ہماری اردو دانی ——– رعایت اللہ فاروقی

0
  • 21
    Shares

ہم ماہ و سال چشیدہ لوگوں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی چیز کا پتہ نہ ہو اور پوچھ لیں تو اگلا سوچتا ہے

“یہ ضرور مذاق کر رہا ہوگا یا امتحان لینا چاہتا ہوگا”

ادھر اپنا حال یہ ہے کہ ایک تو سکول، کالج اور یونیورسٹی نہیں پڑھے ہوئے۔ مدرسہ بھی درجہ اولیٰ اور اس سے آگے پڑھ رکھا ہے جس میں اردو کی سرے سے کوئی کتاب ہی نہ تھی۔ درسی کتب تمام یا تو فارسی کی پڑھ رکھی ہیں یا پھر عربی کی۔ اور وہ بھی اس طرح پڑھی ہیں کہ بس پڑھی نہیں ہیں۔ اب خدا کی مرضی کے آگے تو بندہ مجبور! خدا کی مرضی کہ اس نے بنا اردو زبان کا رائٹر دیا۔ بچپن میں تختی، سلیٹ اور کاپی والد صاحب سے سیکھی تھی اور اس میں بھی ہماری ڈنڈی بازی کا نتیجہ یہ ہے کہ ابا حضور نہایت ہی خوش خط تھے جبکہ اس فقیر کی اردو لکھائی اگر انگریزی میں کنورٹ کی جا سکے تو بلاشبہ کسی ڈاکٹر کی لکھائی لگے۔ صرف یہی نہیں کہ بدنی لحاظ سے عبارت بہت بدنما ہوتی ہے بلکہ تین سال قبل تک تو یہ صورتحال بھی رہی کہ لفظ اردو ساخت کے بجائے فارسی ساخت کے مطابق لکھتے۔ مثلا “آئیں گے” اردو ساخت ہے جبکہ “آئینگے” فارسی۔

یہ انکشاف بہت سے حلقوں کے لئے خاصا درناک ہوسکتا ہے کہ ماہرِ ظروفِ حرفی حضرت قبلہ حافظ صفوان صاحب کے ایک عدد بھائی بھی ہیں کہ سوچنے والا اب یہی سوچے گا “یک نہ شد دو شد” مگر ہماری ریش کے خضاب سے پاک بالوں کی قسم صرف بھائی ہیں “یک نہ شد دو شد” والا معاملہ ہرگز نہیں۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ کسی بھی شخص یا قوم کی تاریخ کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک واقعاتی اور دوسرا اختیاری۔ واقعاتی تاریخ وہ ہے، جس میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں، وہ بس آپ پر واقع ہوگئی ہے۔ مثلا کسی کا پنجابی، سندھی، بلوچ یا پختون ہونا اس کی واقعاتی تاریخ ہے جس میں اس کا اپنا کوئی عمل دخل نہیں۔ لیکن اس کا زندگی کے کسی شعبے میں کچھ کر گزرنا اس کی اختیاری تاریخ ہے۔ کسی بھی شخص کا کمال اس کی واقعاتی تاریخ نہیں بلکہ اختیاری تاریخ ہوتی ہے کیونکہ اس میں اس کا ارادہ اور عمل دخل شامل ہوتا ہے۔ سو حافظ صفوان اور عتبان محمد چوہان کا ایک دوسرے کا بھائی ہونا ان کی واقعاتی تاریخ ہے۔ اس میں ان دونوں کا کوئی “قصور” نہیں۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ ویسے تو ہمیں ٹیوشن پڑھانے کا شوق صرف “یوتھ پارلیمنٹ” سے وابستہ چوزوں کو ہی ہوا کرتا ہے۔ لیکن خدا جانے ملتانی مٹی کا اثر ہے یا حضرت بہاؤالدین زکریا اور ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم اسمائے گرامی کی تاثیر کہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی اور بہاولپور یونیورسٹی سے بھی ہمارا استاد محترم بننے کا شوق کئی لوگ لے کر آئے مگر یہ “سعادت” نصیب فقط عتبان محمد چوہان کو ہی ہوئی۔ ہماری فرینڈ لسٹ پر ابھی انہیں ہفتہ ہفتہ سات دن بھی نہ ہوئے تھے کہ ایک دن انبکس میں روک کر “اردو وارڈن” والے لہجے میں دریافت فرمایا

“آپ اردو کی غلط تراکیب کیوں استعمال کرتے ہیں؟”

عرض کیا

“ہماری تعلیم فارسی، عربی کی ہے۔ لکھائی والد مرحوم سے سیکھی تھی اور اردو نہیں فارسی لکھ کر سیکھی تھی اسی کا نتیجہ ہے”

مکالمہ بس اتنا ہی ہوا مگر ان دنوں کوئی داڑھی والا فیس بک پر ہمیں ذرا سی توجہ بھی دے لیتا تو لگتا ہمیں یہی کہ ہماری درگت بننے والی ہے۔ سو ہمیں لگا کہ یہ ڈاڑھی والا عنقریب ہمیں فیس بک کے چوک میں کھڑا کرکے یہی سوال پوچھے گا لھذا سدباب لازم ہے ورنہ ناک بچے گی نہیں۔ ساتھ ہی خیال آیا کہ جب اردو شوق و ذوق ہی نہیں بلکہ پیشہ بھی بنا چکے تو پھر یہ کہاں کی شرافت کہ لکھا اسے فارسی میں جائے؟ اردو کو تو اردو میں ہی لکھنا چاہئے۔ غالبا 2015ء کا اختتام یا 2016 کا آغاز تھا جب خود کو فارسی سے اردو میں کنورٹ کرنا شروع کیا اور وہ بھی کسی کی مدد لئے بغیر۔ تقریبا ایک ماہ لگا مگر الحمدللہ تب سے ہم اردو کو اردو میں ہی لکھ رہے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: علم، کتاب، زندگی اور ہم —- عارفہ سید

 

اردو کے باب میں ہمارا کل بحران بس یہی نہ تھا بلکہ ایک سنگین بحران ہمیں تیس سال سے یہ بھی لاحق ہے کہ ہمیں “کومے کا استعمال” نہیں آتا۔ کسی “صاحب اردو” سے پوچھ لیں تو وہ یہ سوچ کر ہنس دیتا ہے کہ یہ ضرور مذاق کر رہا ہوگا اور کسی اپنے یا قبلہ عثمان قاضی جیسے سے دریافت کر بیٹھیں تو وہ اتنی تفصیل سے سمجھا دیتا ہے کہ چھلک جاتا ہے۔ بات یہاں بھی کہاں ختم ہوتی ہے۔ ابھی ہم اسی بحران سے نہیں نکل پائے تھے کہ یہاں فیس بک پر ایک نئی آفت سے دوچار ہوگئے۔ المیہ یہ ہے کہ خود کو بڑا صاحب علم ثابت کرنے کے لئے “گاڑھی اصطلاحات” کا استعمال لازم سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر آپ فیس بک پر کچھ سکھانے آئے ہیں تو لازم ہے کہ اتنی سادہ ترین زبان لکھئے کہ نائی، موچی کو بھی آپ سے کسی لفظ کا مطلب نہ پوچھنا پڑے۔ وہ آپ کا کہا اور لکھا بخوبی سمجھ جائے۔ لیکن یہاں تو سکھانے سے زیادہ متاثر کرنے کا رواج ہے اور اس رواج نے اب ہمیں بھی “متاثر” کرنا شروع کردیا ہے۔ خدا کو حاضر ناضر جان کر کہتے ہیں کہ چار چھ ماہ سے دو اصطلاحات نے پریشان کر رکھا ہے۔ ایک ہے “حرکیات” اور دوسری ہے “جدلیات” کوئی اللہ کا بندہ اپنے رب کی رضا کی خاطر ہمیں ان دو لفظوں کا مطلب سمجھا دے۔ للہ بہت سادہ لفظوں سے کام لیجئے گا! کیونکہ متاثر ہم اتنا ہوچکے کہ مزید متاثر ہونے کا اب حوصلہ نہیں رہا، آج تو فقط سیکھنا چاہتے ہیں۔ ہے کوئی بندہ خدا جو ہماری اردو دانی پر ہمیں متاثر کئے بغیر احسان کر سکے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: