میرا ذہنی اور عملی سفر: ڈاکٹر عطش درانی مرحوم کا یادگار انٹرویو

0
  • 136
    Shares

کل انتقال کرجانے والے معروف محقق، ماہر لسانیات اور دانشور ڈاکٹر عطش درانی کا یہ انٹرویو چند برس قبل اسلام آباد میں جناب سجاول خان نے لیا تھا۔ دانش کے قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔


سوال: آپ کی شخصیت کئی مراحل سے گزر کریہاں تک پہنچی ہے۔ یہ ذہن کا سفر ہے اور باہر کی دنیا کی روایات، نظریات اوران کے ساتھ ٹکراو کا ایک تجربہ بھی ہے۔ لوگ آپ کوآپ کے خیالات کے باعث مختلف قسم کے خطابات سے نوازتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے، جو شخص اپنی اوریجنل سوچ کے ساتھ سوچتا ہے، اس کو ایسی باتوں سے لازماً واسطہ پڑتا ہے۔ آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں گے؟

جواب: میں ایک غریب آدمی کا بیٹا تھا۔ میرے والد نیم پڑھے لکھے شخص تھے۔ میرے پھوپھا صوفی تھے اور میرے والد بھی انہی باتوں اور روایات کے حوالے سے چیزوں کو سمجھتے تھے۔ میرا ذہن شروع ہی سے اپنی ذات سے لے کر کائنات تک سوالات کرتا رہا۔ میرے سوالوں سے میرے رشتہ دار اکثر تنگ آجایا کرتے تھے۔ مجھے اکثر جوابات نہیں ملا کرتے تھے۔

اس کا حل میں نے ایک ڈھونڈا کہ بڑوں کی محفل میں بیٹھنا اور کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ آٹھویں جماعت تک میں خاصا لٹریچر پڑھ چکا تھا۔ اس میں ادب، تصوف اور جاسوسی ناولوں تک بہت کچھ شامل تھا۔ دسویں جماعت میں پہنچنے تک مجھے اردو کے جملے لکھنے پر عبور حاصل ہو چکا تھا اور دسویں جماعت تک اردو زبان میں جملے سازی اور اس کے مجازی تفہیم کے حوالے سے جتنا کچھ سیکھا تھا، اس کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ سوائے کچھ معلومات کے جو پی ایچ ڈی تک میرے کام آتی رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے، ماحول کے ردعمل نے مجھے جو سوالات اٹھانے پر اکسایا اور ان کے جواب ڈھونڈنے کے لئے میں نے کتابوں کی دنیا میں پناہ لی، اس نے مجھے اس قابل بنا دیا کہ 19 برس کی عمر میں میں نیشنل بک کونسل کے ماہنامہ کتاب کا ایڈیٹر بن چکا تھا اور لوگوں کے جملوں کی اصلاح کیا کرتا تھا۔ حالانکہ ابھی میرا بی اے کا رزلٹ آیا تھا۔

مجھے شروع شروع میں غزلوں کا شوق تھا، جیسے ہر ایک کو اردو ادب کے حوالے سے اس دور میں ہوتا تھا۔ میں احسان دانش کے پاس اپنی غزلیں دکھانے کے لئے حاضری دیاکرتا۔ کبھی ڈاک کے ذریعے بھی بھیج دیا کرتا تھا۔ احسان دانش کا رویہ آپ ان کی کتاب ’’جہان دیگر ‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں میرے بارے میں جو چند جملے کہے گئے ہیں، انہیں بھی دیکھا جا سکتاہے۔ وہ کسی کو شاعر کم ہی تسلیم کیا کرتے تھے اور عموماً شاعری کی حوصلہ شکنی کیا کرتے تھے۔ ناصر زیدی، جان کاشمیری حنیف شاہد اور میں وہاں اکثر بیٹھنے والوں میں ہوتے۔ کہنے لگے، تمہارا جملہ بھی بہت مضبوط ہے۔ تمہاری تحریر نثر میں بہت اچھی ہے۔ ایم اے ایجوکیشن میں داخلہ لیاکہ شاید استاد بن جائوں اور مجھے ٹیچر کی نوکری مل جائے۔ نیشنل بک کونسل کی نوکری سال ڈیرھ سال کے لئے کی۔ اس کے بعد بے روزگاری سے زیادہ واسطہ پڑا۔ ان کاموں سے مجھے اتنی یافت نہیں ہو پا رہی تھی کہ میں اپنی زندگی کو آسانی سے آگے بڑھا سکوں۔

عجیب با ت ہے کہ جیسے ہی میں ایم اے ایجوکیشن مکمل کر کے فارغ ہوا، سیدقاسم محمود نے مجھے دوبارہ اپنے ہاں بلا لیا۔ میرا آغاز ان ہی کے ساتھ کام کرنے سے شروع ہوا تھا۔ وہ اس وقت نیشنل بک کونسل میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے۔ میں ان کا انسائیکلو پیڈیا معلومات کا مرتب کیا کرتا تھا۔ اس سے مجھے ریسرچ کی عادت پڑی۔ یہ سارے 19، 20سال کی عمر کے کام ہیں۔ 1976 ء میں جب انہوں نے مکتبہ شاہکار شروع کیا، تو مجھے اپنے ساتھ پھر بلا لیا۔ وہاں اسلامی انسائیکلو پیڈیا اور معلومات اور متعددکتابیں ایڈٹ کیں۔ وہاں بھی کئی کتابیں تحریر ہوئی، جو کئی ادیبوں کے نام سے چھپی ہیں۔ پھر مجھے سیادہ ڈائجسٹ میں بلا لیا گیا۔

میں نے جس شعبے سے ہٹنے کی کوشش کی تھی روزگار کے لئے، اس کی طرف بہت کم جا سکا۔ سیارہ ڈائجسٹ کی ادارت اڑھائی تین برس کی۔ اس دوران مجھے یونیورسٹی میں پڑھانے کا موقع ملا۔ جیسے ہی وہاں تھوڑا سا عرصہ ملا، مجھے مجلس زبان دفتری کے حوالے سے لاہور میں گورنمنٹ سروس مل گئی۔ وہاں اردو نامہ کی ادارت کی۔ اس زمانے میں مقتدرہ قومی زبان بن چکا تھا۔ وہاں سے اسلام آبا دمیں مقتدرہ قومی زبان میں آگیا۔ اصطلاحی، ادارتی تجربوں کے ساتھ۔ تب سے تھوڑی بہت اردو کی خدمت انجام دے رہا ہوں۔

میں سمجھتا ہوں کہ میرا ایجوکیشن کی طرف جانا، فلاسفی، سائیکالوجی، سوشیالوجی، ایجوکیشن اور ایجوکیشن مینجمنٹ اور نصاب کی تیاری، ان سب چیزوں کے حوالے سے جو میری تربیت ہوئی، وہ اردو کی ترقی کے لئے کام آئی۔ اردو کا موجودہ نصاب ظاہر ہے، میں نے مرتب کیا ہے۔ پہلی سے بارہویں تک جو خواندگی کا نصاب ہے، اس میں بھی میری کنٹری بیوشن ہے، میں نے مرتب کیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جو اردو کا نصاب پی ایچ ڈی تک دیا ہے، اس کے لئے بھی میں نے تحریک چلائی تھی۔ 2001 ء میں باڑہ گلی میں جو سیمینار صابر کلہوڑی صاحب نے کیا تھا، اس میں میں یہی چیزیں لایا تھا۔ اسی طرح سے زبان ترقی کیسے کرتی ہے؟ زبان کیا ہوتی ہے؟ ادب کا کتنا کنٹری بیوشن ہے؟ اس سے زیادہ معاشرے کا کتنا کنٹری بیوشن ہے؟ زبان، لیکسیکو گرافی، پوسٹ لیکسیکو گرافی اور ڈیٹا بیس ڈیولپمنٹ، ان سب چیزوں کو لے کر زبان کی ترقی کے حوالے سے رکاوٹوں کو دور کرنے میں مصروف رہا ہوں کمپیوٹر کی ترقی سے متعلق کام آپ کے سامنے ہے۔ مختلف اصطلاحیات کا فیلڈ اور اردو بورڈ کو جامہ پہنانا اور اس کے لئے کورسز اور تربیتی پروگرام تیار کروانا اچھا خاصا کام ہے۔ 1970 ء سے 2010 ء تک اردو بہت آگے آچکی ہے۔ اس کو آگے بڑھانے میں تھوڑا بہت میرا بھی حصہ ہے جتنے بھی کام میں نے کئے ہیں اور جن کو بظاہر اُس دور میں ناکامیاں سمجھا جاتا تھا، وہ سب مل کر مجھے اس ڈیوٹی پر، جس پر میں موجودہوں، آگے بڑھانے میں کنٹری بیوشن دیتی ہیں۔ میں اپنے آپ کو ناکام لوگوں میں شمار نہیں کرتا۔ جدوجہد کی بات ہو سکتی ہے اور اس میں رکاوٹیں ضرور رہی ہیں۔ میں اگرچہ باقاعدہ استاد نہیں رہا، لیکن بہت سے طلبا میری نگرانی میں پی ایچ ڈی کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے مجھے استاد ہونے کا شرف اب بھی حاصل ہے۔

نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت پر دو عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ایک وراثت اور دوسرا ماحول۔ میں نفسیات جن دنوں پڑھاتا تھا، نفسیاتِ تعلیم، تو مجھے ایک چیز کھٹکتی تھی کہ میں کیسے اس کو نفسیات میں تلاش کروں اور یہ علم مجھے جواب دینے سے قاصر تھا۔ سوال یہ تھا کہ وراثت بھی باہر سے اور ماحول بھی باہر سے اثر انداز ہوتا ہے۔

کیا انسان کے اندر یا انسائیٹ میں کچھ نہیں ہوتا؟کیا انسان ماحول اور وراثت پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتا؟ تہذیب کا ارتقا تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ انسان ایسا کرنے کی اہلیت رکھتاہے۔ چنانچہ بہت غوروفکر کے بعد میں نے سائیکالوجی کا نقص دریافت کیا کہ نفسیات صرف Inverted Bell میں اوسط قابلیت کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں بالعموم 70 فیصد لوگ ہوتے ہیں۔ ذہین اور زیادہ آئی کیو رکھنے والے لوگ یا زیادہ کارکردگی یا بصیرت رکھنے والے افراد نفسیات کے دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں وہ کوئی حکم نہیں لگاتی۔

اس روشنی میں میں جب اپنے سفر کو مڑ کر دیکھتا ہوں، تو مجھے نظر آتا ہے کہ وراثت اور ماحول کا ردعمل میرے اندر ہمیشہ سے موجود رہاہے۔ عرف عام میں اسے خود سری اوربغاوت کہتے ہیں۔ آگے چل کر مذہبی نقطۂ نظر سے مجھے کبھی دہریہ، کبھی بے مرشدہ اور کبھی کچھ اور القابات سے نوازا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ میں، جیسے کہ میں نے اپنی ایک کتاب میں ذکر کیا ہے، اڑھائی برس سے اپنی شخصیت کو پہچانتا ہوں۔ اپنے سیلف سے آگاہ ہوں اور اس وقت سے ہی یہ سوال میرے ذہن میں ہے کہ میں کون ہوں اور میرے اردگرد یہ سب لوگ کیا ہیں؟اچھا، یہ میرے ماں باپ ہیں؟ یہ میرے بہن بھائی ہیں، یہ مجھے بتایا گیا۔ میری فطرت نے مجھے نہیں بتایاکہ یہ میرے ماں باپ ہیں اور یہ میرے بہن بھائی ہیں۔ یہ مجھے معاشرے کی طرف سے بتایا گیا۔

میرا بچپن اپنے پھوپھا کے گائوں میں گزرا، جو صوفی تھے اور تصوف اور رشدو ہدایت کے سلسلے سے وابستہ تھے۔ یہاںوہ ساری چیزیں تھیں، جن میں مجھے بہت سے تضادات نظر آتے تھے۔ چنانچہ سوالات میرے ذہن میں اٹھتے اور میں جو باتیں کرتا تھا، ان پر مجھے القابات ملنا شروع ہو گئے۔ مطالعے کی دین اور غور و فکر کے بعد تصوف کے بارے میں میرا نقطۂ نظر یہ بنا کہ یہ ایک عملی فلسفہ ہے، جو صرف ایک بات سے، جسے واحدیت کہتے ہیں، ثابت کرنے کے لئے عملی مشقوں سے گزارتا ہے۔ اس کے علاوہ تصوف کے دامن میں کچھ بھی نہیں۔ میرے نزدیک یہ انسان کا فریب نظر ہے کہ وہ صوفیانہ وارداتوں اور مشقوں کے ذریعے کسی بڑی حقیقت یا عین الحق تک پہنچتا ہے۔ یہ ان کی داخلی اور سبجیکٹو رائے ہے، جس کو وہ طبقہ فروغ دیتا ہے شاید میرے اندر کایہ سائنٹفک رویہ تھا، جو ہمیشہ قائم رہا اور اب تک اس میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آیاکہ کوئی بات کتنی ہی زیادہ کہی گئی ہو اور کتنی ہی بڑی اتھارٹی کی طرف سے کہی گئی ہو، جب تک وہ تجربے میں آکر ثابت نہیں ہوتی، قابل قبول نہیں ہے اور کوئی بات اس وقت تک قابل استرداد نہیں ہے، جب تک وہ تجربے میں آکر رد نہیں ہوتی۔ جیسے کہ ایک روایت ہم سنتے ہیں کہ ہر آدمی کو کسی صوفی کے پاس جانا چاہیے۔ اس کاارادت مند ہونا چاہیے اور اس سے رشدو ہدایت حاصل کرنی چاہیے۔ یہ بات میرے لئے قابل قبول اس لئے نہیں ہوئی کہ رشد وہدایت جس کا نام ہے، اس کا عمومی مفہوم تو یہ ہے کہ ایک خاص مسلک یا شریعت سے وابستہ ہو جایا جائے یا کوئی مشقیں ہیں، ان کی پابندی کی جائے۔ پابندی تو اہل شریعت یااہل فکر دیتے ہیں۔ یہ صوفی کی طرف سے کیوں؟ صوفی کیا دے رہا ہے؟ قدرت اللہ شہاب نے کسی کے اندر طلب پیدا کرنے کے لئے ڈگڈگی بجانے والے کی مثال دی ہے۔ میں نے اس کو غور سے سمجھنے کی کوشش کی۔ طالبعلموں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے تفریحی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہم سکھلائی کا عمل شروع کرتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے تصوف کو یوں جسٹی فائی کرنے کی کوشش کی۔

دوسری طرف جب میں یہ دیکھتا تھا کہ یہ مذہبیت اور سوکس کی بات ہو رہی ہے۔ سوکس کے حوالے سے شریعت آپ کو کچھ قواعد اور فرامین دیتی ہے اور مختلف شریعتیں دیتی رہی ہیں کہ زندگی یوں گزارنی ہے۔ شریعت کے اندر اپنے خالق کے ساتھ تعلق کی بنیاد بنتی ہے۔ تصوف ہمیں سماجی اصول، طریقے یا شریعت تو نہیں دیتی۔ تصوف ہمیں ایک اور چیز کی طرف لے کر جاتی ہے اور اس کے پیچھے ایک مفروضہ موجود ہے۔ تحقیق کی دنیا میں مفروضہ کوئی فیکٹ نہیں ہوتا۔ یہ وہ بیس لائن ہوتی ہے، جس سے ہم نیچے نہیں اتر سکتے یا ہماری حد آجاتی ہے۔

وہ مفروضہ، جیسے میں نے احدیت کی بات کی تھی اورجسے بعد میں وحدت کے ساتھ بدل دیا گیا، یہ ہے کہ یا تو وحدت الوجود ہے Being کی یک جانی ہے یا وحدت الشہود ہے۔ ظاہر میں ایسا لگتا ہے کہ یہ Being یکجان ہے، ایک ہی ہستی مختلف شکلوں اور صورتوں میں ہے۔ یعنی کل مختلف اجزا میں ہے۔ تمام مخلوقات، تمام ایٹم، تمام ذرے اور انسان اس کے ذرے ہیں۔ ہر ذرے میں الگ الگ خود، سیلف، انا جو بھی آپ نام دیں، موجود ہے اور کچھ حد تک مقرر کردہ رستوں اور اصولوں پر وہ چیزیں چل رہی ہیں۔ یہ تصوف کا لب لباب ہے زندگی گزارنے کا ڈھنگ کیا اسی مفروضے کی بنیاد پر متعین ہوتا ہے؟اس مفروضے پر تو ہم وحدت الادیان کی طرف چلے جاتے ہیں۔ پھر تو مذاہب اور انسانوں کی تقسیم بے معنی ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں ہمیں ایک ہی مفروضے یا فلسفے کو پیش نظر رکھنا پڑتاہے کہ ہم ایک کل کا جزو ہیں۔ اس کل کی ایک منشا ہے اور ہماری بھی ایک مرضی ہے۔ ہمیں اپنی منشا اس کی منشا کے تابع کر دینی چاہیے۔ اس میں پھر تقدیر پرستی کا عمل دخل زیادہ ہو جاتا ہے۔ گویا ہمیں کسی جدوجہدکی ضرورت نہیں اور یہ کہ ماحول اور وراثت میں تبدیلی لانے کے لئے اپنی قوت ارادی سے کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ میں انہی باتوں کے حوالے سے غور و خوض کرتا رہا ہوں۔

میرے مشاہدے کے مطابق معاشرہ ہمیںمجبور کرتا ہے کہ ہم ان کی روایات کے پابند رہیں۔ ان کی طے شدہ حدود ہیں، ان کے اندر رہیں اور ان کے بارے میں سوالات نہ اٹھائیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ جب ہم استفسار کریں گے، تو گویا شک کی بنیاد رکھیں گے۔ تشکک ایمان کو کمزور کرتا ہے، اس لئے ایمان روایات کو بلا چون و چراں تسلیم کرنے کا نام رکھ دیا گیا ہے۔

جب میں مفکرین کو دیکھتا ہوں۔ چاہے وہ اقبال ہوں، بلکہ امام غزالی بھی، اپنی کچھ حدیں باندھ کر وہ بھی سوال کرتے ہیں۔ پھر توبہ بھی کرتے ہیں او رتنبیہہ الغافلین بھی لکھتے ہیں۔ ابن رشد کو بھی دیکھتا ہوں کہ وہ بھی سوال کرتے ہیں۔ ان سب مفکرین کا سلسلہ جو مجھ تک پہنچتا ہے، ان کالب لباب یہ ہے کہ تسلیم کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ردعمل میں کچھ معاشروں نے جیسا کہ آپ احیائے علوم کی بات کرتے ہیں، اس میں لوگوں کو ان کے ذاتی سبجیکٹو شوق کی حد تک محدود کر دیاگیا اور وہ so called آزاد فکر اور انڈی پینڈنٹ ہو گئے۔ اب اس میں توازن قائم کرنا یا حد لگانا کہ ہمیں کس حد تک روایات یا تسلیم کی حد تک رہنا ہے؟ کیوں رہنا ہے؟ کہاں سے ہم نے اپنے ردعمل اور غور و فکر کا اجرا کرنا ہے اور اس کی حد کہاں تک ہے، یہ نفسیات میں سوال مجھے تنگ کرتا رہا ہے کہ ایسا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

مثلاً اگر آپ وراثت اور ماحول کے عوامل کے گراف بنائیں، تواس کا مطلب سیدھا سادیہ بنتاہے کہ جس کو بہترین وراثت ملی اور جس کو بہترین ماحول ملا، اس کو بہترین فرد ہو جانا چاہیے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ایک بیضہ سا بن جاتا ہے دونوں کے درمیان۔ ساری نفسیات ایسے بیضوں سے بھری پڑی ہے۔ انتہائی والا مقام کسی بیضے کے اندر نہیں آتا۔ گویا چاہے آپ انتہائی وراثت اور انتہائی ماحول دے دیں، انتہائی شخصیت کو آپ کبھی پیدا نہیں کر سکتے۔ اس گیپ میں کیا چیز خارج یا شامل ہو جاتی ہے کہ بہترین وراثت اور ماحول کے باوجود کوئی شخص بہترین مقام سے پیچھے ہی رہتا ہے، اس کا اہل نفسیات کے پاس ابھی تک کوئی جواب نہیں۔

ہماری بات کا تعلق سماجیات، عمرانیات اور نفسیات سے ہے۔ میں جس ماحول، جس مسلک اور دور میں پیدا ہوا ہوں، اس کو کہاں تک سوالیہ نشان بنا سکتا ہوں؟ معاشرہ کہاں تک مجھے اس کی اجازت دیتا ہے ؟میری ذات کہاں تک اس کو لے کر چلتی ہے؟ میرا داخلی فیکٹر کس حد تک قابل قبول اور کس حد تک گردن زدنی ہے، اس کا فیصلہ سوشیالوجی میں موجود نہیں۔ جب ہم اس کے اندر دور تک جھانک کر دیکھتے ہیں، تو وہاں پر بھی یہی بات ملتی ہے کہ کچھ لوگ رسوم و رواج میں لگے ہیں، توانہیں لگے لگا رہنے دو۔ مت چھیڑو ان کو اور کچھ لوگ اگر نہیں کرنا چاہتے، تو نہ کریں۔ مت چھیڑو ان کو۔

میرے جیسا آدمی ابھی تک کسی گومگو میں کھڑا ہے کہ میرے سوال کاجب جواب کہیں سے نہیں مل رہا، تو وہ کہاں جائے؟ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا، تم نہیں جانتے میں کتنی ذہانت رکھتا ہوں اور کس حد تک میرے اندر چیزیں موجود ہیں۔ مجھے افسوس ہے، میں ان چیزوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو جائوں گااور دنیا اس سے کبھی صحیح فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔

اسی طرح میرے اندر ہزاروں بلکہ لاکھوں سوالات ہیں، جن کے جوابات کسی سکالر، کسی محقق، کسی فیلڈ، کسی ڈسپلن، کسی طبقے یا کسی گروہ سے ابھی تک نہیں ملے۔ شاید علم کے ارتقا کی وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ یہ سوال ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے، لیکن جوابات نہیں مل پائیں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: