ابراہیم اور ردابہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مطربہ شیخ کا افسانہ

0
  • 187
    Shares

پانی کی ہلکی سی چھپ چھپ سے ردابہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کسل مندی سے آنکھیں کھولیں اور پھر کروٹ بدل لی لیکن چڑیوں کی چہچاہٹ بہت زیادہ تھی اور اس شور میں دوبارہ سونا ممکن نہ تھا اسلئے اس نے طویل انگڑائی لی اور سست قدموں سے لان میں نکل آئی جہاں موجود سوئمنگ پول میں ابراہیم حسب معمول تیراکی کر رہا تھا، ردابہ کو دیکھ کر اس نے شرارت سے آنکھ ماری “آجاو میری بیگم” ردابہ کھکھلا کر ہنسی “نہیں ابھی نہیں۔۔۔ جب تم مجھے اس پہاڑ کے پار لے کر جاو گے تب میں تمھارے ساتھ تیراکی کروں گی۔ “ابراہیم نے قہقہہ لگایا، “بلا وجہ کی شرط ہے پہاڑ کی اس طرف خطرناک کھائیاں ہیں۔ کیا کرو گی جا کر؟ ویسے بھی بہت دور ہے پورا دن سفر میں گزر جائے گا۔” “بھلے سے پورا دن گزرے تم نے مجھے وہاں لے جانا ہے بس۔” یہ کہہ کر وہ اندر چلی آئی۔ ناشتہ بنانے تک ابراہیم بھی اندر آگیا۔ ناشتے کے دوران ہی اسکا فون آگیا اور وہ عجلت میں کافی پی کر چلا گیا ردابہ تنہا بیٹھی ناشتہ کرتی رہی اور پھر سے لان میں نکل آئی، جہاں بہار کی دھوپ اتر رہی تھی اور پیڑوں، پودوں سمیت گھاس میں اگے ننھے منے پھول اپنی چھب دکھلا رہے تھے۔

یہ خوبصورت شہر عرفہ کی بہار تھی جو کہ بہت کم مدت کے لئے شہر میں اترتی، ترکی کے شمال مشرقی حصے میں واقع یہ قدیم ترین شہر گرمیوں میں انتہائی گرم رہتا اور سردیوں میں انتہائی سرد یخ بستہ اور منجمد۔ لیکن سیاحوں کا رش ہر موسم میں عروج پر ہوتا کیونکہ مسلمانوں اور یہودیوں کی تاریخی روایات کے مطابق یہ ابراہیم علیہ السلام کا مقام پیدائیش ہے اور یہیں وہ مقام ہے جہاں نمرود نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تھا مگر آگ رب تعالی کے حکم سے پانی میں بدل گئی تھی۔ اسی مقام پر ایک جھیل بھی ہے، جو جھیل ابراہیم کے نام سے مشہور ہے۔ جھیل کے بیچوں بیچ مسجدخلیل قائم ہے۔ عرفہ کا نام کہیں ریہا، ارہے اور کہیں اڈیسا درج ہے لیکن عرفہ کے نام سے ہی مقبول ہے۔ جو قدیم کردش باشندوں کے دور میں رکھا گیا۔ آرمینیائی بھی اس شہر پر قابض رہے لیکن صلاح الدین ایوبی نے شہر کو اپنے تصرف میں کر لیا۔ پھر سلطنت عثمانیہ کے آغاز سے اس شہر کو اہمیت حاصل ہو گئی۔

یہودی اور مسلمان دونوں اس شہر کے قدیم باسی ہیں۔ شہر کی مذہبی و جنگی تاریخ طویل ہے لیکن ردابہ کو صرف شہر کی خوبصورتی اور حال سے غرض تھی۔ شہر میں کئی قابل ذکر مقامات ہیں جہاں دنیا بھر کے سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ سیاحوں کی بے تحاشا آمد و رفت کے باعث شہر میں ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کی کثرت ہے۔ عرفہ کی قدیم قلعے کے باقیات، میوزیم، گولباسی گارڈن، ایان زیلہا جھیل، مسجدخلیل اور اسکی جھیل جس میں خو بصورت مچھلیاں تیرتی رہتی ہیں۔ ساتھ ہی عرفہ کا قدیم بازار جہاں نوادارات بھی بکتے ہیں جو بقول ابراہیم اکثر جعلی ہوتے ہیں۔ قدیم شہر میں پتھروں سے بنے گھر اور رنگ برنگے سیاح نظر آتے ہیں۔ پو پھٹتے ہی شہر آذان کی آواز سے گونجتا اور شہریوں سمیت سیاح بھی جوق در جوق مسجدخلیل اور دوسری مساجد میں نماز ادا کرنے داخل ہو جاتے۔

ابراہیم کے دو ریسٹورنٹ اس شہر میں موجود تھے اور وہ بہت مصروف رہتا تھا۔ ترکوں کی مخصوص مہمان نوازی کی روایت برقرار رکھنے اور اپنے ریسٹورنٹ کی بہترین ریپوٹیشن کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ عملے پر نظر رکھے۔ چونکہ شادی کے بعد ردابہ ابراہیم کے ساتھ خوب گھومی تھی چنانچہ اب اس کو شہر کا چپہ چپہ ازبر ہو چکا تھا۔ جھیل کی خوبصورتی ردابہ کوہمیشہ مسحور کرتی تھی لیکن سیاحوں کے رش کی وجہ سے روز وہاں جانا ممکن نہیں تھا۔ سو وہ گھر پر ہی رہ کر بس ٹی وی دیکھتی یا ترکی تراکیب سے کھانے بناتی۔ ریسٹورنٹ کے باورچیوں سے اس نے روایتی ترک کباب اور سیلیکی، اخروٹ سے بننے والی ایک مٹھائی بنانا سیکھ لی تھی۔ قدیم مقامی باشندوں کی روایات کے مطابق کئی ترکی اور عربی ڈشز اسی شہر میں وجود پزیر ہوئیں۔

ردابہ کو تنہائی بھی کھلتی اپنا وطن یاد آتا جہاں نانا اور امی کے دم سے اسکا میکہ آباد تھا۔ ابراہیم اور ردابہ کا رشتہ نانا کے ایک دوست کے توسط سے ہوا تھا۔ ردابہ تو شادی کے نام سے گھبراتی لیکن ابراہیم کے دوستانہ انداز نے اسکا خوف دور کر دیا تھا۔ بڑوں کے درمیان بات چیت ہو جانے کے بعد وہ نانا کے گھر کئی بار اس سے ملنے آیا، گو کہ وہ زیادہ ہینڈسم نہیں تھا لیکن ردابہ مطمئن ہو گئی تھی۔ اس سے قبل ردابہ تو شادی کے نام سے بھی گھبراتی تھی لیکن ابراہیم کے دوستانہ انداز نے اسکا خوف دور کر دیا تھا۔ اسلام آباد، کراچی، استنبول اور عرفہ میں ابراہیم کے بابا اور کزنز کے ریسٹورنٹس تھے۔ کچھ دن ردابہ استنبول میں ابراہیم کے والدین کے ساتھ بھی رہی تھی۔ ردابہ کو اسلام آباد اور مری یاد آتے لیکن عرفہ کے پھول اور ہریالی اداسی کو کم کر دیتے تھے۔

ردابہ نے بلیاں پالنے کا ارادہ کیا لیکن ابراہیم کو پالتو جانوروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اس نے منع کر دیا۔ ” اچھا چلو ہم ایک پیارا سا گھوڑا پال لیتے ہیں۔ ” اس نے کئی بار ابراہیم کی منت کی۔ “نہیں یار گھوڑے کی بہت کئیر کرنی پڑتی ہے، میں مصروف رہتا ہوں پھر تم اکیلی دیکھ بھال نہیں کر سکو گی آگے جب ہمارے بچے ہونگے تو تم مصروف ہوتی جاو گی۔ ” ردابہ جھینپ جاتی اور بحث ختم ہو جاتی۔

ابراہیم کے انداز و اطوار کاروباری تھے وہ بہت مصروف رہتا۔ شادی کے بعد مستقل ساتھ رہنے سے ردابہ کو احساس ہوا کہ ابراہیم کا انداز حاکمانہ ہے وہ اسکا گھر سے اکیلے نکلنا پسند نہیں کرتا تھا اس نے واضح الفاظ میں ردابہ کو منع کیا تھا۔ ردابہ نے ایک نزدیکی ادارے میں ترکی سیکھنے کی کلاسسز جوائن کرنا چاہیں تو ابراہیم نے ٹی وی پر ایک چینل سیٹ کر دیا کہ اس چینل میں زبان سکھائی جاتی ہے۔ یہاں سے ہی سیکھ لو بلاوجہ کی درد سری کی کیا ضرورت ہے؟ ویسے بھی تم نے کونسا کاروبار کرنا ہے؟” ردابہ نے بد مزگی کے خیال سے ضد نہیں کی۔ اسکی صلح جو طبیعت کی وجہ سے زندگی کے دن اچھے گزر رہے تھے۔

وہ خوش رہنا جانتی تھی، شہر کے نسبتاً کم گنجان اور صاف ستھرے حصے میں ایک چھوٹا لیکن باغیچے سے منسلک کاٹیج اسکی ملکیت تھا بھلا اور کیا چاہیے؟ جنت ہے تو بس یہی ہے۔ ردابہ اکثر سوچتی۔ اپنی جنت کو بنا سنوار کر رکھتی، شوہر کی پسند کے کھانے بناتی اور خوش رہتی۔

ایک دن ابراہیم کام پر گیا اور تھوڑی دیر بعد ہی ردابہ کو اسکی خوشی سے لبریز آواز آنے لگی۔ وہ نہ جانے کیوں چیخ رہا تھا؟ اس نے کچن کی کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا سامنے والی سڑک پر ایک ٹرک کھڑا تھا اور اس پر ایک موٹر بائیک رکھی تھی۔ ابراہیم چیختے ہوئے ٹرک پر چڑھ گیا اور اچھل کر بائیک پر بیٹھ گیا وہ نہ جانے کیا کیا کہہ رہا تھا اور لانے والے دونوں افراد ہنس رہے تھے۔

تھوڑی دیر کے بعد ابراہیم اندر آیا اور ردابہ کو دیوانہ وار گلے لگا لیا آو تم کو رائیڈ دوں، ” “میرے خیال سے انکل تم کو بائیک چلانے سے منع کرتے ہیں۔ ” ” اوہ یار بابا کو بتانا بھی مت۔ میں نےبہت مشکل سے پیسے بچا کر اور بابا سےچھپ کریہ بائیک منگوائی ہے تم جانتی ہو، مجھے اس بائیک کوچلانے کا کتنا ارمان تھا تم اندازہ نہیں کر سکتی ہو۔ ” “لیکن تم پہلے بھی ایک خطرناک ایکسیڈنٹ کر چکے ہو اگر انکل کو علم ہوا تو وہ کس قدر خفا ہونگے۔ ” “اوہو تو اب احتیاط سے چلاوں گا دیکھو اسپیشل تمھیں ساتھ بٹھانے کے لئے کسٹمائزڈ کروائی ہے آو ناں ابراہیم اسے بازو سے کھینچتا باہر لے آیا۔ بیٹھو ناں تم ڈرپوک لڑکی تو نہیں ہو”۔ ” میں ڈرتی نہیں ہوں لیکن دیکھو ابراہیم! اپنا خیال رکھو میری خاطر” ابراہیم نے بائیک اسٹارٹ کر دی ردابہ نے بمشکل پیچھے بیٹھ کر ابراہیم کا شانہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ بائیک شہر کے کھلے اور تنگ راستوں پر دوڑنے لگی، ردابہ کو اچھا لگا لیکن وہ ڈر رہی تھی کہ ابراہیم حادثہ نہ کر بیٹھے۔ لیکن ابراہیم ایک ماہر بائیکر تھا ماضی کا حادثہ صرف معمولی بے احتیاطی تھی اور اس وقت ویسے بھی صبح کا وقت تھا بھیڑ بھاڑ نہیں تھی۔ شہر کا ایک چکر لگانے کے بعد وہ واپس اپنے گھر آگئے۔ ابراہیم نے ردابہ کے رخسار کابوسہ لیا اور پوچھا” کیسی لگی تم کو رائیڈ؟” “بہت اچھی” ردابہ کے جواب پر ابراہیم کھل اٹھا۔ تھوڑی دیر کے بعد ابراہیم ریسٹورنٹ چلا گیا اور ردابہ گھر کے کاموں میں مشغول ہو گئی۔

ردابہ کو تنہائی بھی کھلتی اپنا وطن یاد آتا جہاں نانا اور امی کے دم سے اسکا میکہ آباد تھا۔ ابراہیم اور ردابہ کا رشتہ نانا کے ایک دوست کے توسط سے ہوا تھا۔ ردابہ تو شادی کے نام سے گھبراتی لیکن ابراہیم کے دوستانہ انداز نے اسکا خوف دور کر دیا تھا۔ بڑوں کے درمیان بات چیت ہو جانے کے بعد وہ نانا کے گھر کئی بار اس سے ملنے آیا، گو کہ وہ زیادہ ہینڈسم نہیں تھا لیکن ردابہ مطمئن ہو گئی تھی۔ اس سے قبل ردابہ تو شادی کے نام سے بھی گھبراتی تھی لیکن ابراہیم کے دوستانہ انداز نے اسکا خوف دور کر دیا تھا۔ اسلام آباد، کراچی، استنبول اور عرفہ میں ابراہیم کے بابا اور کزنز کے ریسٹورنٹس تھے۔ کچھ دن ردابہ استنبول میں ابراہیم کے والدین کے ساتھ بھی رہی تھی۔ ردابہ کو اسلام آباد اور مری یاد آتے لیکن عرفہ کے پھول اور ہریالی اداسی کو کم کر دیتے تھے۔

ردابہ نے بلیاں پالنے کا ارادہ کیا لیکن ابراہیم کو پالتو جانوروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اس نے منع کر دیا۔ ” اچھا چلو ہم ایک پیارا سا گھوڑا پال لیتے ہیں۔ ” اس نے کئی بار ابراہیم کی منت کی۔ “نہیں یار گھوڑے کی بہت کئیر کرنی پڑتی ہے، میں مصروف رہتا ہوں پھر تم اکیلی دیکھ بھال نہیں کر سکو گی آگے جب ہمارے بچے ہونگے تو تم مصروف ہوتی جاو گی۔ ” ردابہ جھینپ جاتی اور بحث ختم ہو جاتی۔

ابراہیم کے انداز و اطوار کاروباری تھے وہ بہت مصروف رہتا۔ شادی کے بعد مستقل ساتھ رہنے سے ردابہ کو احساس ہوا کہ ابراہیم کا انداز حاکمانہ ہے وہ اسکا گھر سے اکیلے نکلنا پسند نہیں کرتا تھا اس نے واضح الفاظ میں ردابہ کو منع کیا تھا۔ ردابہ نے ایک نزدیکی ادارے میں ترکی سیکھنے کی کلاسسز جوائن کرنا چاہیں تو ابراہیم نے ٹی وی پر ایک چینل سیٹ کر دیا کہ اس چینل میں زبان سکھائی جاتی ہے۔ یہاں سے ہی سیکھ لو بلاوجہ کی درد سری کی کیا ضرورت ہے؟ ویسے بھی تم نے کونسا کاروبار کرنا ہے؟” ردابہ نے بد مزگی کے خیال سے ضد نہیں کی۔ اسکی صلح جو طبیعت کی وجہ سے زندگی کے دن اچھے گزر رہے تھے۔

وہ خوش رہنا جانتی تھی، شہر کے نسبتاً کم گنجان اور صاف ستھرے حصے میں ایک چھوٹا لیکن باغیچے سے منسلک کاٹیج اسکی ملکیت تھا بھلا اور کیا چاہیے؟ جنت ہے تو بس یہی ہے۔ ردابہ اکثر سوچتی۔ اپنی جنت کو بنا سنوار کر رکھتی، شوہر کی پسند کے کھانے بناتی اور خوش رہتی۔

ایک دن ابراہیم کام پر گیا اور تھوڑی دیر بعد ہی ردابہ کو اسکی خوشی سے لبریز آواز آنے لگی۔ وہ نہ جانے کیوں چیخ رہا تھا؟ اس نے کچن کی کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا سامنے والی سڑک پر ایک ٹرک کھڑا تھا اور اس پر ایک موٹر بائیک رکھی تھی۔ ابراہیم چیختے ہوئے ٹرک پر چڑھ گیا اور اچھل کر بائیک پر بیٹھ گیا وہ نہ جانے کیا کیا کہہ رہا تھا اور لانے والے دونوں افراد ہنس رہے تھے۔

تھوڑی دیر کے بعد ابراہیم اندر آیا اور ردابہ کو دیوانہ وار گلے لگا لیا آو تم کو رائیڈ دوں، ” “میرے خیال سے انکل تم کو بائیک چلانے سے منع کرتے ہیں۔ ” ” اوہ یار بابا کو بتانا بھی مت۔ میں نےبہت مشکل سے پیسے بچا کر اور بابا سےچھپ کریہ بائیک منگوائی ہے تم جانتی ہو، مجھے اس بائیک کوچلانے کا کتنا ارمان تھا تم اندازہ نہیں کر سکتی ہو۔ ” “لیکن تم پہلے بھی ایک خطرناک ایکسیڈنٹ کر چکے ہو اگر انکل کو علم ہوا تو وہ کس قدر خفا ہونگے۔ ” “اوہو تو اب احتیاط سے چلاوں گا دیکھو اسپیشل تمھیں ساتھ بٹھانے کے لئے کسٹمائزڈ کروائی ہے آو ناں ابراہیم اسے بازو سے کھینچتا باہر لے آیا۔ بیٹھو ناں تم ڈرپوک لڑکی تو نہیں ہو”۔ ” میں ڈرتی نہیں ہوں لیکن دیکھو ابراہیم! اپنا خیال رکھو میری خاطر” ابراہیم نے بائیک اسٹارٹ کر دی ردابہ نے بمشکل پیچھے بیٹھ کر ابراہیم کا شانہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ بائیک شہر کے کھلے اور تنگ راستوں پر دوڑنے لگی، ردابہ کو اچھا لگا لیکن وہ ڈر رہی تھی کہ ابراہیم حادثہ نہ کر بیٹھے۔ لیکن ابراہیم ایک ماہر بائیکر تھا ماضی کا حادثہ صرف معمولی بے احتیاطی تھی اور اس وقت ویسے بھی صبح کا وقت تھا بھیڑ بھاڑ نہیں تھی۔ شہر کا ایک چکر لگانے کے بعد وہ واپس اپنے گھر آگئے۔ ابراہیم نے ردابہ کے رخسار کابوسہ لیا اور پوچھا” کیسی لگی تم کو رائیڈ؟” “بہت اچھی” ردابہ کے جواب پر ابراہیم کھل اٹھا۔ تھوڑی دیر کے بعد ابراہیم ریسٹورنٹ چلا گیا اور ردابہ گھر کے کاموں میں مشغول ہو گئی۔

آج دھوپ کم تھی۔ اس نے باغیچے کی صفائی کرنے کو غنیمت جانا اور جت گئی۔ شام چار بجے تک اس نے تمام کام نمٹا لئے اور نہا کر بالائی منزل پر کافی کا مگ لئے پہنچ گئی تھوڑی دور نظر آنے والی سڑک ویران تھی۔ ردابہ وہیں بیٹھے بیٹھے غنودگی میں چلی گئی۔ اچانک گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سے اسکی آنکھ کھل گئی سڑک پر ایک گھوڑا ہلکی رفتار سے بھاگ رہا تھا، اسکے ساتھ شاید اسکا مالک تیز قدموں سے چل رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد وہ اچک کر گھوڑے پر سوار ہو گیا اور گھوڑا پلک جھپکنے میں سڑک پر سے غائب ہو گیا۔ ردابہ کو ہنسی آ گئی، عجیب بندہ تھا پہلے ہی بیٹھ جاتا گھوڑے پر چل کیوں رہا تھا۔ شام ہونے پر وہ نیچے اتر آئی اور ٹی وی دیکھنے لگی ابراہیم خلاف معمول جلدی گھر آگیا۔ کھانا کھاتے ہوئے ابراہیم نے ردابہ کو بتایا کہ وہ اور اسکےبدو دوست بلغاریہ تک جا رہے ہیں بائیک پر۔۔۔ “میں بھی ساتھ چلوں گی۔ ” نہیں تم تھک جاو گی، بس ہم دو دن میں واپس آجائیں گے ہم نے صرف لمبی رائیڈ کرنی ہے”۔ ” لیکن میں اکیلی کیسے رہوں گی؟” “اوہ کم آن ردابہ! سوئیٹی بہادر بنو۔ یی پاکستان نہیں ہے۔ یہاں کوئی خطرہ نہیں۔ زیادہ ڈر لگے تو تم ایلف کو بلا سکتی ہو۔ اس نے ریسٹورنٹ مینیجر کا نام لیا وہ بہ آسانی آجائے گی۔ صبح بات کر لینا۔ ” ردابہ نے سر ہلایا۔۔۔۔ رات کے کھانے کے بعد معمول کی چہل قدمی کی گئی اور ابراہیم جلدی سو گیا کہ اسکو صبح نکلنا تھا ردابہ تھوڑی دیر ٹی وی دیکھتی رہی پھر نہ جانے کب سو گئی۔

صبح اسکی آنکھ ابراہیم کے سیل فون کی بیل سے کھلی۔ وہ کسی سے اونچی آواز میں بات کرنے لگا تو ردابہ کو یاد آیا کہ وہ کہیں جائے گا وہ تیزی سے بستر سے نکلی ابراہیم بات کرتے ہوئے خوابگاہ سے نکل گیا ردابہ اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی ابراہیم نے بات ختم کر کے اسکی طرف دیکھا، “کیا ہوا؟” ردابہ بسوری، “میں بھی چلوں گی۔ ” یار ہم پھر چلے جائیں گے تم پریشان نہ ہو۔ بحث نہیں پلیز! اسکے حتمی انداز پر ردابہ منمنائی ” آچجا ناشتہ تو کر لو”۔

” نہیں میں ریسٹورنٹ میں کروں گا اور ایلف کو بھی تاکید کردوں گا کہ وہ یہاں ضرور آجائے۔ ”

ردابہ چپ رہی، یہ اسکی خفگی کا اظہار تھا لیکن ابراہیم نے توجہ نہ دی اور ریسٹورنٹ پہنچ کر اسکی ایلف سے بات کروائی۔ وہ ایک مہربان لڑکی تھی اس نے ردابہ کو تسلی دی کہ ڈرنے کی بات نہیں ساتھ ہی یقین دلایا” میں آجاوں گی شام کو جب ڈیوٹی ختم ہو گی۔ ” ردابہ نے شکریہ کہہ کر فون رکھ دیا اور پھر سو گئی۔ دوپہر تک وہ سوتی رہی پھر اٹھ کر سینڈوچ بنا کر کھائے۔ ابراہیم کا نمبر ملایا لیکن ابراہیم کی آواز واضح سنائی نہیں دی شاید وہ راستے میں تھا اور سنگنلز کمزور تھے ردابہ نے بس ٹیک کئیر کہا اور فون بند کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی فون بجنے لگا یہ ایلف تھی۔ “ردابہ یہ میں ہوں ایلف”۔
“کہو ایلف کیسی ہو؟” ” میں ٹھیک ہوں ردابہ اور بہت معذرت چاہتی ہوں کہ میں تمھارے پاس نہیں آسکوں گی کیونکہ میری آنٹی او ر کزنز استنبول سے آ گئی ہیں اگر میں گھر نہ گئی تو وہ سوچیں گی کہ میں ان سے ملنا نہیں چاہتی اگر تم چاہو تو ابراہیم کو فون کر کے پوچھ لو کہ اور کون تمھارے پاس رہنے کے لئے آجائے۔ ” ” کیوں ابراہیم سے کیوں پوچھوں۔ تم خود کسی اور لڑکی کو کہہ دو۔ نہیں دراصل ابراہیم میرے علاوہ کسی دوسری لڑکی کا گھر آنا شاید پسند نہ کرے۔ اسلئے کسی کو بھیجنے سے پہلے اس سے پوچھنا ضروری ہے۔ ” ردابہ خاموش ہو گئی لیکن پھر اس نے ٹال دیا ” اچھا تو پھر رہنے دو، یہ ایک نارمل بات ہے آخر سارا دن بھی تو میں اکیلی رہتی ہی ہوںم ایک رات میں بھی رہ لوں گی تو کیا ہو جائے گا؟ ” اگر تم چاہو تو میں تم کو پک کر لوں۔ تم میرے گھر آجاو”۔ ردابہ نے کچھ دیر سوچا اور کہا ” نہیں ایلف تم اپنی کزنز کو کمپنی دو میری فکر مت کرو۔ میں بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہوں۔ ” اوکے ٹیک کئیر ڈئیر بائے۔

“ردابہ نے فون بند کر کے اسکارف اٹھایا اور گھر سے باہر نکل آئی، سڑک حسب دستور سنسان تھی سڑک کے اردگرد لوگوں کی ذاتی ملکیت شروع ہوتی تھی کبھی کبھی کوئی راہ گیر یا گاڑی گزر جاتی وہ سڑک پر ٹہلنے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنی وہ رک گئی اور چاروں طرف دیکھا، ایک ذیلی سڑک سے کل والا خوب صورت گھوڑا اور اسکا مالک آ رہے تھے۔ وہ رک کر گھوڑے کو دیکھنے لگی جو دلکی چال چلتا آ رہا تھا قریب آ کر مالک نے کہا “مرحبا” ردابہ نے بھی اخلاقاً کہا “مرحبا

“ردابہ نے ہلکے سے گھوڑے کے منہ پر ہاتھ پھیرا۔ “یہ بہت پیارا ہے۔ “” اسکا نام جیک ہے اور میرا نام ایب ہے۔ ” ایب یہ کیسا نام ہے۔ ” وہ ہنس پڑا “تم مجھے ابراہام کہہ سکتی ہو”۔ “میرے شوہر کا نام بھی ابراہیم ہے۔۔ ” اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا “اچھا کیا مزے دار اتفاق ہے۔ ردابہ مسکرا دی اور آگے چلنے لگی وہ دونوں بھی اسکے ساتھ چلنے لگے۔ میں جیک کو چہل قدمی کے لئے لے کر نکلتا ہوں پہلے شہر میں ہی گھوم لیتے تھے لیکن اب بہت رش ہو گیا ہے ہم اس طرف آ جاتے ہیں۔ یہ گھوڑے کے لئے ضروری ہے۔ ” “جانتی ہوں میں نے بچپن میں بہت گھڑسواری کی ہے اپنے ملک میں”۔ “خوب وہ مسکرایا۔ ابھی کرنا چاہو گی جیک بہت اچھا گھوڑا ہے۔ ردابہ نے ایب کی طرف دیکھا وہ دوستانہ انداز میں مسکرایا۔ اسکی چمکدار آنکھیں بھی ساتھ ہی مسکرائیں ردابہ بے ساختہ مرعوب ہوئی کچھ بول نہیں سکی۔ ” تکلف نہیں کرو”وہ پھر بولا اور بولتے ہوئے ردابہ کو اسکے گردن میں آدم ایپل حرکت کرتی ہوئی نظر آئی۔ ردابہ کو ہمیشہ سے لڑکوں کی آدم ایپل اچھی لگتی تھی، اوہ یہ کتنا اسمارٹ ہے اور اسکی آدم ایپل بھی ہے۔

ایک ابراہیم ہے ردابہ کو اسکی موٹی سے گردن یاد آ گئی اور وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔ ایب نے کچھ حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا۔ ردابہ آگے بڑھی اور تھوڑی کوشش سے جیک پر سوار ہو گئی اور ہلکے سے تپھتپھایا جیک چلنے لگا، ایب نے چپ چاپ یہ منظر دیکھا اور ساتھ ساتھ چلنے لگا ردابہ نے خوشی سے کہا۔ “یہ بہت اچھا جیک ہے۔ ایب مسکرایا ” تھوڑا دوڑاو۔ ” ردابہ نے ہلکی سے ایڑھ دی لیکن جیک دلکی چال پر ہی رہا۔ ردابہ نے دوبارہ کچھ کرنے کی کوشش نہیں کی وہ جانتی تھی کہ گھوڑے کا موڈ نہ ہو تو اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرتے تھوڑی دور جا کر جیک رک گیا اور چلنے پر آمادہ نہ ہوا ردابہ نیچے اتر آئی، ایب نے چاہا کہ وہ چلے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ “اوہ تم کو کیا ہوا۔ کوئی بات نہیں۔ میں آپکو چھوڑ کر آتا ہوں ہم۔ کافی دور آ گئے ہیں”۔ “نہیں میں چلی جاوں گی بائے”۔ وہ اپنے گھر کے راستے پر چل پڑی۔ تھوڑی دور جا کر اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ دونوں ڈوبتے سورج کی روشنی میں وہیں کھڑے نظر آ رہے تھے، وہ گھر آ گئی اور ساری لائیٹس آن کر کے ٹی وی کھول کر بیٹھ گئی، نہ جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی۔ مسلسل بجتی فون کی بیل سے اسکی آنکھ کھلی۔ چڑیوں کی بے تحاشا چہچہاہٹ میں اسکی سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے۔

اس نے گھبرا کر فون اٹھایا۔ دوسری طرف ابراہیم تھا “ہیلو ردابہ تم کہاں ہو۔ “؟ میں سو رہی تھی ردابہ کے حلق سے عجیب سی آواز نکلی” تمھاری آواز کو کیا ہوا، تم روئی ہو کیا؟” نہیں نہیں تم پریشان نہ ہو مجھے کچھ نہیں ہوا۔ بس میں سو رہی تھی اسلئے آواز ایسی ہو رہی ہے۔ ” ابراہیم نے پوچھا ” کیا کل ایلف آئی تھی؟” ” اسکی آنٹی استنبول سے آگئیں تھیں اسلئے وہ نہیں آسکی۔ لیکن کوئی بات نہیں ابراہیم۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ دیکھو کتنا سوئی میں تم تو مجھے اتنا سونے نہیں دیتے بہت خراٹے لیتے ہو” ردابہ شرارت سے ہنسی۔ “اچھا تو یہ بات ہے تم مجھ سے تنگ ہو تو ٹھیک ہے تو میں یہیں رہ جاتا ہوں۔ ” ردابہ کھکھلائی “نیکی اور پوچھ پوچھ۔ ” “اچھا سیرسیلی سنو، مجھے دو دن لگ جائیں گے ایک دوست کی طبعیت خراب ہو گئی ہے۔ ” ردابہ پریشان ہو گئی ” نہیں پلیز ابراہیم۔ میں بہت مس کر رہی ہوں تم کو۔ ” ” مجھے اندازہ ہے تم فکر مت کرو۔ ہم پرسوں شام تک آ جائیں گے۔ تم ایلف کو بلاو۔ اسکی آنٹی تو اکثر آتی رہتی ہیں وہ کونسا سالوں بعد ان سے ملی ہے۔ ” ” اچھا کوئی بات نہیں ہے میں خود اسکے گھر چلی جاوں گی۔ اچھا ہے میرا وقت گزر جائے گا۔ تم کو اعتراض تو نہیں۔ ؟” ” کوئی اعتراض نہیں، تم جا سکتی ہو بس اپنا خیال رکھنا۔ مجھے واقعی افسوس ہے کہ میں نے تم کو اکیلا چھوڑا۔ ” ردابہ نے اسکا گلٹ کم کرنے کے لئے ادھر ادھر کی ایک دو باتیں کیں پھر فون بند کر دیا

اسکو شدید بھوک لگ رہی تھی اور حیرت تھی کہ وہ اتنا کیسے سوئی صبح کے نو بج گئے تھے گویا میں کل مغرب کے بعد سے سو رہی تھی۔ اس نے اپنے آپ سے کہا۔ ناشتہ کرنے کے بعد اس نے اسکائپ پر اپنے نانا اور امی سے باتیں کیں، ان سے خوب گپ شپ کرنے کے بعد اسکا موڈ اچھا ہو گیا پھر لنچ کے لئے سینڈوچ تیار کر کے پانی کی بوتل اور دوربین لے کر وہ گھر سے باہر نکل پڑی۔ تھوڑی دور چل کر اسے ایب اور اسکا گھوڑا نظر آیا۔ آج ایب گھوڑے پر سوار تھا اس نے اسکو نہیں دیکھا وہ بھی مخالف سمت چلتی پہاڑ کی طرف جانے والے راستے پر ایسے ہی وقت گزاری کے لئے چلتی رہی جب تھک گئی تو ایک صاف پتھر پر بیٹھ گئی اور دوربین سے پہاڑ کی طرف دیکھنے لگی۔ اسے بہت تجسس تھا کہ اس طرف کیا ہے؟ لیکن سوائے درختوں اور فضا میں اڑتے پرندوں کے سوا اسے کچھ نظر نہیں آیا۔ اچانک اسے گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز آنے لگی اس نے دوربین آنکھوں سے ہٹا کر دیکھا تو ایب اپنے جیک پر سوار آ رہا تھا وہ چپ چاپ دیکھنے لگی وہ اسکے قریب آ کر رک گیا۔

“مر حبا”وہ دل کشی سے مسکرایا۔ “مرحبا” وہ بدقت بولی۔ ” کیا ہورہا ہے؟” “کچھ خاص نہیں بس چہل قدمی اور وقت گزاری۔۔۔ “وہ ہولے سے ہنسا اور گھوڑے سے اتر کر اسکے قریب ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ جیک ادھر ادھر گھاس پر منہ مارنے لگا۔ “اگر ہم اس چٹان پر جائیں تو وہاں سے سورج غروب ہونے کا منظر بہت خوبصورت لگتا ہے”۔ “وہ تو دور ہے۔ جیک تم کو لے جائے گا”۔ ” نہیں نہیں پھر کبھی سہی۔۔ ” تھوڑی دیر وہ چپ چاپ بیٹھے رہے ردابہ واپسی کے لئے اٹھ گئی، ایب بھی اسکے ساتھ چلنے لگا، “تم جانتی ہو اس وادی میں سب سے پہلے گھڑسواری ابراہام نے کی۔ خدا نے تحفتاً ان کے لئے گھوڑا اتارا۔ ” ” واقعی ؟؟” ہاں تا کہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر نمرود کی حکومت کی حدود سے نکل جائیں اور اپنی حفاظت کر سکیں۔۔ میری دادی بہت ساری کہانیاں سناتی ہیں انکی عمر ایک سو دو سال ہے، ہمارا خاندان اس وادی کا سب سے پرانا خاندان ہے میری دادی کو جو کہانیاں انکی دادی نے سنائی وہ اب ہم کو سناتی ہیں۔ ” ردابہ مسکرا دی۔ “تم ملنا چاہو گی میری دادی سے؟ ” ہاں ضرور ردابہ نے کہا آو چلو میرے گھر۔۔ ” نہیں آج نہیں جب میرے شوہر آجائیں گے تب ہم ملنے آئیں گے”۔ ایب مسکرا دیا “جیسے تمھاری خوشی۔ ابراہیم شاید پرسوں صبح تک پہنچے گا۔ ” ردابہ نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔
“تم کو کیسے معلوم؟” ” چھوٹا سا شہر ہے مادام، یہاں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور ابراہیم تو اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے کافی مشہور ہے اسکے ریسٹورنٹس اچھی سروس دیتے ہیں وہاں کے باورچی اچھے ہیں۔

“ردابہ فخریہ مسکرائی” یہ تو ہے۔ “جیک نے انکے پیچھے آ کر ہنہنانا شروع کر دیا۔ “آج تم سواری نہیں کروگی؟” ردابہ مسکرائی اور جیک پر سوار ہو گئی۔ جیک نے پہلے تو سستی دکھائی پھر اچانک ہلکی رفتار سے بھاگنا شروع ہو گیا۔ ردابہ نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی لیکن وہ رکا نہیں اور سیدھا ردابہ کے گھر کے سامنے آ گیا ردابہ اس دوران مڑ کر دیکھتی رہی لیکن ایب نظر نہیں آ رہا تھا وہ گھوڑے سے اتر کر کھڑی ہو گئی اور جیک نے فوراً واپس بھاگنا شروع کر دیا ردابہ اسے دیکھتی رہی اچانک گاڑی کا ہارن سنائی دیا اس نے سڑک کی طرف دیکھا تو ایلف کی چھوٹی سی فیاٹ کار آ رہی تھی وہ بہت تیزی سے قریب آ گئی اس میں سے ایلف اور اسکی کزنز نکلیں۔

ردابہ نے حیرت آمیز خوشی کے ساتھ انکو خوش آمدید کہا اور گھر کے اندر لے آئی۔ “تم کہیں جارہی تھیں اسکے لاک کھولنے پر ایلف نے پوچھا” “میں ریسٹورنٹ ہی آرہی تھی سوچا تھا کچھ کھاوں وہاں آکر” ” اچھا اوہ ہم تمھارے لئے اسکندر کباب اور کنافے لے کر آئے ہیں”۔ ایلف ہنسی، ردابہ کھلکھلائی، بہت شکریہ”، وہ سب گپ شپ کرتی “رہیں اور رات کے کھانے کے لئے ایلف کی کزن امبر اور شیکی نے ٹماٹو سوپ اور پلاو بنایا۔ ردابہ نے انکے لئے پاکستانی اسٹائل میں ماش کی دال بنائی، خوب بگھار لگایا۔ چپاتیاں بنائی، جس پر ان لوگوں نے خوب ہنسی کے ساتھ لطف اٹھایا۔۔۔۔ رات گئے تک وہ لوگ ٹی وی دیکھتی اور باتیں کرتی سٹنگ روم میں صوفوں پر ہی سو گئیں۔

صبح ہونے پر ایلف کے الارم سے سب کی نیند ٹوٹی ردابہ نے کروٹ بدلنی چاہی تو وہ صوفے سے نیچے لڑھک گئی سب ہنسنے لگیں” یہ کیا ہوا اوہ میرے خدا، تم سب بے آرام سوئیں، میں نے گیسٹ روم تک نہیں کھولا تم لوگوں کے لئے۔۔ میں معذرت خواہ ہوں” ” ہم تو آرام سے نہیں سوئے بلکہ مزے سے سوئے،۔ ” “صوفے سے تو تم گری ہو۔ ” امبر ہنسی۔ ردابہ جھینپ گئی اور منہ دھونے واش روم میں آ گئی۔ اس نے ناشتہ بنانا چاہا لیکن ایلف عجلت میں آفیشلی ڈریس اپ ہو چکی تھی. “علی الصبح ہی میری ڈیوٹی شروع ہو جاتی ہے۔ بس میں نکل رہی ہوں۔”

“ہم دونوں بھی ساتھ ہی چلتے ہیں۔ “” تم لوگ تو رک جاو۔ ایلف کو ریسٹورنٹ چھوڑ کر اور ناشتہ کر کے ہم ذرا شہر کی سیر کریں گے۔ “ردابہ نے امبر سے کہا” نہیں ہم چلتے ہیں۔۔۔ بہت اچھا وقت گزرا۔ بائے ردابہ۔۔۔۔ “وہ لوگ جس طرح آناً فاناً آئیں تھیں اسی طرح چلی گئیں۔ ردابہ نے شانے اچکا کر ناشتہ کیا۔ ابراہیم کو کال کی وہ راستے میں تھا۔ “بس میں شام تک پہنچ جاوں گا۔ ” اس نے کہا۔ ردابہ نے فون بند کر کے گھر کی صفائی کی۔ شام کے لئے مختلف کباب بنا کر ریفریجریٹر میں رکھےم ابراہیم کے کپڑے تیار کر کے ہینگ کئے اور آسودہ سی ہو کر دوبارہ سو گئی۔ صبح بہت جلدی اٹھنے کی وجہ سے وہ ساری دوپہر سوتی ہی رہی۔ شام کو اسکی آنکھ کھلی تو ہڑبڑا کر اٹھی۔ شوہر کے استقبال کے لیے اچھا سا سوٹ نکالا۔۔۔۔ ڈریس اپ ہو کر کے اس نے کافی بنائی اور کھڑکی سے باہر جھانکا کہ شاید ابراہیم آ رہا ہو۔ لیکن سڑک دور تک ویران تھی۔ اس نے کال کی لیکن سگنلز نہیں ملے۔ آج موسم بھی ابر آلود تھا، شاید بارش ہو گی اس نے سوچا اور تنہائی سے اکتا کر گھر سے باہر آ گئی اور سڑک پر ٹہلنے لگی، ہلکی سی سیٹی پر اس نے مڑ کر دیکھا ایب اوپر پہاڑ کی جانب سے اتر کر آ رہا تھا۔ ” کیسی ہو ردابہ!” ” “میں ٹھیک ہوں، جیک کہاں ہے” +”وہ اوپر ہی ہے شاید آج اسکا واک کا موڈ نہیں ہے” وہ ہنسا۔ سفید ٹی شرٹ میں وہ بہت خوبرو لگ رہا تھا اسکی آدم ایپل ٹی شرٹ میں نمایاں ہو رہی تھی، اس نے پھر سیٹی بجائی آدم ایپل دلکش انداز میں ہلی، ردابہ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا، نہ جانے یہ میرے سامنے کیوں آ رہا ہے اس نے کوفت سے سوچا اسی لمحے جیک تیزی سے بھاگتا ہوا آیا اور انکے قریب آ کر رک گیا، جیک نے اپنا چہرہ ردابہ کے چہرے کے قریب کر لیا ردابہ نے محبت سے اس پر ہاتھ پھیرا۔ “کیسے ہو جیک۔ ” جیک ہلکی آواز سے ہنہنایا، “یہ تم سے مانوس ہو گیا ہے”۔ “ہاں” ردابہ مسکرائی اور نہ جانے کیوں نہ چاہتے ہوئے بھی جیک پر سوار ہو گئی۔ جیک پہلے تو رکا رہا لیکن پھر اچانک بھاگنا شروع ہو گیا، ایب پہلے تو ساتھ ساتھ بھاگتا رہا لیکن جیک کی رفتار بتدریج بڑھنے پر وہ کوشش کر کے خود بھی جیک پر سوار ہو گیا۔ جیک اندھا دھند بھاگنے لگا وادی ابراہام کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے گونجنے لگی۔ ردابہ بہت کنفیوز ہو گئی تھی، اسکارف کھل گیا تھا اور ایب کی سانسیں اسکی گردن سے ٹکرا رہی تھیں۔ جیک مرکزی شاہراہ پر آ گیا تھا جہاں بہت رش تھا ردابہ خوفزدہ ہو کر جیک کی باگ کھینچنے لگی اسکو خطرہ ہو گیا کہ جیک کسی گاڑی کے ساتھ نہ ٹکرا جائے۔ ابراہیم نے جیک کو اسکو پچکارنا شروع کر دیا تھا، جیک رفتار آہستہ آہستہ کم کرتے دلکی چال پر آ گیا اور شہر کے رہائشی حصے کی طرف چلنے لگا۔ شہر میں شام اترنا شروع ہو گئی، ردابہ نے دیکھا جیک کا رخ یہودیوں کی محلے کی طرف ہے اسکو ایک گھر کے دروازے پر یہودیوں کا مخصوص نشان نظر آیا جو اس شہر میں آنے پر اسکو معلوم ہوا تھا کہ یہودی اپنے دروازے پر ایک نشان لگاتے ہیں، جو اس شہر میں انکی پہچان ہے اس نے سر اٹھا کر ایب کو دیکھا، ” تم یہاں رہتے ہو؟” وہ مسکرایا” ہاں میں نے تم کو بتایا تو تھا کہ ہمارا خاندان اس شہر میں سب سے پرانا ہے یہ ہمارا شہر ہے”۔ شہر میں آذان مغرب بلند ہوئی ردابہ مسکرائی، “نہیں یہ ابراہیم کا شہر ہے۔ “جیک رک گیا، وہ رہا میرا گھر اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔ ردابہ نے سختی سے کہا، ” نہیں میں اپنے گھر جاوں گی، چلو جیک مجھے میرے گھر لے چلو”۔ اس نے جیک کو ایڑھ لگائی اور جیک رخ موڑ کر ہوا سے باتیں کرنے لگا، آسمان پر سے موٹی موٹی بوندیں برسنے لگیں تیز ہوا سے ردابہ کے بال کھل گئے، ایب نے اسکے کان میں سرگوشی کی، تمھارے بال خوبصورت ہیں، ردابہ چپ رہی، جیک تیز رفتاری سے ردابہ کے گھر جانے والی سڑک پر آ گیا اور اسکے گھر کے سامنے پہنچ کر رک گیا ردابہ چھلانگ لگا کر جیک سے اتری اور اسکے منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔ “شکریہ۔ ” کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے دروازے کا لاک کھولا ایب بھی گھوڑے سے اتر آیا، ” میں آپکی کیا خدمت کر سکتا ہوں مسز ابراہیم؟” وہ شرارتی انداز میں مسکرایا، اچانک فضا میں موٹر سائیکل کی آواز گونجی، ” ابراہیم آ گیا” ردابہ خوشی سے چلائی۔۔ ایب گھوڑے پر سوار ہوا اور ایڑھ لگا دی۔۔۔۔ ردابہ دروازے سے باہر نکل آئی وہ ابراہیم ہی تھا اس نے اسکو دیکھ کر ہاتھ ہلانا شروع کر دیا اور تیزی سے گھر کے قریب آ گیا ردابہ آگے بڑھ کر اس سے لپٹ گئی “شکر کہ تم آگئے بہت تیز ہوا چل رہی ہے مجھے ڈر لگ رہا تھا شاید طوفان آئے گا۔ “نہیں یہاں طوفان نہیں آتا یہ ابراہیم کی وادی ہے آئے گا بھی تو میں ہوں ناں۔۔۔ ڈرو مت “۔۔۔ ابراہیم نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔

“تم ٹھیک تو ہو” ردابہ دل سے مسکرائی “ہاں میرے ہمدم!” ابراہیم نے دور جاتے ہوئے گھڑسوار کو دیکھا، وہ دونوں گھر کے اندر آ گئے۔۔۔۔ “میں نے تم کو بہت مس کیا ردابہ دوبارہ اس سے لپٹ گئی”۔۔۔۔ “میں نے بھی آئندہ تم کو چھوڑ کر نہیں جاوں گا پکا وعدہ۔۔۔۔ اس نے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا۔ صبح ردابہ کی آنکھ گھوڑے کے ہنہنانے سے کھلی وہ کچھ خوف ذدہ ہو گئی، بہ مشکل تمام وہ خوابگاہ سے باہر نکلی تو دیکھا لان میں ابراہیم ایک خوبصورت سفید گھوڑے کو پانی پلا رہا تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: