے آئی، اس کیساتھ ہی مقدمے کی کاروائی دوبارہ شروع ہو گئی۔

لارڈ نے کہا، مسلمانوں فزکسئین سے مدبھیڑ اتنا آسان کام نہیں، علوم کو رد کرکے اپنی حالت تو تم دیکھ ہی چکے ہو، اب میدان چھوڑ کے بھی تم فزکسئین کے رحم و کرم پر ہی رہو گے اسلئے بہتر ہے کہ اپنے امام کو سامنے لے آؤ، تاکہ میں تمہارے تحفظ کیلئے کوئی مناسب سا انتظام کر جاؤں، ورنہ تمہاری مرضی۔

حضرت واصفِ ثانی مجمع سے کافی دور ایک بلیک ہول سے گرتے ہوئے پانی میں وضو کر رہے تھے، انہیں کافی منت سماجت کرکے واپس لایا گیا۔

اس دوران ڈاکٹر جیزمن، الفریڈ ایزز، کیمرون ٹیلی اور دیگر فری تھنکر نے اپنے زخموں کے نشان دکھائے، ڈاکٹر زیڈ۔ای اور ڈاکٹر فلاں بن فلاں نے بھی ڈی۔جے۔ایل کی مدد سے ڈیٹا اکٹھا کرکے گالیوں کے کئی توڑے عدالت میں پیش کئے جو انہیں وقتاً فوقتاً اسلامسٹوں کے ہاتھوں ملتی رہی تھیں۔

حضرت واصف نے کٹہرے میں آنے سے قبل مسلمانوں سے اپنے ایک مختصر خطاب میں کہا، دوستو مومن خدا کے نور سے دیکھتا ہے، اس بات پر یقین ہے تو سمجھ لو کہ ایک مشکل وقت تمہارے سر پہ آکھڑا ہے، ہم نے سائنس سے روگردانی کر کے واقعی بڑی غلطی کی ہے، کاش ہم متمول مومنین کی مدد سے ایک ایسا کنسورشئیم بنا لیتے جو سائنس کو بسم اللہ سے شروع کرا کے الحمدللہ پہ ختم کرا دیا کرتا، مگر افسوس کہ اہل فزکس کے تصرف کے سامنے ہم اسوقت تہی دست ہیں ورنہ ہم بھی ان ڈاکٹروں کی بدمعاشیوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے عدالت کو دکھا سکتے تھے، اب میں اپنی سی کوشش کرتا ہوں کہ معاملہ عدالت کی سمجھ میں آجائے بصورت دیگر مجھ سے گلہ نہ کرنا اور ایک مشکل وقت گزارنے کیلئے مومنانہ شان کیساتھ تیار بھی رہنا۔

حضرت آصف علی واصفؔ ایکبار پھر کٹہرے میں آگئے، فرشتوں نے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے قلم و قرطاس سنبھال لئے اور لارڈ فزکسائیل کی اجازت سے دفاعی کونسل کا بیان ایکبار پھر شروع ہوگیا۔

می لارڈ….!
خدا نے مرد و عورت کو ایکساتھ پیدا کیا تھا نہ ایکساتھ فرشتوں سے متعارف کرایا، پھر وہ ایکؤیل اپرچونیٹی ایمپلائر کیسے ہو گیا؟

پھر اس نے ہمیشہ ان شخصیات کو پیغمبر بنایا جو شخصی قابلیت میں اپنا ہمسر نہیں رکھتے تھے، ان کا حسن دیکھ کے عورتیں اپنی انگلیاں کاٹ لیتیں، مرد ان کی عظمت پر اپنی گردنیں قربان کر دیتے، ان کے ہاتھ میں لوہا آتا تو موم کی طرح مُڑ جاتا تھا، عصا کو حکم دیتے تو سانپ بن جاتا، چاند کو اشارہ کرتے تو وہ شق ہو جاتا تھا اور جو قوم ان کے نصابِ زندگی کو اپنالیتی ان کے اندر جہاں بانی و جہانگیری کی قوت پیدا ہو جاتی تھی۔

بالفرض یہ ساری خوبیاں آج کے کسی معذور، شیمیل یا فیمیل میں موجود ہوں تو خدا نے جو نہیں کیا اس کے ازالے کیلئے انہیں پیغمبر ہی کیوں مان لیا جائے؟

پیغمبر ہر گلی محلے سے تو نہیں چُنے جاتے، وہ تو صدیوں پر محیط ایک تہذیب کی طرف خدا کی بین آیات اور نصابِ زندگی کیساتھ بھیجے جاتے تھے تاکہ اس تہذیب کی خامیاں درست کی جا سکیں، یہ کوئی روزمرہ تو ہے نہیں کہ جب چاہے نوع انسان حسبِ تمنا کسی کو پیغمبر چُن لے۔

پھر بھی ہم ایک تصوراتی جائزہ لینے کو تیار ہیں تاکہ اس خدا کی حکمت کو پا سکیں کہ جو اپنے حضور قربانی کیلئے ایک عیب دار جانور بھی پسند نہیں کرتا وہ اگر کسی کمزور نفس کو اپنا نمائندہ مقرر کر دیتا تو کیا ہوتا؟

اس تصوراتی جائزے میں ہمیں تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ جہاں معصیت سے پاک فرشتے سیدنا آدمؑ کی تخلیق پر معترض ہو سکتے ہیں وہاں نمرود، شداد، فرعون اور امیہ بن خلف جیسے بھیڑیئے کسی معذور، شیمیل اور فیمیل پیغمبر کیساتھ کیا کیا بدسلوکی نہ کرتے؟

چلیئے یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ مجوزہ پیغمبر اپنی معجزاتی قوت سے اپنے اپنے عہد کے بدمعاشوں کو زیر کر سکتے تھے مگر مدعی کونسل کے مصنفین جو صرف مسلمانوں کو چڑانے کیلئے کامل و اکمل انبیاء کے ادیان اور ان کی کتابوں پر بھی معترض پائے گئے ہیں، ان کی بُوقلمونیوں کا کیا علاج ہو سکتا تھا؟

کیا آپ تصور نہیں کر سکتے کہ مفروضہ صورتوں میں ڈاکٹر جیزمن اور کیمرون کی کتابوں میں یہ اعتراضات بھی بکثرت پائے جاتے کہ تمہارے خدا نے ایک معذور کو آتش نمرود میں پھینکوا دیا، ایک غنڈہ سماج کی طرف ایک شی۔میل کو بھیج کے مروا دیا، ایک عورت کو اپنا بچہ ذبح کرنے بھیج دیا، زور آوروں سے مقابلے کیلئے خدا کے پاس کیا یہ کمزور لوگ ہی رہ گئے تھے بس؟

می لارڈ…..!
انسان کی عیاری کو خدا سے بہتر کوئی نہیں جانتا، اس لئے وہ کمزور مومن پر طاقتور مومن کو ترجیح دیتا تھا تاکہ اس کے پیروکار معاشی، سماجی اور جسمانی طور پر خود کو مضبوط کرتے اور معترضین خدا کے نمائندے کو دوسرے درجے کا فرد نہ کہہ پاتے یا عیب دار جانور کی قربانی پر مذاق نہ اڑا سکتے۔

رہی بات خاکساروں کی تو انبیاءاکرامؑ کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی انسانی اخلاق کی تعمیر، جابروں کی سرکوبی اور پسماندہ طبقات کی اعانت، کفالت اور حفاظت تھا، یہ بات بدرجۂ اتم ان کے پیروکاروں پر بھی فرض ہے، جس پیروکار نے یہ فرض ادا کیا وہ اجر پائے گا جس نے روگردانی کی وہ خدا کو جوابدہ ہو گا۔

اس نقطۂ نظر سے جہاں مدعی کونسل کا استفسار بے معنی ہو جاتا ہے وہاں ایک نیا سوال بھی جنم لیتا ہے کہ جب سلسلۂ نبوت ہی ختم ہو چکا تھا تو مدعی کونسل کسی معذور، شیمیل یا عورت کی بعثت کے منتظر کیوں تھے؟

می لارڈ…..!
یہ جو بار بار ایکؤیل اپرچونیٹی کا ذکر کرتے ہیں، اس سے ان کی مراد صرف یہ تھی کہ ان کے پاس منشائے الہٰی کا فہم مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے لہذا فری تھنکنگ سوسائٹی کے فروغ کیلئے انبیاء اکرامؑ کے ادیان میں کانٹ چھانٹ کرنے کا ان کا حق تسلیم کر لیا جائے اور دین نبوی کی جو تشریحات یہ کر کے دیں وہ قبول کرلی جائیں مگر یہ بات ہمیں گوارہ نہ تھی۔

دنیا کے اندر بھی ہمارا مؤقف یہی تھا اور اب بھی یہی ہے کہ پسماندہ طبقات کی فلاح کیلئے سماجی ڈھانچے کو بدلنے کی ضرورت ہے، سماج، مولوی اور جاگیردار کی آڑ میں دینی مبادیات تبدیل کرنے کا حق کسی کو حاصل ہے نہ ہوگا، مگر یہ لوگ سماجی نظام بدلنے کی بجائے دینی مبادیات بدلنے کی کوشش کرتے تھے، جس کے ردعمل میں ان کیساتھ اکثر و بیشتر وہ تکلیف دہ واقعات پیش آتے تھے جن کا یہ رونا رو رہے ہیں۔

ان حالات میں یہ بات قطعی طور پر درست نہیں کہ مسلمان ہر راہ چلتے انسان سے متشددانہ و متنفرانہ سلوک کرتے تھے، دراصل مدعی کونسل یہ بات بھول رہی ہے کہ ہر شرارت کی ابتداء انہی کی طرف سے ہوتی تھی، جیزمن اور کیمرون کی کتابیں اس شرانگیزی کی بہترین مثالیں ہیں، اگر ان کا نشانہ سماجی ڈھانچہ ہوتا تو اس وقت مذہبی دنیا کی بجائے یہ مقدمہ ان کو پیٹنے والے سیاستدان اور جاگیردار بھگ رہے ہوتے۔

لارڈ فزکسائیل نے کہا؛
مدعی کونسل ان نکات پر اپنا دفاع کرنا چاہے تو کر سکتی ہے مگر وہ آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہ کر پائے، اس کے بعد عدالت نے مقدمے کے آخری نکتے، آفاقی فیمینزم، پر دفاعی کونسل کو اپنے دلائل مکمل کرنے کیلئے بلوا لیا۔

مشرقی کیمپ نے واصف ثانی کو گھیرے میں لیکر ایکبار پھر اللہ ہو کا ورد جما رکھا تھا لیکن عدالت کا بلاوا سن کے وہ پرستاروں کے جھرمٹ سے نکل کر دوبارہ کٹہرے میں آگئے۔

می لارڈ…..!
انسانی تہذیب کا یہ عجیب ڈھنگ رہا ہے کہ اس نے استحصال سے لیکر عیش و عشرت تک جو بھی کرنا چاہا اسے کسی نہ کسی طرح منشائے الہٰی قرار دے لیا تاکہ وہ نظریہ باآسانی قبول عام کا درجہ اختیار کر جائے۔

می لارڈ…..!
کیا یہ بے انصافی نہیں کہ جب سیدنا آدمؑ کا فرشتوں سے تعارف کرایا تو اس وقت عورت کو ان کے ساتھ نہ بٹھایا اور مرد و عورت کو متعارف ہونے کیلئے یکساں موقع فراہم نہ کیا گیا؟

فرشتوں کو سیدنا آدمؑ کی خوبیاں بتا کے انہیں سجدۂ تعظیمی سے تکریم بخشی تو عورت کو اس شرف سے محروم کیوں رکھا گیا؟

میرے خیال میں یہ ناانصافی نہیں تھی، کیونکہ اس وقت عورت کو پیدا ہی نہیں کیا تھا، لیکن جینڈر ڈسکریمینیشن پھر بھی واقع ہوتی ہے کیونکہ رب تعالیٰ جب دو قالب پیدا کرنے پر قادر تھا تو دونوں کو ایک ساتھ ہی پیدا کر دیتا، ایک کو اولیت اور دوسرے کو ثانوی حیثیت کیوں دی؟

می لارڈ…..!
دراصل خدا نے یہ گوارہ ہی نہ کیا کہ وہ عورت کو کسی مجلس میں پیش کرکے اسے متعارف کرائے حالانکہ وہ مجلس بھی پاک نظر قدسیوں کی تھی، کثیف النظر انسانوں کی نہیں، پھر بھی اس نے عورت کے شایانِ شان ہی نہ سمجھا کہ اسے کسی محفل میں پیش کرے، ورنہ آج کے لوگ اس بات کو دلیل بنا کے عورت کو مجلس مجلس لئے پھرتے۔

پھر یہ بھی نہ گوارا کیا کہ اسے پہلا ہی واسطہ فرشتوں کے اعتراض سے پڑے، یہ جوکھم خدا نے مرد کے ذمے لگا دیا تاکہ عورت اس مشقت سے محفوظ رہ سکے، رب تعالیٰ کے اس اقدام نے ہمیں ایک دلیل بخش دی ہے کہ ہم بھی اسے بلا ضرورت بازار میں دھکیل کے کسی طعن آمیز مشقت میں نہ ڈالیں۔

رہی بات برابری کی تو عورت کو علیحدہ سے نہیں بنایا بلکہ پہلے سے موجود مرد کے سسٹم سے ہی ریپلیکیٹ کرکے بنایا تھا، کنورژن کا یہ اصول ہے کہ جب ایک چیز کسی دوسری چیز سے اخذ کی گئی ہو تو اخذشدہ کے جملہ اوصاف ماخذ کے ہو بہو ہوتے ہیں، لہذا یہاں سرِ مُو بھی دونوں کے اوصاف میں اختلاف تلاش کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہنے دی، بلکہ اس صورت میں مسجودِ ملائکہ ہونے کا شرف بھی بدرجۂ اتم عورت کو بھی منتقل ہوگیا تھا، اسے کہتے ہیں ہائیٹ آف سوفسٹیکیشن، معیار کی انتہاء، اس نے عورت کو وہ سب شرف تفویض کردئے جو مرد کو حاصل تھے اور وہ بھی بغیر شمع محفل بنائے۔

پھر مرد کو جہاں خلیفۃ الارض قرار دیا وہاں عورت کو اس کی پیدا کرنے والی بنا کے مرد سے اخذ کئے گئے مادے کا احسان بھی باقی نہ رہنے دیا۔

پھر مرد کو ملائکہ کے سامنے جہاں صاحبِ علم ثابت کیا تھا وہاں عورت کو مرد کی پہلی درسگاہ بنا کے یہ فرق بھی مٹا دیا۔

پھر مرد کو جہاں معجزہ دیا وہاں عورت کو یہ قوت بخشی کہ صرف وہی ایک ہے جو پیغمبر کیلئے جاری ہونے والے معجزے کی معاون بن سکے یا اسے روک لگا سکے، وہی ایک ہے جس کی دعا سے اس کا بیٹا بے بدل ولی بن جاتا ہے۔

عرب کے ریگزار میں جب پانی درکار تھا تو سعی ماں نے کی اور معجزہ پیغمبر کی ایڑھیوں سے ظاہر ہوا، اس بہتے ہوئے زمزم کو دنیا میں پھیلنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی جو صرف ایک ماں کے حکم پر ایک جگہ ٹھہر گیا تھا، بیٹے کی قربانی کا عظیم معجزہ بھی اس مقدس عورت کی معاونت سے ہی ممکن ہوا تھا۔

حضرت سیدہ مریمؑ کے کھجور کے تنے کو ہلانے سے سوکھے درخت نے ہرا بھرا ہوکے کجھوریں پکا کے گرا دیں تو یہ گنجائش ہی ختم ہوگئی کہ کوئی عورت کو صاحب معجزہ ہستی سمجھنے میں کسی شک کا اسیر رہے۔

اُس میں زم زم ہے کہ تھم تھم ،
اِس میں جم جم ہے کہ بیش،
کثرتِ کوثر میں زم زم کی طرح کم کم نہیں

جس زمزم کے معجزے کو حکم ہوا کہ اسی جگہ ٹھہرے رہو وہ کنواں بھی قیامت تک چلتا رہا اور جس کوثر کے معجزے کو جم جم کا حکم ہے کہ بڑھتے رہو، وہ حوض کب تک اور کہاں تک سیرابی کرے گا اس کا تعین ہی ممکن نہیں پھر بھی ان فری تھنکرز کو ان عظیم پیغمبروں کے دین پر اعتماد ہی نہیں، یہ ہمیشہ صاحبِ زمزمؑ، صاحبِ شفاؑ، اور مالکِ کوثرؑ کے ادیان کو پاورڈ یونیورسٹی کی لادین رضا پر قضا کرنے کیلئے تُلے رہے۔

اب آپ ہی ان سے پوچھئے کہ گھر میں عزت کیساتھ رہتی عورت کو خدا سے زیادہ عورت کے یہ ہمدرد اسے کثیف النظر انسانوں کی منڈلی میں ماڈلنگ ریمپ پر کیوں لئے لئے پھرتے تھے، شادی جیسا بندھن توڑ کے فری سیکس سوسائیٹی تشکیل دے کر پاؤں کی جوتی تو ان پاورڈ یونیورسٹی کے فاضلین نے بنا رکھی تھی، دس دن سے زیادہ کسی عورت کیساتھ یہ رہ نہیں پاتے تھے، ہم نے تو ایک ایک عورت کیساتھ اپنی عمریں گزار دیں، یہ صبح و شام چپل کی طرح عورت بدلنے والے طعنہ زنی ہمارے اوپر کیوں کرتے ہیں۔

ہمارے خیال میں تو مرد و عورت سب برابر ہیں، تقویٰ کے سوا کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، ہم نے وسائل پیدا کرنے کی سختی اپنے ذمے اور ان وسائل کو بروئے کار لاکے ایک گھر کو جنت بنانا عورت کی صلاحیت، حساسیت اور جمالیات کے ذمہ لگا رکھا تھا۔

یہ خدا کو فیمینسٹ قرار دیتے ہیں حالانکہ خدا کا فینیزم تو ان کمینوں کو چھُو کر بھی نہیں گزرا، وہ فیمینسٹ تو اصل میں ہم ہیں جو عورت کو حجاب میں کثیف النظر معاشرے سے مامون کرکے خدا کی روزِ ازل والی اسکیم کے بالکل ساتھ کھڑے تھے۔

می لارڈ…..!
ہم علمِ فزکس کو خدا نہیں مانتے، ہم ہاف تکبیر کو ایمانی کلمہ نہیں مانتے، ہم لادینیت کو دین نہیں مانتے خواہ کتنا ہی انسان دوست بنتا رہے، دینِ اسلام اور امام الانبیاء کے بعد ہم کسی کو اپنا دین اور نبی نہیں مانتے خواہ دنیا کو تہہ کرکے سر پہ اٹھا لینے والا معذور ہو، شیمیل ہو یا فیمیل، ہمارے ہاں، الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ، اور لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ، کا فرمان جاری ہونے کے بعد کسی نئے دین اور فیمیل، شیمیل پیغمبر لگوانے کا خیال ہی باطل ہے خواہ ان کو کتنی ہی ضرورت محسوس ہوتی رہے۔

می لارڈ…..!
خدا فیمینسٹ تو ہے مگر وہ بہت غیرتمند فیمینسٹ ہے، عورت کے معاملے میں ہم اسی کے انداز و اطوار کی اتباع کرتے تھے، خدا نے دنیا کی اونچ نیچ انسانوں کے امتحان کیلئے بنائی تھی، ہم نے وہ اونچ نیچ اوکھے سوکھے ہو کے بھگت لی، صد شکر ہے کہ میرے اول و آخر کے ساتھی اپنے اپنے انبیاءؑ کا دیا ہوا کلمہ شہادت اپنے اپنے ساتھ لائے ہیں مگر یہ پاورڈ یونیورسٹی کی مدعی کونسل وہ ہے جو امتحان دینے کی بجائے خدا کی ہستی پر شاکی، اس کے انبیاء کی عظمت سے باغی اور ان کے ادیان سے الجھتے ہی رہے ہیں، یہ ہاف تکبیر کا نعرہ لگائیں گے تو ہم “نعرہء تکبیر” اور ”ورفعنا لک ذکرک” کا اعادہ ضرور کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔

مشرقی کیمپ میں ایکبار پھر ولولہ پیدا ہو گیا اور وہ الااللہ کا ذکر کرنے لگے، اس دوران جیوری اپنا فیصلہ مرتب کرنے لگی اور باقی فرشتے لارڈ فزکسائیل کی ہدایت پر کسی پُراسرار مشن پر روانہ ہو گئے۔

رائی کا دانہ اٹھانے والی چڑیا کی پھڑپھڑاہٹ نے مطلع کیا کہ وقت بہت بیت چکا ہے، یوم نشور طلوع ہونے میں ایک صدی اور کم ہو چکی ہے۔

بلآخر مشن پر گئے فرشتے جب واپس آگئے تو حضرت فزکسائیل نے جیوری کا فیصلہ پڑھ کے سنایا کہ مدعی کونسل کے مقابلے میں دفاعی کونسل کے دلائل مفصل اور جاندار تھے، اس لحاظ سے وہ مقدمہ جیتنے میں حق بجانب ہیں لیکن مسلمانوں نے فزکس کی تعلیم نہ پا کر خود کو دجال کے مقابلے میں بہت کمزور کرلیا ہے، یہ فزکسئین اب کسی کو سونے نہیں دیں گے لہذا دونوں طبقات کو باہمی مدبھیڑ سے بچانے کیلئے انہیں بفرزون میں ہماری عارضی طور پر قائم کردہ پروٹوٹائپ جنت اور جہنم میں ڈالنا ناگزیر ہو گیا ہے، جب تک خدا کا حکم نہیں آتا تب تک یہ دونوں طبقے وہیں رہیں گے۔

مسلمانوں کو یقین تھا کہ انہیں جنت ملنے والی ہے مگر یہ زعم اس وقت کافور ہو گیا جب لارڈ فزکسائیل نے کہا کہ مسلمانوں کی یہ دلیل رد کی جاتی ہے کہ انہوں نے محض حفظِ ایمان کی خاطر فزکس کو درخوراعتناء نہ سمجھا تھا جبکہ ایک مومن کیلئے اپنا ایمان ثابت کرنے کا وہی موقع اہم ہوتا ہے جب اس کے ایمان کو خطرہ درپیش ہو لیکن مسلمانوں نے جہاں خدا سے انکاری فزکس کا انکار کرکے اچھا کیا وہاں خدا کی اقراری فزکس کیلئے اہتمام نہ کر کے اپنی آنے والی نسلوں کیساتھ صریحاً ایک ظلم کیا تھا لہذا تاحکم خداوندی یہ بفرزون کے پروٹوٹائیپ جہنم میں قیام کریں گے۔

رہے نام اللہ کا…..!
ایک طرف کا ماحول کافی سوگوار تھا اور دوسری طرف پاورڈ یونیورسٹی کے فاضلین نے پروٹوٹائپ جنت میں پہنچ کے مین-بلیوارڈ کو ڈاکٹر ڈی۔جے۔ایل کے نام سے موسوم کیا اور وہاں فتح کی خوشی میں ایک ہپ۔ہوپ پارٹی کا اعلان کر دیا۔

ڈاکٹر دجال کی مسند مرکز نگاہ تھی جس کی دائیں طرف ماہر نفسیات ڈاکٹر سوکالڈ کی طرف سے بھینٹ کیا گیا ننگی وینس کا مجسمہ ایستادہ تھا اور بائیں طرف اس کی گرلفرینڈ ماہر نفسیات مس سوکالڈ کی طرف سے دیا گیا ننگے ڈیوڈ کا مسجمہ رکھا ہوا تھا، سی۔تھرو پوشاکوں میں ملبوس ہزاروں مہہ جبینیں انواع و اقسام کے جام بانٹ رہی تھیں، سب تک جام پہنچ چکے تو ڈاکٹر دجال نے پہلا ٹوسٹ پیش کیا؛

یہ ٹوسٹ اس سَنکھ کے نام جس کی ساؤنڈ پاور نے میرے کنبے میں ایک نئی روح پھونک دی اور ہمارے دشمنوں کو ان کے کیفرِ کردار تک پہنچا دیا۔

ڈاکٹر جیزمن نے کہا، یہ ٹوسٹ میری کتاب “ٹچوں کے سر سینگ” کے نام جس نے میرے لئے پاورڈ یونیورسٹی کے دروازے کھول دئے تھے، ڈاکٹر کیمرون نے کہا، یہ ٹوسٹ اس توبہ کے نام جو کئے بنا ہی جنت مل گئی، ڈاکٹر زیڈ۔ای نے کہا، یہ ٹوسٹ اس پھٹپھٹی کے نام جو ہر مشکل میں میرے کام آئی، ڈاکٹر فلاں بن فلاں نے کہا، یہ ٹوسٹ ان مغلظ توڑوں کے نام جو میں نے اسی دن کیلئے بھر بھر کے رکھے ہوئے تھے اور ڈاکٹر الفریڈ ایزز نے کہا یہ ٹوسٹ اس محفل یاراں کے نام جہاں پھٹنے والوں کے خوف سے پاک ماحول میں اب عیش و عشرت اور مستی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔

پاورڈ یونیورسٹی کے نیوڈ کلب کی ڈِین مسز سوزیئن نے کہا، لیڈیز اینڈ جینٹلمین، سب سے پہلے میری یونی گرلز ایک مائنڈ بلوئنگ سٹرپ۔ٹیز پیش کریں گی، اس کے بعد ڈانس پارٹی ہو گی اور آخر میں مدھم لائٹوں کی جھلمل میں ہمارا پہلا سیکس اورگے ہوگا جس میں ایل۔آر۔جی۔بی۔ٹی اور کپل سویپنگ سمیت ہر ہر سیکشؤیل فلیور اینجوائے کرنے کی عام اجازت ہوگی۔

پارٹی میں جام کا دوسرا دور چل رہا تھا جب دو حسینائیں سونے کی طشتریوں میں رنگ برنگے جام لے کر ڈاکٹر زیڈ-ای اور ڈاکٹر فلاں بن فلاں کی طرف بڑھیں مگر زیڈ۔ای نے کہا کہ ہم زیادہ نہیں پیتے، ہمیں تو تم کچھ ایسی کتابیں لا دو جو پڑھ کے ہم اصلی یوم حساب کو ان مومنوں کی صحیح والی ٹھکائی کروا سکیں۔

لڑکیاں اثبات میں سر ہلا کے چل دیں تو فلاں بن فلاں نے کہا، ڈاکٹر صاحب، یہ سبلیمیشن آف پرسنیلٹی صرف ہمارا ہی خاصہ ہے کہ جام و جم کی حسین محفل میں اسٹرپ ٹیز دیکھ کے بھی ہمیں جنسی جذبات سے لاحقہ نہیں، بس بھوک ہے تو چند کتابوں کی، پس ثابت ہوا کہ جنسی ہوس عورت کو دیکھ کے نہیں بلکہ انسان کے اپنے من کی لگن سے ہی ظاہر ہوتی ہے مگر عورت کو ٹوپی والا برقعہ پہنا کے گھومنے والے جاہل مُلانے کبھی مانتے ہی نہ تھے۔

پارٹی شروع ہونے سے قبل چند لمحوں کیلئے ڈاکٹر دجال نے اپنے صدارتی ایڈریس میں ڈاکٹروں کو ایک اہم پیغام دیا کہ ہمارے پاس اس پروٹوٹائیپ یونیورس کو سمجھنے کا یہ ایک نادر موقع ہے لہذا جاہل مسلمومنین کی طرح ہمیں اس موقع کو ہرگز ضائع نہیں کرنا بلکہ ہم اس سسٹم کو سمجھیں گے تاکہ اسے ٹیک اوور کرسکیں، اگر یہ ممکن ہوگیا تو اصلی جہنم میں بھی مسلمومنیں ہی جائیں گے لہذا یہان قیام کے دوران ہمیں سائنٹیفک غور و فکر بھی جاری ہمیشہ جاری رکھنا ہے۔

راوی کی توجہ چونکہ پارٹی کے لشکاروں پر لگی ہوئی تھی اسلئے ٹھیک طرح سے معلوم نہ ہوسکا کہ جہنم میں مسلمومنین کیساتھ ابتداء میں کیا بیتی البتہ یہ معلوم ہے کہ چڑیا کئی بار دانہ اٹھا کے لیجا چکی تھی، پھر ڈاکٹروں کے ہاں جب میوزک کا شور شرابہ زرا کم ہوا تو کچھ صاف سنائی دینے لگا کہ مسلمومنین کی طرف محفل نعت جمی ہوئی ہے، کوئی شامل رضا نامی مقرر اپنے ایک صدیوں قبل کے امام کا کلام پڑھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ ترجمہ بھی بتاتا جا رہا تھا۔

ہوں مسلماں، گرچہ ناقص ہی سہی، اے کاملو
ماہیت پانی کی آخر، یم سے نم میں کم نہیں

ہاں ٹھیک ہے کہ ہم ناقص ہیں، پر ہیں تو مسلمان ہی نا، مسلمان جیسا بھی ہو وہ آدھا پونا نہیں ہوتا، جیسے پانی کی ماہیت نم ہوتی ہے خواہ سمندر کا ہو یا دریا کا، سمندر کے پانی میں نمی دریا کے پانی سے زیادہ نہیں ہوتی، اسی طرح مسلمان بھی ایمان والا ہی رہتا ہے خواہ بہت بڑا متقی ہو یا گنہگار، بہت بڑا عالم ہو یا جاہل، جس کے پاس ایمان ہے وہ پورا مسلمان ہے۔

راہِ عرفاں سے جو ہم، نادِیدہ رُو محرم نہیں
مصطفےٰ ہیں مسندِ ارشاد پر، کچھ غم نہیں

یہ معرفت کے راستے، آسمانوں کے راستے، زمینوں کے راستے، بلیک ہولوں کا علم، چلو ہم نہیں جانتے، چلو ہمیں نہیں پتا، ہمیں نہیں پتا تو اس کا غم بھی نہیں اسلئے کہ جو جانتے ہیں، وہ اس کائنات کے حاکم ہیں، جب مصطفٰے حاکم ہیں تو پھر ہمیں کچھ غم بھی نہیں۔

یہ کلام ختم ہوا تو قاری معجز رضا نے کہا؛
مدحتوں نے بہت اچھا سماں باندھ دیا تھا مگر اب ہم فزکس پڑھیں گے، یہ طعنہ دیتے تھے نا کہ فزکس نہیں پڑھتے، فزکس نہیں پڑھتے تو اب ہم فزکس پڑھیں گے مگر ہماری فزکس زرا الگ ہی قسم کی ہے، ہماری فزکس مکے سے شروع ہوتی ہے اور طیبہ پہ جاکے ختم ہو جاتی ہے۔

ماہِ من یہ
نیّرِ
محشر کی گرمی
تابکے

ماہِ من یہ نیّرِ محشر کی گرمی تابکے
آتشِ عصیاں میں خود جلتی ہے جانِ سوختہ

بہرِ حق، اے بحرِ رحمت، اِک نگاہِ لُطف بار
تابکے بے آب تڑپیں ماہیانِ سوختہ

بد ہیں تو آپ کے ہیں بھلے ہیں تو آپ کے
ٹکڑوں سے تو یہاں کے پلے، رخ کدھر کریں

سرکار ہم کمینوں کے اَطوار پر نہ جائیں
آقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں

رُوکشِ خورشیدِ محشر، ہو تمہارے فیض سے
اِک شرارِ سینۂ شیدائیانِ سوختہ

مہرِ عالم تاب جُھکتا ہے پئے تسلیم روز
پیشِ ذرّاتِ مزارِ بیدلانِ سوختہ

جس کو قرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو
اُن کے خوانِ جود سے ہے ایک نانِ سوختہ

برقِ انگشتِ نبیؐ، چمکتی تھی اس پر ایک بار
آج تک ہے سینۂ مہ میں نشانِ سوختہ

قبضہ تیری پرچھائی کا، بینائی پر ادراک پر
پیروں کی جنبش خاک پر اور آہٹیں افلاک پر

کجا ہم خاک افتادہ، کجا تو، اے شہہ بالا
اگر مثل زمیں ہم ہیں تو مثل آسماں تم ہو

تیرا اشارے پائے تو ڈوبا ہوا سورج برآمد ہو
اٹھے انگلی تو مہ دو بلکہ دو دو چار ہو جائے

تمہارے حکم کا باندھا ہوا سورج، پھرے الٹا
جو تم چاہو کہ شب دن ہو، ابھی سرکارؐ ہو جائے

تمہارے فیض سے لاٹھی، مثالِ شمع روشن ہو
جو تم چاہو تو لکڑی تیز تر تلوار ہو جائے

بھرم رہ جائے محشر میں، نہ پلہ ہلکا ہو اپنا
الہٰی ! میرے پلے پر میرا غمخوار ہو جائے

ڈگمگاؤں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے

میری خوش قسمتی
میں تیرا امتی

میری خوش قسمتی
میں تیرا امتی

ہائے میری خوش قسمتی
میں تیرا امتی

آئے ہائے میری خوش قسمتی
میں تیرا امتی

ہاں ہاں میری خوش قسمتی
میں تیرا امتی

تو جزا میں رضا
تو کجا من کجا

جالوں پہ جال پڑ گئے لِلّٰہ وقت ہے
مشکل کشائی آپ کے ناخن اگر کریں

منزل کڑی ہے شان تبسم کرم کرے
تاروں کی چھاؤں نور کے تڑکے سفر کریں

اِن فتنہ ہائے حشر سے کہ دو، حذر کریں
نازوں کے پالے آتے ہیں، رہ سے گزر کریں

کلکِ رضا ہے خنجرِ خونخوار برق بار
اعداء سے کہہ دو خیر منائیں، نہ شر کریں

آتشِ تر دامنی نے، دل کئے کیا کیا کباب
خضر کی جاں ہو، جِلا دو ماہیانِ سوختہ

کوچۂ گیسوئے جاناں سے چلے ٹھنڈی نسیم
بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلانِ سوختہ

بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلانِ سوختہ
بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلانِ سوختہ

اے رِضا مضمونِ سوزِ دل کی رفعت نے کیا
اس زمینِ سوختہ کو آسمانِ سوختہ

چڑیا اگلا دانہ چگنے آئی، پھر دوسرا، تیسرا، پانچواں، دسواں، سوواں، ہزارواں پھر نہ معلوم کتنے دانے ابھی باقی تھے جب حضرت فزکسائیل کا اس طرف سے گزر ہوا تو ان کی جماعت نے دیکھا کہ جہنم میں سبزہ اگا ہوا ہے، باد نسیم کے جھونکوں میں سب سکون کیساتھ سوئے ہوئے ہیں اور ننگے ڈاکٹروں کی جنت سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

جماعت قدسیہ نے اپنے امام سے پوچھا؛
حضور یہ ماجرا کیا ہے؟
ہم تو ہمیشہ افسوس کیساتھ اس کے برعکس اندازہ کیا کرتے تھے مگر یہاں تو جنت کا جہنم اور جہنم کی جنت بنی ہوئی ہے…..!

حضرت فزکسائیل نے کہا؛
عزیزان من، جنت صرف خدا کی رضا کا نام ہے، خدا صرف اپنی محبت، اپنے ذکر اور اپنی بڑائی کے بیان سے خوش ہوتا ہے اور یہ فزکس کیا ہے؟

یہ بھی ہماری تمہاری طرح خدا کی ایک ادنیٰ سی غلام ہے، جو اُس کا مزاج دیکھ کے اپنا مزاج بدل لیتی ہے، خدا کے خلیلؑ کو آگ جلانا بھول جاتی ہے، خدا کے کلیمؑ کیلئے پانی دو پاٹ ہو جاتا ہے، جہاں خدا کی رضا کا سائبان جائے گا، سائنس بھی ہاتھ باندھ کے وہاں گل کھلا رہی ہو گی۔

اب تم اس زمین پر کاپر لینڈ والے فارمولوں کا ویب بچھا کے اس کی ایٹریبیوشن کن فیکون کیساتھ کر دینا، جب کبھی خدا کا حکم ہوگا یہ زمین تانبے میں بدل جائے گی، میں جب تک سورج کو ریچارج کرکے افق کے پار سے اٹھا کے سوا نیزے پر لانے کا فارمولا فٹ کرکے آتا ہوں، اس کے بعد ہم روز محشر میں ملیں گے۔

حضرت فزکسائیل علیہ السلام کی سواری کافی دور جا چکی تھی مگر ان کی خوش لحان زبان سے یہ کلام ابھی بھی کائنات کی پہنائیوں میں گردش کر رہا تھا۔

کوچۂ گیسوئے جاناں سے چلے ٹھنڈی نسیم
بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلانِ سوختہ
بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلانِ سوختہ

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: