فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین(حصہ اول)

0

رومی سلطنت کا شیرازہ بکھرنے کے بعد براعظم یورپ مختلف ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ چھوٹی بڑی یہ ریاستیں کئی صدیوں تک باہمی آویزش کا شکار رہیں۔ آپسی نفرتوں اور قومی عصبیتوں کا یہ عفریت پہلی جنگ عظیم کی صورت اپنی مکروہ ترین شکل میں سامنے آیا اور انسانی وجود کے منفی پہلوؤں کی خوراک پہ پلتا دو کروڑ انسانوں کو نگل گیا۔ کوئی گھرانہ اس کے برے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا۔ سماجی ڈھانچہ ہل کے رہ گیا اور معاشی طور پر بہت سے ممالک کئی دہائیاں پیچھے چلے گئے۔

یورپ کے دانشور انسانی سرشت کے اس خونخوار پہلو کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے اورانسانی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر ایک ایسی فکری تحریک نے جنم لیا جس کا مقصد انسانی سماج سے جنگ کا خاتمہ تھا۔ دانشوروں کی ایک کھیپ سامنے آئی جنہوں نے انسانی ذات کے ان سرچشموں کو دریافت کرنے کا عزم کیا جہاں سے لہو بہانے کی لذت جنم لیتی تھی۔ یہ اچھوتا طرز فکر تھا کیونکہ تہذیب انسانی کے طویل سفر میں اگرچہ بہت سے مثبت مرحلے طے ہو چکے تھے مگر کسی نہ کسی فلسفے کے تحت جنگ ایک لائق تحسین عمل ہی سمجھا جاتا تھا۔ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ جنگ کی ہر صورت سے بیزاری نے ایک فکری تحریک کی صورت اختیار کر لی۔ اس تحریک کا سرخیل برٹرینڈ رسل تھا جس نے پہلی جنگ عظیم کی ہولناکی کا مشاہدہ کرنے کے بعد اپنی تمام عمر یہ دریافت کرنے میں صرف کر دی کہ کیسے انسان کی وحشی جبلتوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
رسل کے علاوہ بہت سے دیگر مفکرین نے بھی اسی موضوع پر طویل عرق ریزی کی۔ تاہم یہ سوچ صرف دانشوروں تک ہی محدود رہی، عوامی سطح پر اس سوچ کو بہت زیادہ پذیرائی نہ مل سکی جو ایک فطری امر تھا کیونکہ انسان روز آفرینش سے ہی قتل و غارت کی جبلت کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا۔ انسانی تہذیب نے ہزاروں سال کے سفر میں قتل و غارت کو اپنی فطرت کا ایک جزو لا ینفک ہی سمجھا تھا۔ اس کا ایک ثبوت قدیم دور سے لکھی جانے والی وہ رجزیہ شاعری ہے جس میں جنگ کی عمومی طور پر تحسین کی گئی ہے اورانسانی خون بہانےپر کسی نہ کسی بہانے اظہار تفخر کیا گیا ہے۔ اس سے نجات کے لئے پہلی جنگ عظیم کی تباہی ناکافی تھی۔
اس کے بعد دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی اور چند سالوں میں ہی چھ کروڑ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس عظیم تباہی کے نتیجے میں سماجی اقدار تباہ ہو گئیں ، خاندانی نظام بری طرح متاثرہوا اور بے شمار ممالک معاشی بربادی کا شکار ہو گئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب عوامی سطح پر بھی جنگ سے بیزاری کی ایسی طاقتور لہر اٹھی جس کا اثر آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پچھلے ستر سالوں میں یورپی ممالک کی آپس میں کوئی جنگ نہیں ہوئی تو اس کے پیچھے یہی عوامی دباؤ کارفرما ہے۔
دو بڑی جنگوں کی صورت میں انسانیت نے قربانی دی جس کی وجہ سے پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ شائد یہ ادارہ ایک قصہ پارینہ بن جائے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی ریاستیں عمومی طور پر یہ کوشش کرتی رہیں کہ وہ کسی نئی آویزش سے دور رہیں۔ وہ جان گئی ہیں کہ معاشی ترقی اور علم وتحقیق کے لئے معاشی استحکام امرلازم ہے۔

ایک ایسے دور میں جب دنیا جنگ کی خون آشام وادی سے گزرکر امن کی پرسکون نگری کا رخ کر رہی تھی، مولانا مودودی صاحب “الجہاد فی الاسلام” لکھ رہے تھے جس میں مدافعانہ جنگوں کے تصور کو رد کر کے اس نظرئیے کی تبلیغ کی گئی کہ مسلمان پوری دنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے آئے ہیں اور اس ارفع مقصد کے حصول کے لئے جارحانہ جنگ ایک مقدس ذریعہ ہے۔ ان کے طاقتور قلم کے زیراثر مسلمان مفکرین کی ایک پوری نسل سامنے آئی جنہوں نے جنگ وجدل کو ایک رومانوی تصور کی شکل دی۔ جس وقت مغربی دانشورعوام کی جنگی جبلتوں کو امن کی لوریوں سے سلا رہے تھے، ہمارے اسلامی مفکر قتال کے رجزیہ نغمے گا کر عوام کے تخریبی جذبوں کو مہمیز دے رہے تھے۔ اسلامی فکر روح عصر کی پکار پر کان دھرنے میں بری طرح ناکام رہی۔

مسلمان معاشروں میں یہ سوچ آج بھی عام ہے کہ زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے ابھرنے کا واحد راستہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اس رجعت پسندانہ سوچ نے مسلمانوں کی کئی نسلوں کو سائینس اور دیگر سماجی علوم کے اس راستے سے دور کر دیا جس پر چل کر وہ حقیقی طور پر سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہو سکتے تھے۔ نسیم حجازی کی مقبولیت کی وجہ بھی یہی جنگجویانہ طرز فکر تھا جو مسلمان معاشرے کی جڑوں میں سرایت کر چکا تھا۔ افغانستان کی جنگ بھی اسی فلسفے کے تحت لڑی گئی اورآج بھی بہت سی جگہوں پر جو فساد فی الارض بپا ہے، اس کے پیچھے یہی فکر کارفرما ہے۔

اس وقت مسلمان پورے کرہ ارض پر پھیلے ہوئے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ان میں نہ ہی کوئی سائنسدان پیدا ہو رہے ہیں اور نہ ہی سماجی علوم میں کوئی تخلیقی کام ہو رہا ہے۔ اس قحط الرجال کے پیچھے دیگر وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم آج بھی جنگ و جدل کے ذریعے دنیا پر اپنی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری جبلتیں آج بھی رجزیہ نغموں کی دھن پہ جھومتی ہے۔ اب جبکہ ہم مغرب پر حملہ آور ہونے کے قابل نہیں رہے تو کئی دہائیوں سے انسانی لہو کے لئے بیقرار ہماری روحیں ہمارے اپنے اوپر حملہ آور ہو چکی ہیں۔ تقریباً ہر قابل ذکر مسلم ملک خانہ جنگی کا شکار ہے اور اس ساری تخریب کا سرا کسی نہ کسی درجے میں مولانا مودودی مرحوم کی تحریروں سے جا ملتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: