غلطی ہائے مضامین —— عزیز ابن الحسن

0
  • 131
    Shares

نسخہٴ آشفتہٴ دیوانِ عمرِ ما مپرس
خط غلَط معنی غلَط انشا غلَط املا غلَط

اگلے روز رسالہ “نقوش” کا کوئی خاص نمبر دیکھتے ہوئے اس کے اوراق بوسیدہ سے اپنے ہاتھ کا ایک بوسیدہ تر ادھ لکھا رقعہ ملا۔ یہ کب لکھا تھا کس کو لکھا، اسمیں کس مضمون کا ذکر ہے یہ کیوں ادھورا رہ گیا، یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

قیاس کے گھوڑے دوڑاؤں تو شاید یہ ۸۹-۱۹۸۸ میں لاھور سے یار غار اکبر معصوم کو لکھا تھا۔ میں ان دنوں لاہور میں ادارہ ثقافت اسلامیہ میں تھا۔ تب شاید چند روز کیلیے سانگھڑ کا قصد کیا تھا۔ اکثر یوں ہوتا کہ جب بھی سانگھڑ جانے کا کوئ موقع نکلتا تو سب سے پہلے اکبر کو ہی اس کی اطلاع دیا کرتا تھا۔

وہ بھی کیا زمانہ تھا سال میں سانگھڑ کے دو چار چکر ضرور لگا کرتے تھے۔ جتنے روز وہاں رہتا زیادہ وقت گھر والوں کے بجائے اکبر کے ساتھ گزرتا تھا۔ ان دنوں خیرمحمد انجم اور غلام محمد چوہان بھی سانگھڑ ہی میں ہوتے تھے۔ گرمی ہو یا سردی رات دیر تک ان دوستوں سے محفل آرائی رہتی یا نواب شاہ روڈ پر دور تک سڑک پیمائی کیا کرتے تھے۔

انیس سو پچانوے میں جب لاہور سے راولپنڈی آگیا تب بھی سانگھڑ کا سفر سال میں ایک دو مرتبہ ضرور ہوجاتا۔ 2007 تا 2010 تک جب پنجاب یونیورسٹی میں تھا اس زمانے میں بھی سانگھڑ کے چکر لگتے ہی رہتے تھے۔ لیکن جب سے اسلام آباد آنا ہوا اب تو یہ عالم ہو گیا ہے کہ جنوری 2011 کے بعد سے لاہور بھی جانا نہیں ہوا۔ سانگھڑ کا آخری آخری پھیرا 2012 میں لگا تھا۔

اکبر معصوم ان دنوں شدید بیمار ہے تمام احباب سے ان کی صحت کے لئے دعا کی اپیل ہے۔

رقعے میں مذکور شیخ علی حزیں لاھیجی ایران سے ہندوستان وارد ہونے والے شعراء کی آخری کھیپ میں سے تھے۔ باہر سے یہاں وارد ہونے والے دوسرے شعراء کی طرح انہوں نے بھی ہندوستان کی سرزمین کو ہمیشہ کے لئے اپنی فرودگاہ بنا لیا تھا اور مرکے یہی پیوند خاک ہوئے۔

شیخ فخرِ شعرائے ایران کہلاتے تھے مگر شومئ قسمت ہندوستان میں ان کا ٹاکرا خان آرزو سے ہو گیا جو اپنے وقت کے ایک ماہر لغت ماہر لسانیات اور ہندوستان میں سبک ہندی کی تنقید کے بنیاد گزاروں میں سے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ شیخ نصیر الدین چراغ دہلی، شیخ محمد غور گوالیاری اور شیخ فریدالین عطار نیشاپوری خان آرزو کے اجداد میں سے تھے۔ مطالعہ کا بے حد شوق تھا۔ 24 برس ہی کی عمر میں انہوں نے تمام نقلی و عقلی علوم متداولہ میں کمال حاصل کرلیا۔ اس کے بعد بہ عہد فرخ سیر گوالیار میں شاہی منصب داری پر مامور ہوئے۔ ازاں بعد جب دہلی آئے تو یہاں شیخ علی حزیں سے ملاقات ہوئی جو انھی دنوں وارد ہندستان ہوئے تھے۔ باہم موافقت نہ ہوئی اور آرزو نے شیخ کی دیوان پر اکثر اعتراضات لکھ کر ’’تنبیہ الغافلین‘‘ کے نام سے شائع کیے جس سے نزاع صاف ہویدا ہے۔ امام بخش صہبائی نے بعد کو اس کا جواب  “قول فیصل” کے نام سے لکھا تھا۔ جو ان کے خیال میں انصاف کی نظر سے ایک محاکمہ تھا جسکا مقصد دونوں نام دارون کو قریب لانا تھا۔

ہندوستان میں سبکِ ہندی کی شعریات کے اولین نظریہ ساز تو امیر خسرو کو کہا جاتا ہے مگر ان کے بعد اس شعریات اور تنقید کا بڑا اظہار خان آرزو اور شیخ علی حزیں کے مابین ہونے والے مجادلے میں ہوا۔

شیخ علی حزیں پر خان آرزو کے اعتراضات اور امام بخش صہبا ئی کی طرف سے حزیں کی مدافعت سے نقد ادبی کا جو سلسلہ شروع ہو اتھا، اس میں فتح علی خان گرویزی اور قاری عبداللہ کابلی جسے ماہرین زبان اور شاعر بھی شامل تھے۔ سبک ہندی کی ادبی تنقید کا یہ اولین نمونہ جو اردو شاعری و تنقیدکے لیے بھی ایک مثال تھا، قدما کے ادبی وتنقیدی تصورات کا بنیادی ماخذ کہا جاتا ہے۔ عصر حاضر کے معروف ایرانی نقاد محمد رضا شفیعی کدکنی نے اپنی کتاب “شاعری در ھجوم منتقدان” میں سبک ہندی کی اس اولین تنقید کو نہ صرف جمع کر کے اسے” نمونۂ برحبستہ از نقد ہوشیارانہ و سنجیدۂ شعر ہائے حزیں و شاید بہترین نمونہ نقد ادبی در تاریخ زبان فارسی” قرار دیا ہے، بلکہ کتاب کے ایک مستقل باب ”نقدادبی در سبک ہندی” میں ان تصورات کا جائزہ جدید تنقیدی تصورات کی روشنی میں بھی لیا ہے۔

ہندوستان میں پیدا ہونے والی فارسی غزل اور شاعری اور یہاں کے شاعروں کے لیے یہ بات ہمیشہ فخر کا باعث رہے گی کہ فارسی شعری تنقید کا اولین نمونہ فارسی شاعری کی جنم بھومی ایران نہیں بلکہ ہندوستان ہے۔

جیسا کہ مذکور ہوا شیخ علی حزیں ایران/ اصفہان میں پیدا ہوئے تھے۔ ایرانیوں اور ایرانی نظریہ سازوں و شعراء نے ہندوستان کی فارسی شاعری کو کم ہی مانا ہے۔ شیخ علی حزیں نے بھی برصغیر کے شعرا اور ادبا کے بارے میں بڑا تعصب دکھایا اور یہاں کے لوگوں کے لہجے اور سُبک ہندی کا استہزا کیا ہے۔ پھر جو قدرت کے غیبی ہاتھ حرکت میں آئے تو شیخ، سراج الدین خان آرزو کے ہتھے چڑھ گئے۔ اور پھر جو بیتی اس کا کچھ احوال ہم نے اوپر لکھا ہے۔ شعرا کے مناظرے مناقشے مذاکرے اور اختلافات اگر حد سے زیادہ نہ بڑھ جائیں تو اس سے شعر و ادب اور تنقیدی نکتہ رسی کو ہمیشہ فائدہ ہی ہوا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ خامن آرزو اگر شیخ حزیں کے کلام پر نقد نہ کرتے تو ہندوستان میں فارسی شاعری کی تنقید اور سبک ہندی کی تنقید پیدا ہونے میں ابھی مزید کتنا عرصہ لگتا اور جیسا کہ ھم نے شفیعی کدکنی کے حوالے سے کہا کہ ایران جو کہ فارسی شاعری کی جنم بھومی ہے وہاں کے قدیم سرمائے میں فارسی شعر و ادب کی تنقید کا کوئی بہت زیادہ بڑا نمونہ نظر نہیں آتا۔ یہ فخر بھی اللہ نے ہندوستان ہی کی قسمت میں لکھا تھا۔ اور یہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس چیز کا انکشاف کسی ہندوستانی نقاد نے نہیں کیا بلکہ ایک عصر حاضر کے ایک بہت بڑے فارسی نقاد نے کیا اور یہ انکشاف ہی نہیں بلکہ ان کا اعتراف بھی ہے کہ ہندوستان کی سرزمین فارسی شعر و ادب کی تنقید کی اولین جائے پیدائش ہے۔ اور اس حوالے سے شفیق کدکنی صاحب نے آرزو کی تنقیدی نظر کی گہرائی اور نکتہ سنجی کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔

یہاں لگے ہاتھوں کچھ جملہ ہائے معترضہ کا اظہار بھی کر کردیا جائے تو مناسب ہے۔

1۔ ۔ اول یہ کہ فارسی شاعری کی جنم بھومی ایران ہے مگر وہاں فارسی شاعری کا کوئی بڑا نمونہ کیوں نہیں ملتا۔ اس مسئلے کو سلجھانے کے کچھ سرے مجھے سراج منیر کے ایک مضمون میں ملتے جس کا عنوان ہے ٗ”تنقید کیوں؟” صاحب مضمون کا موقف یہ ہے کہ تنقید ہمیشہ ادب کے دور زوال میں پیدا ہوتی ہے۔ تخلیقی ادب کی عروج اور دور کمال میں تنقید کی طرف عموماً کم ہی توجہ ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے یونانی ادب کی مثال بھی دی ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ ارسطو کی بوطیقا اس وقت وجود میں آئی جب یونانی ادب کا عہد زریں ختم ہوچکا تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تنقید اکثر اس وقت پیدا ہوئی ہے جب تخلیقی فنکار اور اس کے گرد و پیش کے معاشرے میں رشتے کچھ کمزور پڑنے لگیں۔ ظاہر ہے کہ سراج منیر کا یہ موقف مغربی ادب کی تنقید کے حوالے سے ہے اور شاید اسی لئے میری اس تفتیش کو زیادہ نہیں سلجھاتا کہ فارسی شاعری کی عروج کے دور میں ایران میں تنقید کیوں نہیں پیدا ہوئی؟
ہوسکتا ہے آگے چل کے ہم کسی بہتر نتیجے پر پہنچیں لیکن سردست ہم اس سوال کو یہیں چھوڑ کر ایک دوسرے مسئلے کو دیکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ

2۔ ۔ ہندوستان میں سبک ہندی کی تنقید کی پیدائش کا معاملہ اس سے کچھ مختلف ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اردو زبان کے آغاز اور ارتقا کے ابتدائی مراحل شمالی ہندوستان میں طے ہوئے ہیں لیکن اردو ادب کے ابتدائی بڑے نمونے ہمیں جنوبی ہندوستان میں نظر آتے ہیں۔ شمالی ہندوستان میں سبک ہندی کے پہلے بڑے شاعر امیرخسرو ہیں جبکہ اردو نثر اور شاعری کے ابتدائی بڑے نمونے ہمیں دکنی ادب میں ملتے ہیں۔ ان مظاہر کے درمیان ہمیں زمانی طور پر تین سو سال اور زمینی طور پر سینکڑوں میل کا فاصلہ نظر آتا ہے۔ دکنی ادب جو اردو ہی کے ابتدائی ناموں میں سے ایک نام ہے کے بڑے ادبی نمونوں اور تنقیدی اشارات سے سردست صرف نظر کرتے ہوئے اگر شمالی ہندوستان کو دیکھیں تو وہاں امیر خسرو کے دیوان “غرۃ الکمال” کے دیباچے میں ہمیں سبک ہندی کی تنقید کے ابتدائی خدوخال نظر آتے ہیں۔ اس دیباچے میں جو تنقیدی نکات ہیں بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ ان کی طرف اول اول توجہ شمس الرحمن فاروقی اور ہندوستان کے کچھ اور نقادوں نے کی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے، اور یہ بات ہمارے لیے باعث فخر ہے، کہ شمس الرحمن فاروقی کو اس دیباچے کی تنقیدی اہمیت سے روشناس کرانے کا سہرا پاکستان کے ہی ایک نقاد محمد حسن عسکری کے ان مکاتیب کے سر ہے جو انہوں نے شمس الرحمن فاروقی کے نام سن ساٹھ کی دہائی میں لکھے تھے۔

امیر خسرو کے دیوان غرۃ الکمال کے دیباچے کے تنقیدی اشارات ہی سے میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کہ ایسا کیوں ہے کہ ایران میں تخلیقی ادب کے دور عروج میں تو ادبی تنقید کا کوئی بڑا نمونہ نظر نہیں آتا مگر ہندوستان میں لکھی جانے والی فارسی شاعری کا پہلا بڑا شاعر امیر خسرو اپنی شاعری یعنی سبک ہندی کی شاعری کے بالکل ساتھ ہی تخلیقی ادب کے ساتھ ساتھ شعری تنقیدی معیار بھی فراہم کر رہا ہے اور اس بارے میں نظریہ سازی بھی کر رہا ہے۔ سبک خوراسانی اور سبک ہندی کی شاعری اور شعریات اور ان کے امتیاز و اختلاف کے مسئلے کو ہم اپنے پڑھنے والوں کے ردعمل اور ان کی طرف سے آنے والے تبصروں تک یہیں چھوڑتے ہیں اور سراج الدین علی خان آرزو کی طرف پلٹتے ہیں۔

خان آرزو میر تقی میر کے ماموں بھی تھے اور میر اور سودا دونوں کے استاد کا درجہ بھی رکھتے تھے۔ علوم متداولہ میں کمال رکھنے کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کی تنقید اور لسانیاتی تدقیق و تحقیق میں ان کے پائے کا کوئی آدمی انکے دور میں کم ہی پایا گیا۔ کہنے کو تو وہ شاعر بھی تھے و مگر جیسا کہ فارسی زبان و ادب کے معروف استاد اور اردو کے صاحب طرز شاعر اور نقاد جناب معین نظامی نے آرزو کے بارے میں لکھا کہ ’’یہ بھی عجیب ہے کہ خانِ آرزو جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے کلاسیکی ناقدِ شعر، لسانیاتی محقق اور صاحبِ اسلوب تذکرہ نگار ہیں، تخلیقی عمل، شعر اور محاسن و معائبِ شعر کے سب سے بڑے نباض ہیں لیکن شعر گوئی میں وہ اپنے علمی و تحقیقی کمالات کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ اب اسے تقدیر کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا کہا جائے گا کہ جس شخص نے بغیر کسی مبالغے کے سیکڑوں سخن وروں کو راہِ سخن سجھائی، ان کی تربیت کی، وہ خود شعری تخلیقات میں بہت کم اول درجے کے نمونے پیش کر سکا”

راقم کا خیال ہے کہ یہ امر تخلیقی عمل کے اسرار میں سے ایک ہے کہ تخلیقی عمل تخئیلی و تخلیقی ادب پر بہترین تنقیدی نظر رکھنے والا نقاد عموماً خود اچھا تخلیقی فنکار نہیں ہوتا۔

ہمارے زمانے میں یہی مسئلہ آج کے سب سے بڑے کلاسیکی شعر شناس اور گمشدہ شعریات کو نودریافت کرنے والے بے مثل نقاد شمس الرحمن فاروقی کے ساتھ بھی ہے۔ انکی شاعری کو انکی شعری تنقید کی بصیرت سے وہی نسبت ہے جو خان آرزو کی شاعری کو انکے علمی کمالات اور لسانی و شعری شعور کے ساتھ ہے۔

ہمارے دوست بلال سہیل نے خان آرزو کی اردو شاعری کا ایک نمونہ کسی زمانے میں فیس بک پر دیا تھا۔ اس میں سے کے چند اشعار دیکھئے:

ہر صبح آوتا ہے تیری برابری کو
کیا دِن لگے ہیں، دیکھو خورشیدِ خاوری کو
دِل مارنے کا نسخہ پہنچا ہے عاشقوں تک
کیا کوئی جانتا ہے اِس کیمیا گری کو
اب خواب میں ہم اُس کی صورت کو ہیں ترستے
اَے آرزو ہُوا کیا، بختوں کی یاوری کو

معین نظامی صاحب خان آرزو کے فارسی اشعار بھی اپنے فیس بک پر اکثر لکھتے رہے ہیں ان میں سے چند ملاحظے کیلئے پیش ہیں:

دل خراب است ز ہمسایگیِ تن، افسوس
خانہء آئنہ با خاک برابر شدہ است
ہمچو پروانہء تصویر مپرس از حالم
کہ ز حیرت زدگی، سوختن از یادم رفت
ای فتنہء زمین و زمن، ظلم تا کجا
شام و سحر ز دستِ تو جیبی دریدہ است
شیخ، ہر چند کہ مسواک نگہ باید داشت
دہن از عیبِ کسی پاک نگہ باید داشت
از نسخہء جہان نبوَد شرحِ راستی
چون خطِ ہندوان ہمہ وارون نوشتہ اند
باید قدم شمردہ گذاری بہ روی خاک
ہر سبزہ ای کہ رُستہ، زبانِ سخنور است
انہی خان آرزو کا ایک نعتیہ شعر ملاحظہ ہو
ز بس بہ نعتِ پیمبر شد آرزو معمور
مدینہء دلِ من رشکِ احمد آباد است

ہر چند کہ ان اشعار کا بھی ایک درجہ ہے مگر سراج الدین آرزو کا اپنا جو معیار نقد اور ذوق کی لطافت جو ان کی تنقید میں نظر آتی ہے یہ شعر اس معیار کو نہیں پہنچتے۔
اس کے برعکس شیخ علی حزیں شعری نقد و نظر میں خواہ کتنے ہی ہیٹے رہے ہوں شاعر البتہ وہ اچھے تھے۔

چند ملاحظات پیش ہیں
در محفلِ ایں مُردہ دلاں شمعِ مزارم
میسوزم و از سوزِ من آگاہ کسے نیست
ہرگز نگشتہ جمع بہم عشق و سرکشی
خواہی کہ بارِ عشق کشی، بُردبار شو
ظلمت کدۂ عاشق از چہرہ منور کن
تاچند بروز آرم تاریکیِ شب ها را
ہرچہ خواہی بکن ازدوری دیدار مگوی
وحشت آباد مکن خاطر ویرانے را
شوریدہ را بزیرقدم خار و گل یکیست
سیل از بلند و پست بیاباں خبر نداشت

افسوس کہ سردست ہم شیخ کے کچھ زیادہ اشعار پیش نہیں کر پا رہے لہذا ایک ادھورے رقعے کی دریافت اور اس مناسبت سے ذہن میں آنے والی کچھ باتوں کا اختتام چند لطائف پر کرتے ہیں۔ پہلے لطیفے کی سند کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا بس یوں سمجھئے کہ سینہ بسینہ روایتیں جو کبھی کبھی تذکروں میں بھی آجاتی ہیں انہی میں سے ایک روایت کے مطابق شیخ علی حزیں دہلی آئے تو پوچھا کہ شعرائے ہند میں آج کل کوئی صاحب ِ کمال ہے؟ لوگوں نے سودا کا نام لیا۔ سودا نے سنا تو خود ملاقات کو گئے۔ شیخ کی نازک مزاجی اور عالی دماغی مشہور تھی۔ کہا، کچھ اپنا کلام سنائو۔ مرزا نے اپنا یہ شعر سنایا۔

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغِ قبلہ نما آشیانے میں

شیخ نے پوچھا تڑپے کا معنی کیا ہے۔ سودا نے کہا! اہلِ ہند ’طپیدن‘ کو تڑپنا کہتے ہیں۔ شیخ نےدوبارہ شعر سنا اور زانوں پر ہاتھ مارکر کہا!مرزا رفیع سودا! تم نے قیامت کردی۔ ایک مرغِ قبلہ نماز باقی تھا، تُو نے اسے بھی نہ چھوڑا۔ یہ کہہ کر کھڑے ہوگئے اور بغل گیر ہوکر ساتھ بٹھایا۔

ہمارے ہاں اول اول جب کمپیوٹر کا چلن عام ہوا تو ای میل کا زیادہ مشہور وسیلہ یاہو ڈاٹ کام ہوا کرتا تھا۔ اتفاق دیکھئے کہ اس “یاہو” کا کچھ سراغ ہمیں خان آرزو کے ہاں بھی ملتا ہے۔

مزید معین نظامی ہی کے لفظوں میں سنئے:
سراج الدین علی خانِ آرزو کا ایک شعر ہے:

آرزو بس کہ ذکرِ دوست کُنَم
نامہ بر ہم کبوترِ یا ہو ست

مَیں محبوب کا اتنا زیادہ ذکر کرتا ہوں کہ میرا نامہ بر کبوتر بھی عام کبوتر نہیں، کبوترِ یاہو ہے۔

کبوترِ یاہو سفید فاختہ جیسا ایک کبوتر ہے جو بولتا ہے تو لگتا ہے ” حق ہُو، یا ہُو” کا ذکر کر رہا ہے۔ پنجاب میں اسے “خُمرہ” بھی کہتے ہیں۔
ہے نہ سچ مچ “یا ہو” ہی کا ہم مفہوم و ہم وظیفہ شعر؟

جب سے ایمیل موبائل میسج اور واٹس ایپ کا زمانہ آیا ہے خط لکھنا تو جیسے ختم ہی ہو گیا۔ لیکن ایک دور تھا کہ میری اور اکبر معصوم کے مابین نہایت زوروں کی خط کتابت رہی ہے۔ مگر وہ سب کچھ اب طاق نسیاں ہو گیا۔ آج تیس سال بعد اگر اُس بلند اختر کے نام کا رقعۂ نیم نوشتہ نہ ملتا تو معنئ غلط کا یہ سلسلہ بھی کہاں دراز ہونا تھا؟

آخر میں پڑھنے والوں سے پھر گزارش ہے کہ اس رقعے کا رقعہ الیہ میرا بلند اختر بدنصیب شاعر اکبر معصوم بہت بیمار ہے اس کیلئے خصوصی طور پر بہت دعا کیجئے اور یہ بھی دعا کریں کہ اکبر معصوم کے ساتھ گزرے میرے ماہ و سال اور اس سے میرے تعلق اور اس کی شاعری کے حوالے سے مجھے ایک مفصل تحریر لکھنے کی توفیق ارزانی ہو.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: