اردو میں ’’مصور اور مصوری‘‘ پر منفرد کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 31
    Shares

خالد معین عصرِ حاضر کی بہترین شعراء میں شامل ہیں۔ ان کے چار مجموعے شائع ہو کر قارئین کی بھرپور ستائش حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’بے موسم وحشت‘‘ انیس سو نوے میں منظر عام پر آیا تھا۔ ’’انہماک‘‘ نو سال بعد اشاعت پذیر ہوا۔ دو ہزار پانچ میں ’’پسِ عشق‘‘ شائع ہوا۔ خالد معین کا چوتھا مجموعہ کلام ’’ناگہاں‘‘ دو ہزار بارہ میں شائع ہوا۔ دو ہزار سولہ میں خالد معین نے ہم عصر ادب اور شخصیات پر تجزیاتی مضامین اور عصری ادب کی صورتحال کے بارے میں پہلی نثری کتاب ’’رفاقتیں کیا کیا‘‘ قارئین کے ذوقِ مطالعہ کے لیے پیش کی اور پہلی ہی کتاب سے نثر میں بھی دھاک بٹھا دی۔ منتخب اسٹریٹ پلیز پر مبنی ’’اب سب دیکھیں گے‘‘ گذشتہ سال منظر عام پر آئی۔

خالد معین کی نئی تصنیف ’’مصورانِ خوش خیال‘‘ کراچی کے پانچ اہم مصوروں وصی حیدر، فرخ شہاب، تنویر فاروقی، فوزیہ خان اور جی این قاضی کے فن اور شخصیت کے تخلیقی سفر ایک خوبصورت تجزیے پر مبنی ہے۔ اردو میں مصور اور مصوری کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ خالد معین انفرادیت پسندی نے اس بار تحریر کے لیے ایک بہت مختلف اور منفرد موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ اردو میں مصوروں، مجسمہ سازوں اور مصوری پر صرف مرحوم شفیع عقیل نے بہت تسلسل سے لکھا۔ ان کایہ کام کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان کے نامور مصوروں کے بارے میں ان کی پانچ کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ جن میں ’’دو مصور‘‘ ، ’’چار جدید مصور‘‘ ، ’’مصور اور مصوری‘‘ اور ’’تصویر اور مصور‘‘ شامل ہیں۔ شفیع عقیل کی ان کتابوں میں پاکستان کے تمام اہم مصوروں اور مجسمہ سازوں کے فن اور شخصیت کا بھرپور محاکمہ کیا گیا ہے۔ اردو ادب کے قارئین کو فن مصوری اور اس کی مختلف پہلووں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

شفیع عقیل کے بعد خالد معین نے کراچی کے پانچ اہم مصوروں پر قلم اٹھایا ہے۔ اور اردو میں مصوری کے بارے میں موجود کمی کو پورا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ’’مصورانِ خوش خیال‘‘ میں عمدہ سفید کاغذ کے دو سو آٹھ صفحات کے علاوہ آرٹ پیپر کے بیس صفحات بھی شامل ہیں۔ جن پر پانچوں مصوروں کی تصاویر اور ان کی منتخب پینٹنگز پیش کی گئی ہیں۔ جن سے قاری کو مصور کے فن اور اس کے اسٹائل کی تفہیم میں آسانی ہوتی ہے۔ ان صفحات نے کتاب کی وقعت میں اضافہ کیا ہے۔ اس کی پانچ سو روپے قیمت مناسب ہے۔

کتاب کا انتساب ’’عہد آفریں پاکستانی اساتذہ اور مصوروں کی نئی نسل کے نام‘‘ ہے۔ کتاب میں پانچ مصوروں کے پانچ عکس پیش کیے گئے ہیں۔ ہر عکس کے دو حصے ہیں۔ ایک میں مصور کے فن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے میں اس کی رودادِ زندگی بیان کی گئی ہے۔ پہلا عکس خالد معین نے ’’رنگ برش اور کینوس سے آگے‘‘ کے زیرِ عنوان مصور اور مصوری کے بارے میں چھتیس صفحات کے طویل اور مبسوط مضمون کی صورت میں پیش کیا ہے۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’اس کتاب میں شامل کراچی کے پانچوں نامور مصور یقیناً، اپنا اپنا جداگانہ اعتبار اور اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ پانچ مصور وصی حیدر، فرخ شہاب، تنویر فاروقی، فوزیہ خان اور جی این قاضی ہیں۔ یہ پانچوں میرے ہم عصر ہیں اور میں ان پانچوں کے ہمہ جہت تخلیقی اوصاف سے قدرے آشنا بھی ہوں۔ یہ پانچوں مصور میرے دوست ہیں۔ ان پانچوں میں نسبتاً نئے دوست منفرد واٹر کلرسٹ جی این قاضی کے علاوہ، جو چار باکمال مصور ہیں ان سے میرے مراسم برسوں پرانے ہیں۔ تنویر فاروقی، فرخ شہاب اور وصی حیدر سے ایک زمانے کی بے تکلفی اور یاری ہے۔ ہم نے ایک ساتھ آوارگی بھی کی ہے اور کئی شامیں ایک ساتھ بسر کی ہیں، خواب نما دھندلکوں کے درمیان شعر و ادب، پینٹنگز اور دنیا بھر کے الٹے سیدھے موضوعات پر گفتگو کی۔ ایک دوسرے کو جاننے کی بھی کوشش کی ہے۔ ایک دوسرے کے نقطہء نظر کو سمجھے کی سعی بھی کی ہے اور ایک دوسرے سے کھل کر اختلاف بھی کیا ہے۔‘‘

اپنے مضمون میں مصنف نے مختصراً کتاب میں شامل پانچ مصوروں کا تعارف بھی کرایا ہے۔ کہتے ہیں کہ

’’وصی حیدر ایک معروف علمی و ادبی خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور مصوری میں ان کی بنیادی پہچان آئل اینڈ کینوس پینٹنگز ہیں، جن میں تصورِ زمان و مکاں بھی ہے، انسانی جذبات و احساسات کے بدلتے ہوئے تیور بھی ہیں اور نت نئے فنی تجربات کرنے کا جنون بھی شامل ہے، جو یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ فرخ شہاب کا ابتدائی سفر کو معروف مصور اقبال مہدی کے زیر اثر رہا، تا ہم وہ جیسے جیسے اپنی شناخت کے پیچیدہ ترین گردان میں غوطہ زن ہوتے گئے ویسے ویسے پاافتادہ راہوں سے دامن چھڑاتے گئے۔ پھر ایک دن ان کا نیا جنم ہوا۔ اپنے نئے تخلیقی سفر میں وہ پین اور انک کے بہ جائے برش اور کینوس سے تجریدی، نیم تجریدی، علامتی، نیم علامتی اور اپنی رنگا رنگ تخلیقی شخصیت کی اضافت سے ذاتی خیال و خواب اور اجتماعی عذاب و ثواب کے نئے جہان دریافت کرنے لگے۔ صفی پور کے ایک پیرزادہ خاندان سے تعلق رکھنے والے تنویر فاروقی کی تخلیقی داستان فرخ شہاب کے ساتھ ہی شروع ہوئی مگر اس میں ڈرامائی موڑ نہیں آیا، جو فرخ شہاب کی زندگی میں آیا۔ تنویر فاروقی نے اپنے استاد اقبال مہدی کے بنیادی رنگ پین اینڈ اِنک میں پورٹریٹ بنانے میں اتنی طویل ریاضت کی کہ ایک جانب ان کا نام اس رنگ میں کچھ نئے زاویوں کی شمولیت سے تمام ہم عصروں میں سب سے ممتاز نظر آتا ہے، دوسرا انہوں نے آئل اینڈ کینوس پر بھی پین اور اِنک سے بہت آگے نکل کر کچھ ایسے فنی تجربات کیے، جو ان کی گیری مشاقی اور اپنے شناختی دائرے میں مزید وسعت کی گواہی بھی ثابت ہوئے۔ فوزیہ خان کو شعر و ادب سے ایک فطری مناسبت ہے اور وہ شاعری، موسیقی اور مصوری کے کئی منفرد ایونٹ کر چکی ہیں اور وہ تصوف کے روشن ترین راستوں کی راہی بھی ہیں۔ وہ بڑی شائستہ اور سمجھ دار آرٹسٹ ہیں، جن سے بات کر کے اور مل کے ہمیشہ خوشی محسوس ہوئی۔ انہوں نے ایک جانب گھرداری کے کٹھن مراحل طے کیے، اپنی ہونہار بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ ادا کیا اور دوسری طرف مشکل ترین حالات میں بھی اپنی پینٹنگز کے موضوعاتی تنوع کو مختلف سیریز میں بڑی کامیابی سے پیش کیا۔ ہمارے پانچویں دوست جی این قاضی، جو کم گو بھی ہیں اور نسبتاً نئے دوست بھی ہیں۔ جی این قاضی کی شخصیت میں خاندانی وقار، شرافت اور خود میں سمٹے رہنے کی خوش ادائی بڑی واضح ہے۔ وہ واٹر کلرسٹ ہیں اور اسی شعبے میں ان کا نام اور کام اپنی شناخت بھی رکھتا ہے۔‘‘

خالد معین کا کہنا ہے کہ ’’ان پانچ مصوروں کے انتخاب میں کوئی منصوبہ بندی شامل نہیں ہے، البتہ میرے لیے ایک سہولت ضرور موجود ہے کہ زیربحث پانچوں آرٹسٹوں سے میری ایک گہری ذہنی ہم آہنگی قائم ہے اور یوں مجھے ان کی زندگیوں کے پوشیدہ گوشوں تک رسائی میں بڑی حد تک آسانی ہوئی ہے۔ اگر اس کتاب کو قارئین نے پسندیدگی بخشی تو اس طرح کے مزید انتخاب کی سمت پیش رفت بھی کی جا سکتی ہے اور اس صورت میں پہلے قدم پر کراچی اور اس کے بعد پاکستان بھر کے ہم عصر آرٹسٹوں پر تفصیلی مکالمے کا امکان پیدا ہو گا۔ خالد معین کا یہ اعلان قارئین کے لیے بڑا خوش آئند ہے اور اس طرح اردو ادب کے قارئین کوشفیع عقیل کے بعد مصور اور مصوری فن پر لکھنے والا ایک اور ادیب میسر آ جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: دل پسند کیفیات اور روحانی امراض کا توڑ: چترا پریتم —– حمزہ حیدر

 

کتاب میں خالد معین نے مصوری کی باریکیوں اور پیچیدگیوں کو بڑی مہارت سے بیان کیا ہے۔ اور آرٹ کے بارے میں اپنے وسیع علم کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ کراچی میں موجود آرٹ گیلریوں کی تفصیلات، ملک کے معروف مصوروں کا سرسری لیکن قابلِ ذکر جائزہ، ان کے فن پر اظہارِ خیال نے اس مضمون کو بہت وقیع اور معلومات افزا بنا دیا ہے۔ عالمی سطح پر مصوری کے مختلف مکتبہ فکر کی تاریخ اور ارتقا کا جائزہ، مشہور مصوروں کے فن اور کام کا تجزیہ بھی بہت عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔

چینل نیوز ون سے انٹرویو کا ایک پروگرام ’’نایاب ہیں ہم‘‘ کا بھی ذکر کیا ہے۔ جس کے خالد معین میزبان تھے۔ پروگرام میں بزرگ شاعر محب عارفی اور مصور آفتاب ظفر، اداکار لہری اور سیاستدان رسول بخش پلیجو کے انٹرویوز کیے گیے۔ لیکن پروگرام چینل کی سیاست کی نظر ہو گیا اور آن ایئر نہ ہو سکا۔ ان انٹرویوز کا ریکارڈ بھی ضائع ہو گیا۔ ورنہ ایک بہترین کتاب تیار ہو سکتی تھی۔ ان انٹرویوز کا ضائع ہونا کسی سانحے سے کم نہیں ہے۔

کتاب میں شامل مصوروں کے فن اور شخصیت سے متعلق مضمون کے عنوان سے قاری کو اس کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے۔ ’’وصی حیدر پر مضمون کا عنوان ہے۔ ’’عقدہء مشکل پسند آیا‘‘ ہے۔ وصی حیدر روزنامہ جنگ کے مڈویک میگزین کے لیے ہر ہفتے آرٹسٹوں کا ایک مخصوص رائٹ اپ لکھتے تھے۔ جو عموماً بیک پیچ پر کلرفُل پینٹنگز کے ساتھ شائع ہوتا تھا، پہلے رائٹر کا نام چھپتا تھا، بعد میں رائٹر کی تصویر بھی چھپنے لگی، یوں وصی حیدر جنگ میگزین کے مستقل آؤٹ سورس رائٹر بنے ہوئے تھے اور ظاہر ہے خود بھی اُن دنوں نوجوان آرٹسٹ تھے۔ انہوں نے صادقین، گُل جی، جمیل نقش جیسے نام ور پینٹرز پر بھی رائٹ اپ پیش کیے اور ہم عصروں کے ساتھ ابھرتے ہوئے میل فی میل آرٹسٹوں کے بھی تعارفی رائٹ اپ بھی شامل تھے۔ پھر وہ عملی طور پر خود بھی پینٹنگز بنانے اور اپنی آرٹسٹک شخصیت کی تکمیل میں مصروف ہو گئے۔ کئی برس کے بعد وصی حیدر سے ٹوٹا ہوا تعلق ایک نئے رنگ ڈھنگ، نئی گرم جوشی اور نئے عزم کے ساتھ جڑا کہ وہ سارے حجابات جو اس سے پہلے کی مختصر سی رسمی ملاقاتوں میں حائل تھے، ایک جھٹکے میں اُٹھ گئے اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز کا سلسلہ آغاز ہو گیا۔ اب وصی اُبھرتا ہوا آرٹسٹ نہیں تھا، اپنا مقام بنا چکا تھا۔ وہ اپنے ہم عصروں میں واضح شناخت رکھتا تھا اور مارکیٹ میں اس کی حیثیت بھی مستحکم تھی۔ وصی حیدر کی خطاطی، ٹائم اینڈ اسپیس اور دیگر میڈیمز میں بنائی ہوئی کئی منتخب اور خوب صورت پینٹنگز اس کے اسٹوڈیو کی دیواروں کی زینت ہیں۔ انہوں نے تجریدیت، علامت، پیکر سازی، فیسز اور باڈی کے مختلف شیڈز اور زاویوں کے امتزاج سے اپنے لیے ایک الگ راہ بنائی ہے۔ جب کہ انہوں نے خطاطی اور کاماسوترا میں بھی بڑا معیاری کام کیا ہے۔ جہاں تک وصی حیدر کی ڈرائنگ، اسٹروکس، کلرز اور مجموعی فنی ایکسپریشن کا معاملہ ہے، وہ ان سب سے میں انتہائی مشاق آرٹسٹ کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ دوسرے آرٹسٹوں کے مقابلے میں ان کے ہاں موضوعاتی تنوع بھی ہے، اپنی مخصوص امیجری بھی ہے، کلرز کا برجستہ اور منفرد انتخاب بھی ہے۔اُ ن کے اسٹروکس میں پاور بھی ہے۔ وصی حیدر کی پینٹنگز میں بعض سیریز قابلِ ذکر ہیں۔ وصی حیدر نے جو مخصوص فیس بنائے ہیں، چاہے وہ تنہا ہوں، دو ہوں، یا تین ہوں یا بہت سے ہوں، سب کے سب قابلِ توجہ ہیں۔ اسی طرح ٹائم اینڈ اسپیس کے حوالے سے بنائی گئی اُن کی بیشتر پینٹنگز بڑے کمال کی ہیں، خاص طور پر ایسی تمام پینٹنگز جن میں چاند، سورج یا زمین کی نمائندگی کرنے والے کلرفل گول دائرے ہیں، اس کے ساتھ زندگی کے دیگر مظاہر ہیں، جن میں عورت اور مرد کی مبہم پرچھائیاں، خوب صورت رنگوں اور ڈرائنگ کی مدد سے آپس میں مدغم ہیں اور پینٹنگ کا مجموعی امپیکٹ غیر معمولی تاثر چھوڑتا محسوس ہوتا ہے۔‘‘

اس جامع مضمون میں وصی حیدر کے فن اور شخصیت کا نچوڑ خالد معین نے قاری کے سامنے بڑی عمدگی سے پیش کر دیا ہے۔ جس میں آرٹ سے نا واقف شخص بھی اس سے لطف اندوز اور آشنا ہو جاتا ہے۔ یہی مصنف کا کمال ہے۔ کسی مرحلے پر کتاب کی دلچسپی کم نہیں ہوتی۔

کتاب کا تیسرا عکس فرخ شہاب کے بارے میں ’’تپش آئینہء پرواز ہوں‘‘ کے عنوان سے ہے۔ جس میں فرخ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’’میرے والد سید شہاب الدین احمد کی پیدائش 1922ء میں گیا میں ہوئی لیکن اُن کی تعلیم و تربیت میں انڈیا کے معروف علمی شہر علی گڑھ میں ہوئی۔ اُنہوں نے علی گڑھ اور لکھنو میں خاصا وقت گزارا، وہیں نوکریاں بھی کیں اور مختلف بزنس بھی کیے۔ میرے والد بڑا ادبی شوق اور مزاج رکھتے تھے، میری یادداشت میں بچپن کی جو ابتدائی یادیں محفوظ ہیں، اُن میں گھر کا نقشہ آتے ہی، سفید چاندیاں، عطردان اور خوش لباس سے معزز لوگ آتے ہیں۔ ہمارے گھر میںاُ س وقت کے اہم ادبی رسائل بھی آتے تھے۔ والد نوحے بھی پڑھتے تھے اور مجالس میں بھی جاتے تھے۔ میری والدہ کا تعلق پٹنہ سے ہے۔ تقسیم کے وقت ہمارا خاندان ڈھاکا چلا گیا اور وہاں والد پٹ سن کے بزنس سے وابستہ رہے۔ وہاں بھی گھر کا ادبی ماحول، مشاعرے اور ادبی لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔‘‘

یہ بھی دلچسپ مضمون ہے: آرٹ، کرافٹ، زندگی، معاشرہ اور مذھب کی بحث ۔۔۔۔۔۔۔۔ معارز انصاری، سجاد خالد

 

والدین، بڑے بھائی اور تین بہنوں کے ساتھ سقوط ڈھاکا کے بعد فرخ دو سال جنگی قیدی بھی رہے۔ بڑے بھائی کو آرٹ کا شوق تھا۔ پنڈی آئے تو وہ باقاعدہ پینٹ کرنے لگے۔ ڈھاکا میں خوش حال زندگی کے بعد ان کے خاندان کافی کٹھن اور مشکل وقت گزارا۔ اسکولنگ ناظم آباد سے شروع ہوئی۔ پھر پی اے ایف اسکول ماری پور میں داخلہ ہو گیا اور یہ جگہ بڑی پُرسکون تھی۔ دو بار بطور آرٹسٹ بنگلہ دیش چار مصوروںکے ساتھ گئے۔ وہاں بڑی پذیرائی ہوئی۔ سمندر انہیں بہت متاثر کرتا ہے۔ سمندر میں لائیو پینٹنگ بھی کی۔ پرانے برتن خریدنے کے شوقین ہیں۔ باغبانی کا شوق والدہ سے ملاہے۔ پیٹنگ واحد جنون ہے، جو ہمیشہ اُن کے ساتھ رہا۔ اقبال مہدی کی قربت نے ان کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔ اقبال مہدی ناظم آباد میں گھر کے قریب ہی رہتے تھے۔ فرخ شہاب بہن کے ساتھ اقبال مہدی کے پاس مصوری سیکھنے پہنچ گئے۔ بہنونی حسام الحق ان کے دوست تھے۔ پینٹنگ کا باقاعدہ آغاز 1984ء میں کیا۔ اقبال بھائی کے اسٹوڈیو میں مختلف فن پارے بنتے دیکھ کر حیران بھی ہوئے اور متاثر بھی۔ اقبال بھائی نے دلچسپی دیکھی تو ایک دن کہا تم بھی کرو، تم کر سکتے ہو۔ یوں فرخ ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔ اسی سے مشق، مہارت اور ریاضت کا آغاز ہو گیا۔ وہاں کام کرنے کے پیسے بھی ملنے لگے۔ بڑا اچھا ماحول تھا، سیکھنے اور سمجھنے کا موقع بھی میسر تھا، پھر وہاں اتنا زیادہ کام تھا کہ دن رات کام بند ہی نہیں ہوتا تھا۔ اسے دور میں مصور ہی بننے کا عزم کر لیا۔

صادقین صاحب ان دنوں فریئر ہال میں کام کر رہے تھے، انہیں وہاں کام کرتے بھی دیکھا ملاقاتیں بھی رہیں۔ اسماعیل گل جی، بشیر مرزا، ناگوری صاحب، ناہید رضا اور بہت سے نامور آرٹسٹوں کو اسی دور میں قریب سے دیکھا۔ علی امام کا بھی بڑا اثر تھا۔ اس پورے مضمون میں فرخ شہاب کی آرٹ کے شعبے میں داخل ہونے ، ذاتی زندگی اور بطور مصور ترقی کی منازل کا انتہائی دلچسپی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ جس سے قاری ان کے پوری فنی سفر اور ارتقا کو بخوبی سمجھ جاتا ہے۔

تنویر فاروقی کے شخصی مضمون کا عنوان ’’شوق ِ آئینہ بندی میں ہوں‘‘ ہے۔ خالد معین لکھتے ہیں کہ ’’تنویر فاروقی بڑا پیارا دوست ہے۔ اس کا معصوم بے بی فیس ایک زمانے میں ہم سب دوستوں کو بہت پسند تھا۔ اب تو اُس نے بال اتنے بڑھا لیے ہیں کہ پورا بابا لگتا ہے۔ اس کے باوجود اس کی شخصیت کاگریس اب تک برقرار ہے۔ اس کے والد ایک سیاسی شخصیت تھے مگر اُن کی سیاست نظریاتی انداز کی تھی اور اُن کے ہاں سب سے پہلے پاکستان والی بات تھی۔ تنویر فاروقی بھی ایک سطح پر نظریاتی سیاست سے جڑا رہا ہے۔ تا ہم یہ سیاست عملی نہیں بلکہ ایک مخصوص نظریہ کے زیر اثر ضرور رہا۔ وہ اپنے استاد اقبال مہدی کا ذکر بھی بری محبت سے کرتا ہے۔ تنویر فاروقی ہم عصروں کے مقابلے میں فنی طور پر بھی کم نہیں بلکہ اس کے ہاتھ میں جو پر فیکشن ہے، اس کی ڈرائنگ جتنی مضبوط ہے اور اُس کی لائنز جتنی پاورفل ہیں، اتنا ہنر دیگر ہم عصروں کے پاس کم کم ہے۔ تنویر نے اپنا موضوعاتی دائرہ، اپنے مخصوص فنی مزاج کے مطابق رکھا ہوا ہے، وہ اسی پین اینڈ اِنک کے دائرے پر مشتمل اپنے رنگا رنگ تخلیقی خدوخال بھی نمایاں کرتے ہیں۔ تا ہم اس دائرے میں رہتے ہوئے بھی اور کبھی کبھی اس سے باہر آ کر بھی وہ نت نئے تجربے ضرور کرتے ہیں۔ مثلاً وہ پین اینڈ اِنک کے ساتھ آئل آن کینوس کے میڈیم میں اپنے مخصوص اسٹائل میں پینٹنگز بناتے ہیں۔ جن میں گھوڑوں اور دیگر چیزوں کی پینٹنگز شامل ہیں۔ تا ہم اُن کی پہنچان وہی حسن و حیا میں سمٹی نوخیز اور معصوم لڑکیوں کے پورٹریٹ ہیں۔ جن میں بلیک اینڈ وائٹ، سیپیا ٹون اور آئل آن کینوس پینٹنگز شامل ہیں۔ کہیں کہیں سندھ کی روایتی عورت، دیہی اور شہری مردوں کے ساتھ پاکستان کی معروف شخصیات کے پورٹریٹ بھی نظر آتے ہیں۔

کتاب کا پانچواں عکس فوزیہ خان کے فن اور شخصیت پر ’’رنگ ِ بہار ایجاد ہوں‘‘ کے عنوان سے ہے۔ تخلیقی شاعری صوتی آہنگ اور کلام کرتے حروف سے اپنے انفرادی سفر کا آغاز کرتی ہے اور نت نئے جہانوں کو اپنی گرفت میں لاتی ہے۔ اسی طرح مصوری اپنے ظاہر و باطن میں اپنا پہلا تعارف رنگوں، روشنیوں، پرچھائیوں، اشکال، موڈ اور لکیروں سے کراتی ہے۔ آگے چل کر یہ رنگ، روشنیاں، اشکال، موڈ اور لکیریں بھی آپس میں مل جل کے کئی دیکھے اَن دیکھے جہانوں میں ڈھل جاتے ہیں پھر کہیں کہیں مانوسیت نا مانوسیت میں تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ کہیں سامنے کے سادہ سے رنگ ایک حیران کن ست رنگی دھنک میں رقص کرتے کرتے اچانک ایک نیارنگِ جہان تخلیق کر لیتے ہیں۔ برش ابتدائی خاکے سے بغیر کہا تک پرواز کرے گا، منظر کوئی جانا پہنچانا ہو گا یا علامت کے پیرائے سے ہوتا ہوا، تاثر اور اظہار کی نزاکتوں سے ہم عکس ہوتے ہوئے نیم تجریدیت اور مکمل تجریدیت کے لمس میں ڈوبا کوئی انوکھا شاہ کار وجود میں آئے گا، اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔

فوزیہ خان کراچی میں مشہور آرٹسٹ ہیں۔ اُنہوں نے گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران اپنے تخلیقی وجود کی شناخت اپنی سنجیدی روش، اپنے مسلسل کام، گہرے ریاض اور اپنے منفرد خیالات کے ذریعے قائم کی ہے۔ فن میں دیرپا شہرت تخلیقی کاموں کی گہری انفرادیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے انہوں نے ابتدا ہی سے ایسی سیریز پر کام کیا، جو اُن کے ہم عصروں کی نظروں سے اوجھل تھیں اور اسی لیے جب بھی اُنہوں نے اپنی تخلیقی فن پاروں کی نمائش کی، اُنہیں عوام اور خواص کی جانب سے بھرپور پذیرائی بھی ملی۔ ایک خاتون ہونے کے ناتے جو کسی لابی سے تعلق رکھتی ہو اور نہ تعلقات عامہ کے فن میں طاق ہوں یہ سب کرنا اور ساتھ گھر کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے ہوئے کینوس پر تازہ گُل بوٹے، بیلیں، درخت ، پرندے، جھیلیں، درختوں کی جڑیں، متاثرکُن لینڈ اسکیپ اور جانے کیا کیاتخلیق کرتی رہتی ہیں۔ وہ اپنی ہر پیٹنگ میں رنگوں کی کہکشاں اتار دیتی ہیں اور اُن کی ہر پینٹنگ چاہے کتنی ہی سادہ ہو، یک رُخی نہیں ہوتی۔

’’مصورانِ خوش خیال‘‘ کا آخری عکس جی این قاضی کے فن اور شخصیت پر ’’ہر اک ذرہ پہ دل باندھا‘‘ کے زیر ِعنوان ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’جی این قاضی سے میری ملاقاتیں دیگر آرٹسٹ دوستوں کے مقابلے میں کچھ کم سہی لیکن میں اُن کے کام سے بڑی حد تک واقف ہوں۔اُ ن کا ذکر سب سے زیادہ وصی حیدر سے سنا اور انہی کے اسٹوڈیو میں جی ایک قاضی سے پہلی ملاقات بھی ہوئی۔ ان کے اپارٹمنٹ کے تمام کمروں میں مکمل اور ادھوری پینٹنگز کے انبار لگے ہیں۔ اس بے ترتیبی میں ایک حسنِ ترتیب بھی نمایاں ہے۔ وہ اسی اپارٹمنٹ میں اپنا تخلیقی کام بھی کرتے ہیں، پھر کوئی نوجوان سیکھنے کے لیے آ جائے تو اُس کے لیے بھی یہاں کے دروازے کھلے ہیں، کوئی پینٹر دوست چلا آئے تو وہ اُسے بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ جی این قاضی کی شناخت واٹر کلر آرٹسٹ کے طور پر ہے، تا ہم انہوں نے آئل اینڈ کینوس ، ایکر لیک اور دیگر مسکڈ میڈیم میں بھی خاصا کام کیا ہے۔ البتہ اُ ن کا اسلوب اور موضوعاتی دائرہ عام طور پر اپنی مٹی، اپنی ثقافت اور اپنے وطن سے جڑا ہوا ہے۔ انہیں قدیم زمانوں، قدیم اور تاریخی عمارتوں سے عشق ہے، وہ مختلف مسجدوں، مقبروں اور قدیم عمارتوں کو ہمیشہ نت نئے زاویوں سے بناتے ہیں۔ اس میں نیلے، سرخ اور دھیمے رنگوں کی خوب صورت آمیزش بھی کرتے ہیں۔ اُن کی ڈرائنگ بڑی کمال کی ہے اور اُن کالائن ورک بھی بڑاپختہ ہے۔

مجموعی طور پر مصور اور مصوری سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ’’مصورانِ خوش خیال‘‘ ایک تحفہ خاص کی حیثیت رکھتی ہے۔ خالد معین نے اس کتاب میں شاعر اور ادیب کے بعد آرٹ کے ایک عمدہ پارکھ کی حیثیت سے بھی خود کو منوایا ہے۔ شفیع عقیل کے بعد ان کی آمد اردو ادب کے لیے خوش آئند ہے۔ ایسی ہی اور کتابوں کے قاری منتظر رہیں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: