فلم “ٹائیگرز” اور بے بی فارمولہ انڈسٹری کی سیاہ تاریخ —- ثمینہ رشید

0
  • 78
    Shares

آج کل آسکر ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹر کی فلم “ٹائیگرز” –جس میں عمران ہاشمی نے اہم کردار ادا کیا ہے– کو لے کر بہت سنسنی خیز خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ فلم ایک سچی کہانی پر مشتمل ہے جس کا مرکزی کردار ایک مشہور ملٹی نیشنل کمپنی میں، پاکستان میں، بے بی ملک کا ایک سلیز مین سید عامر رضا ہے، جو یہ جاننے کے بعد کہ جس بے بی فارمولہ کو بیچنے کے لئے وہ ڈاکٹرز مارکیٹنگ کے مختلف طریقوں سے آمادہ کرتا رہاہے وہ وہ دراصل لاکھوں بچوں کی موت کا سبب بن رہا ہے۔ عامر انٹرنیشنل بے بی فوڈ ایکشن نیٹورک IBFAN کی مدد سے اس انڈسٹری سے لڑنے اور حقائق کو سامنے لانے کے لئے میدان میں اترتا ہے۔

سوشل میڈیا پہ کہانی کے خلاصے کو اسطرح بیان کیا جارہا ہے کہ اس سے بہت سی خواتین نہ صرف پریشان ہوگئی ہیں بلکہ ان کے ذہن میں اپنے ان بچوں کی صحت کے حوالے سے جو کہ کسی وجہ سے فارمولہ ملک پر پروان چڑھے، ُکئی سوالات بھی جنم لے چکے ہیں۔

فلم ٹائیگرز کے بارے میں اسطرح کا ریویو پڑھنے کے بعد آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کوئی حالیہ مسئلہ یا تنازع ہے؟ یا یہ انڈسٹری اب بھی اسی طرح کام کر رہی ہیں ؟ وغیرہ۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے اس کے بیک گراؤنڈ /ہسٹری اور دیگر معلومات کو جاننا بہت ضروری ہے جو درجِ زیل ہیں۔

انفینٹ فارمولہ مِلک کے خلاف چلنے والی مہم آج کی یہ پچھلے چند سال کی کہانی نہیں بلکہ یہ چند دہائیوں پہلے کا قصہ ہے۔ انیس سو ستر 1970 کی بات ہے، جب اس کمپنی پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ تیسری دنیا کی ماؤں کو فارمولہ مِلک کی طرف راغب کر رہا ہے جو نہ صرف غیر صحت بخش ہے بلکہ مہنگا بھی۔

الزامات کی سنجیدہ نوعیت اس کیس کو امریکن سینیٹ اور عالمی ادارۂ صحت زیر بحث لانے کا سبب بنی۔ انیس سو چوہتر (1974) میں سوشل رائٹس گروپ نے انڈسٹری کی استحصالی پریکٹس کو عوام کے سامنے لانے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم تحریر “دی نیو انٹرنیشلسٹ” میں شائع ہوئی اور اس نے کمپنی کی بدترین مارکیٹنگ پریکٹس کا پردہ مکمل طور پر فاش کردیا۔

کمپنی کے نزدیک “بےبی کا مطلب تھا بزنس”۔ اور اس کو بنیاد بنا کر کمپنی نے تھرڈ ورلڈ کی ماؤں کو اس فارمولے کا عادی بنایا۔ اس سلسلے میں دوسری اہم اشاعت ایک کتابچے کی تھی جسے لندن سے “لندن وار آن وانٹ آرگنائزیشن” نے شائع کیا، جس کا نام تھا “دی بےبی کِلر The Baby Killer” جس نے بے بی فارمولا انڈسٹری کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔

تیسری دنیا کی مائیں جو پہلے ہی غربت اور ان ہائی جینک کنڈیشن میں زندگی گزار رہی تھیں اور ایشیا، افریقہ، اور لاطینی امریکہ کے غربت زدہ علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ جہاں بچے صرف اسلئے مر رہے تھے کیونکہ ان کی مائیں اس مغرب سے در آمد شدہ فارمولہ مِلک کو تو اپنا چکی تھی لیکن اسے اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا کہ اگر فارمولہ مِلک آلودہ پانی میں تیار کیا جائے گا تو اس سے بچے نہ صرف مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں بلکہ ڈائیریا جیسے مرض کا شکار ہوکر موت کے منہ میں بھی جاسکتے ہیں۔ نہ ہی انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ اگر دی ہوئی مقدار سے زیادہ پانی ملا کر فارمولہ ملک تیار کیا گیا تو اس میں موجود غذائی اجزاء بچے کے جسم میں جذب نہ ہونے کی وجہ سے بچہ غذائیت کی کمی (malnutrition) کا شکار ہوکر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

اس کتابچے کے مطابق کمپنی نے اسکے لیے تین طرح سے کام کیا۔
سب سے پہلے ایک ایسی جگہ اس کی ضرورت پیدا کی جہاں اس کی ضرورت نہ تھی۔
صارف کو راغب کرکے برین واشنگ کی گئی کہ یہ پروڈکٹ بہت ضروری ہے اور اس کا استعمال ناگزیر ہے۔
اور اس پروڈکٹ کے مفت سیمپلز لوگوں تک پہنچائے گئے تاکہ وہ پھر مستقل اسی کو استعمال کریں۔

لیکن ان سب حقائق کے برعکس کمپنی نے فارمولہ ملک کو ایسے ممالک تک پہنچایا جہاں اس کی ضرورت نہ تھی۔ خوش رنگ پمفلٹ چھپوا کر سیلز گرلز جو کہ نرسز کے مخصوص لباس میں جو کبھی اصلی نرس ہوتی تھی تو کبھی صرف عام سیلز گرل جو کہ بغیر بتائے ان ماؤں کے گھر پہنچ کر انہیں مفت فارمولہ مِلک کے سمپل دیا کرتی تھیں۔ اور بعد میں سیل کیا کرتی تھیں۔ بقول ایک ماں کے کہ نرس نے جب بات شروع کی تو کہا کہ “ماں کا دودھ بہترین*تھا* اور اسکے بعد ان سپلمنٹری فوڈز کی تفصیلات بتانا شروع کردیتی تھیں جس کی ماں کا دودھ پینے والے بچے کو ضرورت ہوگی“۔ ماں کے بیان کے مطابق نرس کا کہنا تھا کہ “اگر پیدائش کے وقت سے ہی بچے کو فارمولہ مِلک شروع کردیا جائے تو غیر ضروری مسائل سے چھٹکارا ممکن ہے۔“

اس طریقے سے انہوں نے ماؤں کا اعتماد بریسٹ فیڈنگ کی طرف سے ختم کردیا۔ مائیں سمجھنے لگیں کہ ان کی خراب صحت کی وجہ سے ان کا دودھ پلانا بچوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یہ ایک طرح کا خوف تھا جو ماؤں میں پیدا کیا گیا تھا۔ اور مائیں یہ فیصلہ کرنے لگیں کہ بوتل کا دودھ ایک بہتر اور ضروری چوائس ہے۔

ہسپتالوں پر بھی یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ ماؤں کو اس طرف راغب کرنے کا کام کر رہے تھے۔ نیو انٹرنیشلسٹ کے مطابق اسپر دو طرح سے کام ہوا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے والی ماؤں میں مفت دودھ اور بوتلوں کی تقسیم کے لئے ہسپتال کو سیمپلز فراہم کئے گئے۔ اسکے بدلے میڈیکل پروفیشن کے لوگوں کو ان کے ہسپتال بنانے /مرمت کرنے، ریسرچ پروجیکٹ، گفٹس، پبلیکیشنز، دفاتر کی آرائش اور سفری اخراجات کی مد میں ملین آف ڈالرز خرچ کئے گئے۔

اسطرح تیسری دنیا کی ماؤں کو اس ملک فارمولے کا عادی بنایا گیا۔ جس نے اپنے محدود آمدنی کی وجہ سے دودھ میں تین گنا پانی ملانا شروع کردیا۔ جو کہ آلودہ بھی تھا۔ نیویارک ٹائمز کی ایک اسٹوری کے مطابق جمائیکا میں ایک خاندان کی اوسط آمدنی سات ڈالر فی ہفتہ تھی جو ایک ماں کو اس بات پر مجبور کرتی تھی کہ وہ فارمولہ ملک میں زیادہ پانی شامل کرے تاکہ اس کے باقی بڑے دو بچے بھی کچھ کھا سکیں۔

اس فارمولہ مِلک کا نتیجہ دیکھنا ہو تو تیسری دنیا کی کچھ آبادیوں، ہسپتالوں اور قبرستانوں میں دیکھا جاسکتا تھا۔ جہاں ایسے بچے دیکھے جاسکتے ہیں جن کا جسم سوکھ چکا ہوتا ہے اور ان کے بڑے سے سروں کے ساتھ کانپتے ہوئے بوڑھے جسم نظر آتے ہیں۔

ٹائمز میگزین کی رپورٹ میں یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے آفیشل ڈاکٹر اسٹیفن جوزف نے فارمولہ مِلک کو لاکھوں بچوں کی اموات کا زمے دار ٹہرایا تھا۔ جو کہ زیادہ پانی ملا دودھ پلانے سے کم غذائیت اور ڈائیریا کی وجہ سے واقع ہوئی تھیں۔

انیس سو چوہتر میں پے در پے فارمولہ مِلک کے حوالے سے کمپنی کے خلاف چھپنے والی رپورٹس کو نیسلے نے آرام سے برداشت نہیں کیا بلکہ “وار آن وانٹ“ کے جرمن مترجم پر مقدمہ کردیا جس نے اس رپورٹس کا ترجمہ کرکے سوئیڈن میں  the baby killer کے نام سے شائع کیا تھا۔ انیس سو چھہتر میں کمپنی یہ مقدمہ جیت گئی لیکن عدالت کی طرف سے وارننگ جاری کی گئی کہ یہ اپنی مارکیٹنگ یا پبلسٹی کے طریقہ کار کو تبدیل کرے۔ ٹائم میگزین نے اس وقت اسے صارف کی اخلاقی فتح کا نام دیا۔

لیکن کمپنی کی دھوکہ دہی پر مشتمل پبلسٹی کے طریقہ کار پر امریکہ میں اس کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ کا آغاز ہوا۔ جلد ہی بائیکاٹ فرانس، فن لینڈ اور ناروے کے ساتھ ساتھ کئی اور ممالک میں پھیل گیا۔ انیس سو اٹھہتر میں اس حوالے سے امریکن سینیٹ میں کیس کی سماعت کا آغاز کیا گیا۔ اس حوالے سے کئی عالمی اداروں سے میٹنگز اور مشاورت کا اہتمام کیا گیا۔ جن میں ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، “دی انٹرنیشنل بے بی فارمولہ ایکشن “ بھی شامل تھے۔

انیس سو اکیاسی 1981 میں جب چونتیسواں ورلڈ ہیلتھ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اجلاس کا آغاز ہوا تو ایک ریزولوشن پاس کی گئی جس کے تحت “ انٹرنیشنل کوڈ آف مارکیٹنگ بریسٹ فیڈنگ سبسٹیٹیوٹ (متبادل) “ بنایا گیا۔

یہ کوڈ وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح بچوں کے دودھ کی مارکیٹنگ کی جاسکتی ہے۔ یعنی فارمولہ مِلک کے لئے دنیا بھر میں پروموشن کا ایک طریقۂ کار سیٹ کردیا گیا۔ جس کہ تحت فارمولہ مِلک کی کمپنیز کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ:-

وہ اپنی پروڈکٹ کو ہاسپٹلز، شاپس، اور عام عوام میں پروموٹ نہیں کرسکیں گے۔
ماؤں کو فری سیمپلز نہیں دے سکتیں۔
کسی بھی ہیلتھ ورکرز یا ماؤں کو گفٹس نہیں دیں گی ۔
پروڈکٹ کے متعلق مس لیڈنگ/ غلط معلومات نہیں فراہم کریں گی۔
سب سے اہم بات یہ کہ پروڈکٹ پر فارمولے کے بارے میں واضح طور پر لکھنا ہوگا۔

اگلے مرحلے پر اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ یہ اگر یہ کوڈ قانون ہے تو اس کا مکمل طور پر نفاذ کس طرح ممکن ہے۔ ” بے بی ملک ایکشن“ نے (جو اس کونفلیکٹ پر کافی عرصے سے کام کر رہی ہے) نے اس پر کافی کام کیا ہے اور لوگوں میں اس سلسلے میں آگہی و شعور کے ساتھ بریسٹ فیڈنگ کی افادیت سامنے لانے کا کام بھی کیا اور کررہی ہے۔

بچوں کے حقوق کے لئے سرگرم عالمی تنظیم “سیو دی چلڈرن“ کے ایک سنئیر ماہر غذائیت کے مطابق ماں کے دودھ میں موجود وٹامن اے بچوں کو اندھے پن اور عام بیماریوں سے ہونے والی اموات سے محفوظ رکھتا ہے اور زنک انہیں ڈائیریا سے بچاتا ہے۔ اگر ماہ بچے کو صرف چھ ماہ بھی اپنا دودھ پلاتی ہے تو بچے کی سلامتی کے چانسز چھ گنا بڑھ جاتے ہیں۔
اسکے علاوہ بھی جنرلی جو بچے ماؤں کو دودھ پیتے ہیں ان کی جسمانی اور جذباتی نشونما فارمولہ ملک پینے والے بچوں سے بہتر دیکھی گئی ہے۔ فارمولہ ملک کی بہ نسبت دوسرے بچے وقت سے پہلے یا مناسب وقت پر چلنا شروع کردیتے ہیں۔

سوشل رائٹس گروپس کے مطابق اتنا عرصہ گزر گیا لیکن اکثر کمپنی کی اس حوالے سے خلاف ورزیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ موضوع کبھی ختم نہیں ہوسکا ہے نیسلے اب بھی پوری طرح اس کوڈ کو فالو نہیں کرتا۔ اس حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کوڈ کا نفاذ ہر ملک پر منحصر تھا کہ وہ کس طرح اس کا نفاذ ممکن بنائے۔ کچھ ممالک نے اسے ایک قانون بنا کر نافذ کردیا ہے۔ لیکن اب بھی ترقی پزیر ممالک میں (جہاں اس کی بہت زیادہ ضرورت تھی) مکمل نفاذ نہیں ہوسکا ہے۔ اسلئے کلینکس پر صحت مند بچوں کی فارمولہ ملک کے ساتھ تصویریں، ڈاکٹرز کے پاس ان کے رائٹنگ پیڈز وغیرہ بھی اس کوڈ کی خلاف ورزی کی ایک شکل ہے۔

فروری دو ہزار اٹھارہ میں ایک اسٹڈی سامنے آئی جو چالیس ممالک میں نیسلے کی ستر سے زائد پروڈکٹس کے بارے میں تھی۔ اسٹڈی کے مطابق کمپنی کی پالیسی اشتہارات کے حوالے سے ہر ملک میں مختلف ہے۔ مثال کے طور پر ساؤتھ افریقہ میں یہ اپنی پروڈکٹس میں شکر کا متبادل Sacrose کا استعمال کر رہی ہے۔ جب کہ برازیل اور ہانگ کانگ میں یہی کمپنی اپنے اشتہارات میں دعوی کرتی ہے کہ اس کی پروڈکٹس Sacrose یا شکر کے متبادل سے پاک ہیں۔ یہی حرکت انہی ممالک میں وہ ونیلا فلیور کے استعمال کے بارے میں کرتی ہے۔

یعنی کمپنی اپنی پروڈکٹس کی طرف راغب کرنے کے لئے اپنی ہی پروڈکٹس کی غذائی اجزاء کو ایک ملک میں صحت مند جز اور دوسرے ملک میں غیر صحت مند قرار دے رہی ہے۔ جب کہ اگر کوئی شے صحت کے لئے تو بہتر نہیں تو اس کا استعمال کسی ملک میں نہیں ہونا چاہئے۔ اور کمپنی کی اس پالیسی سے بہت سے سنجیدہ سوالات کو جنم لیتے ہیں۔

ٹائیگرز فلم میں اس مسئلے کو بہترین انداز میں سامنے لایا گیا ہے۔ فلم ٹائیگرز کا ورلڈ پریمئیر آٹھ ستمبر کو “ٹورنٹو فلم فیسٹیول“ میں ہوا تھا۔ جہاں اس فلم کو اٹھارہ سو سے زیادہ لوگوں نے دیکھا اور سراہا اور فلم کو Solidarity Award سے نوازا گیا۔ کہانی عامر کی جدوجہد کے گرد گھومتی ہے جسمیں ایک بڑی انڈسٹری کی غیر اخلاقی پریکٹس کو سامنے لانے کے لئے کی گئی۔ ساتھ ہی فلم ملٹی نیشنل انڈسٹری کی طاقت اور میڈیا کے گٹھ جوڑ کو بھی سامنے لاتی ہیں جو اس انڈسٹری کے پیچھے کام کرتا ہے۔

فلم کی کہانی میں عامر کا کردار (جس کا فلمی نام آیان ہے) کے اس پہلو کو بھی سامنے لایا گیا ہے کہ اسکے لئے اس کارپوریشن سے بچنا کس قدر مشکل ہوگیا تھا۔ جو کینیڈا میں اسکے پناہ لینے کی راہ میں بھی حائل رہا۔ اور وہ ساری جدوجہد جو اس سلسلے میں کی گئی پٹیشن، کمپئین، ایان کے حق میں خطوط لکھنے کی مہم اور بڑے وکلاء کا بغیر کسی فیس کے ایک قانونی لڑائی کہ جس میں بالآخر ایان ایک طویل جنگ کے بعد یہ ثابت کرپاتا ہے کہ اسکا وہاں رہنا کیوں ضروری ہے۔ اس دوران اپنے خاندان اور بچوں سے دوری فلم کا (اور یقیناً عامر رضا کی زندگی کا) ایک اہم جذباتی پہلو ہے۔

آخر میں یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ عامر کی یہ جنگ رائیگاں نہیں گئی۔ اور سن دو ہزار میں جنرل مشرف کے دور میں ایک آرڈیننس “فار دی پروٹیکشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن” پاس کیا گیا۔ اور اسے باقاعدہ قانون کا حصہ بنادیا گیا۔ تاکہ عالمی ادارۂ صحت کی کوڈ آف پریکٹس کا قانونا نفاذ ممکن ہوسکے۔ اگر چہ پاکستان جیسے ملک میں اس کا عملی نفاذ سو فیصد ہونے کا خواب ابھی سالوں کے فاصلے پر ہے۔

دو ہزار تیرہ میں عالمی ادارہ صحت کے اعدادو شمار کے مطابق گیارہ اعشاریہ چھ فیصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو جو پانچ سال سے کم عمر میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں بچایا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً آٹھ لاکھ بچوں کو کی زندگی محفوظ کی جاسکتی ہے اگر انہیں پیدائش سے لے کر تئیس ماہ تک ماں کا دودھ پلایا جائے۔ یہ اعدادو و شمار ایک حقیقت ہیں۔ چار سال کے بعد اس فلم کو عوام میں پیش کیا گیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ یہ بریسٹ فیڈنگ کے حوالے سے عوام کی آگہی میں بہت بہتری لاسکے گی۔

نوٹ:- آخر میں ان ماؤں کے لئے جو کسی وجہ سے اپنے بچوں کے لئے فارمولہ ملک استعمال کرچکی ہیں یا کر رہی ہیں ان کے علم میں لانا چاہوں گی کہ اگر کسی مجبوری آپ تمام تراحتیاطی تدابیر اور دی گئی تراکیب سے فارمولہ ملک بچوں کے لئے استعمال کرتی ہیں / یا کرچکی ہیں تو اس سلسلے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ فارمولہ ملک بےشک ماں کے دودھ کا متبادل نہیں لیکن اس کے استعمال سے اب تک مندرجہ بالا تنازع کے علاوہ (جس کی وجہ بے احتیاطی، کم علمی اور غربت رہی ہے) کسی قسم کی ایسی رپورٹ سامنے نہیں آئی جس سے اس کا بچوں کے لئے نقصان دہ ہونا ثابت ہو۔ ورنہ اس پر اب تک پوری دنیا میں پابندی عائد کی جاچکی ہوتی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: