کمیونزم ——— عمارہ نصرت

0
  • 25
    Shares

کمیونزم کا اردو مطلب اشتراکیت اور ہندی میں اسے سام یواد کہا جاتا ہے۔ کمیونزم وہ فلسفہ بلکہ اسے تھیوری یا نظام کہا جا سکتا ہے جس میں ساری پراپرٹی کے مالک امیر لوگ یعنی صاحب استطاعت افراد نہیں ہوتے بلکہ یہ پراپرٹی ریاست/ گورنمنٹ کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے، جس میں ہر فرد اپنی حیثیت کے مطابق اپنا حصہ ڈالتا ہے اور اپنی قابلیت اور ضرورت کے مطابق اجرت وصول کرتا ہے۔

کمیونزم نظام کا یہ بڑا فائدہ ہے کہ پرائویٹ پراپرٹی ختم ہو جاتی ہے اور ملک بھر میں economic equality یعنی اقتصادی برابری کی فضا قائم کر دی جاتی ہے۔ پرائیویٹ پراپرٹی ختم کرنا اور economic equality برقرار رکھنا ہی کمیونزم کو خاص بناتے ہیں۔

کمیونیزم نظام کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ پرائیویٹ کمپنی کے مالک یہ روش اختیار کرتے جا رہے تھے کہ کم سے کم اجرت پر مزدور کو کام دیتے، ان کا پیٹ پالنے کے لئے کام کرنا ناگزیر ہوتا، وہ کام کرنے پر مجبور ہوتے تھے کئی کئی گھنٹے کام کرنے پر آٹے میں نمک کے برابر تنخواہ حاصل کرتے تھے۔ ان کی محنت کچھ اس طرح رنگ لاتی تھی کہ مالکوں کی جیبیں گرم سے مزید گرم ہو جاتی تھی۔ اس وجہ سے امیر لوگ مزید امیر اور غریب لوگ مزید غریب ہوتے جا رہے تھے۔ مزدور کا ناجائز حد تک استعمال کیا جا رہا تھا۔

کمیونزم نظام نے مزدور کلاس کے حق میں آواز اٹھائی اور یہ ایجنڈا پیش کیا کہ جو شخص جتنی محنت کرتا ہے اسے اس کی برابر اجرت ملنی چاہیے، دوسری بات یہ کہ انفرادی محنت کا فائدہ صرف اور صرف اس شخص اور مالکین کو نہیں ملنا چاہیے ریاست یا گورنمنٹ کو بھی فائدہ پہنچنا چاہیے۔ کمیونزم نظام کے مطابق پرائیویٹ پراپرٹی نہ ہو بلکہ اکانومی ایکویلٹی ہو اور پرسنل گین نہیں ہونا چاہیے۔

کمیونیزم نظام کا ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کے لئے صحت, تعلیم اور ذریعہ معاش کی ذمہ دار حکومت ہوتی ہے، غریب عوام کو یہ سب سہولیات میسر رہتی ہیں۔ ان کی ذمہ داری بس دل لگا کر محنت کرنا اور اپنے فرائض ادا کرنا ہوتا ہے۔

کمیونزم نظام میں گورنمنٹ طے کرتی ہے کہ سرمایہ کہاں کہاں استعمال کیا جائے ریسورس کہاں لگائے جائیں اور کون کون سی اشیاء اور سہولیات یعنی پراڈکٹس اور سروسز پرووائیڈ کی جائیں اتھارٹی گورنمنٹ کے پاس ہوتی ہے۔

فائدوں کی بات کی جائے تو ایک فائدہ یہ ہے کہ جب گورنمنٹ کاروبار یا فیکٹری وغیرہ کی نگرانی کرتی ہے تو یہ بھی گورنمنٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ کی نگرانی کرے، عوام کی کوئی اجارہ داری نہیں رہتی کاروبار میں مقابلہ یعنی کمپٹیشن نہیں رہتا نہ ہی کوئی ایسی کمپنی یا فیکٹری رہتی جو حکومت کو للکار سکے کہ ان کی اشیا زیادہ اچھی ہیں کوالٹی کی ذمہ دار بھی حکومت ہوتی ہے تو ان سے اچھی کوالٹی کوئی اور دے ہی نہیں سکتا۔ اس لیے عوام الناس کو ہر چیز ایک جیسی کوالٹی کی اور ایک ہی قیمت پر ملتی ہے۔

یہ نظام دراصل کیپٹلسٹ نظام کے مخالف ہے، جس میں چند ایک امیر حضرات کی اجارہ داری ہوتی ہے اور گورنمنٹ کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ دولت کی برابر تقسیم نہیں ہوتی۔ کیپٹلسٹ نظام کے برخلاف کمیونزم نظام ہر انسان کی برابری پر یقین رکھتا ہے۔ کمیونزم نظام چائنا، کیوبا، نارتھ کوریا اور ویتنام میں لاگو ہے۔

نقصانات:
جس طرح ہر چیز کے فائدے ہوتے ہیں وہ کسی نہ کسی مقام پر نقصان بھی دے رہی ہوتی ہے۔ تو کمیونزم نظام کے اتنے فائدوں کے باوجود دنیا میں صرف چند ایک ممالک اس نظام کو اپنائے ہوئے ہیں، وجہ یہی ہے کہ اس کے کچھ نہ کچھ نقصانات بھی ہیں، جس کے پیش نظر دوسرے ممالک اسے اپنانے سے اجتناب کرتے ہیں اور دوسرے نظام اپنانے کی ضرورت پڑتی ہے ابھی ہم کمیونزم کے جرم کی بات کریں گے۔

پہلی بات یہ کہ کمیونزم نظام جہاں پر فائدہ دیتا ہے کہ ہر انسان اپنی محنت کے مطابق اجرت حاصل کرتا ہے وہیں اس کا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے, وہ کیسے؟ جب حکومت ہر فرد کو روٹی کپڑا مکان دینے کی پابند ہے, ارے بھائی! تعلیم, صحت اور معاش کی سہولیات, تو حضرت انسان کے اندر کا کام چور وجود جاگ اٹھتا ہے وہ اس طرح محنت سے کام نہیں کرتا، بلکہ بس روزی روٹی کمانے کو سرسری کام کرتا ہے اور اپنی جان چھڑاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سب لوگ برابر ہیں۔ کیا بڑا بندہ، کیا چھوٹا، سب اس معاشرے میں برابر ہیں تو اسے آگے بڑھنے کی لگن ہی پیدا نہیں ہوتی۔

اگر لگن پیدا ہو بھی جائے، تو جتنی محنت بھی کرلے اس کا شملہ بلند نہیں ہوگا اسے کوئی ریکارڈ نہیں ملے گا اس کا سارا جوش و جزبہ جھاگ ہوجائے گا۔ کیونکہ ہر انسان تعریف کا بھوکا ہوتا ہے، خاص کر جب کچھ الگ کرے۔ جب اسے کوئی توجہ نہ ملے، کوئی ایوارڈ، ریوارڈ، کوئی تعریف کچھ اس کو حاصل نہ ہو تو وہ مرجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے کسی بھی انسان کی شخصیت میں نکھار نہیں آتا وہ کچھ بہتر کرنے کی لگن نہیں رکھتا پرسنیلٹی گروم نہیں ہوتی اور جب لوگوں میں کوئی تبدیلی نہ رہ جائے تو انسان اور روبوٹ میں بھی فرق نہ رہے۔

دوسرا نقصان یہ ہے کہ حکومت ہر بندے کو کنٹرول کرتی ہے، اس کی روٹین کو پابند رکھتی ہے۔ کسی شخص کی یہ ہمت نہیں ہو سکتی کہ وہ حکومت کے کسی اقدام پر انگلی اٹھائے۔ آزادی رائے کا کوئی تصور ہی نہیں۔ آپ دل دل میں بھی یہ نہیں گا سکتے “بول کہ لب ازاد ہیں تیرے, بول کہ زباں اب تک تیری ہے۔ ” اب تک تو آپ جان گئے ہوں گے کہ یہ نظام پاکستان یا انڈیا میں بالکل نہیں ہے۔ تیسرا اور آخری نقصان یہ ہے کہ فری مارکیٹ اکانومی کا یہاں پر کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ جی ہاں! کمیونزم نظام میں جب حکومت کو یہ سب ادارے اور کاروبار زندگی کنٹرول کرنے ہیں تو کسی شخص کی یہ مجال نہیں کہ وہ اپنے کاروبار کو حکومت کے کاروبار سے زیادہ successful بنادے۔ زیادہ پروفٹ کما لے۔ اس نظام کے تحت چونکہ برابری ہے تو کوئی زیادہ امیر نہیں بن سکتا۔ بات زیادہ امیر ہونے کی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ناری نیا آئیڈیا پیش کرے حکومت اور ریاست اس کو ریجیکٹ کر دے تو وہ شخص اپنی سی بھی کوشش نہیں کرسکتا، ہاتھ پیر نہیں مار سکتا، کیونکہ اتنی اس کو اجازت نہیں ہے۔ اس طرح پرسنل گروتھ رکتی ہے، کوئی شخص بہتر کام نہیں کرسکتا۔ بلکہ ہر ایک کو ایک سا کام ایک سے روٹین گزارنے کی عادت بنا دی جاتی ہے، انسان سے مشین بنا دیا جاتا ہے پھر وہ جذبات سے بھی عاری ہو جاتے ہیں۔

اگر اس نظام میں کچھ امپرومنٹ کر لی جائے یعنی ہر شخص کو تھوڑی سی آزادی مل جائے کہ وہ اپنا آئیڈیا پیش کر سکے اور آگے بڑھ سکے حکومت اس پر پابندی نہ لگائی بلکہ اس کو appreciate کرے تو شاید یہ نظام کچھ بہتر ہو جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: