بالغ رائے دہندگی ۔۔۔۔ عثمان سہیل

0

بالغ رائے دہندگی احقرکے تصور کے مطابق جمہوری ملک بہت سی چھوٹی چھوٹی اکائیوں پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں حلقہ انتخاب کہتے ہیں۔ انہی اکائیوں سے بالغ افراد کی رائے (ووٹنگ) سے نمائندگان منتخب ہوکر متعلقہ بلدیاتی اداروں اور صوبائی و قومی قانون ساز اداروں میں بیٹھتے ہیں۔ اس تمہید کے بعد دو عدد مناظر دیکھتے ہیں۔ سندھ میں حالیہ بلدیاتی الیکشن کے ہنگام بلاول بھٹو زرداری صاحب نے سجاول ٹھٹھ کا دورہ کیا۔ دورہ کی میڈیا کوریج میں ایک ٹی وی چینل پر ایک مقامی نوجوان کا انٹرویو نشر ہورہا تھا۔ نیم پختہ مکان میں بھٹو صاحب مرحوم اور بے نظیر بھٹو مرحومہ کی تصاویر آویزاں تھیں۔ نوجوان کہ رہا تھا کہ وہ نہی جانتا کہ اب پیپلز پارٹی کو کون چلا رہا ہے لیکن ہمارا ووٹ بھٹو کا ہے۔ آئیے اب لاہور چلتے ہیں۔ میٹرو اورنج ٹرین کی زد میں آنے والی چند دکانات کے مالکان سے ایک ٹی وی چینل کی نمائندہ کی گفتگو چل رہی ہے۔ دکان دار اپنے جمے ہوئے کاروبار کے اکھڑنے پر پریشان اور حکومتی فیصلے سے نالاں ہیں۔ سخت جذبات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ دفعتاً نیوز چینل کے نمائندے نے دکان داروں سے استفسار کیا کہ انہوں نے آخری الیکشن میں کس پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔ جواب ملا، مسلم لیگ نون کو۔ چینل کے نمائندہ نے پوچھا آئندہ کسے ووٹ دیں گے جواب ملا ہمارا ووٹ شیر کا ہے اسی کو دیں گے۔ ان دونوں گفتگوؤں کا حوالہ دینے کا مقصد بذات خود جمہویت یا بالغ رائے دہندگی پرتبرا یا باالفاظ دیگر ہفوات رقم کرنا نہی ہے۔ احقر فرد کی رائے اور قانون کے دائرہ میں فرد کی اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق کا قائل ہے جس کی ہمارا آئین بھی ضمانت دیتا ہے۔ یہ قصے چھیڑنے کا مقصد جمہور سے متعلقہ چند زاوئیے سامنے لانا ہے۔ یہ زاوئیے نہایت دلچسپ ہیں۔ لیکن یہیں پر چند سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً احقر کا تعلق قومی اسمبلی کے جس حلقہ سے ہے یہاں سے منتخب ہونے والے موجودہ اور سابقہ دونوں معزز ممبران کی قانون سازی میں بامعنی شرکت کو چھوڑئیے ان کو اسمبلی کے فرش یعنی فلور آف دی ہاؤس بولتے ہوئے بھی کبھی نہی سنا گیا۔ ان حضرات میں دوسری مشترکہ قدر یہ ہے کہ ایک کو چھوڑ کر دو حضرات علاقہ میں بدمعاشوں کے ثقہ سرپرست تھے/ ہیں۔ ان میں سے ایک کا پہلے اکلوتا صاحبزادہ اور بعد ازیں وہ خود بھی انہی سرگرمیوں کے باعث مقتولین کی فہرست میں اپنے ناموں کا اندراج کروا چکے ہیں۔ ازبسکہ حالیہ معزز ممبر لشکر جھنگوی اور افغان جنگ کا تجربہ بھی رکھتے ہیں سو آپ موصوف کی صلاحیتوں کے بارے ظن و قیاس کے گھوڑے دوڑا سکتے ہیں۔ تاہم کیا ہم اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ یہ سبھی مروجہ و آزمودہ نظام کے تحت منتخب نمائندگان تھے یا ہیں۔ چنانچہ کیا ان کے انتخاب پر تنقید درحقیقت حلقہ ھذٰا کے شہریوں کی ملکی بندوبست میں شرکت کے احساس میں کمی کا باعث نہ ہوگی۔ کیا اس حلقہ سے باہر بیٹھے کسی فرد کی یہاں کے شہریوں کے انتخاب پر حرف زنی جائز ہوگی؟ آخر یہ چناؤ ان کا حق ہے۔ مروجہ “مقبول جمہوریت” یعنی پاپولر ڈیماکریسی کے تناظر مین اگر یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہوں کہ سجاول، لاہور اور راقم کے حلقہ سے تعلق رکھنے والےشہری کی اکثریت اپنی زندگیوں کے مجموعی حالات کو ایک سے دس کے پیمانے پر پرکھتے ہوئے لازمی طور پر پانچ سے زیادہ مقدار میں مطمئن ہے۔ مقمح اور قانع جیسے مشکل الفاظ سےاغماض کرتے ہوئے سادہ الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایسے ہی جینے اور رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں سوال اٹھایا جاسکتا ہے آیا کسی باہر کے فرد کو ان کے انتخاب میں دخل و اثرانداز ہونے کا حق حاصل ہے؟ اگر ہے تو کس قدر ہے۔ یہاں ایک اور دلچسپ نکتہ بھی پیش کرنا چاہوں گا۔ میرا تعلق جس حلقہ سے ہے وہاں الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال دوہزار تیرہ میں ہونے والے قومی چناؤ کے وقت چار لاکھ سے کچھ زائد ووٹرز تھے۔ ان چار لاکھ میں سے قریب دو لاکھ گیارہ ہزاررائے دہندگان نے حق رائے دہی استعمال کیا جو کل درج شدہ کا لگ بھگ چوبیس فیصد (٪24) ہیں۔ ان چوبیس فی صد میں سے ستاون فی صد (٪57) نے موجودہ منتخب نمائندہ کے حق میں رائے دی یعنی چار لاکھ میں سے چورانوے ہزار۔ کیا سادہ منطق کی رو سے منتخب نمائندہ کو حلقہ انتخاب کا حقیقی نمائندہ سمجھا جاسکتا ہے؟ اب اس منطر کو مزید وسیع کرتے ہیں۔ سال دو ہزار تیرہ کے قومی چناؤ میں کل رائے دھندگان میں سے ٪55 نے حق رائے دھندگی استعمال کیا جس کا صوبائی منظر یوں ہے کہ صوبہ سندھ اور پنجاب میں نصف سے زائد جبکہ کے پی کے اور بلوچستان میں نصف سے کم اندراج شدہ رائے دہندگان نے اس عمل میں حصہ لیا۔ ان اعداد و شمار سے اندازے لگانے اور نتائج اخذ کرنے سے گریز کیا جاتاہے۔ اس مضمون کا مقصد بجز سوال اٹھانے کے کچھ نہی ہے۔ اپنی سیاسی وابستگی سے قطع نظر خامہ پرداز نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس موضوع پر اسلوب میں طنز اور دانستہ ابہام سے گریز کرتے ہوئے بات کی جائے۔ احقر کی دانست میں منطقی سوالات قائم کرنا اور ان کو ترتیب دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی جوابات مہیا کرنے کی سمت پیش رفت ہوسکے گی۔ آخر میں، شاعر عصر جناب ظفر اقبال کی جزوی پیروی کرتے ہوئے، بطور مقطع ایک غیر متعلق بات۔ آئین پاکستان مجریہ انیس سو تہتر کے باب بنیادی حقوق، شق چودہ میں درج دو اہم نکات کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ اول فرد کے وقار اور نج کی چاردیواری کو کسی صورت پامال نہی کیا جائے گا۔ دوم شواہد حصول کیلئے کسی فرد پر تشدد نہی کیا جائے گا۔ کیا فی الواقعہ ایسا ہی ہے۔ کیا حکومتی ادارے فرد کو حاصل ان آئینی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں؟ بندہ عاجز کو گردان کٹوانے کا ہرگز شوق نہی ہے چنانچہ اتنی سی بات پر اکتفا کیا جائے۔ اللہ آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔ نوٹ: چناؤ سے متعلق دئے گئے اعداد و شمار الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔ 

About Author

عثمان سہیل باقاعدہ تعلیم اور روزگارکے حوالے سے پیشہ و ور منشی ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف کاروباری اداروں میں خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایک عدد زدہ مضطرب روح جو گاہے اعداد کی کاغذی اقلیم سے باہر بھی آوارہ گردی کرتی رہتی ہے۔دانش کے بانی رکن ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: