رومی اور روح: مثنوی از ڈاکٹر ایرکان ترکمان —- تبصرہ: علی عبد اللہ

0
  • 26
    Shares
مولانا رومؒ اور ان کی مشہور زمانہ کتاب مثنوی روم سے پوری دنیا واقف ہے- مثنوی لکھے جانے کا آغاز تب ہوا جب ایک روز حسام الدین نے مولانا روم سے کہا کہ اگر وہ شیخ حکیم ثنائی کے “الہی نامہ” کی طرز پر اور فرید الدین عطار کی “منطق الطیر” کی بحر میں ایک کتاب تحریر کریں تو یہ آنے والی نسلوں کی یاداشت میں ایک زندہ رہنے والی تحریر ہو گی اور اس سے اللہ سے محبت کرنے والوں اور غم زدہ دلوں کو سکون میسر آئے گا- مولانا روم نے مثنوی لکھنے کا آغاز 1258 میں کیا اور 1273 تک مسلسل جاری رکھا- ان کی بیماری کے باعث مثنوی کا چھٹا حصہ کچھ نامکمل رہ گیا- آپ 1273 میں انتقال کر گئے لیکن مثنوی کی صورت میں آپ کی  موجودگی صدیوں سے روحانیت کے چشموں کی کھوج میں نکلنے والوں کو سیراب کر رہی ہے-
مثنوی اور فلسفہ رومی کے بارے پوری دنیا میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مثنوی کی بے شمار تشریحات فی زمانہ ہر زبان میں موجود ہیں انہیں میں ڈاکٹر ایرکان ترکمان کی مشہور کتاب “The essence of Rumi’s Masnavi” ہے جس میں مصنف نے مولانا روم کی حیات اور ان  کے نظریات کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا ہے- مثنوی روم کے اہم ابواب کی عالمانہ تشریح کے ساتھ ساتھ یہ کتاب اس دور کے سماجی، معاشرتی، معاشی اور مذہبی پس منظر کا بھی جائزہ پیش کرتی ہے- اس کتاب کا اردو ترجمہ “رومی اور روح مثنوی” کے نام تقریباً ایک سال پہلے منظر عام پر آیا- ایرکان ترکمان کی یہ کتاب  حیات و فلسفہ رومی کے علاوہ مثنوی کی اشاعت اور اس میں موجود  اختلافات کا بھی مختصر مگر جامع ذکر لیے ہوئے ہے- اختلافات کے سلسلے میں مصنف کا کہنا ہے کہ  ایران، جنوبی ایشیا اور افغانستان میں مثنوی کی اشاعت ہوئی تو اس کے مسودوں میں اختلاف پیدا ہونے لگا مگر خوش قسمتی سے مثنوی کا سب سے قدیم قلمی نسخہ قونیہ کے مولانا میوزیم میں موجود ہے اور اسے مصنف کی وفات کے پانچ سال بعد لکھا گیا تھا- مثنوی میں تبدیلیاں، لکھنے والوں کی غلطی یا پھر ان مغرور علماء کی وجہ سے ہوئیں جو اصل معنوں سے ناواقف تھے- مزید برصغیر کے بعض درویشوں نے اپنی ترنگ میں کچھ نئے اشعار بھی شامل کر دیے تھے- مصنف نے مسودوں کو دو دھڑوں میں تقسیم کیا ہے- پہلا ترک دھڑا ہے جسے سب سے کم نقصان پہنچا کیونکہ کاتبوں کو اصل مسودوں تک رسائی حاصل تھی- سب سے پہلا مسودہ جو مولانا روم کی زندگی میں ہی منظر عام پر آیا تھا گم ہو چکا ہے لیکن مولانا میوزیم میں موجود مسودہ اصل مسودے کی پہلی نقل ہے – اسی طرح یوسف آغا لائبریری میں بھی ایک اور مسودہ دستیاب ہے جو کہ حسام چلیبی اور سلطان ولد کے مسودوں سے نقل کیا گیا ہے- مختصر یہ کہ حسام الدین کا مسودہ سب سے زیادہ مستند نسخہ ہے- جبکہ ایرانی اور ہندوستانی مسودوں میں اختلافات موجود ہیں- مثلاً مثنوی کا آغاز اس شعر سے ہوتا ہے،
“بشنو از  نے چزن شکایت می کند
از جدا بیٹھا حکایت می کند”
جبکہ برصغیر پاک و ہند اور ایران کے تقریباً سبھی مسودوں میں یہ شعر کچھ یوں ہے،
“بشنواز نے چوں حکایت می کند
از جدا ئیہا شکایت می کند”
ایرکان ترکمان نے اس کتاب میں مثنوی کے پہلے اٹھارہ اشعار کی تشریح  کی ہے جو حرف” ب” سے شروع ہو کر حرف” م” پر ختم ہوتے ہیں-  ان ابتدائی اشعار میں مولانا روم نے ان اقدامات کا ذکر کیا ہے کہ جس کے ذریعے ہم اللہ کی قربت اور نجات حاصل کر سکتے ہیں-  نہایت آسان مگر جامع اور پر اثر انداز سے مصنف نے ان اشعار کی علمی، ادبی اور عالمانہ وضاحت کر کے پڑھنے والوں کو ایک نئی دنیا سے آشنا کروایا ہے- قرب الہی کے مراحل کچھ یوں بیان کیے گئے ہیں- پہلا مرحلہ ناپختہ و خام آدمی کی کیفیت ہے- دوسرا مرحلہ بیداری یعنی روحانی غذا کی تلاش ہے- تیسرا مرحلہ طلب اور تمنا ہے- چوتھا مرحلہ دنیا کے مال و دولت سے بے نیازی ہے- پانچواں مرحلہ عشق الہی ہے اور چھٹا مرحلہ اخلاص و ایثار ہے- جبکہ ساتویں مرحلے میں  مقام حیرت اور روحانی رہنما کی ضرورت کو شامل کیا گیا ہے- آٹھواں مرحلہ کائنات کی ہر شے میں مشاہدہ حق اور نواں مرحلہ اتحاد و یگانگت کا ہے- مولانا روم کے افکار میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب کسی نادر تحفے سے کم نہیں ہے کیونکہ مصنف نے نہایت تحقیق کے بعد مستند ذرائع سے تشریحات اور واقعات بیان کیے ہیں جو کہ یقیناً روحانیت کے کھوجیوں کے لیے بیش قیمت خزانہ ثابت ہو سکتا ہے-

اگلے حصے میں ان نو مراحل کی مختصر تلخیص اور جائزہ پیش کیا جائے گا-

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: